Akeli bhabi

Akeli bhabi ggggg

16/11/2023
ہمارے ملک کو قدرت نے بہت حسن سے نوازا ہے ہر عمر ہر رنگ ہر طرح کی عورت یہاں پائی جاتی ہے جو کسی بھی طرح سے انگریز عورتوں ...
25/01/2023

ہمارے ملک کو قدرت نے بہت حسن سے نوازا ہے ہر عمر ہر رنگ ہر طرح کی عورت یہاں پائی جاتی ہے جو کسی بھی طرح سے انگریز عورتوں اور پورن سٹارز سے کم نہیں
قدر کریں اپنی بیویوں کی اور جی بھر کر ان کو پیار کریں اور زیادہ سے زیادہ وقت دیں

انوکھا حادثہ قسط نمبر 3فروا نے میری طرف دیکھا اور مجھے اپنی گانڈ کی طرف دیکھتے محسوس کر کہ اس نے ایک عجیب سی نظر مجھ پہ ...
14/12/2020

انوکھا حادثہ

قسط نمبر 3

فروا نے میری طرف دیکھا اور مجھے اپنی گانڈ کی طرف دیکھتے محسوس کر کہ اس نے ایک عجیب سی نظر مجھ پہ ڈالی جس میں ہزاروں شکوے اور شکایت تھی۔ آنکھوں کی زبان دنیا کی آسان ترین زبان بھی ہے اور مشکل ترین بھی کہ اگر احساسات ملتے ہوں تو یہ زبان بہت ہی آسان ہے احساس اور محبت نہ ہو تو یہ زبان سب سے مشکل بن جاتی ہے۔ اپنی یہ بہن کہ جو مجھے شائد اپنی جان کے برابر ہی عزیز تھی جس سے بے انتہا پیار بھی تھا میں اس کی نگاہ کا شکوہ ایک دم سمجھ گیا کہ اسے یوں میرا اس کا جسم دیکھنا اچھا نہیں لگا۔ اب بچی تو وہ بھی نہیں رہی تھی اور نہ میں بچہ تھا بس ایک حادثے نے مجھے میرے مقام سے گرا دیا تھا اور افسوس یہ تھا کہ میں سنبھلنے کے بجائے مزید گرتا ہی جا رہا تھا شائد میری بہن کی سفید گول مٹول گانڈ جس کی اٹھان برفیلی پہاڑیوں کے جیسی تھی اور جس کی گئرائی بھی ناقابل بیان کہ جس گہرائی میں گرنے والے ہمیشہ اسی گہرائی میں رہنا چاہیں ۔۔ لیکن اس کا جسم جتنا بھی حسین ہو معاشرتی مزہبی اخلاقی طور پہ میرا اس پہ کوئی حق نہ تھا اور یہی ہمیں پڑھایا سمجھایا بھی گیا تھا کہ تم اس پھل کے مالی اور رکھوالے تو ضرور ہو لیکن یہ کھانا کسی اور کے نصیب میں ہے اور بالکل اسی طرح وہ بھی جانتی تھی کہ مالی جتنا بھی توجہ دے جتنا بھی پیار کرے یہ پھل یہ پہاڑیاں یہ گہرائیاں اس کی نہیں ہیں چھونا تو درکنار یہ انہیں دیکھنے کا بھی حقدار نہیں تو اسی لیے معاشرتی سچائی کو سامنے رکھتے ہوئے اس کا یہ عمل اپنی جگہ درست تھا وہیں مجھے بھی یہ عمل زلت کی گہرائی میں گراتا گیا اور مجھے اپنا آپ بہت برا اور کم ظرف محسوس ہوا میں کچن کے دروازے میں ہی کھڑا تھا لیکن مجھ پہ جیسے گھڑوں پانی پڑ چکا تھا ۔ میں اپنے آپ کو کوس رئا تھا کہ اچانک فروا کی مسکراتی آواز میرے کانوں میں پڑی میں نے بوکھلا کہ دیکھا تو وہ میرے سامنے کھڑی تھی مجھے یوں اپنی طرف دیکھتے ہوئے وہ بولی اگر آپ کا ارادہ یہیں بت بن کہ کھڑے ہونے کا نہیں تو چلیں چائے تیار ہو چکی ہے۔ میں نے اس کے ہنستے چہرے اور اس کے پیچھے کھڑی حنا کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ بھی مسکرا رہی تھی میں ایک دم کورنش بجا لانے والے انداز میں جھکا اور اسے فرشی سلام کرتے ہوئے بولا ملکہ عالیہ کا اقبال بلند ہو خادم استقبال کے لیے تیار ہے ۔میرے یہ کہنے پہ حنا بھی مسکرائی اس کے ہاتھ میں بھی ٹرے تھی اور مسکراتے ہوئے بولی آپ بہن بھائی یہاں شاہی انداز بناتے رہو میں تو جا رہی ہوں چائے لیکر اور ہمارے پاس سے گزرتی گئی، فروا نے اچٹتی ہوئی نظر مجھ پہ ڈالی اور وہ بھی حنا کے پیچھے چل پڑی، میں بھی ان دونوں کے پیچھے چل پڑا لیکن ایک دو قدم اٹھاتے ہی میری نظر ایک بار پھر بھٹک گئی اور سیدھی بہن کی تازہ رس بھری جوان مٹکتی ہوئی گانڈ کی اچھل کود میں کھو گئی جو اس کے ہر قدم کے ساتھ اچھل کہ اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ میں نے ایک بار پھر اپنی نظر کو اپنے دل کو کوسا لئکن بہت کوشش کے باوجود بھی اپنی نظر کو وہاں سے نہ ہٹا سکا اور چلتے چلتے لاونج میں پہنچ گئے وہاں امی ابو کی موجودگی کے پیش نظر میں نے آنکھیں جھکا لیں اور شریف بچہ بن کہ بیٹھ گیا لیکن دل میں چور گھس چکا تھا اس سے چھٹکارا کیسے ممکن تھا۔ میں نے جیسے ہی اپنے سامنے پڑی پیالی کو اٹھا کہ منہ سے لگایا تو اور ایک گھونٹ بھرا تو مجھے یوں لگا جیسے میں نے نمک اور مرچ سے بھری کوئی چیز پی لی ہو، میں سمجھ تو گیا کہ یہ شرارت کی گئی ہے کیونکہ باقی سب نارمل انداز میں چائے پی رہے تھے میں نے ایک نظر سب کو دیکھا تو سبھی نارمل تھے لیکن اس دشمن جاں کے چہرے پہ دبی دبی مسکراہٹ تھی میں سمجھ گیا کہ یہ شرارت اسی کی ہے ۔ میں نے سوچا کہ بول دوں لیکن پھر کچھ سوچ کہ چپ ہو گیا اور نمک اور مرچ سے بھری چائے پینے لگا جو کہ آسان کام تو نہ تھا لیکن میں باقیوں کی طرح نارمل رہتے ہوئے چائے کے گھونٹ بھرنے لگا۔ اس دوران ہم لوگ باتیں بھی کرتے رہے باقی سب کی چائے تقریبا ختم ہو رہی تھی جبکہ میں مشکل سے آدھا کپ پی پایا تھا لیکن میں نے ایک دو بار فروا کی طرف دیکھا جس کے چہرے پہ اب بےچینی کے تاثرات تھے اور مجھے چائے پیتا دیکھ کہ وہ بار بار پہلو بدل رہی تھی لیکن میں نارمل انداز میں گھونٹ بھر رہا تھا ۔ جیسے ہی ابو نے کپ نیچے چھوڑا فروا تیزی سے اٹھی اور میرے آگے سے آدھا کپ فورا اٹھا لیا اور تھوڑا چہرے پہ جبری مسکراہٹ لاتے ہوئے بولی ارے بھائی آپ نے بھی جلدی چائے ختم کر لی جب کہ ابھی آدھا کپ باقی تھا وہ ٹرے میں باقی کپ اس طرح رکھ رہی تھی کہ میرا آدھا کپ کسی کو نظر نہ آئے۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں کے کونوں میں پانی جھلملا رہا تھا ۔میں سمجھ گیا کہ وہ میرے چپ رہنے سے اب خود پہ ناراض ہو رہی ہے اور تبھی اس نے مجھ سے آدھا کپ پکڑلیا ہے فروا کپ سمیٹ رہی تھی تو امی نے حنا سے کہا بیٹی تم میرے اور ان کے کپڑے استری کر دو اور فرحی تم برتن دھو کہ رکھ دو شاباش، فرحی تو برتن سمیٹ کر کچن کی طرف چلی گئی اور حنا کپڑے استری کرنے چلی گئی اور میں امی ابو کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگ گیا دل تو میرا چاہ رہا تھا کہ جا کہ فرحی کو دیکھوں لیکن میں وہاں سے نہ اٹھا ہمیں باتیں کرتے کوئی پانچ منٹ گزرے تھےکہ امی نے مجھے کہا جاو فریج سے میری دوائی تو نکال لاو آج دن میں مجھے کھانا یاد ہی نہیں رہی۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا ابو نے زرا سخت لہجے میں امی سے کہا بیگم تم کم از کم اپنا خیال تو رکھا کرو گھر بچیوں نے سنبھالا ہوا ہے ماشااللہ سے اور تم اپنی صحت کا خیال خود کیا کرو ۔ میں چپکے سے اٹھا اور کچن کی طرف چل دیا کچن کے دروازے میں پہنچا تو فرحی برتن دھو رہی تھی اس نے قدموں کی چاپ سے مڑ کہ مجھے دیکھا تو اس کی آنکھیں جھلملائی ہوئی تھیں وہ پھر برتن دھونے لگ گئی میں نے کچھ بولے بغیر فریج کھول کہ امی کی دوائی اور پانی نکالا اور واپس چل دیا ۔ امی کو دوائی دی اور پانی بھی دیا انہوں نے دوائی کھا کہ مجھے دوائی اور گلاس پکڑایا اور میں وہ لیکر کچن کی طرف چل دیا، کچن کے قریب پہنچا تو فرحی کچن سے باہر نکل رہی تھی مجھے دیکھتے ہی واپس پیچھے ہٹ گئی میں جونہی کچن میں داخل ہوا اس نے ہاتھ بڑھا کہ مجھ سے گلاس اور دوائی لے لی اور گلاس کو سینک میں رکھ کہ فریج میں دوائی رکھنے لگی۔ جیسے ہی وہ فریج میں دوائی رکھنے کے لیے جھکی میری نظر ایک بار پھر اس کی گانڈ کے درمیان پڑی اور میں وہاں کھڑا ہو کہ اسے دیکھنے لگ گیا ۔ اس نے فریج کا دروازہ بند کیا اور میری طرف مڑ کہ مسکراتے ہوئے بولی کیا ایک بار مرچوں کی دھونی سے فرق نہیں پڑا جناب کو اور باز بالکل نہیں آئے۔ میں سمجھ گیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے لیکن میں نے ظاہر نہ ہونے دیا اور چہرے پہ مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا ارے گڑیا یہ تو مرچیں تھیں تم زہر بھی پلا دو تو قسم سے ایسے ہی خوشی سے پی جاؤں ۔ میری بات پوری ہوتے ہی وہ بجلی کی تیزی سے آگے ہوئ اور مجھے تھپڑ مارنے کی کوشش کی اس کی آنکھوں میں ایک دم آنسو بھر آئے اور روئانسی آواز میں مجھے مارنے کو لپکی۔ وہ جیسے ہی میرے قریب ہوئی اور اس نے بازو مجھے مارنے کے لیے اوپر اٹھایا میں نے وہی بازو پکڑ کہ اسے اپنے طرف کھینچ لیا اور وہ اپنے ہی زور میں میرے سینے سے آ لگی۔ جیسے ہی وہ میری سینے سے لگی تو اس کی نرم اور موٹے تازے ممے بھی میرے سینے سے لگے اور میں نے ایک بازو اس کی کمر کے گرد سے لپٹا کہ اس کو اپنے ساتھ جوڑ لیا۔ ہم بہن بھائی آپس میں بہت فری تھے اور عید پہ کسی خوشی کے موقعہ پہ گلے مل لینا یہ عام سی بات تھی اور اس سے کبھی کوئی گندہ خیال زہہن میں نہیں آیا تھا
فروا کے لیے تو میرے ساتھ گلے ملنا شاید نارمل بات تھی اس لیے وہ بلا جھجک میرے گلے لگ گئی اس سے پہلے بھی ہم کئی ار گلے لگ جاتے تھے اس میں کوئی بڑی بات تو نہ تھی بلکہ ہزاروں لاکھوں بہن بھائی صورتحال کے ساتھ گلے ملتے رہتے ہیں لیکن اس بار وہ نہیں جانتی تھی کہ میرے اندر کچھ اور ہے یا شاید جانتی بھی تھی لیکن اگنور کر رہی تھی ۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔ میں نے گلے سے لگائے ہی اس کے نرم مموں کی نرمی اور شیپ اپنی چھاتی پہ محسوس کی اور اس کی کمر کے گرد بازو لپیٹے اس کی جسم کی نرمی کو اپنے اندر تک محسوس کیا لیکن میں ساتھ اپنے یہ جزبات اسے بھی محسوس نہیں ہونے دینا چاہتا تھا اس لیے میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور پیار سے کہا کیا بات ہے فرحی اتنی جزباتی کیوں ہو رہی ہو، اس نے روتی ہوئی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور میرے سینے پہ ہلکا سا مکا مارتے ہوئے بولی بدتمیز ایک تو مرچوں والی چائے بھی پی لی اور اب فضول باتیں بھی کرتے ہو بہت برے ہو آپ ۔ میں نے دوسرا بازو بھی اس کی کمر کے گرد کس لیا اور غیر محسوس انداز میں ہاتھ تھوڑا نیچے کر لیے جس سے میرا ہاتھ اس کی گانڈ جدھر سے شروع ہوتی تھی مطلب کمر کے نچلے حصے تک پہنچ گیا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا پاگل خود سوچو نا امی کے سامنے میں بولتا تو تمہیں کتنی ڈانٹ پڑ جاتی امی ابو سے اور حنا بھی تھی تو مجھے اچھا نہیں لگا کہ امی ابو سے تمہیں ڈانٹ پڑواؤں زرا سا نمک مرچ ہی تو پینا تھا وہ بھی تم نے آدھا ہی پینے دیا میں نے بات سنجیدہ انداز میں شروع کی اور آہستہ آہستہ بات کو مزاق کے انداز میں لے گیا اس کو بھی اندازہ ہو گیا اس نے اپنا آپ تھوڑا مجھ سے اور پیچھے کیا تو میں نے بھی ہاتھ ڈھیلے کر دئیے لیکن بازو کا حلقہ نہ توڑا اس سے میرے ہاتھ اس کی گانڈ پہ تھوڑا اور نیچے کھسک گئے، اس کی آنکھوں سے آنسو اس کے گالوں پہ آ چکے تھے۔ میں نے پھر کہا کہ دیکھو میں نے کسی کو نہیں بتایا اب تم ایسے منہ بناو گی تو سب کو پتہ چل جائے گا کچھ بات ہے پھر سب کو کیا وضاحتیں دو گی چلو اچھے بچوں کی طرح منہ دھو لو۔ اس نے میری طرف روتی ہوئی آنکھوں سے پھر ہنستے ہوئے دیکھا اور میرے سینے پہ ایک اور مکا مارا جواب کے طور پہ میں نے بھی بازو کا حلقہ کھولہ اور دائیں ہاتھ کا مکا بنا کہ وہیں پیچھے سے اس کی گانڈ پہ ہلکا سا مکا دے مارا اور کہا جلدی منہ دھو لو اس سے پہلے کہ کوئی کچن میں آ جائے، اس نے پلکیں اٹھا کہ میری طرف دیکھا اور ہلکی آواز میں بولی۔ بدتمیز انسان ۔ میں نے مسکراتے ہوئے اس کو چھوڑ دیا اور وہ کچن میں لگے واش بیسن کی طرف ہوئی تو مجھے فورا خیال آیا کہ یہ واش بیسن کے آگے کھڑی ہو گی اور پھر جھکے گی تو واش بیسن کے پاس پڑے فریج پہ میری نظر پڑی وہ اس دوران دوسری طرف مڑ چکی تھی میں تیزی سے فریج کی طرف بڑھا اور اس کا دروازہ کھولنے لگا لیکن میں نے دروازہ نہ کھولا وہ جیسے ہی وہ منہ دھونے لگی تو منہ دھونے کے لیے وہ تھوڑی آگے کو جھکی ہوئی تھی جس سے اس کی گانڈ تھوڑی سی پیچھے کو باہر نکلی جس کے انتظار میں میں فریج کا دروازہ پکڑے کھڑا تھا اور میری توقع کے بالکل مطابق اس کی گانڈ تھوڑا پیچھے ہوئی تو میری ٹانگ اس کی گانڈ سے ٹکرائی جو اسے محسوس ہوا اور وہ منہ دھوتے دھوتے آگے ہو گئی ۔ میرا اندازہ تھا شائد وہ آگے نہیں ہو گی لیکن جیسے ہی وہ آگے ہوئی میں نے فریج سے ہانی کی بوتل نکال لی۔ وہ بھی منہ دھو کہ واپس مڑی تو چاند چہرہ جیسے کھلا کھلا نظر آیا اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں اور بالوں کی ایک آوارہ ماتھے پہ بھیگی ہوئی لٹ ۔۔گورے گورے گال اور نرم نرم ہونٹ میں تو اپنی بہن کو دیکھ کر مبہوت ہو گیا میں نے اسے پہلی بار ایک لڑکی سمجھ کہ دیکھا تھا تو مجھے یوں لگا کہ جیسے کوئی حور میرے سامنے کھڑی ہو میں اس کی حسن کی گئرائی میں ڈوب سا گیا۔ اس نے جب مجھے یوں کھوئے ہوئے دیکھا تو میری آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی اور بولی اوئے جناب کدھر گم ہو گئے ہو؟؟ میں نے ہڑ بڑا کہ اسے دیکھا اور کہا مجھے لگا تھا میں جنت میں کسی حور کے سامنے کھڑا ہوں اس لیے گم صم ہو گیا تھا۔ ساتھ ہی میں نے پانی کی بوتل اسے پکڑائی وہ کھلکھلا کہ ہنس پڑی اور پانی کی بوتل ایسے ہی لیکر منہ سے لگا لی اور بوتل کے ساتھ ہی پانی پینے لگی ۔ پانی پی کہ اس نے مجھے بوتل واپس تھمائی اور میں نے اسے دکھاتے ہوئے وہی بوتل اپنے منہ سے لگا لی اور پانی پینے لگا میں پانی پی رہا تھا کہ اس نے بوتل کے نچلے حصے پہ مکا مارا جس سے بوتل میرے منہ سے نکل گئی اور کچھ پانی میرے اوپر گرا وہ کھلکھلا کہ ہنس پڑی اور بولی آپ پہلی فرصت میں کسی آنکھوں والے ڈاکٹر کے پاس جانا ویسے جانا تو پاگلوں والے ڈاکٹر کے پاس بھی بنتا ہے آپ کا یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھیں بھی مسکرا رہی تھیں اور مجھے پہلی بار لگا میری بہن کتنا مکمل مسکراتی ہے۔ پاگلوں والے ڈاکٹر کے پاس کیوں جاوں اوئے منحوس لڑکی ؟؟ میں نے مصنوعی غصے سے اس کی طرف دیکھا تو وہ ہنستی ہوئی میرے پاس سے گزر کہ کچن کے دروازے کی طرف بڑھ گئی اور کچن کے دروازے پہ رک کہ اس نے باہر کی طرف دیکھا اور پھر میری طرف مڑی اور اور اپنے اوپر والے ہونٹ سے نیچے والا ہونٹ دبا کر بولی ۔ وہ اس لیے جناب کہ کوئی ہوشمند بندہ بہن کے ہپس پہ مکا نہیں مارتا ہوتا یہ کام پاگلوں کے ہی ہو سکتے ہیں ۔ یہ کہہ کہ اس نے مجھے زبان نکال کہ منہ چڑایا اور میرا جواب سنے بغیر ہی باہر بھاگ گئ

