Book off Quetta

Book off  Quetta I m.saf inshallah
De wairld moslam saf

01/10/2018

کوئٹہ کا ڈاکٹر

04/09/2018

موت کے وقت مرنے والے کو اپنے دائیں بائیں کیا نظر آتا ہے ؟ انتہائی ایمان افروز تحریرہرشخص کی عمرمقررہےنہ اس سےگھٹے،نہ بڑھے۔جب وہ عمرپوری ہوجاتی ہےتوملک الموت (روح قبض کرنےوالافرشتہ)علیہ السلام اس کی جان نکال لیتےہیں موت کےوقت مرنےوالےکےداہنے،بائیں جہاں تک نظرجاتی ہےفرشتےہی فرشتےدکھائی دیتےہیں۔مسلمان کےپاس رحمت کےفرشتےاورکافرکےپاس عذاب کے۔مسلمانوں روح کوفرشتےعزت کےساتھ لےجاتےہیں اورکارفروں کی روح کوفرشتےحقارت کےساتھ لےکرجاتےہیں۔روحوں کےرہنےکےلئےمقامات مقررہیں نیکوں کیلئےعلیحدہ اوربدوں کےلئےعلیحدہ۔مگروہ کہیں ہو،جسم سےان کاتعلق باقی رہتاہے۔اس کی ایذاسےان کوتکلیف ہوتی ہے۔قبرپرآنےوالےکودیکھتےہیں،اس کی آوازسنتے ہیں،مرنےکےبعدروح کسی دوسرےبدن میں جاکرپھرنہیں پیداہوتی،یہ جاہلانہ خیال ہے،اسی کوآواگون (بعض لوگ کہتےہیں کہ جولوگ دنیاسےاچھےعمل کرکےنہیں جاتےتوان کی روح مرنے کےبعداس کےعمل کےمناسب دوسرے کےبدن میں آجاتی ہے) کہتےہیں۔موت یہی ہےکہ روح جسم سےجداہوجائےلیکن جداہوکروہ فنانہیں ہوجاتی۔ دفن کےبعد قبرمُردےکودباتی ہےجب دفن کرنےوالےدفن کرکےواپس ہوجاتےہیں تومُردہ ان کےجوتوں کی آوازسنتاہے۔ اس کےبعددوفرشتےزمین چیرتےآتےہیں ان کی صورتیں ڈراؤنی،آنکھیں نیلی کالی۔ ایک کانام مُنکَر،دوسرے کانام نکیر ہے۔وہ مردےکواڑھاکربٹھاتےہیں اوراس سےسوال کرتےہیں. (۱) تیرا رب کون ہے؟ (۲) تیرا دین کیا ہے؟ (۳) حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف اشارہ کر کے پوچھتے ہیں تو ان کے حق میں کیا کہتا تھا ؟ مسلمان جواب دیتا ہے۔ میرا رب اللہ ہے ۔میرا دین اسلام ہے۔ یہ اللہ کے رسول ہیں ۔اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ (۱)۔ فرشتے کہتے ہیں ہم جانتے تھے کہ تو یہی جواب دے گا پھر اس کی قبر فراخ (۲) اور روشن کر دی جاتی ہے۔ آسمان سے ایک منادی ندا کرتا ہے(۳)۔ میرے بندے نے سچ کہا ۔ اس کیلئے جنّتی فرش بچھاؤ ،جنّتی لباس پہناؤ، جنت کی طرف دروازے کھولو۔دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جس سے جنّت کی ہوا اور خوشبو آتی رہتی ہے اور فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اب تو آرام کر۔ کافر ان سوالوں کاجواب نہیں دے سکتا ہرسوال کے جواب میں کہتا ہے میں نہیں جانتا۔آسمان سے ندا کرنے والا ندا کرتا ہے کہ جھوٹا ہے اس کیلئے آگ کا بچھونا بچھاؤ، آگ کا لباس پہناؤاوردوذخ کی طرف کادروازہ کھول دواس سےدوزخ کی گرمی اورلپٹ آتی ہےپھراس پرفرشتےمقررکردیئےجاتےہیں جولوہےکےبڑےبڑےگرزوں(وزنی ہتھوڑوں)سےمارتےہیں اورعذاب کرتےہیں۔سوالات سوال: آواگون کوکون لوگ مانتےہیں؟ جواب: ہندو۔ سوال: کیاقبرہرمردےکودباتی ہے؟ جواب: انبیاء کرام علیہم السلام مستثنٰی ہیں (شامل نہیں) ان کےسواسب مسلمانوں کوبھی قبردباتی ہےاورکافروں کوبھی۔ لیکن مسلمانوں کودباناشفقت کےساتھ ہوتاہےجیسےماں بچہ کوسینہ سےلگاکرچپٹائےاورکافرکوسختی سےیہاں تک کہ پسلیاں اِدھرسےاُدھرہوجاتی ہیں (یعنی ایک دوسرےمیں پیوست ہوجاتی ہیں)۔سوال: کیاکچھ لوگ ایسےبھی ہیں جن سےقبرمیں سوال نہیں ہوتا۔ جواب: ہاں۔ جن کوحدیث شریف میں مستثنٰی کیاگیاہےجیسےانبیاء علیہم السلام اورجمعتہ المبارک اوررمضان المبارک میں مرنےوالےمسلمان۔ سوال: قبرمیں عذاب فقط کافرپرہوتاہےیامسلمان پربھی؟ جواب: کافرتوعذاب ہی میں رہیں گے اوربعضےمسلمان گنہگارپربھی عذاب ہوتاہے۔مسلمانوں کےصدقات،دعاء، تلاوتِ قرآن اور دوسرےثواب پہنچانےکےطریقوں سےاس میں تخفیف (کمی) ہوجاتی ہے اوراللہ تعالیٰ اپنےکرم سےاس عذاب کواٹھادیتاہے۔