Bhatti Book Centre

Bhatti Book Centre Dealing in: 🔹 Urdu & English Novels 🔹 Aptitude Books 🔹 School/College/Masters Course Books.
(676)

The region's most recommended store for all top school and college curricula. Quality books, trusted service. 📚✨
www.bhattibooks.com All Kinds of Books like CSS, PCS, PMS, Books, General Knowledge Books, Armed Forces Books, Career Making Books, Objective (MCQ's) Books, Children's Books, English Books, GRE, G*T, NTS, NAT, Lecturer Subject Specialist Guides, Primary Books, Matric Level Books, Intermediate's Books, Bachelor's Books, Master Level Books.

New Arrivals 📕 All recommended books of federal board that are published by Qureshi publications are available only @ Bh...
10/04/2026

New Arrivals 📕
All recommended books of federal board that are published by Qureshi publications are available only @ Bhattibooks wah Cantt.

26/03/2026

📚 50 𝒀𝒆𝒂𝒓𝒔 𝒐𝒇 𝑻𝒓𝒖𝒔𝒕 — 𝑵𝒐𝒘 𝒊𝒏 𝑰𝒔𝒍𝒂𝒎𝒂𝒃𝒂𝒅!
🎉 𝑬𝒙𝒑𝒆𝒓𝒊𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒎𝒂𝒕𝒕𝒆𝒓𝒔. 𝑸𝒖𝒂𝒍𝒊𝒕𝒚 𝒔𝒑𝒆𝒂𝒌𝒔.
Visit the new Bhatti Books Outlet in B-17 and enjoy exclusive opening discounts!

26/03/2026

📚 BhattiBooks | Trusted Since 1981
Serving Wah Cantt & Taxila for generations, BhattiBooks is more than a bookstore — it’s a legacy of learning trusted by parents and students alike.
🏬 6 outlets across the region
📖 Books • Qur’an Pak • Islamic books
✏️ Stationery • Notebooks • 🎒 School bags
🌍 Local & imported items — all in one place
🎓 Authorized & recommended bookseller for leading schools and colleges of Wah Cantt & Taxila.
🚚 Nationwide delivery available
📲 Order now on WhatsApp 0317-0544474
🌐 www.bhattibooks.com
📸

لو سنبھالو اپنی دنیا ہم چلے۔۔۔!! الوداع علی لاریجانی۔۔۔۔!! 💔 جنگ سے پہلے آپکو کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ لیکن تل ابیب میں ...
18/03/2026

لو سنبھالو اپنی دنیا ہم چلے۔۔۔!!
الوداع علی لاریجانی۔۔۔۔!! 💔
جنگ سے پہلے آپکو کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔
لیکن تل ابیب میں جو آپ نے ایپسٹن فائل کے مجرموں کی باقیات پر قہر برپایا، دنیا آپکو جاننے لگی۔
جس لب و لہجے میں زمین پر بیٹھ کر خدائی کے دعوے کرنے والے فراعنۂ وقت کو آپ نے للکارا؛ اسکو دنیا یاد رکھیگی۔ ۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

📚 AZ International School Books – Playgroup to Class 8Bhatti Books – Authorized Partner in Wah Cantt & Taxila✔️ Complete...
16/03/2026

📚 AZ International School Books – Playgroup to Class 8

Bhatti Books – Authorized Partner in Wah Cantt & Taxila

✔️ Complete Course Coverage
✔️ Latest Editions
✔️ Wholesale Rates & Nationwide Delivery

🌐 www.bhattibooks.com 📲 0317-0544474

📖✨ Oxford School Series – Playgroup to Class 10Give your child the advantage of world-class learning with the complete r...
15/03/2026

📖✨ Oxford School Series – Playgroup to Class 10

Give your child the advantage of world-class learning with the complete range of Oxford University Press textbooks.

Bhatti Books proudly serves as the Authorized Sales Partner in Wah Cantt & Taxila Region, ensuring genuine supply and reliable service.

✔️ Complete Course Coverage ✔️ Updated Editions
✔️ Special Wholesale Rates for Schools
✔️ Nationwide Delivery Available

Trusted by parents. Preferred by schools.
🌐 www.bhattibooks.com 📲 0317-0544474

✨ 𝑨𝒁 𝑰𝒏𝒕𝒆𝒓𝒏𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏𝒂𝒍 𝑺𝒄𝒉𝒐𝒐𝒍 𝑩𝒐𝒐𝒌𝒔 – 𝑷𝒍𝒂𝒚𝒈𝒓𝒐𝒖𝒑 𝒕𝒐 𝑪𝒍𝒂𝒔𝒔 8 ✨👉 Complete range of AZ International Publishers textbooks availa...
14/03/2026

✨ 𝑨𝒁 𝑰𝒏𝒕𝒆𝒓𝒏𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏𝒂𝒍 𝑺𝒄𝒉𝒐𝒐𝒍 𝑩𝒐𝒐𝒌𝒔 – 𝑷𝒍𝒂𝒚𝒈𝒓𝒐𝒖𝒑 𝒕𝒐 𝑪𝒍𝒂𝒔𝒔 8 ✨

👉 Complete range of AZ International Publishers textbooks available for all classes from Playgroup to Class 8.

