19/06/2025
یہ شہر کا ایک معروف ایونٹ ہال ہے جہاں میں ایک عقیقے کے
طعام میں شریک ہوں ۔ ڈھیر سارے چلر اے سی چلنے کی وجہ
سے ہال میں گرمی کا شائبہ تک نہیں ۔ کھانے سے پہلے مختلف اقسام کے خوش ذائقہ ڈرنکس / سوڈا مہمانوں کو سرو کیے
جا رہے ہیں۔ مگر اس خوشگوار ماحول میں بھی سرو کرنے والا
یہ دبلا پتلا جوان پسینے میں شرابور ہے ۔
میں نے اس سے شربت کا گلاس لیتے ہوئے کہا ،
"اس میں سے ایک گلاس خود بھی پی لو"
ایک ساعت اسنے خوشی اور تشکر کے جذبات سے میرے جانب دیکھا لیکن پھر ایک مجبور سی "ناں" میں سر ہلا کر آگے بڑھ
گیا ۔ مجھے علم ہو گیا کہ ضرور اس بات کی انتظامیہ کی
جانب سے اجازت نہیں ہو گی ۔
اس کے بعد اس نے ہماری ٹیبل کے کئی چکر لگائے ۔۔۔ میرا دماغ
اس کے ٹوٹے جوتوں اور میلی کچیلی پینٹ میں الجھا رہا ۔
وطن عزیز میں کام چوروں کی کثرت ہے ۔ آپ اور میں روزانہ ہڈحرام قسم کے کام کرنے والوں یا بہانے سے مانگنے والے بیسیوں لوگوں کو دیکھتے پرکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن محنت کرنے والوں کا چہرہ ہی الگ ہوتا ہے ۔ غربت کی یاسیت اور ضرورتوں
کے تفکرات کے باوجود ان کی پیشانی روشن ہوتی ہے ۔
کھانے کے اختتام پر میں نے اس سے کچھ "محبت" دکھائی تو
اسکا چہرہ خوشی سے بھر گیا ۔۔۔۔ مجھے بھی سکون اور خوشی
کا عجب سا احساس ہوا ۔۔۔۔۔۔ ایسا لگا شدید پیاس میں یہ سارے ٹھنڈے رسیلے شربت میرے خشک حلق میں اتر گئے ہوں ۔۔۔۔۔
(خیابان سرور ۔ ڈی جی خان )