D.M.K Electric Trag

D.M.K Electric Trag Retailer

Celebrating my 4th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉
14/04/2025

Celebrating my 4th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

21/07/2024

🚨🚨اعلانِ لا تعلقی
آج کل بڑھتی ہوئی سائبر وارداتوں کے پیشِ نظر میں اس بات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ کسی شخص کی فیسبک آئی۔ڈی کسی بھی وقت ہیک ہوسکتی ہے، اگر میری آئی۔ڈی سے کوئی بھی غیر اسلامی، غیر شرعی، فحش یا توہین آمیز مواد شائع ہو یا کوئی پیسوں کی ڈیمانڈ کرے تو میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ جزاک اللّٰہ ۔
اللّٰہ پاک سب کیلئے آسانیاں پیدا فرمائے آمین ثم آمین ۔۔۔۔

13/05/2024

3 bros pizza is a fast food restaurant located in trag city main market street. we serve fast food.

15/11/2023

میں جیل روڈ کے ایک مشہور ہسپتال
کے سامنے والے اسٹاپ پہ اترا تو میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔

#اس واقعہ کو ہم کیا نام دیں۔۔۔😥
آرٹیفیشل پھولوں اور گملوں سے لدھے پھدے لوہے کے اوور ہیڈبرج کی سیڑھیاں چڑھ کے سڑک کے پار اترتے مجھے اپنی ٹانگوں میں جان محسوس نہی ہو رہی تھی ۔
ہسپتال کے مین گیٹ پر باوردی سیکیورٹی گارڈ نے آگے بڑھ کے دروازہ کھولا ۔
میں نے رسیپشن پہ پہنچ کر گردوں کے ڈاکٹر کا پوچھا ۔
اس نے بتایا نیچے بیسمنٹ میں ڈاکٹر امجد بیٹھتے ہیں ۔ وہاں تشریف لے جائیں ۔
آج یہ ساری چیزیں اس لئے ہو رہی تھیں کہ میں ثاقب شیخ (ایک دیرینہ دوست )کے صاف کپڑے ادھار مانگ کے پہن کے آیا ہوا تھا ۔
نیچے پہنچ کے ڈاکٹر صاحب کے کمرے کے باہر بیٹھے ہوۓ لڑکے سے ڈاکٹر صاحب کا پوچھا اس نے بتایا وہ پانچ بجے آئیں گے اور آپ تین ہزار روپے فیس جمع کروا دیں ۔
میں خاموشی سے سامنے موجود اسٹیل کے خوبصورت صوفوں پہ بیٹھ گیا ۔ جن کی ٹھنڈک کو میں نے ریڑھ کی ہڈی میں سرایت کرتے ہوۓ گردن کے مہروں تک محسوس کیا ۔
خیر تھوڑی سی دیر بعد گلے میں اسٹیتھ لٹکاۓ ایک ادھیڑ عمر کے شخص جس نے سرمئی پینٹ کوٹ پہنا ھوا تھا ۔ اور بہت جچ رہا تھا ۔ کمرے کی طرف بڑھتے ھوۓ دیکھا ۔
جونہی ڈاکٹر صاحب میرے پاس سے گزرے میں نے آگے بڑھ کر ڈاکٹر صاحب سے کہا مجھے آپ سے ایک بہت خاص بات کرنی ھے ۔ مجھے تھوڑاسا وقت دیں ۔
ڈاکٹر نے اسسٹنٹ کی طرف اشارہ کیا ۔
میں نے بتایا کہ مجھے کچھ پرسنل بات کرنی ھے ۔
ڈاکٹر ہچکچایا مگر میرے اچھے کپڑے اسے یہ جج کرنے نہی دے رہے تھے کہ میں کوئی ضرورت مند ہوں ۔
تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد ڈاکٹر نے مجھے اپنے پیچھے کمرے میں آنے کا اشارہ کر دیا ۔
میرے لئے تو شائید جنت کے دروازے کھل گئے ۔
اتنا خوش میں نے خود کو زندگی میں کبھی نہ پایا ۔ دل کی دھڑکنیں بھی نارمل ہو چکی تھیں ۔
خیر میں لپک کے ڈاکٹر صاحب کیساتھ انکے پیچھے ان کے کمرے میں پہنچا انکے اشارے کی تعمیل کرتے ھوۓ ایک فومی کرسی کو اپنے لئے منتخب کیا ۔
اور ڈاکٹر صاحب کے سامنے بیٹھ گیا ۔
ڈاکٹر صاحب نے جلدی مجھے اپنی بات مکمل کرنے کے لئے کہا ۔
اب وہ لمحہ تھا جب الفاظ کو مجھ سے روٹھ روٹھ جانا تھا ۔
