07/02/2026
Abid Shah Abid السلام علیکم پیارے ممبرز
اُدھار ریکور کیوں نہیں ہوتا؟
اصل بیماری
اکثر بزنس والے سمجھتے ہیں
“یہ گاہک بعد میں دے دے گا”
یہ “بعد میں”
اکثر سالوں میں بدل جاتا ہے۔
اصل وجہ یہ نہیں کہ آدمی “برا” ہے…
اصل وجہ یہ ہے کہ
آپ نے اُسے قانون کے بغیر پیسہ دے دیا۔
جس اُدھار کا ثبوت نہیں،
اس کی واپسی بھی نہیں۔
لکھا پڑھا نہیں
صرف یقین
“بھائی جان تو اپنے ہو…”
واپسی کی تاریخ نہیں
جس اُدھار کی تاریخ نہیں
وہ حقیقت میں تحفہ ہوتا ہے۔
بزنس ہمدردی سے نہیں چلتا
اصولوں سے چلتا ہے۔
بار بار نئی سپلائی دینا
ڈوبتے کو پانی نہیں
مزید پانی دینا۔
امید اچھی چیز ہے
لیکن بزنس میں امید نہیں
میکنزم چاہیے۔
“بھائی مال دے دو، پچھلا بھی اکٹھا کر دوں گا
یہ لالچ کا لالچ ہے۔
پچھلا اکٹھا نہیں ہوتا
بلکہ نیا بھی اُدھار بن جاتا ہے۔
وہ کسٹمر جو اُدھار لیتا ہے مگر کیش دوسری جگہ دیتا ہے
اس کا علاج یہ ہے:
نیا مال کیش پر
ریٹ تھوڑا بہتر
پرانا اُدھار قسطوں میں
کسٹمر بھی نہیں جاتا
سیل بھی چلتی ہے
ریکوری بھی ہوتی ہے
“نیا اُدھار بند”
جب کوئی پرانا اُدھار نکال دے
تو یہی وقت ہوتا ہے
کہ وہی سب سے بڑا امتحان آتا ہے۔
اگر آپ پھر اُدھار دے دیتے ہیں
تو سمجھیں
آپ نے پہلی غلطی سے کچھ نہیں سیکھا۔
لالچ سے دور رہیں
کیش کو ترجیح دیں
جو اُدھار دیتے ہیں
وہ صرف انتظار کرتے ہیں۔
Abid Shah Abid