Bhatti Books is your Authorized Sales Partner in Wah Cantt & Taxila Region, offering genuine books and reliable service.

✔️ Full Course Coverage ✔️ Latest Editions
✔️ Wholesale Rates for Schools & Bulk Orders
✔️ Nationwide Delivery

Equip your students with quality learning resources — only from Bhatti Books.
🌐 www.bhattibooks.com 📲 WhatsApp: 0317-0544474



If you want, I can also create a catchy, ultra-short version optimized for Facebook/Instagram posts to maximize clicks and inquiries. Do you want me to do that?

Is this conversation helpful so far?

🎉 Good News for Shahwali, Lalazar, Basti, Gudwal & Nearby Areas! 📚🎒🆕 BhattiBooks >> New branch📍 Uppal Square, Basti Wah ...
08/03/2026

🎉 Good News for Shahwali, Lalazar, Basti, Gudwal & Nearby Areas! 📚🎒

🆕 BhattiBooks >> New branch
📍 Uppal Square, Basti Wah Cantt

Now your favorite books and school essentials are closer than ever!

📞 Phone: 0514-533263

🖋️:اظہر  الحواریجب مشرق سے آگ کا ستون دیکھو تو  ایک سال کا رزق جمع کر لو۔عن كَثِير بن مُرَّة الحَضْرَمِي قال آيَةُ الحِد...
01/03/2026

🖋️:اظہر الحواری

جب مشرق سے آگ کا ستون دیکھو تو ایک
سال کا رزق جمع کر لو۔

عن كَثِير بن مُرَّة الحَضْرَمِي قال آيَةُ الحِدْثَانِ فِي رَمَضَانَ علَامَتُه فِي السَّمَاءِ، بعدَهَا اختِلَافٌ فِي النَّاسِ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا فَأَكْثِرْ مِنَ الطَّعَامِ مَا اسْتَطَعْتَ. (الفتن ۶۳۴)
ابتدائی نشانی رمضان میں ہوگی، جو آسمان میں نظر آئے گی۔ اس کے بعد لوگوں میں اختلاف ہوگا۔ اگر تم یہ وقت پاؤ تو زیادہ سے زیادہ غذائی ذخیرہ جمع کرلو جتنا ممکن ہو۔

عن خالد بن معدانَ قال إِذَا رَأَيتُم عمودا مِن نارٍ مِن قِبَلِ المَشرِقِ فِي شَهرِ رَمَضَانَ فِي السَّمَاءِ فَأَعِدُّوا مِنَ الطَّعَامِ مَا استَطَعتُمْ، فَإِنَّهَا سَنَةُ جُوعٍ.
(المعجم الأوسط للطبراني: ج١، ص١١٩،
الفتن ۶۴۹)
جب تم رمضان میں مشرق کی طرف آسمان میں آگ کا ستون دیکھ لو تو اپنے لئے غذائی اشیاء تیار رکھو کیونکہ یہ بھوک کا سال ہے۔

🔥 روى الشيخ النعماني في كتابه الغيبة عن الامام الباقر عليه السلام أنه قال: عن أبي جعفر محمد بن علي (عليهما السلام)، أنه قال: إذا رأيتم نارا من المشرق شبه الهردي العظيم تطلع ثلاثة أيام أو سبعة فتوقعوا ف*ج آل محمد (عليهم السلام) إن شاء الله عز وجل إن الله عزيز حكيم

امام باقر (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ فرمایا:
«جب مشرق سے ایک آگ دیکھو، جو ایک عظیم ستون کی مانند ہو (الهردی کی طرح)، اور وہ تین یا سات دن آسمان میں ظاہر رہے، تو اُس وقت آل محمد (علیہم السلام) کے ظہور کا انتظار کرو، اگر اللہ عزوجل چاہے؛ بیشک اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔»
(غیبت نعمانی، ص ۲۶۰، باب ۱۴، حدیث ۱۳)