انوکھا حادثہ قسط نمبر 02 میری جب آنکھ کھلی تو میری بیوی میرے اوپر جھکی ہوئی مسکرا رہی تھی اس نے مجھے آنکھیں کھھولتے دیکھ...
12/12/2020

انوکھا حادثہ

قسط نمبر 02

میری جب آنکھ کھلی تو میری بیوی میرے اوپر جھکی ہوئی مسکرا رہی تھی اس نے مجھے آنکھیں کھھولتے دیکھا تو مسکراتے ہوئے میرے ناک کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے پکڑتے ہوئے بولی میرا سوہنا جاگ گیا اور میرے جواب کا انتظار کرنے سے پہلے ہی میرے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ لگا دئیے۔ میں نے بھی مسکراتے ہوئے اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں بھر لیے اور انہیں چوسنے لگا ۔ وہ بیڈ کے کونے پہ بیٹھی تھی اور میرے اوپر گری ہوئی تھی اس کی گانڈ میرے لن کے پاس تھی اور ممے میرے سینے پہ تھے لیکن پاوں زمین کی طرف لٹکے ہوئے تھے۔ میں نے اس کے ہونٹوں کو چوستے ہوئے ایک ہاتھ سے اس کی کمر کو سہلانا شروع کر دیا ۔ ہونٹ چوستے چوستے میں نے کمر کو سہلانا جاری رکھا اور ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے کرتا گیا اور اس کے کولہوں کے اوپر ہاتھ رکھا جیسے ہی میرا ہاتھ اس کی گانڈ تک پہنچا میرے زہہن میں ایک دم فروا کی گانڈ کا لمس جگا اور میرے جسم کو ایک جھٹکا لگا میری آنکھیں ایک دم کھل گئیں اور میں نے دیکھا کہ حنا آنکھیں بند کیے میرے ہونٹ چوسنے میں مشغول ہے ۔ ایک لمحے میں ہی ضمیر نے مجھے ملامت کی اور میں نے اپنی توجہ حنا کی طرف کرتے ہوئے اس کے ہونٹ چوسنا شروع کر دئیے لیکن میرے ہاتھ کو بار بار یونہی لگتا جیسے کہ وہ فروا کی گانڈ کے درمیان پھر رہے ہوں۔ حنا کی گانڈ پہ ہاتھ پھیرتے مجھے احساس ہوا کہ یہ گانڈ میری بہن کی گانڈ کی نسبت چھوٹی ہے اور اس پہ گوشت بھی نہیں میں اپنے زہہن کو اس سوچ سے ہٹاتا لیکن اگلے ہی لمحے پھر یہ سوچ میرے زہہن میںچھا جاتی ۔ حنا اس سب سے بے خبر میرے ہونٹ چوسے جار رہی تھی اس نے پہلے میرے نچلے ہونٹ کو چوسا پھر اوپر والے ہونٹ کو اور پھر ایک گہری سی سانس لیکر میرے ہونٹ چھوڑ دئیے اور مسکراتے ہوئے مجھے دیکھنے لگی اور بولی ۔ جناب آئے اور آ کہ سو گئے اور مجھے بتایا تک نہیں ایک دم ساری بات میرے زہہن میں آ گئی کہ دن میں کیا ہوا تھا اور میں تھوڑا پریشان ہو گیا۔ وہ اسی طرح میرے اوپر جھکی ہوئی مسکرا رہی تھی مجھ سے اور کوئی جواب نہ بن پڑا تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا بس زرا کچھ طبعیت ٹھیک نہیں تھی سر درد تھا تو بس آ کہ سو گیا کہ تم بھی سو رہی تھیں اور باقی سب بھی ۔ اس نے اپنا ایک ہاتھ اپنے ماتھے پہ ہلکا سا مارا اور مسکراتے ہوئے بولی چلیں اٹھیں اب ادھر آپ کی بہن صاحبہ کے سر میں درد ادھر جناب کے سر میں درد اور آپ کی اماں نے شور ڈال رکھا کہ دونوں کو جگا کہ لاو چائے سب مل کہ پیئں ۔ یہ ایک نارمل بات تھی عام حالات میں لیکن کیونکہ میرے اندر چور تھا اس لیے فروا کے سر میں درد کا سن کہ میں اندر سے گھبرا گیا اور ہڑ بڑا کہ اوپر اٹھنے کی کوشش کی لیکن کیونکہ میرے اوپر حنا تھی اس لیے مکمل اوپر نہ ہو سکا، میں نے بوکھلاہٹ میں پوچھا فرحی کو کیا ہوا ۔ میرے اس طرح بوکھلانے سے حنا کھلکھلا کہ ہنس پڑی اور میرے سر کے نیچے سے بازو گزارتے ہوئے مجھے اوپر اٹھانے لگی میں نے بھی اس کا ساتھ دیا اور اٹھ بیٹھا کہ میری ٹانگیں بیڈ پہ لمبی تھیں اور وہ میرے گلے میں بازو ڈالے اپنی ٹانگیں نیچے لٹکائے میرے طرف مڑی میرے گلے سے لگی ہوئی تھی۔ حنا نے مسکراتے ہوئے کہا اسے کچھ نہیں ہوا بس یہی سر درد کا کہہ رہی تھی اور یوں چھوٹی چھوٹی بات پہ پریشان نہ ہوا کریں جانو اور مجھے کس کہ گلے سے لگا لیا۔ میں نے بھی جوابا اسے جپھی ڈال لی اور دل میں سوچا جس وجہ سے پریشان ہوں تمہیں پتہ چلے تو تمہاری بھی ہوش اڑ جائیں گے۔ میں نے نارمل ہونے کے لیے اس کے گال کو چوما اور اس سےپہلے کہ مزید آگے بڑھتا وہ اچھل کہ پیچھے ہو گئی اور ہنستے ہوئی بولی چلیں اب جلدی سے ہاتھ منہ دھو کہ نیچے پہنچیں میں فروا کو لیکر جاتی ہوں ، میں نے بھی ہنستے ہوئے اس کی طرف بازو کھولے اور اسے بازوں میں آنے کا اشارہ کیا لیکن اس نے منہ سے زبان نکال کہ مجھے چڑایا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ میں بھی جلدی سے بیڈ سےاٹھا اور ہاتھ منہ دھو کر نیچے اتر گیا جہاں امی لاوئنج میں بیٹھی ہوئی سبزی چھیل رہی تھیں میں نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور پوچھا کیا حال ہے اب طبعیت کیسی ہے ان کی نظر میں ماؤں جیسی ازلی فکر تھی ۔ میں ہنستے ہوئے ان کے پاس پہنچا اور انہیں کہا ارے امی جی اب میں بالکل ٹھیک ہوں دھوپ میں زرا سا سر درد ہو گیا تھا۔ امی نے مجھے دلاسہ دیا اور موسم کو برا بھلا کہنےلگیں اور پھر بولیں جاو فریج میں تمہارے لیے شربت رکھا ہے وہ نکال کہ پی لو اور ان نکمیوں سے بھی بولو کہ چائے لائیں۔ میں امی کے پاس سے مڑا اور کچن کی طرف جانے لگا اتنے میں سامنے سے ابو بھی آتے دکھائی دئیے میں نے ان کو سلام کیا اور کچن کی طرف بڑھ گیا کچن کے دروازے پہ پہنچا تو دونوں دوسری طرف مڑی چائے بنا رہی تھیں اور آپس میں باتیں کر رہی تھیں میری نظر پڑی تو دونوں کی کمر میری طرف تھی میری نظر فورا پھسلتی ہوئی ان دونوں کی گانڈ کا موازنہ کرنے لگی اور یہ دیکھتے ہی مجھے بہت عجیب لگا کہ حنا کی نسبت فروا کی گانڈ موٹی تھی حالانکہ وہ عمر میں حنا سے چھوٹی تھی لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ دو چھوٹے سائز کے تربوز کسی نے کاٹ کہ پتلی کمر پہ لگا دئیے ہیں اس کی نسبت حنا کی گانڈ چھوٹی تھی اور لمبوتری شکل میں تھی۔ میں ان کے پیچھے کچن کے دروازے میں کھڑا بغور ان کی گانڈ کا مقابلہ کر رہا تھا کہ اچانک فروا پیچھے ہٹی اور اس نے کچن کے کاونٹر کے نیچے بنے دراز کو جھک کہ کھولا اور اس میں سے کچھ نکالنے لگی۔ اس کے اس طرح جھکنے سے اس کی گانڈ پیچھے سے باہر نکل آئی اور مجھے اس کی درمیانی گلی کا علاقہ واضح طور پہ محسوس ہوا وہ شائد دس سیکنڈ یا اس سے بھی کم وقت جھکی لیکن میری نظر جیسے اس پہ چپک سی گئی اور وہ جب اوپر ہوئی تو اس کی کمیض اور شلوار دونوں اس کے چوتڑوں کے درمیان دھنس گئیں اور کچن کے دروازے پہ کھڑے ہی میں نے اس شلوار کے کپڑے کی قسمت پہ رشک کیا ۔ میرے دل میں اچانک یہ شدید خواہش پیدا ہوئی کاش میی اس شلوار کا کپڑا ہوتاہر وقت اپنی بہن کے جسم کو محسوس تو کرتا۔جتنی شدت سے مجھے یہ خواہش آئی تھی اتنی ہی شدت

انوکھا حادثہ قسط نمبر 01 زندگی میں آنے والے لمحات کیا سے کیا بنا دیتے ہیں اس بارے ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا ۔ زندگی ...
12/12/2020

