09/17/2023
يَا رَبِّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلالِ وَجْهِكَ وَلِعَظِيمِ سُلْطَانِكَ دعا کی تحقیق اور اس دعا کو کب پڑھا جائے؟
سوال کا متن:
السلام عليكم، تفسير ابن کثیر میں باب حمد میں (یارب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك وعظيم سلطانك) لکھا ہے، اس حمد کو اپنی اولاد کو سکھانے کی غرض سے دسترخوان پر بٹھا کر کھانا کھانے کی دعا کے بعد تھوڑی دیر تک اس کو پڑھنا ٹھیک ہے؟ اگر اس کا ترجمہ یوں کروں۔ یا اللہ تیری تعریف کروں اتنی اتنی اتنی کہ جتنی آپکی چاہت اور اتنی اتنی اتنی کہ جتنا تیرا نور اور اتنی اتنی اتنی کہ جتنی آپکی عظمت، کیا یہ سب مناسب ہے ؟ برائے مہربانی میرے اس سوال کا جواب درس حدیث کے کسی بزرگ استاد سے پوچھ کر دیں۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی میرے تمام مسلمان بھائی بہنوں کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے۔ جزاک اللہ خیر
جواب کا متن:
مذکورہ دعا سنن ابن ماجہ کی ایک روایت میں وارد ہے۔
حدثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي , حدثنا صدقة بن بشير مولى العمريين , قال: سمعت قدامة بن إبراهيم الجمحي يحدث , انه كان يختلف إلى عبد الله بن عمر بن الخطاب , وهو غلام وعليه ثوبان معصفران , قال: فحدثناعبد الله بن عمر , ان رسول الله صلى الله عليه وسلم , حدثهم:" ان عبدا من عباد الله , قال: يا رب , لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك , ولعظيم سلطانك , فَعَضَّلَتْ بِالْمَلَكَيْنِ , فلم يدريا كيف يكتبانها , فصعدا إلى السماء , وقالا: يا ربنا , إن عبدك قد قال مقالة , لا ندري كيف نكتبها , قال الله عز وجل: وهو اعلم بما قال عبده , ماذا قال: عبدي؟ قالا: يا رب , إنه قال: يا رب , لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك , وعظيم سلطانك , فقال الله عز وجل لهما: اكتباها كما قال عبدي , حتى يلقاني , فاجزيه بها".
(سنن ابن ماجه، كتاب الأدب، بَابُ : فَضْلِ الْحَامِدِين، حدیث نمبر: 3801)
ترجمہ:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بیان کیا کہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے نے یوں کہا: «يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانك» ”اے میرے رب! میں تیری ایسی تعریف کرتا ہوں، جو تیری ذات کے جلال اور تیری سلطنت کی عظمت کے لائق ہے“، تو یہ کلمہ ان دونوں فرشتوں (یعنی کراما ً کاتبین) پر مشکل ہوا، اور وہ نہیں سمجھ سکے کہ اس کلمے کو کس طرح لکھیں، آخر وہ دونوں آسمان کی طرف چڑھے اور عرض کیا: اے ہمارے رب! تیرے بندے نے ایک ایسا کلمہ کہا ہے، جسے ہم نہیں جانتے کہ کیسے لکھیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے کیا کہا؟ حالانکہ اس کے بندے نے جو کہا، اسے وہ خوب جانتا ہے، ان فرشتوں نے عرض کیا: تیرے بندے نے یہ کلمہ کہا ہے «يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانك»تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس کلمہ کو (ان ہی لفظوں کے ساتھ نامہ اعمال میں) اسی طرح لکھ دو، جس طرح میرے بندے نے کہا: یہاں تک کہ جب میرا بندہ مجھ سے ملے گا تو میں اس وقت اس کو اس کا بدلہ دوں گا“
واضح رہے کہ اس دعا کے پڑھنے اور سیکھنے، سکھانے کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے، جس وقت چاہیں، پڑھ لیں اور بچوں کو بھی سکھائیں۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی
(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com