21/11/2023
ڈیتھ پلان پر ایک نظر
صفدر علی حیدری
۔۔۔
ارشاد العصر جعفری صاحب اردو ادب میں ایک نمایاں نام ہیں اور اگر بات عمران سیریز کی کی جائے تو اس میں شاید صف اول کے لکھاری ہیں جو چالیس سے زائد عمران سیریز لکھ چکے ہیں ۔۔۔
ان کا یہ سفر بڑی کامیابی سے جاری تھا کہ عمران سیریز شائع کرنے والے دونوں ادارے ہاتھ پاؤں چھوڑ گئے ۔۔۔ اور یوں عمران سیریز کے لکھاری ( خالد نور , سید علی حسن گیلانی اور جعفری صاحب ) بے روزگار ہو گئے اور عمران سیریز قصہ پارینہ بن کر رہ گئی ۔۔
پھر اسی سال کچھ سرپھروں نے اس کی بحالی کا بیڑا اٹھایا اور کامیابی سے اس کام کو دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔۔۔ الحمدللہ
اس مشن میں نمایاں کردار تو برادرم نجم حجازی کا ہی ہے لیکن تحریر کے میدان میں جعفری صاحب ، گیلانی صاحب اور خالد نور نے اپنے کندھے پیش کیے ۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اب تک ادارہ ایکسٹو پبلی کیشنز پانچ ناول شائع کر چکا ہے ۔ اور ہر ماہ ایک ناول کامیابی سے شائع کر رہا ہے ۔
اس ادارے کا پانچواں ناول " ڈیتھ پلان " اس وقت میرے پیش نظر ہے ۔۔۔
ناول کی موضوع فلسطین ہے اور یہ اسرائیل پر لکھا گیا ہے ۔۔۔
یہ ناول اپنے تیز رفتار ایکشن کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا ۔۔۔۔
اسرائیل پر جو بھی ناول لکھا جائے کامیابی سے ہمکنار ہوتا یے ۔۔۔
سو ڈیٹھ پلان بھی ایک کامیاب کوشش کہی جائے گی اگرچہ اس میں عمران اور اس کی ٹیم کے چند ساتھی بنا کسی پلان کے اسرائیل میں گھسے اور اسرائیلی فوجیوں پر قیامت بن کر ٹوٹے ۔۔۔
یہ ایک خاص قسم کا جذباتی ناول تھا کہ فلسطینی عوام پر جب ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں تو عمران جیسا ٹھہرا ہوا شخص بھی بے اختیار جذباتی سا ہو جاتا ہے اور وہ جذباتی ہوا اور اس نے اسرائیل میں گھس کر فوجیوں پر تابڑ توڑ حملے کیے ، سینکڑوں فوجیوں کو جہنم واصل کیا ، اسلحے کی ایک بڑی کھیپ کو تباہ و برباد کیا اور بآسانی اپنے ساتھیوں سمیت وہ سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا ۔۔۔۔
ٹائیگر اور جوزف کو کچھ کر دکھانے کا موقع نہ مل سکا لیکن جولیا اور تنویر نے خوب رنگ جمایا ۔۔۔
عمران اور صفدر سعید تو خیر مین آف دا میچ رہے ۔۔
یہ محض اتفاق ہی ہے کہ وہ پہلا ناول ہے جو میں نے بہت عرصہ بعد پڑھا ۔۔۔ مظہر کلیم کے بعد میں نے عمران سیریز کو ہاتھ تک نہ لگایا تھا ۔۔۔ بلکہ ان کے بھی اخری دو ڈھائی سو ناول میں نے نہیں پڑھے ۔۔۔
جعفری صاحب کا نام تو سنا تھا لیکن اب تک ان کو پڑھا نہیں تھا ۔۔۔۔ پہلی بار انکو پڑھا اور متاثر ہوئے بنا رہ نہیں پایا ۔۔۔
میں اپنے ہڑھنے والوں کو اس ناول کو خرید کر پڑھنے کی تلقین کروں گا
ا