اور جذبات کو پھوٹ پھوٹ کے آنکھوں سے بہنا تھا ۔
مگر حیرانی تب ھوئی جب یہ سب کچھ نا ہوا ۔ اور میری بیباکی ان تمام پہ غالب آگئی ۔
میں نے سیدھا کہہ دیا کہ مجھے اپنا اور اپنے بیٹے کا گردہ بیچنا ھے ۔
ڈاکٹر چونک اٹھا ۔
اور اپنی سیٹ سے کھڑا ہوکے مجھے کہنے لگا کہ کیا بکواس کر رہے ھو ۔ میرے کمرے سے نکل جاؤ ۔
میں تمہیں گردہ فروش لگ رہا ہوں ۔
ڈاکٹر ایک دم سے غصے میں لال پیلا ہو گیا ۔
میں ڈاکٹر کے غصے کو نظر انداز کرتے ہوۓ ہاتھ جوڑ کے اپنی سیٹ سے کھڑا ہو کے بولا
اگر یہ ممکن نہ ہوا تو میں اسی ہسپتال کی چھت سے کود کے آج مر جاؤنگا ۔
میری بات نے ڈاکٹر پہ اثر دیکھایا ۔
ڈاکٹر کے لہجے میں واضح نرمی آ گئی ۔
اس نے کہا یہاں ایسا کوئی کام نہی ہوتا ۔
آپ کو اگر کوئی پرابلم ہے تو کسی فلاحی ادارے کے پاس چلے جائیں ۔
ابھی مزید ڈاکٹر کچھ کہنے کو تھا کہ میں نے بات کاٹی ۔ ڈاکٹر صاحب میری پھولوں جیسی ماں نے مر جانا ھے ۔ میرے پاس وقت نہی ھے ۔
ڈاکٹر کو بھی شائید اپنی ماں نظروں میں دوڑ گئی ۔ کیونکہ مائیں تو ساری دنیا کی ایک جیسی ہوتی ھیں ۔
پیار کرنے والیاں نرم دل حساس اپنا سب کچھ اپنی تخلیق پہ قربان کرنے والیاں ۔
خود کو گیلے پہ سلا کے اپنےنومولود کو سوکھے پہ سلانے والیاں ۔
ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا مسئلہ کیا ھے ۔
میں نے مختصر بتایا کہ ماں کو جگر کا کینسر تشخیص ہوا ھے ۔ آپریشن پہ ایک کڑوڑ پندرہ لاکھ لگتے ھیں ۔ میرا کل سرمایا چھوٹا سا گھر تھا بیچ دیا ھے اور میرے پاس صرف ساٹھ لاکھ اکٹھا ھوا ہے۔
سب رشتہ دار دوست احباب اور فلاحی اداروں سے مایوس ہو چلا تھا ۔
پرسوں جگر کے ڈاکٹر نے بتایا ھے کہ اب ٹرانسپلانٹ کے لئے وقت بہت کم ہے ۔ ایک دو روز میں فیصلہ کر لیں ۔
میں ماں کو گھر لے آیا ۔
اسنے اتنے پیار سے میرا ماتھا چوما اور کہا بیٹا میں تم سے بے انتہا راضی اور خوش ہوں تم نے اپنے نامساعد حالات میں رہتے ہوۓ بہتریں ڈاکٹروں کو دیکھایا ۔
اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ خالی رکھ کے میرے لئے ادویات خریدیں ۔
میں جانتی ہوں کہ یہ آپریشن تیرے بس سے باہر ہے ۔
تم مجھ پہ ایک احسان کر و مجھے ہنستے ہوۓ اس دنیا سے الوداع کر دو ۔
میں رب کے پاس جا کر بھی تمہارے لئے سفارش کرونگی ۔
تو میرا سوہنا لال ھے ۔ تجھے اورتیرے بچوں کو یہ زندگی مبارک ۔
ڈاکٹر صاحب مجھے ساری رات نیند نہ آئی ۔ بے چینی اتنی بڑھ گئی اور بے بسی کی انتہا اس حد تک ہو گئی کہ خیالوں میں میں نے خدا سے بھی جنگ کر لی ۔ کہ غربت فاقہ کشی بیماری سب تو جھیل رہا ہوں اور تیرے حضور پھر بھی سجدہ ریز ہوں اور تو کہ تیرے امتحان ختم ہی ہونے کو نہی آ رہے ۔ تو رب کے اس آخری امتحان میں فیل پاس ہونے کے چکر میں یاد آیا کہ عارف خواجہ میرے دوست نے اپنا ایک گردہ چالیس لاکھ کا بیچا تھا ۔ اس نے ایک سود خور کے چنگل سے اپنی اور اپنے گھر والوں کی جان چھڑوائی تھی ۔
فوری جمع تفریق کی اپنے اور اپنے بیٹے کے گردے کی قیمت ملا کے میرے پاس پیسے پورے ہو گئے ہیں ۔
رات جیسے تیسے گزار کے بغیر کچھ کھاۓ پئیے اس ہسپتال کا مجھے علم تھا سو آپکے سامنے آ بیٹھا ہوں
میں آپکو آپکے آپریشن کی بھی پوری فیس ادا کر دونگا ۔