انوکھا حادثہ
قسط نمبر 01

زندگی میں آنے والے لمحات کیا سے کیا بنا دیتے ہیں اس بارے ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا ۔ زندگی اپنے اچھے برے رنگوں کے ساتھ گزرتی جاتی ہے ہر دن اگلے دن کو جنم دیتا ہے اور ہر کہانی اگلی کہانی کو جنم دیتی ہے ۔ ہمارے ارد گرد ہزاروں لاکھوں چہرے ہیں ہر چہرے کے پیچھے ایک کہانی چھپی ہے اور ہم ہر وہی کہانی پسند کرتے ہیں جس سے ہمارا خمیر گندھا ہو جس میں ہمیں دلچسپی ہو۔ ایسے ہی ایک کردار سے میں اس کہانی میں آپ کو ملانے جا رہا ہوں اور جس پہ بیتی ہوتی ہے وہی جانتا ہے حقیقت کیا ہے ہر کسی کی اپنی سوچ ہوتی ہے ۔ تو چلتے ہیں کہانی کی طرف۔
مرا نام ناصر ہے اور میرا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے ہے امی ابو دونوں سرکاری ملازم ہیں اور ہم تین بہنیں اور ایک بھائی ہیں مجھ سے بڑی دو بہنیں نصرت اور فائزہ پھر میں اور میری بعد فروا جو سب سے چھوٹی ہے ۔ بڑی دو بہنوں کی شادی ہو چکی اور میری بھی ، وہ اپنے اپنے گھر کی ہو چکی گھر میں امی ابو اور میں میری بیوی اور فروا ہوتے ہیں یہ کہانی اس وقت سے شروع ہوتی ہے ۔ اس سے پہلے کی زندگی ایک سادہ زندگی تھی جس میں کوئی بھی غلطی شامل نہ تھی، سکول سے کالج یونیورسٹی اور پھر شادی سارا کچھ ایک دم ہی ہو گیا میں نے بھی زندگی میں کبھی کسی خرابی کی طرف بڑھنے کی کوشش نہیں کی ۔ تعلیم کے سولہ سال گزرنے کے بعد میری فورا سے نوکری بھی لگ گئی اس کے لیے میرے ابو کی بھرپور کوشش رہی اور میری نوکری لگتے ہی میری شادی کرا دی گئی جیسا کہ زیادہ تر گھروں میں یہی ہوا کرتا ہے ۔ میری جب شادی ہوئی جب میری عمر تقریبا تئیس سال تھی اور میری بیوی یعنی حنا کی عمر اٹھارہ سال تھی اور میری بہن فروا کی عمر سولہ سال تھی۔ میری بیوی ایک معصوم اور سادہ طبعیت کی ہے اور فروا (30 38 36 ) سایز ہو گا )اتنی ہی شرارتی اور نٹ کھٹ سی تو اس کے باوجود ان دونوں میں گہری دوستی ہو گئی اور زندگی اپنی تمام تر خوشیوں کے ساتھ گزرنے لگی ۔ ایک دن میں تقریبا دو بجے گھر میں داخل ہوا تو گرمی کا موسم اور شائد مئی کا مہینہ تھا میں جیسے ہی گھر داخل ہوا تو گھر میں خاموشی تھی میں نے یہی سوچا کہ سب سو چکے ہوں گے تو اپنے کمرے کی طرف بڑھتا گیا ہمارا گھر دو منزلہ ہے دو بیڈ روم ڈرائنگ روم کچن اور لاونج نیچے جبکہ تین بیڈ روم اوپر اور ہر کمرے کے ساتھ الگ باتھ روم بھی ہیں میں اور حنا اوپر کے پورشن میں رہتے تھے امی ابو نیچے ایک روم میں اور دوسرے میں فروا ہوتی تھی ۔ تو میں لاونج سے گزرا تو مجھے کچن میں کچھ آواز آئی جیسے کسی نے برتن اٹھا کہ رکھے ہوں میں دبے قدموں کچن کی طرف بڑھا میرا ارادہ تھا کہ جو بھی کچن میں ہو گی اسے ڈراوں گا ۔ فروا اور حنا تقریبا ایک جیسی ہی تھیں تب تک میں نے ان پہ اتنا غور نہیں کیا تھا بیوی کا تو ظاہر ہے سارا جسم دیکھ چکا تھا مگر بہن کیسی دکھتی ہے یہ کبھی سوچا تک نہ تھا کہ عام طور پہ ایسی سوچ کو گندگی اور غلاظت ہی سمجھا جاتا ہے اور ایسا ہی ہے ۔ میں جب کچن کے دروازے میں پہنچا تو مجھے لگا کہ حنا برتن دھو رہی ہے اور اس کی پشت میری طرف ہے اس نے وہی کپڑے پہنے ہوئے تھے جو وہ ایک دن قبل پہنے ہوئی تھی لیکن رات کی گرمجوشی کے بعد صبح اس نے کپڑے بدل لیے تھے اور پرانے کپڑوں میں اسے دیکھ کر مجھے یہی خیال آیا کہ اس نے یہی دوبارہ کیوں پہنے ہوں گے ۔ میں دبے قدموں آگے ہوا اور ہاتھ کو تیزی سے اس کے کولہوں کے درمیان گھسا دیا میں نے یہی سمجھا تھا کہ حنا ہی ہو گی اور میرا ہاتھ لگنے سے وہ پیچھے مڑے گی تو اسے بازووں میں بھر لوں گا لیکن جیسے ہی میرا ہاتھ کولہوں کے درمیان لگا مجھے لمحے کے ہزارویں حصے میں یہ علم ہو گیاکہ یہ کم ازکم حنا نہیں ہے ۔ ادھر میرا ہاتھ اپنے کولہوں میں لگتا محسوس کر کہ جیسے ہی اس کے منہ سے اوئی کی آواز نکلی اور وہ بجلی کی تیزی سے پیچھے مڑی تو میں تو جیسے کاٹو تو لہو نہں ایک دم ساکت حیران اور پریشان ہو گیا اور وہ بھی کیونکہ وہ فروا تھی مجھے دیکھتے ہی اس کا چہرہ بھی سرخ ہو گیا اور آنکھیں نیچے جھک گئیں ، مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ہکلاتے ہوئے میرے منہ سے یہی نکلا سس سوری یہ کپڑے تو حنا کے تھے ہم دونوں بہن بھائی کی حالت بہت خراب ہو چکی تھی اور فروا کے بھی ہاتھ پاوں کانپ رہے تھے ۔ ہم دونوں خاموش کھڑے تھے کہ سمجھ ہی نہں آ رہی تھی کہ بات کیا کی جائے ۔ فروا زمین کی طرف دیکھ رہی تھی اور ہولے ہولے کانپ رہی تھی میں بھی پوری طرح بوکھلا چکا تھا میں نے پھر کہا سوری فری مجھے لگا کہ حنا ہے کہ کپڑے اس کے تھے، میں نے اس کی طرف دیکھا لیکن فروا نے آنکھیں زمین پہ رکھتے ہی جواب دیا کوئی بات نہیں بھیا لیکن آپ یہ غور کر لو کہ ہم میں بہت فرق ہے یہ غلطی پھر نہ ہو جائے۔ میں فروا کی بات سن کر بہت شرمندہ ہوا اور اسے سوری کہتا ہوا تیزی سے کچن سے باہر نکل گیا ۔
میں اسی طرح بوکھلایا ہوا اوپر کمرے کی طرف بھاگا کہ جیسے بھوت دیکھ لیا ہو، کمرے میں جیسے ہی داخل ہوا تو حنا سو رہی تھی اسے سوتا دیکھ کہ میں نے بھی سکون کا سانس لیا اور جوتے اتار کہ جلدی سے باتھ میں گھس گیا ۔ باتھ میں گھستے ہی میں نے اپنے ہاتھ کو دیکھا جسے میں نے انجانے میں اپنی ہی بہن کی گانڈ کے لمس سے آشنا کروا دیا تھا ایک لمحے کے لیے مجھے اپنے ہاتھ کی انگلیاں شکریہ کہتی نظر آئیں لیکن اگلے ہی لمحے ضمیر صاحب نے میری چھترول شروع کر دی کہ بیغرت انسان کچھ تو سوچتے ہوئے بھی سوچو کیا گندی بات سوچ رہے ہو حرامی اور میں نے بوکھلا کہ ہاتھ کمر کے پیچھے کر لیا اور پھر خود ہی اپنی اس حرکت پہ بےبسی سے ہنس پڑا۔ میری زندگی میں ایسا کچھ کبھی کسی غیر سے بھی نہیں ہوا تھا جو میری ہی حماقت سے سگی بہن کے ساتھ ہو گیا اور میرے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ فری نے حنا کے کپڑے پہنے ہوں گے کیونکہ سب سے چھوٹی اور سب کی لاڈلی تھی اور اس کی الماری تو کپڑوں سے بھری ہوئی تھی اس لیے مجھے سو فیصد یقین تھا کہ یہ حنا ہی ہو گی عام طور پہ دوپہر کے کام وہی کرتی تھی ۔ میں نے باتھ میں نہانا شروع کر دیا اور ایک بار پھر غیر ارادی طور پہ میرا ن