بعض کےنزدیک مسلمان پرسےقبرکاعذاب جمعہ کی رات آتےہی اٹھادیاجاتاہے۔سوال: جومردےدفن نہیں کئےجاتےان سےبھی سوال ہوتاہے؟ جواب: ہاں وہ خواہ دفن کیاجائیہ اعتدال یوں تو آسان لگتا ہے، ہر آدمی دعویٰ کرتا ہے کہ جناب غصہ تو آتا ہی نہیں ہے، جنس پر مکمل کنڑول ہے اور عقل بھی دیکھ کے استعمال کرتے ہیں مگر حقیقت میں اِن کی آفتوں سے بچنا نامکمن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اگر کوئی شخص زندگی بھر کام کرتا رہے اور مرتے دم تک اِسی فکرمیں لگا رہے تو شاید کچھ بہتری کی اُمید ہو۔ جس نے سمجھ لیا کہ وہ اِس اعتدال میں کامیاب ہوگیا ہے تو درحقیقت وہ غلط ہے۔عقل کی خرمستیاں تو منہ چڑھ کر بولتی ہیں۔ بڑے بوڑھے کہتے تھے کہ جب دلیل اور بندہ آمنے سامنے ہوں تو دلیل مار دو بندہ بچالو۔ آج اِسی عقل اور دلیلوں کو لوگوں کی گردنیں اُتارنے پر استعمال کرتے ہیں۔ کوئی آپ سے چبھتا ہوا سوال پوچھ لے، کوئی سوشل میڈیا پر کوئی بحث چھیڑ دے، کوئی بڑا یا اُستاد کوئی ایسی بات کر بیٹھے جو آپ جناب کے مزاج سے موافق نہ ہو، کوئی ساتھ کام کرنے والا آپ سے آگے بڑھ جائے، کسی رشتےدار کے بچے آپ کے بچوں پر فوقیت لے جائیں، یا کوئی پڑوسی آپ سے اچھا مکان بنالے یا گاڑی لے آئے، پھر دیکھیں اس عقل کے کرشمے۔جب تک کمائے ہوئے مال کو حرام، کئے گئے اعمال کو کفر، اور پائی گئی شہرت کو ذلت میں ثابت نہ کردے یہ عقل خاموش نہیں ہوپاتی۔ کسی شخص کی ترقی و کامیابی کو نہ ماننا بھی تکبر کی نشانی ہے اور تکبر عقل پر پلتا ہے۔ آپ دماغ چلانا بند کردیں تو یہ بھوکا مرجائے کہ اِسکو غذا کی شکل میں معلومات ہی نہ ملے۔غصّے کو اعتدال پر رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ آدمی کو خلافِ مزاج بات پر غصّہ آتا ہی ہے۔ کوئی ظلم دیکھے، ناانصافی کا سامنا ہو، کوئی لوٹ لے، چوری ہوجائے۔ کوشش کرنی چاہئیے کہ اِس آگ کو اچھے کاموں میں لگائے۔ غصّے سے سینک لے اور نیک کام کرے۔ اپنے بیوی بچوں، اہلِ وعیال کے معاملے میں تو ہر کوئی در گزر سے کام لیتا ہی ہے، پتہ تو اُس وقت چلتا ہے جب نوکر کا بچہ گلاس توڑ دے۔ سرعام کوئی گالیاں دینا شروع کردے اور کوئی بغیر کسی وجہ کے آپ کی بےعزتی پر تُل جائے۔ ہمارے ملک میں فرسٹریشن اِتنی زیادہ ہے کہ ہر شخص کو تختہِ مشق چاہئیے ہوتا ہے، اپنا غصہ نکالنے کے لئے۔جنس ایک بے لگام گھوڑا ہے۔ اسے سدھانا بہت مشکل ہے۔ یہ موت تک زور لگاتا رہتا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ کائنات میں جنس کے سوا کچھ نہیں دکھتا، باقی تمام گناہ چھوٹے لگنے لگتے ہیں۔ جنس کا ذہانت کے ساتھ بھی کوئی تعلق ضرور ہے جتنا آدمی ذہنی طور پر طاقتور ہوتا ہے اتنا ہی جنسی رجحان اس میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ کڑا امتحان ہوتا ہے کہ حسن اپنے آپ کو پیش کرے، گانوں، فلموں، اِشتہاروں، اور روڈ بِل بورڈز کی شکل میں آپکے سامنے جلوہ گر ہو اور آپ اپنے آپ پر قابو رکھیں اور نظریں جھکالیں۔ میرے ایک دوست کہتے ہیں کہ یاداشت بڑھانی ہو تو آنکھوں کی حفاظت کرنی چاہئیے کہ علم کبھی گندے برتن میں نہیں آتا۔
قدرت نے جو جائز طریقے بتائے ہیں آدمی اس پر چلے۔ ان سے بھی کنارہ کشی کرے گا تو تباہ ہوجائے گا۔ جو بندہ قدرت سے ٹکرایا، قدرت نے اُسے پچھاڑ دیا۔ جب بندہ اِن تینوں پر قابو پا لیتا ہے تب ہی وہ سلیم الفطرت بنتا ہے، تب ہی اُسے حق ہے کہ انسان کہلایا جائے اور کسی اُستاد کے بغیر یہ مقام ملنا بہت مشکل ہے۔ آئیے مل کر کوشش کریں کہ انسانیت کو انسانوں کی ضرورت ہے۔

04/09/2018
چائے کے فوائد و نقصاناتپوری دنیا میں‌بچائے استعمال روزمرہ کی زندگی میں‌ بہت ہوتا ہے۔ یہ ایسا مشروب ہے جو موسم کا محتاج ن...
03/01/2018

