Jandool Lebas Timergara

Jandool Lebas Timergara Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jandool Lebas Timergara, Shopping & retail, timergara zeb City Block A-22, Timurgara.

دیر تاریخ کی نظر سے۔!خیبر پختونخوا کا چھٹا بڑا ضلع، ضلع دیر بالا، پاکستان کے شمال مغرب میں چترال اور پشاور کے بیچ ایک چھ...
11/10/2023

دیر تاریخ کی نظر سے۔!
خیبر پختونخوا کا چھٹا بڑا ضلع، ضلع دیر بالا، پاکستان کے شمال مغرب میں چترال اور پشاور کے بیچ ایک چھوٹی سی شاہی ریاست تھی۔
1969 میں یہ ریاست پاکستان میں ضم کردی گئی اور پھر مالاکنڈ ڈویژن بننے کے بعد 1970 میں اس کو ضلع کا درجہ دیا گیا۔ 1996 میں اس ضلع کو مزید دو حصوں ”لوئر دیر” (دیر زیریں/ دیر پائین) اور ”اپردیر” میں تقسیم کردیا گیا۔
ضلع دیر بالا کے مشرق میں ضلع سوات، مغرب میں افغانستان کا صوبہ کُنار، شمال میں چترال اور جنوب میں ضلع لوئر دیر ہے۔ ”شنگاڑا پاس” دیر کو افغانستان جب کہ ”لواری پاس” اِسے چترال سے ملاتا ہے۔
”دیر” سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب عبادت کی جگہ یا خانقاہ ہے۔
جبکہ کوہستانی گاوری زبان میں "دیر"کا مطلب ہے ڈھلوان یا منڈھیر۔
دیر کا نام اصل میں گاوری کی وجہ سے پڑا ہے۔ یہ قصبہ دیر ریاست کا دارلحکومت تھا اور ایک چھوٹا سا شہر تھا جو آج بھی دیر بالا کا ضلعی ہیڈکوارٹر ہے۔
دیر کو گندھارا تاریخی حیثیت بھی حاصل ہے۔
دیر کی تاریخی حیثیت اور اہمیت کے بارے میں دیر چکدرہ میوزیم کے انچارج محب گل کے مطابق دیر کو تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل ہے کیونکہ یہ پشاور، سوات، باجوڑ کے ساتھ ساتھ گندھارا تہذیب کا مرکز تھا اور مغرب کی طرف افغانستان میں ہڈان اور بامیان تک اور مشرق کی طرف پنجاب پاکستان میں ٹیکسلا ویلی تک پھیلا ہوا علاقہ تھا اس علاقے کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔
محب گل کا کہنا ہے کہ تیمرگرہ اور دیگر مقامات پر 18 ویں سے 6 ویں صدی قبل مسیح کے درمیان آریاؤں کی قبروں کی کھدائی سے ثبوت ملتا ہے آریائیوں کے بعد بخامنشی تھے جنہیں بعد میں 327 قبل مسیح میں سکندر نے مقامی آبادی کی سخت مزاحمت کے بعد بے دخل کر دیا تھا۔
محب گل نے وضاحت کی کہ گندھارا تہذیب نے اپنی جڑیں قائم کیں جیسا کہ بدھا سٹوپا اور خانقاہوں کی یادگار باقیات سے ظاہر ہوتا ہے، جو دیر کے عجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں اسی طرح یوسف زئی پٹھان یہاں 15 ویں صدی عیسوی میں آباد ہوئے تھے اور یوسف کے پڑ پوتےملازئ قبیلے کے اخوند لیاس پائندہ خیل (1640) کو مقامی لوگوں میں مقبولیت حاصل تھی، پائندہ خیل کی اولاد نے مقامی آبادی پر اثر و رسوخ بڑھایا اور ایک سیاسی ریاست کی بنیاد رکھی جس پر کئ سو سالوں تک اخوند الیاس کے خاندان نےحکومت کی۔
انگریزوں نے 1897 میں دیر کی حدود کا تعین کیا لیکن ان کے جانے کے بعد اسے ایک علیحدہ ریاست کا درجہ حاصل ہوا۔ دیر کا 1960 میں قبائلی ایجنسی کے طور پر پاکستان سے الحاق ہوا اور 1969 میں ایک ضلع کے طور پر خیبر پختونخوا میں ضم ہو گیا۔
برصغیر میں برطانوی حکومت کو خطے کا کنٹرول سنبھالنے میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کہانی کا انکشاف برطانیہ کے وزیر اعظم سرونسٹن چرچل نے بھی اخباری کالموں اور اپنی کتاب ’دی اسٹوری آف مالاکنڈ فیلڈ فورس‘ میں کیا ہے۔
“چرچل نے ایک فوجی افسر کے طور پر اس وقت علاقے کا دورہ کیا جب مالاکنڈ کی لڑائی پختہ ہو چکی تھی کیونکہ اس نے مالاکنڈ کے محاصرے اور پشتون قبائل کے خلاف مہم کوسیاحوں اور مورخین کے لیے اپنی کتاب ” as a period of significant transition“ میں بیان کیا ہے۔ علاقے کی کھدائی کے دوران برآمد ہونے والے نوادرات اور آثار دیر چکدرہ میوزیم میں رکھے گئے ہیں جونہ صرف ایک عظیم کارنامہ ہے بلکہ دیر کی صدیوں پرانی تاریخ اور ثقافت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
دیر میں رہنے والے یوسفزئی قبائل کو ملیزی کہا جاتا ہے جو کہ ملے بابا کے چار بیٹوں سے منسوب ہیں اور ملے بابا یوسف کا بیٹا تھا۔ اسکے علاوہ دیر لوئیر اور دیر اپر کے نمایاں قبائل میں اتمان خیل، وردگ معیار، روغانی، گجر، سواتی، ترکلانی وغیرہ قابل زکر ہیں.
دیر کا مشہور دریا دریاۓ پنجکوڑا سے متعلق
بعض محققین کے بقول رگوید کا ایک حصہ اسی دریائے پنجکوڑہ کے کنارے لکھا گیا تھا۔ نہیں معلوم یہ بات کتنی درست ہے البتہ رگوید سمیت قدیم ہند کے دوسرے تمام کتابوں میں دریائے پنجکوڑہ کو گوری اور یہاں آباد اس خطے کے سب سے قدیم داردی قبائل کو گورائے نام سے یاد کیا گیا ہے۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ دریائے پنجکوڑہ کو گورائے قبائل کے وجہ سے گوری کہا گیا ہے یا ان داردی قبائل کو دریائے گوری کے وجہ سے گورائے کہا گیا ہے البتہ یہ بات صد فیصد درست ہے کہ گورائے اس دریا کے کنارے آباد سب سے قدیمی داردی لوگ ہیں جنہوں نے بعد میں بھی اس دریا اور علاقے کو اپنا نام پنجکور یعنی پانچ داداؤں کا مسکن کا نام دیا جو آج تک مستعمل ہے ۔
