28/05/2021
؟ بٹ کوائن کی مانٔنگ کیسی کی جاتی ہے؟ اور اس پر اتنی زیادہ بجلی کیو خرچ ہوتی ہے؟ کیا ھم بٹ کوائن مانٔنگ فری میں کرسکتے ہیں؟
ترجمہ و تخلیص: Hafiz Ur Rahman
پی ایچ ڈی اسکالر (سائبر اسپیس سیکورٹی)
مندرجہ بالا سؤالات کے جوابات جاننے سے پہلے ھمیں (Block Chain) ٹیکنالوجی کے بارے میں جاننا ہوگا، ورنہ ہمیشہ کیلئے کنفوژ رہے گی۔ تو سب سے پہلے بلاک چین ٹیکنالوجی کے بارے میں بتاتے ہیں۔
👈بلاک چین: بلاک چین کیا ہے اور یہ کیسے اور کس طرح سے کام کرتی ہے؟ اسے انقلابی کیوں تصور کیا جارہا ہے؟
رواں سال میں گوگل پر کثرت سے سرچ کیا جانے والا لفظ "بلاک چین" ہے، جو شخص کرپٹو سے کچھ حد تک واقفیت رکھتا ہے اس کے ذہن میں سب سے پہلا سوال اس نئی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی کے متعلق آتا ہے.
✍️بلاک چین یا منقسم کھاتہ ایک ایسا ڈسٹری بیوٹر لیجر ہے جو ہونے والی ٹرانزیکشنز کا وقت کے حساب سے (Chronologically) مکمل حساب رکھتا ہے۔ نیٹ ورک میں شامل ہر فرد کے پاس اِس کی مکمل کاپی ہوتی ہے۔ جب کوئی تبدیلی آتی ہے یا کوئی ٹرانزیکشن ہوتی ہے تو تمام لوگ اپنے اپنے کھاتوں کو اَپ ڈیٹ کر لیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی جعلی ٹرانزیکشن کو ریکارڈ کروانے کی بات کرے گا تو باقی لوگ اُسے مسترد کر دیں گے کہ اُن کے پاس کاپی میں اس ٹرانزیکشن کا وجود نہیں ہوگا۔
👈اگر آسان الفاظ میں کہا جائے تو بلاک چین ایک پبلک رجسٹر(کھاتہ) ہے جس میں لوگوں کے درمیان ہونے والی لین دین(ٹرانزیکشنز) کا مکمل ریکارڈ اور حساب کتاب محفوظ طریقے سے مستقل طور پر جمع ہوتا رہتا ہے، لین دین سے متعلق تمام تر ڈیٹا کرپٹو گرافک بلاکوں میں ریکارڈ ہوجاتا ہے اور یہ بلاک درجہ وار طور پر ایک دوسرے کے ساتھ جڑتے جاتے ہیں اور یوں بلاکوں کی ایک چین بننا شروع ہوجاتی ہے.
🤔سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر اس میں نیا کیا ہے؟ بینک بھی ہمیں یہی سروس مہیا کرتا ہے تو بلاک چین کی کیا ضرورت؟ دراصل جو جزو اسے بینک کے نظام سے مختلف بناتا ہے وہ اسکا ڈی-سینٹرلائیزڈ ہونا ہے، یعنی اقتدارِ مرکزیت کا ختم ہونا. اس کے ساتھ اس کے اور بھی فایدے بھی ہیں۔ مثلاً
1️⃣ Distributed
2️⃣ Secure
3️⃣ Transparent
4️⃣ Immutable
5️⃣ Accessible
۔ Distributed اور ڈی-سینٹرلائیزڈ والے جزو کو آسان الفاظ میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ حالیہ دور میں ہم پیسوں کے لین دین کے معاملات میں فراڈ سے بچنے کے لیے سب سے زیادہ بھروسہ تھرڈ پارٹی یعنی بینکوں پر کرتے ہیں اور ملک کے کسی بھی کونے میں پیسوں کے ٹرانسفر کے حوالے سے بینک کے مرہونِ منت ہیں، ٹرانسفر اگر بیرونِ ملک کرنا ہو پھر تو کئی دن کا وقت لگ جاتا ہے کاغذی کارروائی کو انجام دینے میں، مزید یہ کہ بینک ان کاغذی کارروائی کے لیے چوبیس گھنٹے کھلے نہیں رہتے، اس دوران ہر کارروائی کے الگ چارجز بھی دینے پڑتے ہیں. یہ تمام تر طریقہ کار اکتا دینے والا ہوتا ہے، بینک اس میں تھرڈ پارٹی کا کردار ادا کرتا ہے. بلاک چین کی بدولت ہم جب چاہیں ملک یا دنیا کے کسی بھی حصے میں نہایت کم وقت اور چارجز میں پیسے ٹرانسفر کر سکتے ہیں، کاغذی کارروائی بذریعہ بلاک چین بھی ہوتی ہے لیکن ڈیجیٹل طریقے سے بنا کسی پریشانی کے ٹرانسفر کے دوران بلاکز میں جمع ہوتی رہتی ہے. اس عمل کے یوں بنا کسی پریشانی، از حد وقت اور بیش قیمت ٹیکس کے بغیر جاری ہونے کی وجہ اس میں سے تھرڈ پارٹی کا خارج ہوجانا ہے. مطلب یہی کہ پیسوں کی منتقلی کے لیے آپ کو بینک کا مرہونِ منت نہیں رہنا پڑے گا۔
۔ Transparent and Secure بلاک چین چونکہ اقتدارِ مرکزیت کو سپورٹ نہیں کرتا اس میں موجود ڈیٹا کسی ایک خاص کمپیوٹر پر پراسس نہیں کر رہا ہوتا، شیئر ہونے والی تمام انفارمیشن پبلک ہے جو بیک وقت کئی سارے کمپیوٹرز پر دیکھی جا سکتی ہے. ایسے میں کسی ہیکر کے لیے اتنے سارے کمپیوٹرز کے سسٹم کو ہیک کرنا ممکن نہیں ہے، بلاک چین کو اسی بناء پر محفوظ قرار دیا جاتا ہے۔
۔ Immutable ایک مرتبہ جب کوئی ریکارڈ اس میں داخل ہو جاے تو پھر اس میں تبدیلی کرنا یا اور ڈیلیٹ کرنا ممکن نہیں ہوتا، کیونکہ وہ ریکارڈ ایک سے زاید نوڈ پر سٹور ہوتا ہے اور ساری نوڈز میں ایک ہی وقت میں تبدیلی کرنا ناممکن ہے۔ اور جب بھی کوئی تبدیلی وغیرہ ہوتی ہے تو اس کیلئے ایک علیحدہ block بنایا جاتا ہے نہ کہ پورانے والے میں تبدیلی کریں۔ اس کیوجہ سے ہر transaction کا ریکارڈ محفوظ طریقے سے سٹور ہوتا ہے۔ اور کسی بھی ٹائم اس کو Access کرسکتے ہیں۔ کہ system کے اندر کس ٹائم پر اور کہاں پر تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔
#نوٹ: بلاک چین ایک نئی ٹیکنالوجی ہے، جسکا عملی سفر حال ہی میں شروع ہوا ہے، کمپیوٹر سائنسدان ہر ممکنہ طور پر اسکے عملی ماڈلز بنانے کے لیے کوشاں ہیں. گزرتے وقت کے ساتھ اس میں مزید ممکنات اور بہتری کا اضافہ ہورہا ہے. موجودہ تھیوری کو عملی جامع پہنانے اور تکنیکی غلطیوں پر غالب آنے کی تگ و دو جاری ہے. فائننس اور انشورنس کے شعبوں میں اس ٹیکنا لوجی کو اپلائی کیا جارہا ہے لیکن اس کا استعمال باقی کئی انڈسٹریز میں کیا جا سکتا ہے جس پر سائنسدان بخوبی غور فرما رہے ہیں۔
✍️بلاک چین کا استعمال مزید کن انڈسٹریز میں ممکن بنایا جاسکتا ہے؟
مشینی انڈسٹری میں بھی بلاک چین کی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے. علاوہ ازیں فوڈ انڈسٹری بھی اس ٹیکنالوجی سے مستفید ہوسکتی ہے، ہر سال لاکھوں لوگ غیر معیاری کھانے کی وجہ سے معدے کی مہلک بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں. بلاک چین کے ٹریک-اینڈ-ٹریس سسٹم سے بآسانی متاثرہ کھانے کا پتہ لگایا جا سکتا ہے، فوڈ سپلائی چین سے لے کر ریسٹورنٹ کے مینو تک کو ٹریس کیا جاسکتا ہے.
آئی بی ایم اس وقت کئی بڑی کمپنیوں(نیسلے، وال مارٹ، کوسٹکو) کے ساتھ مل کر بذریعہ بلاک چین فوڈ سپلائی کے بزنس کو متاثرہ کھانے سے پاک کرنے کے لیے کوشاں ہے. ووٹنگ سسٹم کو بلاک چین پر تبدیل کرکے شفاف نتائج کا حصول ممکن ہے.