چائے کے فوائد و نقصانات

پوری دنیا میں‌بچائے استعمال روزمرہ کی زندگی میں‌ بہت ہوتا ہے۔
یہ ایسا مشروب ہے جو موسم کا محتاج نہیں‌ بلکہ گرمیاں، سردیاں پیا جاتاہے۔
جن لوگوں کو چائے پینے کی عادت ہے اہ اس کے استعمال کے بغیر کام نہیں‌کر سکتے یعنی وہ چائے کے اس قدر عادی ہو چُکے ہیں‌ مگر چائے کے جو صحت پر اثر انداز ہونے والے عوامل ہیں‌ ان پر کافی کم توجہ دی جاتی ہے،

چائے کے فائدے اور نقصان کی بات کی جائے تو بہت سے پہلو سامنے نظر آتےہیں‌۔ مثلا مزاج رکھنے والوں‌ کے لیے یہ سخت مضر ہے اس سے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے۔
گرمی میں‌اضافہ ہوتا ہے البتہ سردرد اور بلغی مزاج والوں‌کے لیے اس کا اعتدال سے پینا کسی حد تک فائدے مند ہے۔

مثلا دماغ و اعصاب میں‌ میں‌تحریک پیدا ہوتی ہے۔ دماغ کا دوران خون تیز ہو جاتا ہے۔ جسمانی و دماغی تھکان دور ہوجاتی ہے سر درد، نیند ، غنودگی کے غلبے میں‌یہ کافی مفید ہے۔ چائے کی لذت خود غذائیت سے یکسر خالی ہے لیکن دودھ چینی کی وجہ سے غذائیت پیدا ہوتی ہے۔ خشکی کے باعث بار بار پیاس لگتی ہو تو چائے کا استعمال سود مند ہے۔
بنیادی طور پر چائے میں‌تھیئسس (چائے کا جوہر) السوسن ڈیکڑین ، ٹے نین اس کے موثر جز ہیں۔ مسلسل استعمال سے جب تھیئسس کی زیادہ مقدار جسم میں‌جاتی ہے تو مختلف امراض‌کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے

۔طرح‌طرح‌کے امراض مثلا ہاضمہ کی خرابی، آنتوں‌کی بیماری ، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا ، معدہ کا سست ہونا ، بھوک نہ لگنا، جو کچھ کھانا وہ ہضم نہ ہونا، بے خوابی ، نیند کی کمی جیسے امراض لاحق ہو سکتے ہیں‌۔ ڈاکٹر اوودی کے مطابق “چائے سے بھوک کا زائل ہونا، بدہضمی ، عصبی درد اور ہسٹریا کے دورے وغیرہ کے عوارض کا ہونا ودرتی عمل ہے“

📖.BOOK OFF ✒
📚QUETTA.✒

آپس کے معاملات سدھارنے کے لیے کتنی زبردست ہیں قران حكيم كى یہ نو باتیں ، کاش ہم اسے اپنے عمل میں لائیں!!!1- *فتبينوا:*کو...
19/12/2017

آپس کے معاملات سدھارنے کے لیے کتنی زبردست ہیں قران حكيم كى یہ نو باتیں ، کاش ہم اسے اپنے عمل میں لائیں!!!

1- *فتبينوا:*
کوئی بھی بات سن کر پھیلانے سے پہلے تحقیق کر لیا کرو . کہیں ایسا نہ ہو کہ بات سچ نہ ہو اور کسی کوانجانے میں نقصان پہنچ جائے۔

2 - *فأصلحوا:*
دو بھائیوں کے درمیان صلح کروا دیا کرو. تمام ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

3- *وأقسطوا:*
ہر جھگڑے کو حل کرنے کی کوشش کرو اور دو گروہوں کے درمیان انصاف کرو. الله کریم انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

4 - *لا يسخر:*
کسی کا مذاق مت اڑاؤ. ہو سکتا ہے کہ وہ الله کے نزدیک تم سے بہتر ہو۔

5 - *ولا تلمزوا:*
کسی کو بے عزّت مت کرو۔

6- *ولا تنابزوا:*
لوگوں کو برے القابات
(الٹے ناموں) سے مت پکارو.

7- *اجتنبوا كثيرا من الظن:*
برا گمان کرنے سے بچو کہ کُچھ گمان گناہ کے زمرے میں آتے ہیں۔

8 - *ولا تجسَّسُوا:*
ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہو۔

9- *ولا يغتب بعضكم بعضا:*
تُم میں سےکوئی ایک کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے کہ یہ گناہ کبیرہ ہے اور اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔
(سورہ الحجرات)

الله کریم اخلاص کیساتھ عمل
کرنے کی تو فیق دے۔
آمین یارب العامی
📖.BOOK OFF ✒
📚QUETTA.✒

خوشیدنیا کو تم کبھی خوش نہیں رکھ سکتے ۔ اگر تم سادہ لوح ہوئے تو دنیا تم پر ہنسے گی، تمہارا مزاق اْڑائے گی، اگر عقلمند ہو...
19/12/2017

خوشی

دنیا کو تم کبھی خوش نہیں رکھ سکتے ۔ اگر تم سادہ لوح ہوئے تو دنیا تم پر ہنسے گی، تمہارا مزاق اْڑائے گی، اگر عقلمند ہوئے تو حسد کرے گی ۔ اگر الگ تھلگ رہے تو تمہیں چڑچڑا اور مکار گردانا جائے گا ۔ اگر ہر ایک سے گھل مل کر رہے تو تمہیں خوشامدی سمجھا جائے گا ۔