نشرِمکرراگر کہی غلطی سے آپ کی شادی ہو بھی جائے یدی آپ کا جان چھوٹ جائے مٹھ مارنے سے اور آپ چوت کے مالک بن جائے تو اپنی ن...
29/03/2020

نشرِمکرر

اگر کہی غلطی سے آپ کی شادی ہو بھی جائے یدی آپ کا جان چھوٹ جائے مٹھ مارنے سے اور آپ چوت کے مالک بن جائے تو اپنی نئ نویلی دلہن سے اس طرح پیش مت آؤ جیسا کہ آپ کسی لونڈے یا رنڈی کو چودتے ہیں

آپ کو اس بات کا خیال کرنا چاھئے ان لوگوں کہ تجربہ کار اور سینکڑوں لوگوں کے لن کی زیارت کرنے والی عورت اور زیرو میٹر چوت والی نئی دلہن میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے- یدی آپ زیرو میٹر چوت کو بھی ویسے ہی ڈرسئیو کرے گے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نئی نویلی چوت کا دل مجروح ہو جاتا ہے- اس لئے آپ پر فرض ہے کہ شادی کے پہلے دنوں یعنی ہنی مون اور خاص طور پر پہلی رات کو چوت کے جذبات کا پوری طرح خیال رکھے گا-

شادی کی پہلی رات لن/دولہا اور چوت /دلہن کا Attitude اور طرز عمل ان کی ساری زندگی کو خوشیوں یا غموں سے بھرپور بنانے میں اھم کردار ادا کرتا ہے- ہر نوجوان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کے شادی کی پہلی رات ہر چوت کے لیے بہت صبر آزما گہری ہوتی ہے- خواہ وہ کسی نہ کسی ذریعہ سے تھوڑی بہت معلومات رکھتی ہو-

پھر بھی اس کا پہلی رات کا درد ایک فطری عمل ہوتا ہے- اس لیے لن کا فرض ہے کے اپنی چوت کے جذبات کا پوری طرح خیال رکھے- اور چوت پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کے وہ اپنی بیوی کا ہمدرد ہے اور اس سے محبّت کرتا ہے- اس طرح نئی نویلی چوت کو جو بیچاری اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ کر آتی ہے اسے اس طرح تسلی مل جاتی ہے اور اس کا ڈر ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے-

یہاں سب سے اھم بات یہ ہے کہ پہلی رات کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے چوت/بیوی سے ضرور ملاپ کیا جائے- بلکے حالات اور چوت کی حالت دیکھ کر ہی چدائ پروگرام کے بارے میں سوچنا چاہیے - لیکن بہتر یہی ہے کہ پہلی کم از کم دو راتوں میں صبر و تحمل سے کام لیا جائے یا مٹھ پر گزارا کیا جائے ۔

ان راتوں میں چوت/دلہن کو صرف سکوں مہیا کیا جاے اور اسے یقین دلایا جائے کے لن/شوہر اس کی بہت فکر کرتا ہے اسے پیار سے چدائ کی طرف آمادہ کیا جائے- پہلی دو چار راتوں میں صرف بوس و کنار ( kissing and romance ) ہی کیا جائے- اور اسی طرح چوت/ دلہن کو کیف و محبّت سے اپنا متوالا بنایا جائے- یہاں تک کے وہ خود کو دولہا کی آغوش میں ڈال دے- اور اس کی آنکھیں دولہا سے درخواست کرنے لگیں کے وہ لن کے لیے بیتاب ہے ۔

لیکن اگر ایسا نہ کیا گیا اور پہلی ہی رات اپنے ماں باپ کی جدائی کے غم سے چور چوت کی عصمت کی کلی کو پھول بنانے کی کوشش کی گئی تو چوت پر اس کا اچھا اثر نہیں پڑے گا- اور اس کے دل میں خیال پیدا ہو گا کے اس کا لن یعنی شوہر اس کا شریک حیات ضرورت سے زیادہ خود غرض اور ظالم ہے- اس کے علاوہ لن کو ایک اور بہت خاص بات کا خیال رکھنا پڑے گا کہ پہلے چدائ میں چوت کا پردہ بکارت ( H***n ) پھٹتا ہے-

اس کے علاوہ چوت کے دوسرے جنسی حصّوں میں بھی درد ہو سکتی ہے- ہو سکتا ہے کے یہ تکلیف چوت کو کئی راتوں تک محسوس ہو اس لیے لن کو چاہیے کے پہلے چدائ کے بعد کچھ دنوں تک زبردستی چدائ سے پرہیز کرے تا کے چوت کی تکلیف دور ہو جائے-

ایک اور بہت اھم بات جس کا خیال رکھا جانا انتہائی ضروری ہے کہ ہر نئی چوت کا پردہ بکارت پہلی بار کے چدائ سے پھٹے اور اس کی ف*ج سے خون نکلے- آج کے زمانے میں کچھ ہی عورتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا پردہ بکارت شادی تک سلامت رہتا ہے ورنہ بچپن میں کھیل کود کے دوران ( اور آج کل ویسے بھی cable کا دور ہے فحاشی عام ہے چاہتے ہوۓ بھی بچیوں کا پردہ بکارت سلامت نہیں رہتا ) پردہ بکارت پھٹ جاتا ہے-

اور یہ بھی یاد رکھیے کے پردہ بکارت قائم رہنا ہی عورت کے پاک دامن ہونے کی دلیل نہیں ہے- بہت سے گھر صرف اسی وجہ سے اجڑتے ہیں- حالانکہ اس میں بیچاری چوت کا کوئی قصور نہیں ہوتا بچپن میں اچھل کود کے دوران اس کا پردہ بکارت پھٹ چکا ہوتا ہے لیکن اس کا شوہر/لن جنسی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے اس پر شک کرتا ہے اور اسے بے حیا کہتے ہوۓ گھر سے نکال باہر کرتا ہے اور چوت پر تہمتیں الگ لگائی جاتی ہیں-

خدارا اس چیز کا بہت خیال رکھیں اور ان باتوں کو اپنے ذہن میں بیٹھا لیں اور ان باتوں کو عام کریں تا کے بی قصور بچیوں/چوتوں کے گھر اجڑنے سے بچ جائیں-

میرے بھائیوں یاد رکھوں
مرد وہی مرد ہوتا جسے خود عورتیں چوت پلیٹ میں رکھ کر آفر کریں کہ آؤ اور مارو اسے ۔

کیسے ہو سب پیج فینز.آپ سب سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں ،میری تمام کہانیا ں فکشن ہیں کچھ بھی سچ نہیں ہے اس لیے ان سے صرف اور...
09/01/2019

کیسے ہو سب پیج فینز.