پاکستان سمیت الیکشن کے دوران دنیا بھر کے ممالک میں دورانِ الیکشن کرپشن اور نتائج میں ردو بدل کی شکایات موصول ہوتی ہیں، اگر بلاک چین کے ذریعہ آن لائن ووٹ کاسٹ کیا جائے تو ردوبدل ہونا ممکن نہیں اور نتائج عام عوام کے سامنے بنا کسی رکاوٹ اور ملاوٹ کے شیئر ہوسکتے ہیں. پراپرٹی ڈیلنگ، کسٹم سروسز، ہیلتھ کیر، قانونی کاروائیاں، اسٹاک ایکسچینج، ڈیٹا مینجمنٹ، آئی ڈینٹیٹی مینجمنٹ وغیرہ کو بلاک چین پر تبدیل کرکے کرپشن اور وقت کے زیاں سے بچا جا سکتا ہے. ان وجوہات کی بناء پر بلاک چین کو انقلابی تصور کیا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب بٹ کوائن کیطرف آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
😁دراصل بٹ کوائن کی شہرت اور کامیابی کا راز "بلاک چین" نامی ٹیکنالوجی ہے. ساتوشی ناکاموتو (ساتوشی ناکاموتو بٹ کوائن کے تخلیق کار ہے) نے2009 میں بٹ کوائن کو بلاک چین کی ٹیکنالوجی پر ڈیزائن کیا ہے.
بٹ کوئن (bitcoin) ایک ڈیجیٹل کرنسی اور پیئر ٹو پیئر (peer to peer) پیمنٹ نیٹورک ہے جو آزاد مصدر دستور پر مبنی ہے اور عوامی نوشتہ سودا کا استعمال کرتی ہے۔ بٹ کوئن کمانے یا حاصل کرنے میں کسی شخص یا کسی بینک کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ مکمل آزاد کر نسی ہے، جس کو ہم اپنے کمپیوٹر کی مدد سے بھی خود بنا سکتے ہیں۔
✍️بٹ کوئن کرنسی کا دیگر رائج کرنسیوں مثلا ڈالر اور یورو سے موازنہ کیا جاسکتا ہے، لیکن رائج کرنسیوں اور بٹ کوئن میں کچھ فرق ہے۔
سب سے اہم فرق یہ ہے کہ بٹ کوئن مکمل طور پر ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کا وجود محض انٹرنیٹ تک محدود ہے، خارجی طور پر اس کا کوئی جسمانی وجود نہیں۔ اسی طرح بٹ کوئن کرنسی کے پیچھے کوئی طاقتور مرکزی ادارہ مثلا مرکزی بینک نہیں ہے اور نہ ہی کسی حکومت نے اب تک اسے جائز کرنسی قرار دیا ہے، اسی وجہ سے ریاستہائے متحدہ امریکا کے وزارت خزانہ نے اسے غیر مرکزی کرنسی (decentralized currency) قرار دیا ہے ،کیونکہ اس کرنسی کو ایک شخص براہ راست دوسرے شخص کو منتقل کر سکتا ہے، اس کے لیے کسی بینک یا حکومتی ادارہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم انٹرنیٹ کے ذریعہ بٹ کوئن کو دیگر رائج کرنسیوں کی طرح ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
👈 بلاک چین کے اصول پر کام کرتا ہے جو کہ لین دین کا ایک ڈیجیٹل لیجر یا کھاتہ ہے۔ جس کے لیے کمپیوٹر کو انٹر نیٹ سے منسلک کر کے، کمپیوٹر کے پروسیسر سے کام لیا جاتا ہے۔ جس کمپیوٹر کا پروسیسر جتنا طاقتور ہوتا ہے، اتنی جلد وہ حسابی عمل لوگرتھم کا سوال حل کرکے بٹ کوائن بناتا ہے. اس کی وضاحت آگے کریں گے۔
بلاک چین میں ایک فیز (stage) جسکو ٹرانزیکشن کی تصدیق (Proof of work) کہتے ہے۔ اس کا مقصد ہوتا ہے کہ آیا بٹ کوئن کی ٹرانزیکشن صحیح ہے کہ نہیں۔ اس تصدیق کیلئے پیچیدہ الگورتھم استمعال ہوتی ہے اور یہ کام Minners سر انجام دیتے ہیں ۔
نئے بٹ کوائن دریافت کرنے والوں کو کانکن یا مائینرز کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ نہ صرف نئے بٹ کوائن بناتے ہیں بلکہ ان کی تصدیق کرتے ہیں اور پھر اس کرپٹو کرنسی میں ہونے والے ہر نئے لین دین کا اندراج بھی کرتے ہیں۔ اصل میں بٹ کوائن وہ انعام ہوتا ہے جو مندرجہ بالا معلومات کا درست ریکارڈ رکھنے والے کو دیا جاتا ہے۔
