31/07/2023
تعارف: کتاب * #نعم الوجیز فی اعجاز القرآن العزیز"*
مرتب ابو الحسن * #خضر حیات* مدنی ملتانی.
یہ حقیقت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی *فصاحت و بلاغت کا سر چشمہ قرآن حکیم ہے* جس کا کما حقہ ادراک انسانی فہم سے بالا تر ہے.
اہل عرب بلاشبہ زبان و کلام کی نزاکتوں سے آگاہ تھے مگر اس *فن کو بحیثیت علم مدون کرنے کا خیال صرف مسلمانوں کو آیا* جنہوں نے قرآن حکیم کی شان اعجاز ، اس کے الفاظ، جمل، ان کی تالیف وربط ، فواصل ، مطالع ، مقاطع اور انداز بیان و تخاطب کو منظم علوم میں ڈھال دیا.
دوسری صدی ہجری میں فن فصاحت و بلاغت کو مدون کرنے کا آغاز ہوا۔ علامہ جاحظ (م 255 ہجری) کی کتاب *( البيان والتبیین )* خطابت اور بیان کے پر لکھی گئی جس میں موضوع بلاغت کو اہمیت دی مگر یہ کتاب قرآنی فصاحت و بلاغت پر مستقل تصنیف نہیں البتہ جاحظ کی *" نظم القرآن "* اس موضوع پر پہلی موضوع پر تصنیف کہی جاسکتی ہے۔
*چوتھی صدی* کے آخر میں قاضی ابو بکر نے ایک شاہ کار کتاب بنام *(اعجاز القرآن )* تصنیف فرمائی جو کہ (الاتقان ) کے حاشیے پر چھپی.
بعد میں علامہ ابو عبد اللہ بن
یزید واسط نے ایک جامع کتاب اسی نام یعنی *(اعجاز القرآن)* سے تحریر فرمائی.
علامہ عبد القاہر جرجانی نے اس کی تفصیل شرح *(المعتضد)* قلمبند کی۔
چوتھی صدی ہجری میں ایک اور کتاب *اعجاز القرآن علامہ ابوعیسی رومانی نے تصنیف فرمائی۔*
بعد ازاں اس موضوع پر علما کے قلم جولانی دکھاتے رہے۔ جو تاحال جاری ہے.
کتاب زیر نظر *( #نعم الوجيز في اعجاز القرآن العزيز )* جو نادر دہر علامہ عبد العزیز * #پرہاروی* علیہ الرحمہ کی عظیم تصنیف ہے اور جس کا خوبصورت ترجمہ فاضل محتشم *علامہ ابو محمد عبد الواحد #کبیری* دامت بر کا تہم القدسیہ نے کیا تفسیر اعجاز القرآن ہی کی ایک کڑی ہے اور اس کو صفحہ قرطاس پر لانے کا داعیہ بھی ایک در بار کا مرہون منت ہے۔
جیسا کہ حضرت مصنف علیہ الرحمہ اپنی تالیف * #الصمصام فی اصول تفسیر القرآن* کے آغاز میں فرماتے ہیں:
ایک دن میں *دارالامان #ملتان* میں امیر الامراء خادم الفقراء محمد شاہ نواز خان میں تھا۔ (اللہ اس کی حکومت کو تمام امصار میں وسعت اقتدار اور اس کے لشکر کو کفار کے مقابلے میں فتح مند رکھے )انہوں) نے مجھ سے پوچھا:
کیا کوئی اس زمانے میں تفسیر قرآن کا استنباط کر سکتا ہے ؟
تو میں نے جواب دیا : تفسیر کے بعض پہلو ہیں *جو منقول و ماثور جیسے نسخ، قصص، مجمل اور اسباب نزول کے بغیر آگاہی میں نہیں آتے*
اور ان میں وہ بھی ہیں جن کا استنباط ماہر علماء ہی کر سکتے ہیں جیسے وجوہ اعراب، نکات، تصوف اور بلاغت *لیکن ایسا بھی نہیں کہ تفسیری نکات کے استنباط واستخراج کا دروازہ بند ہو گیا* ہو جو شخص قوانین کی معرفت رکھتا ہے اور کج روی کا شکار نہیں اس کیلئے تفسیر کر نا روا ہے کیونکہ *قرآن کریم کے عجائب کم نہیں ہوتے* اور نہ ہی اس کے غرائب ختم ہونے کو آتے ہیں.
تو امیر الامراء نے کہا کیا آپ کو اس پر دسترس ہے ؟
میں نے کہا اور ساری تعریفیں اس کیلئے جس نے مجھے اس کی طرف رہنمائی فرمائی .