آپ سب سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں ،

میری تمام کہانیا ں فکشن ہیں کچھ بھی سچ نہیں ہے اس لیے ان سے صرف اور صرف انڑ ٹینمنٹ حاصل کریں ان کو پڑھ کر جو بھی غلط کام کریں گے ہر جگہ اُس کے جوابدہ آپ خود ہوں گے اگر پھر بھی سمجھہ نہ آئے تو مجھہ سے ان باکس میں رابطہ کر لیں

ایک بار میرا شوہر اتنا ناراض ہوگیا اس نے مُجھے گھر بھیج دیا..اور طلاق کی بات کرنے لگا..بہت پریشان رہنے لگی.. کیونکہ اس نے مجھے کسی کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑلیا تھا...میری ایک دُور کی خالہ ہیں جو لاہور رہتی ہیں دکھنے میں سیکسی بم بھرا بھرا جسم اور سفید چمڑی اور ہیں بھی آزاد خیال وہ مجھے ایک فنکشن میں ملیں میری ساری کہانی سُن کر وہ سوچ میں پڑ گئیں ..اور کہنے لگیں ان مردوں کو پتہ نہیں کیا بیماری ہے خود ہر عورت پر سواری کرنا چاہتے ہیں اور اپنی گھوڑی پر ایک بھی دوسرا گھوڑا چڑھا دیکھ لیں ان کی گانڈ میں مرچیں لگ جاتی ہیں... خود ان کی بہن چاہے کئی سے چُدی ہو اور پکڑی بھی گئی ہو.. پھر بھی بہنوئی سے یہی کہیں گے بھائی اسے معاف کردو بھول چُوک ہو ہی جاتی ہے.....
اچھا میں کُچھ حل نکالتی ہوں تیرے مسئلے کا خالہ شبنم نے مجھے دلاسہ دیتے ہوئے کہا پھر خالہ شبنم نے مجھ سے پوچھا کیا تیرا شوہر عامر مجھے جانتا ہے میں نے کہا نہیں خالہ کیونکہ اُسکی آپ سے کبھی مُلاقات نہیں ہوئی.. خالہ نے کہا تُم عامر کا موبائل نمبر مجھے دے دو.. میں نے نمبر لکھوا دیا.. خالہ کہنے لگی بس تین دن کی بات ہے دیکھنا کیسے لائن پر لاتی ہوں اس حرامی کو.....ہم گجرات میں رہتے ہیں اور عامر ساتھ ہی واقعہ ایک گاوں میں رہتا ہے..اس کی عُمر بتیس سال ہے اور اچھا خوبرو جوان ہے...میں ابھی تیس سال کی ہوں... تیسرے دن صبح دس بجے خالہ کا فون آیا کہ تُم فورا ہمارے گھر چلی آو جب میں خالہ کے گھر پُہنچی وہ بڑی بے چینی سے میرا انتظار کررہی تھی.. وہ مجھے لے کر اپنے گھر والوں کو شاپنگ کا بول کر نکل پڑی کُچھ دیر کی مُسافت کے بعد وہ اپنی ایک سہیلی کے گھر لے گئیں جس کا شوہر بیرون مُلک ہوتا ہے اور بچے سُکول گئے ہوئے تھے.. وہاں جاکر خالہ نے اطمینان سے مجھے بتایا کہ میں نے ایک اجنبی عورت بن کر عامر کو فون کالز پر پھانس لیا ہے اور آج وہ مجھ سے ملنے یہاں آرہا ہے... اور تُم یہاں بیڈ کے نیچے چھ جانا اور جب کام عُروج پر پہنچ جائے تو نیچے سے نکل آنا اور خوب بے عزتی کرنا اگے میں سنبھال لوں گی مجھے خالہ شبنم کا پلان بُہت پسند آیا .....
خالہ کی سہیلی عالیہ چائے والی ٹرے لے کر آئی میز پر رکھ کر واپس گئی اور خالہ کے ہاتھ میں دو ٹیبلٹس پکڑا دیں جن کو خالہ نے مسل کر چائے کی چینک میں مکس کردیا.. میں نے سوالیہ انداز میں چہرہ بنایا تو خالہ شبنم نے بتایا یہ گولیاں پینے سے مرد کا لوڑا لوہے کی طرح اکڑ جاتا ہے اور دماغ پر حیوانی سیکس طاری ہوتا ہے اور کم از کم دو گھنٹے لگاتار چدائی کرنی پڑتی ہے تب جا کر سکون ملتا ہے....عامر کو یہ پلانے کا مقصد یہ ہے کہ اس کے اندر ایسا جنون پیدا کردیا جائے تاکہ وہ چدائی کے بغیر یہاں سے نہ چلا جائے... اور ابھی وہ پہنچنے ہی والا ہے.. خالہ کا عامر سے فون پر رابطہ تھا جس کی وجہ سے وہ وہاں تک پُہنچ گیا اور خالہ اسے دروازے تک جا کر اندر لے آئیں.. میں بیڈ کے نیچے چھپنے کی بجائے ساتھ والے کمرے میں چلی گئی اور وہ خالہ شبنم اور عالیہ کے ساتھ اُسی کمرے میں بیٹھ کر چائے پینے لگا... کچھ دیر بعد عالیہ میرے والے کمرے میں آئی اور کمرے کی لائٹ بند کردی.. کیونکہ دونوں کمروں کے درمیان ایک شیشوں والی کھڑکی تھی ہماری طرف پردہ تنا ہوا تھا بڑی احتیاط سے عالیہ نے پردے کو ہلکا سا کھسکایا اور مجھے اشارہ کیا....
میں نے اندر جھانکا تو دیکھا خالہ اور عامر کھڑے کھڑے لپٹے ہوئے تھے اور عامر شبنم خالہ کہ ہونٹ چوس رہا تھا اور اس کے ہاتھ خالہ کے بڑے بڑے پستانوں کو مسل رہے تھے تب خالہ نے عامر کی بے چینی کو دیکھتے ہوئے اپنی قمیض اُتار دی... عامر کسی پاگل کُتے کی طرح جھپٹا اور دیوانگی سے خالہ کے سینے پر زبان پھیرنے لگا مموں کے نپلز کو چاٹنے لگا چوسنے لگا کھینچنے لگا.....شبنم بھی مزے سے نڈھال ہورہی تھی.. تب میرے کان میں عالیہ کی آواز آئی میں شبنم کو کنڈوم دے آوں ...جب عالیہ اُس کمرے میں پُہنچی تو خالہ شبنم عامر کے کپڑے اُتار چکی تھی اور اس کا لوڑا سختی سے سیدھا تنا ہوا تھا اور شبنم آنٹی اپنی شلوار اُتار رہی تھیں.... جب عالیہ نے کنڈوم شبنم کو پکڑایا تو بے ساختہ وہ عامر کے لوڑے کو گھور بھی رہی تھی جو کمرے میں دو خوبرو حسیناوں کو دیکھ کر اور بھی تن گیا تھا. نہ جانے عالیہ کو کیا ہوا اس نے عامر کے لن کو ہاتھ میں پکڑ لیا اور نجانے کیا کہا کیونکہ میں اُن کی دھیمی گفتگو نہیں سُن پا رہی تھی پھر شبنم آنٹی نے بھی کُچھ کہا اور عالیہ صوفہ پر بیٹھ گئی اور عامر اسکے چہرے کے پاس کھڑا ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے عالیہ عامر کا لوڑا چوسنے لگی وہ اپنے چوڑے سفید چہرے پر موجود بڑے بڑے ہونٹوں کو لوڑے کی جلد پر پُوری پکڑ دے کر اسے پورا حلق میں لینے کی کوشش کرتی اور پھر واپس ہونٹوں کو لن کی ٹوپی تک لے آتی..میری اپنی پھدی یہ سب دیکھ کر مچل سی گئی کیونکہ بالآخر میں خود مُختلف لوڑے چکھنے کی شوقین تھی نہ چاہتے ہوئے بھی میرے مُنہ میں بھی پانی بھر آیا اور میرا ایک ہاتھ میری پھدی پر چلا گیا ..