#مائنرز کا کام بٹ کوائن میں لین دین کی پڑتال کرنا ہوتا ہے جس کے بدلے میں اُنھیں بٹ کوائن ملتے ہیں۔ اس میں بے تحاشہ کمپیوٹنگ توانائی لگتی ہے جس کے لیے بہت زیادہ بجلی چاہیے۔ مائنرز آپ بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ mining لاٹری کی طرح کام کرتی ہے، جو ہر دس منٹ کے بعد کھیلی جاتی ہے۔
دنیا بھر میں ڈیٹا پروسیسنگ سینٹرز میں یہ دوڑ لگ جاتی ہے کہ سب سے پہلے کون وہ ریکارڈ بھیجے گا جو بٹ کوائن کا نظام قبول کر لے گا۔ یہ پروسیسر خود سے ہی ایک ہندسہ بھی بناتے ہیں۔ یوں جو بھی سب سے پہلے صحیح ہندسہ اور اب تک کا ریکارڈ بتاتا ہے وہ انعام کا حقدار ہوتا ہے، اور یوں ہر دس منٹ بعد بٹ کوائن کا ایک نیا سلسلہ یا بلاک چین وجود میں آ جاتا ہے۔
آج کل ہر نیا بلاک چین بنانے والے کو انعام میں سوا چھ بٹ کوائن دیے جاتے ہیں، تقریباً 50 ہزار ڈالر فی بٹ کوائن کے حساب سے۔
جوں ہی ایک لاٹری ختم ہوتی ہے، پروسیسر ایک نیا ہندسہ نکالتا ہے اور یوں سارا عمل پھر سے شروع ہو جاتا ہے۔ انعام جتنا بڑا ہوتا ہے، اتنے ہی زیادہ مائنرز اس کھیل میں حصہ لینے لگتے ہیں۔
’مائنرز چاہتے ہیں کہ انھیں زیادہ سے زیادہ منافع ملے اور یہی وہ چیز ہے جس کے وجہ سے وہ زیادہ سے زیادہ بٹ کوائن بناتے ہیں۔ اس کے لیے وہ زیادہ سے زیادہ طاقتور کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ پروسیسر کے نکالے ہوئے ہندسے کا جلد سے جلد سراغ لگا لیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ توانائی (بجلی) کے استعمال میں اضافہ ہوتا جائے گا۔‘
✍️بٹ کوائن میں زیادہ بجلی خرچ ہونے کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ بٹ کوائن کا سافٹ ویئر یہ یقینی بناتا ہے کہ نئے ہندسے کا معمہ دس منٹ کے اندر اندر حل ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ہندسے کا سراغ لگانے کے خواہشمند مائینرز کی تعداد بھی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ یوں جوں جوں معمہ مشکل ہوتا جاتا ہے اسے حل کرنے کے لیے کمپیوٹنگ زیادہ ہو جاتی ہے جس کے لیے زیادہ بجلی چاہیے ہوتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ بٹ کوائن کو ڈیزائن ہی ایسے کیا گیا ہے کہ اس میں کمپیوٹر کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی حوصلہ افزائی ہو۔
اس کے پیچھے سوچ یہ ہے کہ بلاک چین کا حساب کتاب جتنے زیادہ کمپیوٹرز میں ہوگا، اس سے بٹ کوائن زیادہ سے زیادہ محفوظ رہے گا۔ یوں اگر کوئی بھی مائینر اس کرپٹوکرنسی کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے باقی تمام مائینرز کی کُل کمپیوٹنگ سے زیادہ طاقتور کمپیوٹر استعمال کرنا پڑے گا۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ جوں جوں بٹ کوائن کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے، نئے بٹ کوائن بنانے اور پھر انھیں قائم رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ کمپیوٹر استعمال ہوں گے، یوں لامحالہ بجلی کے استعمال میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔
✍️اس بات کا اندازہ کسی وقت بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کتنے مائینرز نئے بٹ کوائن بنا رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق آج کل دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مائینرز ہر ایک سیکنڈ میں بٹ کوائن کے 160 کوئن ٹریلین اعداد وشمار پیدا کر رہے ہیں۔ اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ ایک کؤن ٹریلین ہندسوں میں کتنا ہوتا ہے تو ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں۔ جی ہاں 160,000,000,000,000,000,000
