12/12/2017
لوگوں کو لیلیٰ خالد کا نام ہی بھول گیا ہے جس نے اسرائیلی طیارہ اغوا کرکے پوری دنیا میں فلسطینی کاز کو دنیا کی نظروں میں اہمیت دلائی اورحریت پسند خواتین کی دلیری اور دلبری کی دھاک بٹھا دی تھی۔
لیلیٰ خالد نے بڑی شہرت پائی,پاکستان میں وہ اتنی پاپولر تھی کہ اس کے نقاب کے ڈیزائن کا کپڑا پاکستانی خواتین میں بہت مقبول ہوا۔ اس زمانے میں ہمارے بڑے بڑے لیڈر پاکستانی بچیوں کو لیلیٰ خالد جیسیٰ بہادر بننے کی تلقین کرتے تھے
لیلٰی خالد : محبوبہ فلسطین
یہ 29 اگست 1969 ہے۔ ایک ہوائی جہاز روم سے ایتھنز کی طرف جا رہا تھا مگر وہ راستے میں ہی ہائی جیک کر لیا گیا۔ اغوا کرنے والوں میں ایک لڑکی بھی تھی جس نے پائلٹ کو جہاز حائفہ لے جانے کا کہا۔ حائفہ اس لڑکی کی جائے پیدائش تھی جہاں وہ جا نہیں سکتی تھی۔ لیکن جہاز دمشق میں اتار لیا گیا۔ سب مسافروں کو اتارنے کے بعد جہاز کو بمب سے اڑا دیا گیا۔
یہ 6 ستمبر 1970 ہے۔ ایک اور ہوائی جہاز ایمسٹرڈیم سے نیویارک کی طرف پرواز بھرتا ہے۔ لیکن یہ بھی اغوا کر لیا جاتا ہے۔ اب کی بار بھی وہی لڑکی اغوا کرنے والوں کی ٹیم کا حصہ ہے۔ اب کی بار کچھ مسئلہ ہوا اور پائلٹ جہاز لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ پر اتارنے میں کامیاب ہوا۔ اور اس لڑکی نے پولیس کو گرفتاری دے دی۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد یکم اکتوبر کو قیدیوں کے تبادلے میں وہ لڑکی بھی رہا ہو گئی۔
آپ کو معلوم ہے یہ لڑکی کون تھی؟
اس لڑکی کا نام لیلٰی خالد تھا۔ لیلٰی 1944 میں فلسطین کے شہر حائفہ میں پیدا ہوئی۔ لیکن 1948 میں ان کے خاندان کو اپنے ہی ملک سے نکال دیا گیا۔ تو اس خاندان نے پناہ کے لیئے لبنان ہجرت کر لی۔
لیلٰی نے عرب نیشنلسٹ موومنٹ میں شمولیت اختیار کر لی۔ اور اسی کی فلسطینی شاخ Popular Front for the Liberation of Palestine ( P.F.L.P) کی متحرک رکن رہیں۔
ان ہائی جیکنگ کے بعد ہی آپ کو شہرت ملی۔ اور آپ کی مشہورِ زمانہ تصویر کی وجہ سے بھی آپ کو بہت شہرت ملی۔ جو کہ ایک فوٹوگرافر ایڈی ایڈمز نے لی تھی جس میں آپ کو AK47 پکڑے اور عربی رومال لپیٹے دکھایا گیا ہے۔
یہ تصویر پوری دنیا میں جہاں فلسطینی مظلوم عوام کی مزاحمت کی نشانی بنی۔ وہیں مظلوم اقوام کی جدوجہد آزادی میں عورتوں کی کردار کی پہچان بن گئی۔
لیلٰی خالد عورت کی بہادری کی ایک نشانی بن گئیں۔ اس زمانے میں اگر کسی لڑکی کو بہادر بننے کا کہا جاتا تو یہ کہا جاتا تھا کہ لیلٰی خالد جیسی بہادر بنو۔
📖.BOOK OFF ✒
📚QUETTA.✒
📚 like 📖