27/01/2026
سورہ الطارق اور نیوٹران اسٹار (پلسرز): ایک سائنسی و لسانی معجزہ مقدمہ: چودہ سو سال پرانا معمہ قرآن مجید کی سورہ الطارق کی ابتدائی آیات صدیوں تک مفسرین کے لیے ایک علمی معمہ رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ قسم کھا کر فرماتا ہے: "قسم ہے آسمان کی اور رات کو آنے والے (دستک دینے والے) کی، اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ دستک دینے والا کیا ہے؟ وہ ایک سوراخ کر دینے والا (چیر دینے والا) ستارہ ہے!" قدیم زمانے میں اس کا ترجمہ صرف ایک "چمکدار ستارہ" کیا جاتا تھا، کیونکہ انسانی عقل اس وقت ستاروں کی اندرونی حقیقت سے ناواقف تھی۔ لیکن 1967 میں فلکیات (Astronomy) کی دنیا میں ایک ایسی دریافت ہوئی جس نے ان الفاظ کی سچائی پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ 1. الطارق: خلا میں دستک دینے والا ہتھوڑا عربی لغت میں "طارق" کا مادہ "ط-ر-ق" ہے، جس کے بنیادی معنی "ہتھوڑے سے مارنا" یا "دستک دینا" ہیں۔ عربی میں ہتھوڑے کو "مِطرقہ" کہا جاتا ہے۔ سائنسی مطابقت: ماہرِ فلکیات جوسلین بیل برنل نے جب 1967 میں خلا سے آنے والے سگنلز کو ریڈیو ٹیلی اسکوپ کے ذریعے سنا، تو وہ حیران رہ گئیں کہ یہ آواز بالکل ایسی تھی جیسے کوئی مسلسل ہتھوڑا مار رہا ہو یا دروازے پر دستک دے رہا ہو۔ یہ آوازیں درحقیقت "نیوٹران اسٹارز" (Pulsars) سے آ رہی تھیں جو اپنے محور پر اتنی تیزی سے گھومتے ہیں کہ ان سے نکلنے والی ریڈیو لہریں زمین پر ایک باقاعدہ "دستک" کی طرح محسوس ہوتی ہیں۔ 2. الثاقب: کائنات کی وسعتوں کو چیر دینے والا ستارہ آیت کے اگلے حصے میں اسی ستارے کو "النجم الثاقب" کہا گیا ہے۔ عربی میں "ثاقب" کا مطلب ہے ایسی چیز جو اس قدر تیز اور طاقتور ہو کہ وہ دوسری چیز میں سوراخ کر دے یا اسے چیر کر آر پار نکل جائے۔ سائنسی مطابقت: پلسرز (Pulsars) کائنات کی کثیف ترین چیزوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے قطبین (Poles) سے نکلنے والی تابکاری (Radiation) اور ایکس ریز کی شعاعیں اتنی طاقتور ہوتی ہیں کہ وہ خلا کے اندھیروں اور مادے کی تہوں کو "چیرتی ہوئی" (Pierce) لاکھوں نوری سال دور تک جاتی ہیں۔ یہ ستارہ صرف چمکتا نہیں ہے، بلکہ اپنی توانائی کی بیمز (Beams) سے کائنات کو چیرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ 3. حقائق کا نچوڑ: کیا یہ محض اتفاق ہے؟ اگر ہم غیر جانبدار ہو کر دیکھیں، تو قرآن نے یہاں "ستارے" کے لیے عام لفظ استعمال کرنے کے بجائے "طارق" (دستک دینے والا) اور "ثاقب" (چیرنے والا) کے الفاظ استعمال کیے۔ پہلی حقیقت: پلسر کی آواز ریڈیو ٹیلی اسکوپ پر دستک (Knocking) کی طرح سنائی دیتی ہے۔ دوسری حقیقت: پلسر ستارہ (Neutron Star) ہے، جیسا کہ قرآن نے اسے "النجم" کہا۔ تیسری حقیقت: پلسر کی شعاعیں کائنات کے مادے اور خلا کو چیر کر (Pierce) نکل جاتی ہیں۔ yes یہ مطابقت ثابت کرتی ہے کہ چودہ سو سال پہلے یہ الفاظ اس ہستی نے کہے تھے جو ستاروں کی طبیعیات (Physics) سے پوری طرح واقف تھی۔ یہ "حق" ہے، اور اس میں کسی مذہبی رعایت کے بجائے خالص علمی مشاہدہ موجود ہے۔ 🌟🌠💫🎇💥😊🌟🌠💫🎇💥😊
to others