اگر سوچ سمجھ کر دولت خرچ کی تو تمہیں پست خیال اور کنجوس کہیں گے اور اگر فراخ دل ہوئے تو بیوقوف اور فضول خرچ، عمر بھر تمہیں کوئی نہیں سمجھے گا، نہ سمجھنے کی کوشش کرے گا۔

📖.BOOK OFF ✒
📚QUETTA.✒

جنات انسانوں پر کیسے اور کیوں قابض ہوتے ہیںاللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کئی عالم تخلیق کئے، اس کرہ ارض پر دو ایسی مخلوقا...
17/12/2017

جنات انسانوں پر کیسے اور کیوں قابض ہوتے ہیں

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کئی عالم تخلیق کئے، اس کرہ ارض پر دو ایسی مخلوقات ہیں جن کی ہدایت کیلئے اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام اور رسل مبعوث فرمائے ان کیلئےاللہ تعالیٰ نے سزا و جزا کا تصور پیش کیا یعنی یوم آخرت ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ دو مخلوقات انسان اور جن ہیں۔

جنات کی دنیا اسرار کے پردے چھپی رہتی ہے ۔ جنات انسانوں کی نـظروں سے پوشیدہ کر دئیے گئے۔ زمین پر انسان کو اتارنے سے قبل اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے جنات کو مختلف جزائر اور ویران جگہوں تککر دیا۔جنات کےمقید کرنے کا واقعہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ انسان کو زمین پر اتارنے سے قبل اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سردار ابلیس کو بارگاہ میں طلب فرمایا۔ ابلیس جنات میں سے تھا اور آگ سے پیدا کیا گیا تھا اور اللہ کے نہایت برگزیدہ فرشتوں میں شمار ہوتا تھا ۔ اس کو رب تعالیٰ نے اس قدر علم عطا کر رکھا تھا کہ وہ اس علم کی بنیاد پر فرشتوں کا سردار بنا۔ ابلیس کو حکم دیا گیا کہ فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ زمین پر اترو اور جنات جو زمین پر فساد اور لڑائی جھگڑوں میں مشغول ہیں انہیں ویران جزائر اور پہاڑی غاروں میں قید کر دیا جائےجو ایک خاص مقررہ وقت تک وہاں قید رہیں گے۔

ابلیس بارگاہ الٰہی سے حکم لے کر فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ زمین پر اتر اور جنات کو نہایت قلیل وقت میں مختلف ویران جزائر اور پہاڑی غاروں اور ویرانوں میں قید کر دیا گیا جو ایک روایت کے مطابق حضرت سلیمان ؑ کے دور تک قید میں رہےاور پھرمشیت ربی کے تحت انہیں آزادی ملی اور وہ دنیا میں چلنے پھرنے لگے۔ جنات کو قید کرنے کے بعد عرش الٰہی تک ابلیس کا فرشتوں کی جماعت کے ساتھ سفر شروع ہوا۔ دوران سفر ابلیس کے دل میں غرور اور تکبر نے سر اٹھایا اور اس نے نہایت قلیل وقت میں نہایت طاقتور جنات کو قید کرنے سے متعلق غرور کیا۔ اس کی خبر رب تعالیٰ کو تو ہو گئی مگر دیگر فرشتے اس سے بے خبر رہے۔

روایات میں آتا ہے کہ یہ پہلا موقع تھا جب ابلیس نے غرور کیا جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے غرور کو طشت ازبام کرنے کیلئے آدم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا تو ابلیس نے انکار کر دیا کیونکہ جنات کو قید کرنے کے بعد اس کے دل میں غرور اور تکبر آچکا تھا ۔ ’’میں آگ سے بنا ہوں ، یہ مـٹی کی پیداوار، میرا اور اس کا کیا جوڑ کہ میں اس مٹی کے پتلے کو سجدہ کروں‘‘حکم تعالیٰ سے انکار پر ابلیس کو راندہ درگاہ کرتےہوئے شیطان ٹھہرا دیا گیا۔ حضرت سلیمان ؑ کے دور میں مشیت ایزدی اور مقررہ وقت پورا ہو چکا تھا جس کے بعد جنات قید سے نکل کر دوبارہ زمین پر فساد برپا کرنے لگے۔

حضرت سلیمانؑ کے معجزات میں سے ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ آپ شیاطین جنات کو قابو کر لیتے اور انہیں سزا کے طور پر دوبارہ قید میں ڈال دیتے۔ جنات کے وجود کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہوا ہے اور ایک پوری سورہ ’’سورۃ جن‘‘کے نام سے موجود ہے۔مسجد الجن، مسجد حرام کی شمال کی جانب تین کلومیٹر کی مسافت پر واقع تاریخ اسلام کی عظیم یادگارسجھی جاتی ہے۔ کتب تاریخ میں اس کی شہرت کے اور بھی کئی واقعات ملتے ہیں تاہم اس کی سب بڑی وجہ شہرت یہاں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر جنات کی ایک جماعت کا قبول اسلام کا واقعہ ہے۔العربیہ کی رپورٹ کے مطابق مسجد حرام کے شمال میں تین ہزار میٹر کے فاصلے پر جہاں آج ‘مسجد الجن موجود ہےجنات کی ایک جماعت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ آپ سے قران پاک سُنا۔

اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کے سوالوں کے جواب دیے۔مستند تاریخی مصادر اور کتب سِیَر سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بار آپ جلیل القدر صحابی عبداللہ بن مسعود کو ہمراہ لیے رات کے وقت اس جگہ پہنچے۔ آپ نے عبداللہ بن مسعود کو ایک خاص مقام سے آگے بڑھنے سے منع فرمایا تاکہ کہیں جنات انہیں نقصان نہ پہنچا دیں۔ پھر آپ کی ملاقات جنات کے ایک گروپ سے ہوئی، جنہوں اسلام قبول کیا اور آپ سے اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کے بعد واپس چلے گئے۔ قرآن پاک کی سورہ الجن وہیں اور اسی واقعے کے تناظر میں نازل ہوئی۔بعد ازاں اسی مناسبت سے وہاں ایک وسیع وعریض مسجد تعمیر کی گئی، جسے ‘مسجد الجن کا نام دیا گیا۔ مرور زمانہ کے ساتھ مسجد کی تعمیر و مرمت کے دورن اس کے ڈیزائن بدلتے رہے ہیں مگر اس کے قیام کا واقعہ آج تک مسلمانوں کے دلوں میں تازہ ہے۔ الحرمین الشریفین کی زیارت کا شرف حاصل کرنے والے ‘مسجد الجن کی زیارت بھی کرتے ہیں۔

ماہ صیام میں یہاں افطار کا خصوصی انتظام کیا جاتا ہے جہاں دنیا بھر سے آئے زائرین اور معتمرین عقیدت واحترام کے ساتھ اس مسجد میں حاضر ہوتے، عبادت کرتے اور افطار میں شرکت کرتے ہیں۔جنات کے انسانوں پر اثر انداز ہونے کے واقعات بھی آئے روز ہمارے مشاہدے میں آتے ہیں۔ یہ انسانی جسم میں داخل ہو کر اس سے عجیب و غریب حرکات کرواتے ، ایـذا پہنچاتے ہیں ۔ اس کے پیچھے چند عوامل کارفرما ہوتے ہیں، جنات کیسے انسانی جسم پر حاوی ہوتے ہیں؟یہ ایک ایسا سوال ہے جو عام آدمی نہیں جانتا۔ابن تیمیہ کے مطابق انسان جب نیکی سے غافل ہو کر برائی کی جانب راغب ہوتا ہے تو بد اثرات سے متاثر ہونے کا خطرہ بھی بـڑھ جاتا ہے۔ ہوس پرستی اور فحاشی کی حالت میں بھی برائی انسان پر غالب آجاتی ہے اور ایسے میں جنات جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ جن بھی کئی معاملات میں انسانوں کی طرح ہوتے ، وہ پسندیدگی و ناپسندیدگی اور اچھائی یا برائی جیسے جذبات بھی رکھتے ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ وہ محض آپ کے چہرے کو ناپسند کرتے ہوں اور آپ کے جسم پر قبضہ کر لیں۔ دوسری جانب جناب کو انسان سے محبت بھی ہو سکتی ہے۔

وہ کسی کو برہنہ دیکھ کر بھی اس پر فریفتہ ہو سکتے ہیں اور اس کے جسم پر قابض ہو سکتے ہیں، یہ معاملہ خواتین کے ساتھ زیادہ پیش آتا ہے۔ چونکہ جن انسانوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں اس لئے بعض اوقات ہم انجانے میں انہیں نقصان پہنچا بیٹھتے ہیں، مثال کے طور پر آپ کہیں گرم پانی انڈیلتے ہیں، یا کسی درخت یا پتھر کی اوٹ میں بیٹھ کر رفع حاجت کرتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ یہاں جنات کا بسیرا ہے اور آپ کے اس عمل سے وہ ناراض ہو سکتے ہیں اور بدلہ لینے کیلئے آپ کے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔بہت زیادہ خوف کی حالت یا ایسے معاملات جن سے دور رہنا چاہئے اور آپ اس کی ٹوہ میں ہوتے ہیں تو تب بھی جنات آپ پر غالب آسکتے ہیں۔ جنات جسم کے کس حصے سے داخل ہو کر انسان پر قبضہ جماتے ہیں اس کے حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں تاہم قرین از قیاس یہ ہے کہ انسان کی موت کے وقت روح انسانی ناخنوں، ناک، آنکھ اور منہ سے نکلتی ہے اور یہی جگہ ایسی ہوتی ہیں جہاں سے جنات انسانی جسم میں داخل ہو کر قبضہ جماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو شر سے بچنے کیلئے کئی طریقے بتائے ہیں جن میں حضور اکرم ﷺ کے ذریعے تعلیم بھی دی گئی اور کئی ایسی مسنون دعائیں اور وظائف موجود ہیں جن کے ذریعے جنات کا توڑ کیا جا سکتا ہے۔

📖.BOOK OFF ✒
📚QUETTA.✒

خوفدنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ شہرت ہٹلر نے پائی تھی‘ یہ وہ شخص تھا جو سکندر اعظم اور چنگیز خان سے بھی زیادہ مشہور ہوا...
16/12/2017

خوف

دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ شہرت ہٹلر نے پائی تھی‘ یہ وہ شخص تھا جو سکندر اعظم اور چنگیز خان سے بھی زیادہ مشہور ہوا۔ ہٹلر خوبیوں اور خامیوں کا عجیب مجموعہ تھا۔مثلاً یہ شراب نہیں پیتا تھا‘ سگریٹ نہیں پیتا تھا‘ جوا نہیں کھیلتا تھا‘ بداخلاقی کی دوسری سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوتا تھا‘ اسے دولت جمع کرنے کا کوئی شوق نہیں تھا‘ اس کا کسی بینک میں کوئی اکاؤنٹ نہیں تھا اور دنیا میں اس کی ایک انچ زمین یا جائیداد نہیں تھی۔ آپ خامیوں کی بات کریں تو یہ بے انتہا ظالم تھا‘