📌 نوٹ: «الهردی» کا مطلب ہے آگ کا ستون یا کھمبا۔

عن الإمام الصادق (عليه السلام) قال: إذا رأيتم علامة في
السماء ناراً عظيمة من قبل المشرق تطلع ليالي، فعندها
ف*ج الناس، وهي قدام القائم (عليه السلام) بقليل. [الغيبة
للشيخ النعماني: ص٢٧٦]
اسی طرح امام صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے:
«جب تم آسمان میں ایک نشانی دیکھو کہ مشرق کی جانب سے ایک بڑی آگ چند راتوں تک ظاہر ہو، تو اُس وقت لوگوں کے لیے کشادگی (ف*ج) قریب آ جاتی ہے؛ اور یہ نشانی قائم (علیہ السلام) کے ظہور سے کچھ پہلے ظاہر ہو گی۔»
(غیبت نعمانی، ص ۲۷۴، باب ۱۴، حدیث ۳۷)

🌍 امام باقر اور امام صادق (علیہما السلام) مدینہ میں تھے، اور مدینہ کے مشرق میں خراسان (یعنی ایران) واقع ہے۔
لہٰذا "آتشِ مشرقی" سے مراد شاید وہ میزائل ہوں جو امریکہ سے فارس پر داغے جائیں۔

اور سات دن آگ جلنے سے مراد ایٹمی حملہ بھی ہو سکتا ہے جس سے سات دن تک آگ جلتی رہے۔

:اب جبکہ ایک روایت میں ہے کہ
اِنَّ أَهْلَ فَارِسَ هُمْ أَوَّلُ مَنْ يَهْلِكُ، ثُمَّ أَهْلُ الْعَرَبِ
حضر ت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے پہلے لوگوں میں اہل ِ فارس (ایران والے)ہلاک ہونگے ، پھر ان کے پیچھے (بعد)عرب والے ۔
( کتاب الفتن از نعیم بن حمادؒ،
حدیث ۵۶)

امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے فارس والے ہلاک ہو جائے گئے۔جبکہ اس بعد عرب والے بھی۔
لیکن ظہور امام مہدی سے پہلے عالمی خونی جنگ شروع ہو گئ۔جس سے راستے بند ہو گئے۔یہاں تک
ایک بستی والے دوسری بستی نہیں جا سکیں گئے۔
جیساکہ روایت میں ہے۔

عـن كـعـب قال يوشك أن يزيح البحر الشرقي حتى لا يجرى فيه سفينة وحتى لا يجوز أهـل قرية إلى قرية وذلك عند الملاحم وذلك عند خروج المهدئ.
( السنن الواردة في الفتن)

ترجمہ: حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ قریب ہے کہ مشرقی سمندر دور ہو جائے گا اور اس میں کوئی کشتی بھی نہ چل سکے گی، چنانچہ ایک بستی والے دوسری بستی میں نہ جا پائینگے اور یہ جنگِ عظیم (تیسری عالمی جنگ) کے وقت میں ہوگا، اور جنگ عظیم (تیسری عالمی جنگ) حضرت مہدی کے وقت میں ہوگی۔

📌 نوٹ: مشرقی سمندر کے بند ہونے سے مراد آبنائے ہرمز کا بند ہونا ہو سکتا ہے۔جس سے تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو جائے اور شدید قحط پھیل جائے۔

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ قَتْلَاهَا فِي النَّارِ اللِّسَانُ فِيهَا أَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّيْفِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ لَيْثٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ طَاوُسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْجَمِ.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک ایسا فتنہ ہو گا جو پورے عرب کو گھیر لے گا جو اس میں مارے جائیں گے جہنم میں جائیں گے، اس میں زبان کا چلانا تلوار چلانے سے بھی زیادہ سخت ہو گا ۔
سنن الترمذی/الفتن ۱۶ (۲۱۷۸)، سنن ابن ماجہ/الفتن ۲۱ (۳۹۶۷)

اب فارس کی تباہی کے ساتھ سفیانی ظاہر ہو گا۔ جس کے دور میں عظیم تباہی ہو گئ۔جبکہ سفیانی کا ظہور امام مہدی علیہ
السلام سے 9 ماہ پہلے ہو گا۔جیساکہ

حدثنا أبي، ومحمد بن الحسن رضي الله عنهما قالا: حدثنا محمد بن أبي القاسم ماجيلويه، عن محمد بن علي الكوفي قال: حدثنا الحسين بن سفيان، عن قتيبة بن - محمد، عن عبد الله بن أبي منصور البجلي قال: سألت أبا عبد الله عليه السلام عن اسم السفياني فقال: وما تصنع باسمه؟ إذا ملك كور الشام الخمس: دمشق، وحمص، وفلسطين، و الأردن، وقنسرين، فتوقعوا عند ذلك الف*ج، قلت: يملك تسعة أشهر؟ قال: لا ولكن يملك ثمانية أشهر لا يزيد يوما

راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سفیانی کے نام کے بارے میں سوال کیا آپؑ نے فرمایا:تمہیں اس کے نام سے کیا کام ہے ۔(پس اتنا سمجھ لو)کہ جب وہ شام کے پانچ علاقے دمشق ،حمص،فلسطین،اردن اور قنسرین کو فتح کرے تو اس وقت ظہور امام مہدی علیہ السلام کی توقع کرنا ۔میں نے کہا کیا وہ نو ماہ حکومت کرے گا فرمایا:نہیں بلکہ آٹھ ماہ اور اس سے ایک دن بھی زیادہ نہیں ۔

معجم احادیث الامام المہدی:ج3:ص355

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَرْوَانَ، عَنْ أَرْطَاةَ،
عَنْ تُبَيْعٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: «يَمْلُكُ حَمْلَ امْرَأَةٍ، اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ
کعب احبار سے روایت ہے کہ سفیانی عورت کے حمل کی مدت کے بقدر حکومت کرے گا ۔ اس کا نام عبداللہ ہوگا۔

جبکہ اس سفیانی کے تقریبا 9 ماہ میں کیا کیا تباہی ہو گئی۔اسکو جب آپ سمجھے گئے تو معلوم ہو جائے گا۔ایک سال کا رزق جمع کرنا کیوں ضروری ہے۔

فارس کی تباہی:
اس کی حوالے سے آپ اوپر روایت پڑھ چکے ہیں۔کہ فارس تباہ ہو جائیگا۔یہاں تک سفیانی کے لڑنے کے لئے شعیب بن صالح شخصیت جو رے تہران سے تعلق رکھتے ہو گئے جائے گئے۔

قسطنطنیہ (استنبول ترکی) پر
قبضہ:

حضرت عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سے روایت ہے فرمایا:
(إِذَا انْقَطَعَتِ التِّجَارَاتُ وَالطُّرُقُ، وَكَثُرَتِ الْفِتَنُ، خَرَجَ سَبْعَةُ رِجَالٍ عُلَمَاءُ مِنْ أُفُقٍ شَتَّى، عَلَى غَيْرِ مِيعَادٍ، يُبَايِعُ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ ثَلَاثُمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا، حَتَّى يَجْتَمِعُوا بِمَكَّةَ، فَيَلْتَقِي السَّبْعَةُ،...)كتاب الفتن لنعيم بن حماد.
ترجمہ: جب تجارتیں اور راستے بند ہوجائیں گے اور فتنے زیادہ ہوں گے تو دنیا بھر سے سات علمائے کرام نکلیں گے جن میں سے ہر ایک کے ہاتھوں 313 لوگوں نے بیعت کیا ہوگا، یہ سب مکہ مکرمہ میں بغیر مقررہ تاریخ کے ملیں گے اور ایک دوسرے سےپوچھیں گے کہ تم یہاں کیوں آئے ہو؟ تو سب کہیں گے کہ اس آدمی کی تلاش میں آئے ہیں، جس کے ہاتھ پر یہ فتنے ختم ہوجائیں اور قسطنطنیہ فتح ہو جائے، اس کو ہم اس کے نام، باپ اور ماں کے نام اور سیرت وصورت وغیرہ کو جانتے ہیں)

یعنی سفیانی کے دور میں استنبول ترکی پر قبضہ ہو جائے گا۔اب اس کا مطلب ہے روم اور ترکی کی سفیانی کے دور میں جنگ ہو گئ جس سے استنبول ترکی پر قبضہ ہو گا۔

مصر کی تباہی:

تُفَتُّ مِصْرُ فَتَّ الْبَعْرَةِ، فَعِنْدَهَا يَنْزِلُ الْأَمْرُ (الفتن ۵۸۵)
مصر (خشک) مینگنی کی طرح چورا چورا ہوجائے گا۔ ایسے وقت میں امر (خلافت) نازل ہوگا۔

يَفِتُّ مصر فتَّ البعرة، ثم يُبعَثُ
إلی الذي بمكة.
مصر مینگنی کی طرح چورا ہوجائے گا اس کے بعد اُس شخص کی جانب فوج بھیجی جائے گی جو مکہ میں ہوگا
(رواه نعيم بن حماد في كتاب الفتن ۸٤۹)

الجزيرة امنة من الحراب حتى يخرب مصر
جزیرۃ العرب اس وقت تک خراب نہ ہوگا جب تک مصر خراب نہ ہو جائے
السنن الواردة في الفتن: ج ۴