پنجکوڑ یعنی رام، راج، امان، مامت اور جے دادا کا مسکن یعنی کور
ان پانچ گاؤری بزرگوں کی نسل اس وقت کے تمام گاؤری قبائل میں سب سے طاقت ور اور اثر و رسوخ والے لوگ تھے جنہیں دش خیل تالاش زیریں دیر سے یہاں آنے کے نسبت سے دشوا بھی کہا جاتا تھا جو پہلے پہل گاؤری زبان کا ایک لہجہ دشوا بولتے تھے لیکن بعد میں گاؤری اور پشتو کے وجہ سے دشوا لہجہ مٹ گئی۔
دریائے پنجکوڑہ کا پانچ ندیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے بلکہ اسے یہاں آباد پانچ مشہور دشوا گاوری قبائل کے وجہ سے پنجکور کہا جاتا تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پشتونائز ہوا یوں پنجکور سے پنجکوڑہ بن گیا۔
زرائع معاش میں کھیتی باڑی اور تجارت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
ضلع دیر بالا میں گھریلو استعمال کے لیے ہاتھ سے بنے ہوئے چاقو اور چھریاں بہترین کوالٹی اور مہارت کے باعث پاکستان اور بیرونی ممالک میں مشہور سمجھی جاتی ہیں۔
اس چاقو کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بڑی مہارت کے ساتھ خالصتاً ہاتھ سے بنائے جاتے ہیں اور یہ پائیدار بھی ہوتا ہے جو سالہاسال بغیر خراب ہوئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دیر میں ویسے تو کئی قسم کے چاقو، خنجر اور چھریاں تیار ہوتی ہیں لیکن ان میں چینی ڈیزائن، ماہی اور سادہ ڈیزائن کے چاقو اور چھریاں زیادہ شہرت رکھتے ہیں جو عام طور پرگھروں میں استعمال کئے جاتے ہیں۔
دیرسے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں گھریلو استعمال کی چھریاں اور خنجر سعودی عرب، مسقط ، دبئی، اومان اور دیگر ممالک میں بھیجے جاتے ہیں۔
دیر بالا میں پہلے چاقو اور چھریاں بنانے کی تقریباً سو کے قریب دوکانیں قائم تھیں اب زیارہ تر دکانیں بند ہو چکی ہیں۔
دیر میں چاقو بنانے کی صنعت کا آغاز دیر کے اس وقت کے حکمران نواب آف دیر شاہ جہان خان کے دور میں ہوا تھا۔
دیر بالا سے تعلق رکھنے والے پشاور کے سینیئر صحافی محمد قاسم کے مطابق
نواب صاحب کے دور میں چاقو بنانے کے کئی کارخانے قائم تھے اور اس وقت اس صنعت کو ریاستی سرپرستی حاصل تھی۔
انھوں نے کہا ہے کہ نواب آف دیر چاقو اور چھریاں بنانے کے کاریگروں کے درمیان ہر سال مقابلے کراتے تھے اور جو کاریگر اچھا چاقو بناتا اسے انعام سے بھی نوازا جاتا۔
اسکے علاوہ دیر کی روایتی سفید ٹوپی پوری دنیا میں پختون مردوں کی علامت بن چکی ہے ۔
لیکن ضلع دیر سے باہر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ ٹوپیاں اس خود دار معاشرے کی خواتین نے بنائی ہیں۔
دیر بالا و پایٸن میں ہاتھوں کی مدد سے بننے والی یہ ٹوپی,صرف ایک ٹوپی نہیں بلکہ دیر کی خود داری کی ایک لازوال داستان هے۔
کسی بھی قوم کی خود داری کا انحصار ان کی ازاد معیشت پر ہوتاهے۔ یہ کہانی شروع هوتی هے اس وقت سے جب ریاست دیر نے اپنی خود داری کو برقرار رکھتے ہوۓ اپنی معیشت اپنی مدد اپ کے تحت کھڑی کردی تھی. یہ سفید (تاج) ٹوپی دیر کی اس ماں بہن اور بیٹی کی وه خاموش محبت اور محنت هے, جس نے اپنے بھاٸی ،والد اور بیٹے کی نہ صرف معاشی مدد کی بلکہ اس کے سر پر سفید تاج رکھا هوا هے۔
یہاں کے لوگ بہت سیدھے سادے، خوش مزاج اور مہمان نواز ہیں۔ زیادہ تر لوگ کاروبار کے ساتھ ساتھ پہاڑوں پر موجود اپنے چھوٹے چھوٹے زمین کے ٹکڑوں پر کھیتی باڑی کرتے ہیں۔
یہاں اخروٹ، ناشپاتی اور آڑو کے باغات بہت زیادہ ہیں جو اپنے آپ میں ایک خوب صورت نظارہ ہے۔ ہلکی ہلکی بارش، گہرے سیاہ بادل اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں درختوں پر جھولتے جنگلی اخروٹ اور ناشپاتیاں ایک خواب ناک منظر پیش کرتی ہیں۔
بڑے بڑے پتھریلے پہاڑوں کے کناروں پر بنے پکے کھالوں کی پگڈنڈیوں پر چلنا، گھنے درختوں کے سائے میں بیٹھ کر جنگلی اخروٹ کھانا، ٹھنڈے ٹھنڈے چشموں سے میٹھا پانی پینا، ندی نالوں پر درختوں کے خالی تنوں سے بنے پلوں پر چلنا، روز کالے سیاہ بادلوں کا آنا اور اکثر بغیر برسے چلے جانا، کبھی کبھی دھنک کا نظر آ جانا، دریائے پنجکوڑہ اور عشیری کے یخ پانی میں بچوں کا ڈبکیاں لگانا، اور تاروں بھری خنک راتوں میں چاندنی میں نہائے پہاڑوں پر ٹمٹماتے چراغوں کی مانند گھروں کا نظارہ کرنا، یہ وہ چند تجربات ہیں جو میں نے اس علاقے میں کیے اور ایسے نظارے پاکستان میں آپ کو شاید ہی کہیں ملیں۔ یہاں کا لینڈ اسکیپ ملک کے خوب صورت ترین لینڈ اسکیپس میں سے ایک ہے۔
صدیوں پرانی تہذیب اور ثقافت کی تاریخ کو ظاہر کرتے ہوئے، یہ علاقہ اب صحت، تعلیم اور دیگر شہری سہولیات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ جدیدیت کے سفر پر گامزن ہے۔
بشکریہ جناب (ڈاکٹر احمد رشید خوگیانی)