آپ صرف مجھ پہ یہ احسان کر دیں ۔ کہ ھم دونوں کا آپریشن کر کے گردے کسی کو دے کر میری ماں کی جان بچا لیں ۔
مجھے دس روپے کی بھی مالی امداد نہی چاہئیے ۔
ڈاکٹر اپنی سیٹ سے اٹھا ۔ اور اس نے مجھے تسلی دی مجھے باہر بیٹھنے کو کہا اور اپنے اسٹنٹ کو بلوا کے کہا اسے کینٹین سے کھانا لاکر دو ۔ مجھ سے اس نے بڑی شفقت سے تھوڑا سا وقت مانگا ۔
میں اپنی لاش کواپنے پاؤں پہ اٹھا کے باہر ویٹنگ میں آبیٹھا ۔
کھانے کے بعد مجھے چاۓ بھی پینے کو ملی ۔ رات دس بجے ڈاکٹر صاحب اٹھ کے باہر آۓ اور مجھے اپنے ساتھ آنے کو کہا ۔
باہر آکر انھوں نے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھاتے ہوۓ میرے گھر کا پتہ پوچھا ۔
میں انھیں دروغہ والا کی ایک گلی تک لے کر آتے ہوۓ اپنے مکان کے سامنے رکنے کو کہا ۔
ڈاکٹر صاحب نے میری ماں کو سلام کیا ۔ انکی طبیعت پوچھی اور مجھے بتایا کہ اسلام آباد الشفاء ہسپتال کی ٹرسٹ فاؤنڈیشن میں موجود راجہ وقار مستالوی نامی ایک شخص کا فون نمبر دیا اور بتلایا میری ساری بات اس سے ہو گئی ھے آپ کل ماں جی کو انکے پاس لے جائیں ۔
فاؤنڈیشن میں آپکا کچھ خرچ نہی ہوگا ۔
یہ کہہ کے ڈاکٹر صاحب اجازت لیکر ایسے رخصت ھوۓ کہ جیسے انہوں نے کچھ کیا ہی نہی ۔
وہ کیا جانتے تھے کہ وہ تو آج مجھے قارون کے خزانے کی کنجیاں تھما کے چلا گئے تھے ۔
قسمے اس دن میں نے دیکھا کہ رب اور بندے کا کبھی کبھی کچھ فرق نہی رہتا ۔
اگلی صبح فون کر کے راجہ وقارمستالوی صاحب کے کمرے بیٹھا ڈاکٹر جیسے ہی بڑے انسان سے ملا ۔ اس اللہ کے بندے نے سارا کام خود ہی بھاگ دوڑ کر کے اور آخر کار فائیل بنا کے آپریشن کی تاریخ بتا کے جب مجھے رخصت کرنے لگا تو اس نے چپکے سے مجھے بتایا کہ فاؤنڈیش چالیس فصید پیسے دے گی ۔ باقی سارے پیسے ڈاکٹر امجد صاحب ادا کریں گے ۔
انکی بات سن کے میں دیوار کے پاس کھڑا تھا ۔ اسکو پکڑتے پکڑتے زمین بوس ہو گیا ۔
ذہن میں بجلی کیطرح یہ بات کوندی ۔ کہ یہ سب کے سب تو صرف میرے سوہنے رب کی تخلیق ہیں ۔ وہ میرا کائینات کا سب سے بڑا تخلیق کار میرا سوہنا رب کتنا بڑا ہے ۔
پہلی دفعہ آذان میں پکارے گئے اللہ اکبر کے حقیقی معنی سامنے آۓ ۔....!!

08/03/2023
Available on DMK ELECTRIC TRAG
08/03/2023

Available on DMK ELECTRIC TRAG

Available cob built in driver
27/09/2022

Available cob built in driver

D.M.K Electric & Electronic
27/09/2022

D.M.K Electric & Electronic

D.M.K ELECTRIC ki janab sy HAPPYINDEPENDENCE DAY
13/08/2022

D.M.K ELECTRIC ki janab sy HAPPYINDEPENDENCE DAY

EiD Mubarak from D.M.K ELECTRIC  STORE
03/05/2022

EiD Mubarak from D.M.K ELECTRIC STORE

Address

Trag

Opening Hours

Monday 07:30 - 19:00
Tuesday 07:30 - 19:00
Wednesday 07:29 - 19:00
Thursday 07:29 - 19:00
Friday 07:30 - 12:00
15:30 - 19:00
Saturday 07:30 - 19:00
Sunday 07:30 - 19:00

Telephone

+923004056648

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when D.M.K Electric Trag posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to D.M.K Electric Trag:

Share