حضرت مثجور بن غیلان رحمہ اللہ حضرت عبد اللہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد عبداللہ کے ساتھ مسجد سے باہر آۓ تو عبداللہ نے فرمایا خطوں میں زیادہ جلد خراب ہونے والے خطے، بصرہ اور مصر ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ان کو کیا چیز خراب کرسکتی ہے حالانکہ وہاں تو بڑے معزز اور مالدار لوگ موجود ہیں تو انھوں نے جواب دیا خونریزی قتلِ عام اور انتہائی بھوک۔ (یہ بات میں ایسے کہ رہا ہوں) گویا میں بصرہ میں ہوں اور بصرہ گویا بیٹھا ہوا شتر مرغ ہو۔ رہا مصر تو دریاۓ نیل خشک ہو جائیگا اور یہی مصر کی خرابی کا سبب ہوگا۔
( السنن الواردة في الفتن: ج ۴ ص ۹۰۷)

بعض روایات میں منقول ہے کہ مصر کا دریائے نیل خشک ہو جائے گا اور یہاں کے لوگ مصر چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

یعنی سفیانی کے دور میں مصر تباہ ہو جائے گا۔اسکے بعد امام مہدی کا ظہور ہو گا۔

عراق کی تباہی:

عن كعب قال: الكوفَةُ آمِنَةٌ مِنَ الخَرَابِ حَتّیٰ تَخْربَ مِصْرُ، قال الحَكَمُ فيی حديثه عن صفوان قال: حَدَّثَنِي من سمع كعبًا يقول: تُعرَكُ الكُوفَةُ عركَ الأَدِيم، ثُمَّ المَلحَمَةُ العُظْمیٰ بعدَ الكُوفَةِ. (رواه نعيم بن حماد في كتاب الفتن، رقم ۸۹۲)
”جب تک مصر ویران نہ ہوجائے کوفہ (عراق) ویرانی سے محفوظ رہے گا ۔ اور ایک دوسرے قول میں فرمایا: کوفہ (عراق) چمڑے کی طرح رگڑا جائے گا، اس کے بعد الملحمۃ العظمیٰ (یعنی بڑی جنگ) ہوگی۔“

واختلاف الجيوش فيها وخراب
العراق
اور عراق کی خرابی بھوک اور تلوار (جنگ) کی وجہ سے ہوگی
( السنن الواردة في الفتن: ج ۴ ص ۸۸۵)

مصر کی ویرانی کے بعد اب عراق کی تباہی شروع ہو جائے گئ۔
جیسا کہ دریائے فرات کا خزانہ نکلنے کا روایت میں تذکرہ ہے۔

عن علَيٍّ رضي الله عنه قال: يَظْهَرُ السُّفْيَانِيُّ علی الشام، ثُمَّ يَكُونُ بينهم وَقعَةٌ بِقَرقِيسِيا حَتّیٰ يَشبَعَ طَيرُ
السمَاءِ و سِبَاعُ الأرضِ مِنْ جِيَفِهم، (رواه نعيم بن حماد في كتاب الفتن رقم: ۸۸۱)
”سفیانی شام پر غلبہ پالے گا، پھر ان کے درمیان قرقیسیا میں جنگ ہوگی یہاں تک کہ آسمان کے پرندے اور زمین کے درندے ان کی لاشوں کے گوشت سے سیر ہوجائیں گے،

قرقیسیا ایک رومی شہر تھا، شامی صوبے ”دیر الزور“ کا موجودہ قصبہ ”البصیرہ“ قرقیسیا کے مقام سے مشابہت رکھتا ہے، جو دریائے فرات، اور دریائے خابور کے سنگم پر تقریبا 43 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سفیانی سے متعلق مروی روایات میں اس مقام پر ایک ایسی عظیم جنگ کا تذکرہ ملتا ہے، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، سفیانی شام میں غلبہ پانے کے بعد عراق کی طرف متوجہ ہوگا، اور راستے میں اس مقام پر ایک خونریز معرکہ ہوگا۔

سفیانی کے دور میں فرات کا خزانہ نکلنا۔جبکہ صحیح مسلم حدیث میں اس سے دور رہنے کا ذکر ہے۔
وعن كعب قال: (إذا كانت رجفتان في شهر رمضان انتدب لها ثلاثة نفر من أهل بيت واحد أحدهم يطلبها بالجبروت والآخر يطلبها بالنسك والسكينة والوقار والثالث يطلبها بالقتل واسمه عبد الله ويكون بناحية الفرات مجتمع عظيم يقتتلون على المال يقتل من كل تسعة سبعة) الفتن نعيم بن حماد.