اور میں اسے مسلنے لگی..ایک ساعت رُک کر عالیہ نے اپنی قمیض اور بریزیر اُتار دیا اسکی گوری چمڑی ننگی ہو کر کمرے کو اور بھی روشن کرنے لگی...عامر عالیہ کے سامنے زمین پر بیٹھ گیا اوراسکے مموں کو چسنے اور چومنے لگا..تب عالیہ کے چہرے پر پسینہ آگیا اور اسکے گال لال رنگ کے ہوگئے اسی حالت میں اس نے کھڑکی کی طرف دیکھا اور میرے ساتھ نظریں ملائیں...میں نے بے شرمی والی نظروں سے اسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں جی بھر کے چٹواو اس کتے سے...کیونکہ تم دونوں کتیاں ہو اور تم دونوں کو میرے شوہر کا لوڑآ مبارک ہو....پھر عالیہ نے انکھیں بند کرلیں کیونکہ عامر اسکی شلوار نیچے کھینچ کر اب اسکی پھدی کو چوم رہا تھا ....آنٹی شبنم عامر کے پیچھے کھڑیں اپنے پھدے جو سہلا رہی تھیں ....تب عالیہ اُٹھی اور ساتھ ہی پڑے بیڈ پر جاکر گھوڑی بن گئیں... آنٹی شبنم نے بھی عامر سے لپٹ کر خوب چما چاٹا کیا اور وہ بھی عالیہ کے بلکل ساتھ گوڑی بن گئی دونوں کے دیسی چوتڑ اب عامر کے لئے دعوت کا منظر تھے عامر تنے ہوئے لوڑے کے ساتھ بیڈ پر گیا اور... اُن تینوں میں کچھ بات ہونے لگی شائد یہ تہہ کیا جارہا تھا کہ عامر کس کے چوتڑوں میں پہلے لوڑا ڈالے گا...پھر عامر نے کافی سارا تھوک آنٹی شبنم کی بیک پر ڈالا.. لن کے ساتھ اسے پھیلایا اور آنٹی کے دونوں چوتڑوں کو پکڑ کر ایک دم لوڑا پورا اندر کردیا.. آنٹی نے جان بوجھ کر زور سے چیخ ماری.. آہ آں آں .. اوی مار ڈالا ظالم... کُتے کمینے.. پھر عامر نے پانچ چھ دھکے زور زور سے مارے... جن کی وجہ سے آنٹی کے چوتڑوں کے بجنے کی آواز میرے کمرے تک آئی... عامر نے لوڑا نکالا اور عالیہ کی پھدی میں پیچھے سے ڈال دیا اور اس کی بھی چیخ نکلی اوئ......... اوہ یہ سب دیکھ کر میری اپنی پھدی گیلی ہو گئی اور میں نے شلوار میں ہاتھ ڈال کر اس کو مسلنا شروع کردیا..عامر مسلسل عالیہ کو چود رہا تھا... تب ہی میری برداشت ختم ہونے لگی اور میں نے سارے کپڑے اُتار دیئے کسی انجام کی پروا کیئے بغیر میں اُس کمرے میں چلی گئی.....مُجھے دیکھ کر عامر کو شدید جھٹکا لگا اس نے عالیہ کو جھٹکے لگانے روک دیئے
میں نے کہا کیا بات ہے جانو بڑے مزے کررہے ہو.. وہ ہکلایا وہ اصل میں یوں ہوا تم یہاں کیسے.... جیسے ویسے..
لیکن وہ اس بات سے بھی حیران تھا کہ میں اس سے لڑنے کس حالت میں کھڑی ہوں ننگی..... میں نے عامر کو انکھ مار ک, کہا کوئی بات نہیں جان عیش کرو..... میرے ہوتے کوئی ٹینشن نہیں لینی اور خود بھی اُن دونوں کے ساتھ گھوڑی بن گئی... کچھ ہی دیر میں مجھے اپنی پھدی میں گرم گرم لوڑا اُترتا ہوا محسوس ہوا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی .... کچھ دیر بعد میں نے عالیہ کی پھدی میں اپنا انگھوٹھا ڈال دیا سامنے لٹا کر اور آنٹی شبنم عامر کے پیچھے کھڑی ہوکر اسکی کمر کو پکڑ کر دھکے دینے لگی اور وہ زور زور سے مجھے ٹھوکنے لگا.... آنٹی کہہ رہی تھیں عامر تم بہت حسین ہو جوان ہو کوئی بھی تمہیں دیکھے تم پر فدا ہو جائے میں تُم سے بہت بار چدواں گی تمہارے گھر آکر بھی چدواں گی لیکن... تم کو اپنی بیوی سے ناراض نہیں ہونا چاہیے.. مانتی ہوں اس سے غلطی ہوئی لیکن دیکھ لو اس غلطی کے بدلے اس نے آج تم کو جرمانے میں دو عورتیں عنائیت کردیں... عامر کہنے لگا آنٹی مجھے اس کا جرمانہ بہت پسند آیا میں نے اسے معاف کردیا بلکہ میں چاہوں گا یہ کُتی کی بچی ایسے ہی مجھے بھی نئے نئے مزے دلواتی رہے اور خود بھی جس مرضی حرامزادے سے چدوائے لیکن کنڈوم کے ساتھ یہ سب سُن کر میرے پورے جسم میں مزے کی لہر دوڑ گئی اور میں تیز جھٹکوں کے ساتھ فارغ ہوگئی...پھر عامر نے آنٹی شبنم کو زور زور سے چودا اور اس کے بڑے چوتڑوں کی تعریف بھی کرتا رہا... اور پھر ادھے گھنٹے بعد دونوں خارج ہوگئے لیکن ابھی عامر کی نیت عالیہ پر گرم تھی... کچھ دیر رکنے کے بعد عامر نے عالیہ باجی کی ٹانگیں چھت کی طرف کر دیں اور اُن کو شدید جھٹکوں سے چودنے لگا... عامر دوسرے شاٹ میں جلد فارغ نہیں ہورہا تھا اس دوران عالیہ دو مرتبہ فارغ ہوئی اور تھک گئی پھر عامر نے خالہ شبنم کو ایک بار پھر چودا اور چود چود کر نڈھال ہوگیا اس دوران میں نے اسے پانی کی بوتل پکڑائی جسے پی کر وہ پھر جٹ گیا اور آخر کار وہ بھی دوسری بار خارج ہونے لگا ہم تینوں نے ساتھ ساتھ مُنہ کرکے اپنی اپنی زبان باہر نکال لی اور عامر نے گرم گرم منی کا لاوا ہم تینوں کی کتیوں جیسی زبانوں پر چھڑک دیا.....اور ہم پھر بھی باری باری اس کے لوڑے کو چاٹتی رہیں... وقت کم تھا بچے سکول سے آنے والے تھے اس لئے ہم سب اپنے اپنے گھر چلے گئے....تین دن بعد عامر آیا اور مُجھے میرے سُسرال لے گیا...اور آج ہم ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں فرق یہ ہے کہ اب میں اپنے شوہر سے چھپ کر یار نہیں بناتی اور ہم دونوں جب بھی انجوائے کرنا ہو مل کر کرتے ہیں کیونکہ اتفاق میں بہتری ہے... اس لئے میرا تمام بہنوں بھائیوں کو مشورہ ہے کہ اگر آپکو ایسی پریشانی کا سامناہے تو اس سٹوری سے سبق حاصل کریں .....اور خوش رہیں ..

Address

Saudia
Riyadh
1010

Telephone

+966561915618

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Akeli bhabi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Akeli bhabi:

Share