اس نے دوسال میں ساٹھ لاکھ کے قریب یہودی مروا دئیے تھے‘یہ اپنی ذات میں بے انتہا آمر تھا اور کسی دوسرے شخص کی بات تک سننے کیلئے تیار نہیں ہوتا تھا۔ بہرحال ہٹلر کی زندگی ایک عجیب داستان ہے۔ اس کا والد جونیئر کلرک تھا‘ یہ میٹرک میں فیل ہو گیا اور چھ سال تک ویانا کے ریلوے سٹیشن پر قلی کا کام کرتا رہا۔ پہلی جنگ عظیم میں سپاہی کی حیثیت سے فوج میں بھرتی ہوا۔ جنگ کے بعد سیاسی پارٹی کا ترجمان بن گیا اور تقریریں کرتا کرتا دنیا کا نامور لیڈر بن گیا۔

غرض ہٹلر دنیا کا عجیب کردار تھا‘ مورخین کا کہنا ہے اگر ہٹلر کی زندگی میں ایک چھوٹا سا واقعہ پیش نہ آتا تو شائد ہٹلر کبھی ہٹلر نہ بنتا۔ اس واقعے کا تعلق اس دور سے ہے جب وہ ویانا کے ریلوے سٹیشن پر قلی کا کام کرتا تھا۔ ایک دن اس نے سٹیشن پر کھڑے کھڑے ایک پروفیسر سے پوچھا ’’مجھے ڈر بہت لگتا ہے‘ میں اس سے کیسے نکل سکتا ہوں‘‘ پروفیسر مسکرایا‘ اس نے اپنا ہاتھ ہٹلر کے دل پر رکھا اور اس سے کہا ’’میرے بچے دنیا کے سارے ڈر اس جگہ ہوتے ہیں‘ اس سے باہر کوئی ڈر‘ کوئی خوف موجود نہیں۔ تم یہاں سے ڈر نکال دو سارے خوف ختم ہو جائیں گے‘‘۔ یہ بات سیدھی ہٹلر کے سینے پر لگی اور اس نے اسی دن اپنے دل سے سارا خوف نکال کر پھینک دیا۔

یہ حقیقت ہے ہمارے سارے خوف‘ سارے ڈر‘ ساری سازشیں باہر نہیں ہوتے‘ یہ ہمارے اندر ہوتے ہیں۔ اگر ہمارا اندر صاف ہے‘ ہم اندر سے مضبوط ہیں تو پھر دنیا کی کوئی بیرونی طاقت ہمیں ڈرا نہیں سکتی‘ ہمیں شکست نہیں دے سکتی‘ ہٹلر اگر اپنے استاد کی اس بات کو مثبت انداز میں استعمال کرتا تو دنیا اتنی بڑی تباہی سے دوچار نہ ہوتی‘ اس نے اپنی صلاحیتوں کو منفی مقاصد کیلئے استعمال کیا ‘اللہ تعالیٰ ہر انسان کو دنیا میں صلاحیتیں دے کر بھیجتا ہے ‘ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو کس سمت میں استعمال کرتے ہیں ‘ اس میں کوئی شک نہیں جو شخص اپنے اندر کے خوف پر قابو پا لیتا ہے اسے دنیا کی کوئی طاقت کامیاب ہونے سے نہیں روک سکتی بشرطیکہ اس کی سوچ مثبت ہو۔

📖.BOOK OFF ✒
📚QUETTA.✒

نیشنل جیوگرافک نے نظر بند کیاایک دل دہلا دینے والا واقعہﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﭽﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﺟﯿﻮ ﮔﺮﺍﻓﮏ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﯿﻮﻣﻨﭩﺮﯼ ...
16/12/2017

نیشنل جیوگرافک نے نظر بند کیاایک دل دہلا دینے والا واقعہ

ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﭽﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﺟﯿﻮ ﮔﺮﺍﻓﮏ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﯿﻮﻣﻨﭩﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﭼﻞ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ، ﯾﯿﻠﻮ ﺳﭩﻮﻥ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﭘﺎﺭﮎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺁﮒ ﺑﮭﮍ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍﮌﺍ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ، ﮨﺮ ﺷﮯ ﺭﺍﮐﮫ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ، ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺑﭽﺎ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺭﯾﺴﺮﭺ ﭨﯿﻢ ﺍﺩﮬﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﺟﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﺗﻨﮯ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭽﺎﺭﯼ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﯽ ﺟﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﺎﮈﯼ ﻣﻠﯽ۔

ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﻻﺅ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ۔ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺑﮭﯽ ﺁﮒ ﯾﺎ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﮌ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﭻ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺭﯾﺴﺮﭼﺮ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮈﻧﮉﯼ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺳﺮﮐﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﺗﯿﻦ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﺑﭽﮯ ﻧﮑﻠﮯ۔ ﻭﮦ ﭼﮍﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﮔﮭﻮﻧﺴﻠﮯ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﻻ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺁﮒ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺩ ﮔﺌﯽ۔ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮ ﭘﮭﯿﻼ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﯽ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﭻ ﮐﯽ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻮﺕ ﭼﻦ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﭘﺮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﭻ ﮔﺌﮯ۔

ﺍﺱ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﯽ ﺑﺎﮈﯼ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﺟﯿﻮ ﮔﺮﺍﻓﮏ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮈﺍﮐﯿﻮﻣﻨﭩﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ۔ ﯾﮧ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺒﻖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻣﻤﺘﺎ ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﻮ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺳﺘﺮ ﻣﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺑﻼﻭﺟﮧ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺧﻮﺩ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﺁﺝ ﺑﮯ ﺳﺮﻭﭘﺎ ﮨﻮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺎﻝ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺭﺯﻕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮨﺮ ﺷﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﻟﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺑﺪﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ، ﺗﻮ ﻣﻔﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮ

📖.BOOK OFF ✒
📚QUETTA.✒

امام ابوحنیفہ کے کپڑے کی دکان تھی ۔امام ابوحنیفہ کے کپڑے کی دکان تھی ۔ آپ مدرسے کے بعد وہاں تجارت کرتے تھے ۔امت محمدی کو...
14/12/2017

امام ابوحنیفہ کے کپڑے کی دکان تھی ۔

امام ابوحنیفہ کے کپڑے کی دکان تھی ۔ آپ مدرسے کے بعد وہاں تجارت کرتے تھے ۔امت محمدی کو اگر تجارت کسی نے سکھائی ہے وہ یا تو خلیفہ اول ابو بکر صدیق تھے یا پھر امام ابو حنیفہ ۔ایک دن ظہر کی نماز کے بعد اپنی دکان بند کردی

اور جانے لگےتوساتھی دکاندار نے کہا ” ابو حنیفہ آج تو جلدی نکل لیے کہاں جارہے ہے آپ آج اتنی جلدی ”امام ابو حنیفہ نے فرمایا ” آپ دیکھ نہیں رہے کہ آسمان پہ کالے بادل آچکے ہیں ”اس شخص نے کہا ” یا نعمان آسمان کے بادلوں کا دکان سے کیا لینا دینا”امام ابو حنیفہ نے فرمایا ” جب بادل گہرے ہوجاتے ھے تو چراغ کی روشنی اندھیرا ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے گاہک کو کپڑے کی ورائیٹی کا پتہ نہیں چلتا اسکو کوالٹی کی پہچان نہیں ہوتی ۔ میں نے اس وجہ سے دکان جلدی بند کردی کہ میرے پاس آیا ہوا گاہک کم قیمت کپڑے کو قیمتی سمجھ کر زیادہ پیسے نہ دے ۔”آج کے دکانداروں کے پاس جاکر پتہ چلتا ہے کہ جب انکے پاس کوئی معصوم گاہک آجاے تو وہ انکو ایسی قینچی سے زبح کرلیتے ھے کہ دو نمبری کپڑا بھی ایک نمبر کی قیمت پہ فروخت کرلیتے ھے۔ بلکہ آجکل تو باقاعدہ سے گاہک کو لوٹنے کے عجیب وجیب طریقے آے ھے ۔کپڑے کے دکانداروں کے علاوہ باقی سب لوگ شیئر کریں

📖.BOOK OFF ✒
📚QUETTA.✒

لوگوں کو لیلیٰ خالد کا نام ہی بھول گیا ہے جس نے اسرائیلی طیارہ اغوا کرکے پوری دنیا میں فلسطینی کاز کو دنیا کی نظروں میں ...
12/12/2017

لوگوں کو لیلیٰ خالد کا نام ہی بھول گیا ہے جس نے اسرائیلی طیارہ اغوا کرکے پوری دنیا میں فلسطینی کاز کو دنیا کی نظروں میں اہمیت دلائی اورحریت پسند خواتین کی دلیری اور دلبری کی دھاک بٹھا دی تھی۔
لیلیٰ خالد نے بڑی شہرت پائی,پاکستان میں وہ اتنی پاپولر تھی کہ اس کے نقاب کے ڈیزائن کا کپڑا پاکستانی خواتین میں بہت مقبول ہوا۔ اس زمانے میں ہمارے بڑے بڑے لیڈر پاکستانی بچیوں کو لیلیٰ خالد جیسیٰ بہادر بننے کی تلقین کرتے تھے

لیلٰی خالد : محبوبہ فلسطین

یہ 29 اگست 1969 ہے۔ ایک ہوائی جہاز روم سے ایتھنز کی طرف جا رہا تھا مگر وہ راستے میں ہی ہائی جیک کر لیا گیا۔ اغوا کرنے والوں میں ایک لڑکی بھی تھی جس نے پائلٹ کو جہاز حائفہ لے جانے کا کہا۔ حائفہ اس لڑکی کی جائے پیدائش تھی جہاں وہ جا نہیں سکتی تھی۔ لیکن جہاز دمشق میں اتار لیا گیا۔ سب مسافروں کو اتارنے کے بعد جہاز کو بمب سے اڑا دیا گیا۔

یہ 6 ستمبر 1970 ہے۔ ایک اور ہوائی جہاز ایمسٹرڈیم سے نیویارک کی طرف پرواز بھرتا ہے۔ لیکن یہ بھی اغوا کر لیا جاتا ہے۔ اب کی بار بھی وہی لڑکی اغوا کرنے والوں کی ٹیم کا حصہ ہے۔ اب کی بار کچھ مسئلہ ہوا اور پائلٹ جہاز لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ پر اتارنے میں کامیاب ہوا۔ اور اس لڑکی نے پولیس کو گرفتاری دے دی۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد یکم اکتوبر کو قیدیوں کے تبادلے میں وہ لڑکی بھی رہا ہو گئی۔

آپ کو معلوم ہے یہ لڑکی کون تھی؟

اس لڑکی کا نام لیلٰی خالد تھا۔ لیلٰی 1944 میں فلسطین کے شہر حائفہ میں پیدا ہوئی۔ لیکن 1948 میں ان کے خاندان کو اپنے ہی ملک سے نکال دیا گیا۔ تو اس خاندان نے پناہ کے لیئے لبنان ہجرت کر لی۔
لیلٰی نے عرب نیشنلسٹ موومنٹ میں شمولیت اختیار کر لی۔ اور اسی کی فلسطینی شاخ Popular Front for the Liberation of Palestine ( P.F.L.P) کی متحرک رکن رہیں۔