حضرت کعبؒ سے روایت ہے جب رمضان میں دو تیز زلزلہ نما جھٹکے شروع ہوں گے، تو اس کے بعد ایک ہی گھر کے تین (۳) افراد نکلیں گے، ان میں سے ایک بادشاہت کو ظلم وجبر سے طلب کرے گا، دوسرا سکون و وقار کے ساتھ طلب کرے گا، اور تیسرا قتل وقتال سے طلب کرے گا، اور اس کا نام عبداللہ ہوگا۔ اس دوران فرات کے کنارے ایک بڑا لشکر مال پر لڑائی کرے گا، جس میں ہر نو (۹) میں سے سات (۷) لوگ قتل ہوں گے۔

جزیرۃ العرب کی ویرانی :

الجزيرة امنة من الحراب حتى يخرب مصر
جزیرۃ العرب اس وقت تک خراب نہ ہوگا جب تک مصر خراب نہ ہو جائے
السنن الواردة في الفتن: ج ۴

فِتْنَةٌ تُدْعَى الْحَالِقَةُ، تَحْلِقُ الدِّينَ، يَهْلِكُ فِيهَا صَرِيحُ الْعَرَبِ وَصَالِحُ الْمَوَالِي وَأَصْحَابُ الْكُنُوزِ وَالْفُقَهَاءُ، وَتَنْجَلِي عَنْ أَقَلَّ مِنَ الْقَلِيلِ.

(رواه نعیم بن حماد في كتاب الفتن، ٥۸۰)

” ایک فتنہ ہوگا جو مونڈنے والا کہلائے گا، جو دین کو مونڈے گا، جس میں خالص عرب ، اور خراسان میں سے نیک لوگ، سرمایہ دار اور فقہاء ہلاک ہوں گے، اور جب یہ فتنہ کھل جائے گا تو بہت ہی کم لوگ باقی بچے ہوں گے۔“

جبکہ ایک اور روایت میں ہے کہ
وَالرَّابِعَةُ صَمَّاءُ عَمْيَاءُ مُطْبِقَةٌ تَمُورُ مَوْرَ الْمَوْجِ فِي الْبَحْرِ حَتَّى لا يَجِدَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ مِنْهَا مَلْجَأً تُطِيفُ بِالشَّامِ وَتَغْشَى الْعِرَاقَ وَتَخْبِطُ الْجَزِيرَةَ بِيَدِهَا وَرِجْلِهَا وَتُعْرَكُ الأُمَّةُ فِيهَا بِالْبَلاءِ عَرْكَ الأَدِيمِ، ثُمَّ لا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَقُولُ فِيهَا: مَهْ مَه، ثُمَّ لا يَرْقَعُونَهَا مِنْ نَاحِيَةٍ إِلا انْفَتَقَتْ مِنْ نَاحِيَةٍ أُخْرَى. (رواه نعيم بن حماد في كتاب الفتن)
” چوتھا فتنہ بہرا، اندھا اور عام ہوگا، سمندر کی لہروں کی طرح اس کی لہریں ہوں گی۔ لوگ اس سے بچنے کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں پائیں گے۔ یہ فتنہ شام میں گھوم کر آئے گا، اور عراق پر بھی چھا جائے گا، اور جزیرة العرب کو اپنے ہاتھوں پاؤں سے روندے گا۔ اُمت اس آزمائش میں چمڑے کی طرح رگڑی جائے گی، لوگ اسے روک نہیں سکیں گے۔ ایک جانب سے اس میں پیوند لگائیں گے تو دوسری جانب پھٹ جائے گی۔“

ہاتھ پاؤں سے روندنے میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس جنگ میں جزیرۃ العرب، شام اور عراق سے بھی زیادہ تباہ حال ہوجائے گا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی
روایت ہے کہ:
تَكُونُ بِالمَدِينَةِ وَقْعَةٌ تَغْرقُ فِيهَا أَحْجَارُ الزَّيتِ، مَا الحَرَّةُ عِنْدَهَا إِلَّا كَضَرْبَةِ سَوطٍ فَيُنْتَحی عَنِ المَدِينَةِ قَدرَ بَرِيدَيْنِ. (رواه نعيم بن حماد في كتاب الفتن، رقم: ۹۳۲)
مدینہ میں ایک ایسا سانحہ پیش آئے گا جس میں احجار الزیت (خون میں) ڈوب جائیں گے، حرّہ کا واقعہ اس کے سامنے ایسا ہوگا جیسے کوڑے کا وار، پس آپ مدینہ سے دو برید (تقریبا چوبیس میل) کے فاصلے پر ایک طرف ہوجائیں گے۔