پس انہوں نے آیت *(تبرك الذي بيدہ الملك )* کی تفسیر لکھنے کا حکم دیا تومیں نے حسب حکم اس کو ضبط تحریر میں لے آیا،،.
پھر یہی داعیہ *کتاب #نعم الوجیز فی اعحاز القرآن العزیز* کے مر تبہ ظہور سے لانے کا سبب ہوا.
* #نعم الوجیز کے مندرجات پر ایک #نظر*
مصنف علام نے اس کتاب میں فصاحت و بلاغت کی ہر ایک تعریف و اصطلاح کی مثال میں *قرآنی آیات کو ذکر فرمایا* جو قرآن مجید پر آپ کی گہری نظر پر دال ہے .
*اس کتاب میں 1 مقدمہ ,3 باب, 2 ضمیمے,اور ایک خاتمہ ہے.*
* #مقدمہ* اس میں فصاحت و بلاغت اور ان کے متعلقات کی تعریفات ہیں.
* #پہلا باب* علم معانی کی ابحاث پر مشتمل ہے, اور *10 فصول* میں درج ذیل ابحاث کو لایا گیا ہے
مباحثِ نکرہ ومعرفہ
مباحث تقدیم و تاخیر
مباحثِ احوال مسند و مسند الیہ
مباحثِ توابع
مباحثِ خبر وانشا
مباحثِ فصل و وصل
مباحثِ قصر
مباحثِ اطناب
مباحثِ ایجاز
مباحثِ مقتضی الظاہر
* #دوسرا باب* علم بیان کی ابحاث پر مشتمل ہے. اور *4 فصول* میں درج ذیل ابحاث کو لایا گیا ہے:
ابحاثِ تشبیہ
ابحاثِ مجاز
ابحاثِ کنایہ
ابحاثِ تعریض
* #تیسراباب* علم بدیع کی ابحاث پر مشتمل ہے. اور *2 فصول* کے تحت *56 ایسے امور لفظیہ معنویہ* مثلا ارصاد, مشاکلہ , تجرید, تفرید , تجاھل, عکس,توریہ, تجینس ابدال, سجع وغیرہ کو لایا گیا جن سے کلامِ بلیغ کا حسن زائد ہوجاتا ہے.
* #خاتمہ* اس میں *4 فصول* میں درج ذیل ابحاث کو لایا گیا ہے:
سرقہ
اقتباس
تضمین
مطلع تخلص مقطع
* #حرف آخر*
فاضل نوجوان مولانا *ابومحمد عبدالواحد کبیری مدنی* زید مجدہ علامہ پرہاروی کی تراث علمی کو منصہ شہود پر لانے کے لیے کمر بستہ ہیں اور بحمدہ تعالی اب تک ( *نومبر 2022* ) عبقری دوران *علامہ پرہاروی کی 3 تصانیف* مولانا کبیری صاحب کی کاوشوں کی بدولت زیور طباعت سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آچکی ہیں.
اہل علم پر یہ بات بالکل آشکار ہے کہ
علامہ پرہاروی جیسے جبل العلم کی تالیفات کو اردو قالب میں وہی ڈھال سکتا ہے جو ان علوم و فنون میں مہارت تامہ رکھتا ہو, یہ تراجم مترجم کے ماہر علوم و فنون ہونے پر بھی دال ہیں *میرے بس میں ہو تو میں مولانا "کبیری" صاحب کو "علامہ پرہاروی" صاحب کی ہر کتاب کو اردو قالب میں ڈھالنے پر اعزاز میں کی ڈگری تفویض کروں*
فجزاہ اللہ خیرا.
*علامہ #پرہاروی کے افکار و #نظریات*
زیر نظر کتاب *نعم الوجیز* کے شروع میں مولانا کبیری صاحب نے دلائل سے مزین ایک شاندار مقدمہ مرتب فرما کر علامہ پرہاروی کی افکار و نظریات *(مثلا: مسلک, مسئلہ امکان کذب, عصمت انبیا, شفاعت, ایصال ثواب, عذاب قبر, ایمان ابوین, ایمان ابی طالب, صحابہ و اہل بیت اور کرامات متعلق عقیدہ اور علامہ پرہاروی کے مقلد ہونے)* کو روز روشن کی طرح عیاں کردیا.
فجزاھم اللہ خیرا.
ماخوذ *از تقریظ و فہرست نعم الوجیز بزیادۃ*
گھر بیٹھے #کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
03417106100