ڈِجیی کانومِسٹ نامی ویب سائٹ کے بانی اور بٹ کوائن کے ماہر ایلکس ڈی ورائیز کے بقول کرپٹوکرنسی کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ اس میں کمپیوٹر کا استعمال انتہائی زیادہ ہے۔
لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ بٹ کوائن کو رواں دواں رکھنے کے لیے جو اربوں کھربوں کیلکولیشنز ہو رہی ہیں وہ کوئی بہت مفید کام نہیں کر رہی ہیں۔
’یہ اعداد و شمار (یا کمپیوٹیشنز) کوئی مقصد پورا نہیں کرتے، انہیں فوراً ہی ردی میں پھینک دیا جاتا ہے۔ اس وقت کمپیوٹرز یہ اعدادوشمار پیدا کرنے پر بہت زیادہ توانائی خرچ کر رہے ہیں، اور مسئلہ یہ ہے کہ اس توانائی (بجلی) کا زیادہ تر حصہ کوئلے، تیل اور گیس جیسے قدرتی ذخائر سے حاصل کیا جا رہا ہے۔‘
’اگر بٹ کوائن کو واقعی ایک دن ایک عالمی کرنسی کے طور پر اپنا لیا جاتا ہے تو ایک بٹ کوائن کی قیمت لاکھوں ڈالر تک پہنچ جائے گی، اور یوں بجلی پر خرچ کرنے کے لیے امریکہ کے تمام بجٹ سے بھی زیادہ دولت مائینرز کے ہاتھ میں آ جائے گی۔‘
بٹ کوائن کے ڈایزائن میں ایک اور خرابی یہ ہے کہ ایک سیکنڈ میں بٹ کوائن میں صرف تقریباً پانچ لین دین ہو سکتے ہیں۔‘ ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے بٹ کوائن زیادہ مفید کرنسی نہیں ہے
کسی بھی اچھی اور کارآمد کرنسی کے لیے دو خصوصیات ضروری ہیں، ایک یہ کہ یہ کرنسی لین دین کا ایک مؤثر ذریعہ ہو اور دوسرا یہ کہ اس کی قیمت مستحکم رہے۔ لیکن کہ بٹ کوائن میں یہ دونوں خوبیاں موجود نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بٹ کوائن ایسی معیشت میں استعمال نہیں ہوتا جسے قانونی تحفظ حاصل ہو۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک امیر شخص دوسرے امیر شخص کو بٹ کوائن فروخت کرتا ہے لیکن یہ کسی کرنسی کا حتمی استعمال نہیں ہے۔ اور جب تک اسے قانونی تحفظ حاصل نہیں ہو جاتا، بٹ کوائن کا کوئی دیرپا مستقبل نہیں ہو سکتا۔‘
#مختصراً بٹ کوائن کا واحد استعمال یہ ہے کہ اس سے سٹہ بازی ہو سکتی ہے۔ اس کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ ایک مہینے سے بھی کم ٹائم میں اس کی قیمت تقریباً آدھی سے بھی زیادہ گر گئی۔ مزید زیادہ بجلی کی استعمال اور اقتدارِ مرکزیت کا ختم ہونے کیوجہ سے بعض ممالک بٹ کوئن کو اپنی معیشت کیلئے بھی خطرہ سمجھتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: بلاک چین کے استمعال کے بارے میں میرا ایک مقالہ (research paper) بھی ہے۔ اگر مندرجہ بالا وضاحت سمجھ نہ آئے تو مقالے کو دیکھ لیں کہ اس کو کہاں کہاں پر practicality استمعال کرسکتے ہیں۔ 👇
لنک: https://peerj.com/articles/cs-504
یا زیل کا مختصر ویڈیو ملاحظہ فرمائیں 👇
https://m.youtube.com/watch?v=yubzJw0uiE4
اگر mining coin کے بارے میں جاننا ہو کہ کس طرح crypto coin کو mine کرنا ہے اور اس کیلئے کس کس چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اپنے کمپوٹر سے کسطرح ماننگ کریں گے تو زیل کا ویڈیو دیکھ لیں۔ اس میں practicality اُردو زبان میں بیان گیا گیا ہے۔ 👇
https://www.youtube.com/watch?v=GcZCBbmif70
۔۔
Sensors in Cyber-Physical Systems (CPS) are typically used to collect various aspects of the region of interest and transmit the data towards upstream nodes for further processing. However, data collection in CPS is often unreliable due to severe resource constraints (e.g., bandwidth and energy), en...