إنَّ أَهْلَ المَدِينَةِ يخْرُجُونَ مِنْهَا بِسَبَبِ
بَطشِ السُّفْيَانِي و أَفَاعِيلِه. (رواه نعيم بن حماد في كتاب الفتن، رقم: ۹۳۲)”اہلِ مدینہ، مدینہ سے سفیانی کی ناقابل برداشت حرکتوں کی وجہ سے نکلنے پر مجبور ہوں گے“

جنت البقیع میں عظیم جنگ
فهُوَ الَّذِيْ يَفْعَلُ بِالنَّاسِ الأَفَاعِيْلَ و يَظْهَرُ أَمْرُه و هُوَ السُّفْيَانِيُّ، ثُمَّ تَجْتَمِعُ العَرَبُ عليه بِأَرْضِ الشَّامِ، فَيَكُونُ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ حَتی يَتَحَوَّلَ القِتَالُ إلی المَدِينَةِ فَتَكُونُ المَلْحَمَةُ بِبَقِيْعِ الغَرْقَدِ. (رواه نعيم بن حماد في كتاب الفتن ۸٥۷)
”سفیانی لوگوں کے ساتھ بڑے ظلم والی حرکتیں کرے گا، اور غالب آجائے گا، اس کے خلاف عرب شام میں اکٹھے ہوجائیں گے، ان کے درمیان لڑائی ہوگی یہاں تک کہ اس لڑائی کا رخ مدینہ کی طرف پھر جائے گا اور بقیعِ غرقد میں عظیم جنگ ہوگی۔“

ہند کا سندھ پر قبضہ:
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ
عنہ سے روایت ہےکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نےفرمایا تھا :”و خراب السندمن الھندو خراب الھندمن الصين۔
”سندھ کی خرابی ہندسے اورہندکی بربادی چین سےہو گی‘‘ (التذکرۃ:ص648)
امام ابن کثیر (النہایۃ فی الفتن الملاحم:ص:۵۷) اور امام ابوعمرو دانی (السنن الواردۃ فی الفتن:ج:۲/ص:۳۶) نے بھی روایت کیا ہے

جیسا کہ ہند اور سندھ کے درمیان کئی مرتبہ جنگ ہو چکی ہے۔ لیکن بنیان المرصوص کے بعد ہند کے وزیر دفاع کہ چکے ہیں کہ ہند سندھ پر قبضہ کرے گا۔
ممکن ہے امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے کچھ ماہ کے لیے قبضہ ہو جائے۔جو حکومت تبدیلی کا باعث بنے۔جیسا کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد آپ پہلے سندھ کی طرف لشکر بھیجے گئے پھر ہند کی طرف

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَلِيلِي الصَّادِقُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ‌يَكُونُ ‌فِي ‌هَذِهِ ‌الْأُمَّةِ ‌بَعْثٌ ‌إِلَى ‌السِّنْدِ ‌وَالْهِنْدِ، فَإِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُ فَاسْتُشْهِدْتُ فَذَاكَ، وَإِنْ أَنَا فَذَكَرَ كَلِمَةً رَجَعْتُ وَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ قَدْ أَعْتَقَنِي مِنَ النَّارِ. (مسند أحمد۸۸۲۳)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رض فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے سچے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس امت میں سندھ اور ہند کی جانب ایک لشکر بھیجا جائے گا۔ اگر میں نے اس لشکر کو پالیا اور شہید ہوگیا تو یہی مقصود ہے۔ اور اگر میں زندہ واپس لوٹا تو میں ایک آزاد ابوہریرہ ہوں گا جسے اللہ نے جہنم سے آزاد کیا ہوگا۔

اسکے علاوہ دیکھا جائے نعمت اللہ شاہ ولی کی پیش گوئیاں میں مرکوز ہے کہ ہند اٹک تک پہنچ جائے گا۔آزاد کشمیر لاہور پر قبضہ کر لیں گئے۔جبکہ بڑی عید کے بعد مدد آئے گئ مسلمان پھر یہ علاقے واپس لیں گئے۔

خلاصہ:
اسکے علاوہ سفیانی کے دور میں قطر امارت اردن کویت میں جنگیں ہو گئ۔ لہذا آپ دیکھے تو روایت میں جو ہے راستے تجارتیں بند ہو گئے۔
ایک محلے والے دوسرے محلے نہیں جا سکیں گئے۔تو کتنی شدید خونی جنگ ہو گئ۔جبکہ دنیا ساری کا دارومدار تجارت پر ہے۔
آج کے دور میں تو کوئی گھرانہ خود کفیل نہیں سب کا دارومدار منڈی بازار میں آنے والے اشیاء خوردونوش پر ہے۔