ان ہائی جیکنگ کے بعد ہی آپ کو شہرت ملی۔ اور آپ کی مشہورِ زمانہ تصویر کی وجہ سے بھی آپ کو بہت شہرت ملی۔ جو کہ ایک فوٹوگرافر ایڈی ایڈمز نے لی تھی جس میں آپ کو AK47 پکڑے اور عربی رومال لپیٹے دکھایا گیا ہے۔
یہ تصویر پوری دنیا میں جہاں فلسطینی مظلوم عوام کی مزاحمت کی نشانی بنی۔ وہیں مظلوم اقوام کی جدوجہد آزادی میں عورتوں کی کردار کی پہچان بن گئی۔

لیلٰی خالد عورت کی بہادری کی ایک نشانی بن گئیں۔ اس زمانے میں اگر کسی لڑکی کو بہادر بننے کا کہا جاتا تو یہ کہا جاتا تھا کہ لیلٰی خالد جیسی بہادر بنو۔

📖.BOOK OFF ✒
📚QUETTA.✒
📚 like 📖

پورا شہر مسلمان ہوگیاحضرتِ سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں”میں نے ایک سال حج کا عزم کیا۔جب اونٹنی ...
08/12/2017

پورا شہر مسلمان ہوگیا

حضرتِ سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں”میں نے ایک سال حج کا عزم کیا۔جب اونٹنی پر سوار ہوا تو اس کا رُخ کعبہ کی طرف ہی تھا لیکن جب میں نے اُس کی گردن پر ہاتھ مارا تووہ طُنطُنیہ(اِستنبول) کی طرف مُڑگئی ۔میں نے کئی مرتبہ اس کا رُخ موڑا مگروہ قبلہ کی طرف نہ مڑی،میں نے اپنے دل میں کہا:”اے اللہ عزَّوَجَلَّ!اس میں ضرورکوئی راز پوشیدہ ہے۔”میں نے اُس کی مرضی کے مطابق اُسے جانے دیا اوراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی : ”اے اللہ عزَّوَجَلَّ!اگر

تو مجھے اپنے گھر نہ جانے دے تو میرے پاس اس کا کوئی حل نہیں،تمام معاملہ تیرے ہی پاس ہے ۔”فرماتے ہیں کہاونٹنی تیزی سے چلتی ہوئی قسطنطنیہ میں داخل ہوگئی۔ جب میں شہر میں داخل ہوا تو دیکھا کہ لوگ فتنہ وفساد میں مبتلاہیں۔میں نے ایک شخص سے دریافت کیا کہ اس کا سبب کیا ہے؟ تواس نے بتایا:”بادشاہ کی بیٹی کی عقل زائل ہو گئی ہے اور لوگ کوئی ایساطبیب تلاش کر رہے ہیں جو اس کا علاج کرسکے۔”میں نے دل میں کہا: ”میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی عزت کی قسم! اسی کام کے لئے میرے رب عَزَّوَجَلَّنے مجھے اس سال حج سے روک دیا ہے۔”میں نے ان لوگوں کو بتایا:”میں طبیب ہوں۔”انہوں نے پوچھا”کیاآپ علاج کریں گے؟”میں نے کہا : ”ہاں! اِنْ شَآءَ اللہ عزَّوَجَلَّ۔”لوگوں نے میرا ہاتھ پکڑا اورمجھے بادشاہ کے پاس لے گئے۔ اس نے اپنی بیٹی کا علاج میرے ذمے لگا دیا۔ میں نے اللہ عزَّوَجَلَّ سے مدد طلب کی اور کمرے میں داخل ہوگیا، میں نے وہاں لوہے کی کَھْنَک سنی اور کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا:”اے جنید ( رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ )!اونٹنی نے تجھے ہماری طرف لانے کی کتنی کوشش کی جبکہ تواسے کعبہ مشرَّفہ کی طرف پھیرتا رہا۔”اس کلام سے میری عقل کھو گئی پھر میں اندر داخل ہوا تو ایسی لڑکی دیکھی کہ دیکھنے والوں نے اس سےزیادہ حسین لڑکی نہ دیکھی ہوگی،وہ زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی،میں نے اس سے پوچھا:” یہ کیسی حالت ہے؟”تواس نے جواب دیا:”اے دلوں کے طبیب ! مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جس سے میں غم سےنجات پا جاؤں ۔”میں نے اُسے

کہا:”لَآاِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ (عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )پڑھ۔”اس نے بلند آواز سے کلمہ پڑھاتو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں کُھل گئیں۔جب اس کے باپ نے دیکھا تو کہنے لگا:”آپ کتنے اچھے طبیب ہیں اور آپ کی دوا کتنی اچھی ہے۔ میر ا علاج بھی اِسی دوا سے کر دیجئے جس سے اس کا علاج کیا ہے ۔”تومیں نے کہا:”تم بھی پڑھو: ”لَآاِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ (عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )”پھر اس کی ماں آئی ،وہ بھی دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور مسلمان ہو گئی۔

پھر اس شہر میں رہنے والے سب لوگ مسلمان ہو گئے۔اس پر میں نے اللہ عزَّوَجَلَّ کی حمد کی اور روانگی کاارادہ کیا تو وہ لڑکی کہنے لگی:”اے جنید ( رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)! جانے کی جلدی نہ کیجئے، میں نے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی ہے کہ آپ کی موجودگی میں میرا ا نتقال ہو، آپ میری نمازِ جنازہ پڑھائیں اور دفن کریں ۔” پھر اس نے کلمۂ شہادت پڑھ کر موت کا جامنوش کرلیا۔

📖.BOOK OFF ✒
📚QUETTA.✒

Address

Quetta Cantonment
3410293125

Telephone

03410293125

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Book off Quetta posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share