Malikwal Books Library

Malikwal Books Library We deal in books. Rent,sale.provide free librarian service.

25/03/2026
25/03/2026

Read books collect books and then write book

24/03/2026

Y fake readers don't return books

We deal in books. Rent,sale.provide free librarian service.

1931ء کی ایک یادگار تصویر: آخری عثمانی خلیفہ عبدالمجید دوم، ان کی بیٹی شہزادی درشہوار سلطان اور داماد نواب اعظم یہ تصویر...
06/02/2026

1931ء کی ایک یادگار تصویر: آخری عثمانی خلیفہ عبدالمجید دوم، ان کی بیٹی شہزادی درشہوار سلطان اور داماد نواب اعظم

یہ تصویر 1931ء میں فرانس کے شہر نائس میں کھینچی گئی تھی، جب آخری عثمانی خلیفہ عبدالمجید دوم اپنی پیاری بیٹی شہزادی درشہوار سلطان اور ان کے شوہر نواب اعظم جاہ (برار کے شہزادے) کے ساتھ موجود تھے۔ یہ محض ایک خاندانی تصویر نہیں، بلکہ تاریخ کے ایک عظیم دور کے خاتمے اور نئی شروعات کی علامت ہے—جہاں عثمانی خلافت کی زوال پذیر وراثت ہندوستان کے شاہی عظیم خاندان سے جا ملتی ہے۔

عبدالمجید دوم، جو 1924ء میں خلافت کے خاتمے کے بعد جلاوطن ہوئے تھے، اپنی زندگی کے بیشتر حصے فرانس میں گزارے۔ خلافت کا خاتمہ ترکی کی نئی جمہوری حکومت کی جانب سے کیا گیا، جس نے سلطنت عثمانیہ کی باقیات کو بھی ختم کر دیا۔ خلیفہ صاحب نے پیرس اور نائس میں ایک پرسکون زندگی گزاری، جہاں وہ مصوری، موسیقی اور عبادت میں مصروف رہے۔ ان کی مالی حالت مشکل تھی، لیکن ان کی بیٹی کی شادی نے ان کی صورتحال کو بہتر بنایا۔

شہزادی درشہوار سلطان (پیدائش: 26 جنوری 1914ء) آخری خلیفہ کی اکلوتی بیٹی تھیں۔ وہ تعلیم یافتہ، خوبصورت اور جدید خیالات کی حامل تھیں۔ 1931ء میں ان کی شادی نواب اعظم جاہ سے ہوئی، جو حیدرآباد دکن کے آخری نظام میر عثمان علی خان کے بڑے بیٹے اور وارث تھے۔ یہ شادی صرف ایک ذاتی رشتہ نہیں تھی، بلکہ دو عظیم تاریخی دنیاؤں کا پل تھی: ایک طرف خلافت عثمانیہ کی سلطانی وراثت، اور دوسری طرف ہندوستان کی سب سے امیر اور بااثر ریاست حیدرآباد۔ اس اتحاد کو عالم اسلام میں ایک علامتی رشتہ سمجھا گیا، جو سلطنتوں کے زوال کے باوجود اسلامی ثقافتی اور شاہی روایات کی بقا کی علامت تھا۔

شادی 12 نومبر 1931ء کو نائس کے ولا کارابیکل میں ہوئی۔ نظام حیدرآباد نے خلیفہ کو مالی امداد بھی دی، جس سے ان کی جلاوطنی کی زندگی آسان ہوئی۔ درشہوار سلطان نے حیدرآباد میں "دردانہ بیگم" اور "ہر ہائی نس پرنس آف برار" کا خطاب حاصل کیا۔ وہ جدید تعلیم، خواتین کی ترقی اور فلاحی کاموں میں سرگرم رہیں۔ انہوں نے حیدرآباد میں لڑکیوں کے کالج، ہسپتال اور دیگر ادارے قائم کیے۔ ان کی شخصیت نے حیدرآباد کی سماجی زندگی میں ایک نیا رنگ بھرا۔

یہ تصویر نہ صرف خاندانی خوشی کی لمحہ بھر کی تصویر ہے، بلکہ سلطنتوں کے زوال اور ان کی یادوں کی تبدیلی کی داستان بھی بیان کرتی ہے۔ سلطنت عثمانیہ کی خلافت ختم ہو چکی تھی، لیکن اس کی روح نئی شکلوں میں زندہ رہی—لوگوں، اقدار اور مشترکہ ورثے کے ذریعے۔ عبدالمجید دوم 1944ء میں پیرس میں وفات پا گئے، اور ان کی تدفین مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں ہوئی۔ درشہوار سلطان نے اپنی زندگی کے آخر تک اپنے والد کی یاد کو زندہ رکھا اور 2006ء میں لندن میں وفات پائی۔
عجیب و غریب تاریخ

ان میں سے کون سی کتاب آپ پڑھ چکے
25/01/2026

ان میں سے کون سی کتاب آپ پڑھ چکے

New years start with this poem
01/01/2026

New years start with this poem

Address

Main Road Sabari Mohalla
Malakwal

Telephone

03367189873

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malikwal Books Library posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Malikwal Books Library:

Share