جب دنیا ساری میں سفیانی کے دور میں جنگیں ہو گئ تواس وقت قیمتیں کہاں پر ہو گئ۔مختصرا اس وقت غزہ کے حالات دیکھ ہیں کیا ہیں۔

سفیانی کے دور میں پوری دنیا کا یہی حال ہو گا۔اس لیے روایت میں کہا گیا کہ جب فارس کی تباہی یا سفیانی کا ظہور دیکھو ایک سال کا رزق جمع کر لو۔کیونکہ وہ سال عالمی جنگ اور شدید بھوک کا سال ہے۔

آخر میں شیخ حسن التہامی
(فک اللہ اسرہ و حفظہ) کا الہام*
جوکہ بالکل سچ ہونے جا رہا ہے۔
حرب عبوس دبور
سخت مہلک جنگ ہوگی
تخمر فیھا السماء
جس میں آسمان سرخ ہوگی
ویقطر البحر دما
اور سمندر خون سے رنگین ہوگا
ویھلک الحرث والنسل
کیتی اور انسانی نسل تباہ ہوجائے گی
ویصیر الفارس کما اذا ما اتی النیروز
فارس کا رہنے والا ایسے آئے گا جیسے وہ نوروز کے عید کیلئے آتا ہے
والعل یجوس
اور عجمی کافر عصہ سے بد غضب ہوکر سامنے آئے گا
رایت العرب من کل حدب تھب
اس زمانے میں ھر بلند جگہ سے عربوں کو اترتے ہوئے آتا دیکھو گے
عندھا تری المحط قد توسط
اس وقت بندرگاہیں بند ہوگی
والمال قد کسد
مال تباہ ہوگا
والسوق تبور
بازار کساد بازاری کا شکار ہوکر تباہ ہوجائے گا
والعنی الدبور
غنی اور مالدار تباہ ہونگے
لا تسل عن ھلکۃ الطغاۃ
اس زمانے میں سرکشوں کی ہلاکت کا نہ پوچھو کیونکہ وہ جلد ہلاک ہونگے
وتوقف البغاہ فلی تری قوی علی قوی
اور ایسے ہی باغیوں کی ہلاکت کا نہ پوچھوں
کیونکہ کوئی قوی دوسرے قوی پر بھاری نہ ریے گا
الجوع الجوع لایرحم صغیرا و لا کبیرا
بھوک عام ہوکر بچے اور بوڑھے اس کی بے رحمی کا شکار ہونگے
ولا. طفل صغیر ولا غنی ولا فقیر
نہ ہی چھوٹے بچے بچ جائیں گے نہ مالدار اور نہ فقیر

واللہ تعالی اعلم

📚 Seerat-un-Nabvi ﷺ ✍️ Maulana Shibli Nomani📖 Complete 3-Volume Set🏛️ Published by National Book Foundation, Islamabad➡️...
28/02/2026

📚 Seerat-un-Nabvi ﷺ ✍️ Maulana Shibli Nomani
📖 Complete 3-Volume Set
🏛️ Published by National Book Foundation, Islamabad

➡️ Swipe to explore each volume

One of the most trusted and classical Seerah collections, renowned for its authentic references, scholarly depth, and beautiful writing on the blessed life of Hazrat Muhammad ﷺ.

✨ A must-have set for students, scholars, libraries, and every Muslim home.

📍 Available now at all outlets of BhattiBooks
📲 WhatsApp for price & orders: 0317-0544474

28/02/2026

🎉 Good News for Shahwali, Lalazar, Gudwal & Nearby Areas! 📚🎒
🆕 BhattiBooks new branch
📍 Uppal Square, Basti Wah Cantt
Now your favorite books and school essentials are closer than ever!
📞 Phone: 0514-533263

28/02/2026

📚 BhattiBooks | Trusted Since 1981

Serving Wah Cantt & Taxila for generations, BhattiBooks is more than a bookstore — it’s a legacy of learning trusted by parents and students alike.

🏬 6 outlets across the region
📖 Books • Qur’an Pak • Islamic books
✏️ Stationery • Notebooks • 🎒 School bags
🌍 Local & imported items — all in one place

🎓 Authorized & recommended bookseller for leading schools and colleges of Wah Cantt & Taxila.

🚚 Nationwide delivery available

📲 Order now on WhatsApp 0317-0544474
🌐 www.bhattibooks.com
📸

Address

Bhatti Book Center
Wah
47040

Opening Hours

Monday 09:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00
Sunday 09:00 - 21:00

Telephone

+923170544474

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bhatti Book Centre posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bhatti Book Centre:

Share

Category