05/10/2023

Best Teacher in The World Prophet Muhammad ﷺ ❤

پرامن علاقہ چترال میں دہشت گردی نا منظور آج چترال کے  گاؤں  بمبوریت  میں دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے  ہماری  فوج کے 5 جوان ش...
06/09/2023

پرامن علاقہ چترال میں دہشت گردی نا منظور
آج چترال کے گاؤں بمبوریت میں دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے ہماری فوج کے 5 جوان شہید اور بافی زخمی ہوئے ہیں ۔😭😭
یا اللہ اپ چترال کے اوپر اپنے رحم و کرم عطا فرما 🙏۔
امین ثم امین

نن پہ سوات کی یوہ مور پہ ڈزو لگیدو لہ وجی مڑہ شوہ خو د مور سرہ موجود زوی دے عکس د فلسطین والا واقعے ہیرے کڑے۔مونگ سومرہ ...
05/09/2023

نن پہ سوات کی یوہ مور پہ ڈزو لگیدو لہ وجی مڑہ شوہ خو د مور سرہ موجود زوی دے عکس د فلسطین والا واقعے ہیرے کڑے۔مونگ سومرہ پہ بد رنگہ معاشرہ کی جوند کوو۔۔۔۔۔۔

Jandool lebas CEOCEO Hidayat rasool
14/07/2023

Jandool lebas CEO
CEO Hidayat rasool

    🥋👕👔
25/03/2023




🥋👕👔

New 🥋🛍️🛍️👍
09/03/2023

New 🥋🛍️🛍️👍

New 🛍️🥋
09/03/2023

New 🛍️🥋

Brained  RS 2600😘
17/03/2022

Brained RS 2600😘

15/03/2022
14/03/2022

Gul Ahmed 

Address

Timergara Zeb City Block A-22
Timurgara

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jandool Lebas Timergara posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share