05/01/2026
Rehmat Sha Sail poem د گل خائستہ زوانی جانانہ تا تہ چرتہ رسی translated in urd
پھولوں کی حسین جوانی کہاں پہنچتی ہے میرے محبوب مجھ تک اگر بہار تجھ پر موسلا دھار بارش برسائے تو مجھ تک کہاں پہنچتی ہے؟ تم اپنے غم سے مر رہے ہو، میں محبوب کے غم سے مر رہا ہوں۔ زاہد ! تیرا ثواب کہاں پہنچتا ہے میرے گناہ تک؟ خشک ہونٹوں پر مسکراہٹ کا مطلب کیا ہے؟ پھولوں کا حسن تیرے چہرے کی رونق تک کہاں پہنچتا ہے؟ مجھے قدم قدم پر وفا کی سزا ملی ہے۔ تیرے ہزار جرموں کی داستان کہاں پہنچتی ہے میرے سزا تک؟ انتظار کے چراغ کی زندگی ایک صدی کی سی ہے۔ کتنی ہی سانس روکھ لیں، کل کہاں پہنچتی ہے؟ _🖤🥀