Kitab mahal

Kitab mahal We are here mainly for our customers. If u have any queries about books so do ask on this page

✨ تقریبِ پذیرائی — شہرِ علم کے دروازے پر ✨📘شہرِ علم کے دروازے پر✍️ افتخار عارف📚 زیرِ اہتمام: عکس پبلی کیشنز🎤 اظہارِ خیال...
15/02/2026

✨ تقریبِ پذیرائی — شہرِ علم کے دروازے پر ✨

📘شہرِ علم کے دروازے پر
✍️ افتخار عارف
📚 زیرِ اہتمام: عکس پبلی کیشنز

🎤 اظہارِ خیال کریں گے:
ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب، احمد جاوید صاحب،
محترمہ یاسمین حمید، ڈاکٹر ناصر عباس نیر، ڈاکٹر معین نظامی

🗓️ پیر، 16 فروری 2026
⏰ شام 6 بجے
📍 عکس پبلی کیشنز، 3- ٹیمپل روڈ، نزد ریگل چوک، لاہور

🔹 ادب دوست احباب کی شرکت ہمارے لیے باعثِ مسرت ہوگی۔

📞 رابطہ:
0300-4827500
0304-2224000
📌 لوکیشن:
https://g.co/kgs/bupytS







✨ تقریبِ رونمائی —  صلیبیں اپنی اپنی(ناول) ✨📘 صلیبیں اپنی اپنی(ناول)✍️ رفیع مصطفی📚 زیرِ اہتمام: عکس پبلی کیشنز🎤 اظہارِ خ...
10/02/2026

✨ تقریبِ رونمائی — صلیبیں اپنی اپنی(ناول) ✨

📘 صلیبیں اپنی اپنی(ناول)
✍️ رفیع مصطفی
📚 زیرِ اہتمام: عکس پبلی کیشنز

🎤 اظہارِ خیال کریں گے:
عابد حسین عابد، عامر فراز، ڈاکٹر ہارون عثمانی، ڈاکٹر نعیم ورک،
شہزاد نیر، ڈاکٹر سمیرا عمر، ڈاکٹر مزمل الرحمان، ڈاکٹر عدنان بشیر

🎙️ ماڈریٹر: محمد فہد

🗓️ بدھ، 11 فروری 2026
⏰ شام 5 بجے
📍 عکس پبلی کیشنز، 3- ٹیمپل روڈ، نزد ریگل چوک ، لاہور

🔹 ادب دوست احباب کی شرکت ہمارے لیے باعثِ مسرت ہوگی۔

📞 رابطہ:
0300-4827500
0304-2224000

📌 لوکیشن:
https://g.co/kgs/bupytS







📚 Visit Aks Publications’ Stall at the Lahore Literary Festival 2026!We warmly invite all book lovers to explore our col...
06/02/2026

📚 Visit Aks Publications’ Stall at the Lahore Literary Festival 2026!
We warmly invite all book lovers to explore our collection and celebrate the love of literature with us.
📍 Alhamra Arts Center, The Mall
📅 February 6–8, 2026
See you at LLF 2026 ✨

کتاب: رودادِ ستممصنف: حامد میرناشر: عکس پبلی کیشنز—————————————روزنامہ جنگ میں شائع شدہ(تبصرہ / کالم)تاریخ: 20 جنوری ، 2...
23/01/2026

کتاب: رودادِ ستم
مصنف: حامد میر
ناشر: عکس پبلی کیشنز

—————————————
روزنامہ جنگ میں شائع شدہ
(تبصرہ / کالم)
تاریخ: 20 جنوری ، 2026
✍️ سید محمد جواد
—————————————
ظلم کو برداشت کرنا اور خاموش رہنا سب سے بڑا ستم ہے اور اس ستم کے خلاف حامد میر کی کتاب رودادستم پر نوجوان ادیب سید محمد جواد کا ایک خوبصورت تبصرہ جو پکار پکار کہتا ہے کہ ظلم کے خلاف خاموش رہنا ظالم کی سہولت کاری ہے۔

لنک :
https://jang.com.pk/news/1548490

📘 منظر اک بلندی سے (ناول)خورشید حسنین کا ناول "منظر ایک بلندی سے" خوبصورت زبان اور چست پلاٹ کا ناول ہے۔ جس میں منفرد کرد...
19/01/2026

📘 منظر اک بلندی سے (ناول)

خورشید حسنین کا ناول "منظر ایک بلندی سے" خوبصورت زبان اور چست پلاٹ کا ناول ہے۔ جس میں منفرد کرداروں کی یہ دنیا معاشرے کی مختلف تہوں، رویوں اور طبقوں کی نمائندہ بن کر ابھرتی ہے۔ یہ کردار آپس میں معاشرتی اور معاشی رشتوں ناتوں کے پیچیدہ جال میں بندھے ہوئے ہیں اور اس جال میں وہ اپنے مفادات اور رویوں کے تحت نظام اقدار کے متنوع زمروں اور درجوں میں بھی بٹے ہوئے ہیں۔ ہم جس غالب طبقاتی اہرام تلے پس رہے ہیں، ہمارے ناول نگار کا قلم اس کے معاصر معاشی استحصالی کردار کو گرفت کر رہا ہے۔ اسی لیے یہ ناول اپنے قاری کو نہ صرف جمال بلکہ شعور کے مرحلوں سے بھی دو چار کرتا ہے۔

شہر اور کچی آبادیوں کے دیدہ و نادیدہ رشتے اور دونوں کے مسائل ، اور ان سب کے درمیان ماضی سے فرار کی کشمکش کرتے کردار اور ایک بہتر مستقبل کی امیدوں کے لیے جدوجہد کرتے اس ناول کے کردار سب ہمیں اپنے اطراف روز ہی نظر آتے ہیں۔ اس ناول کے مردانہ اور زنانہ کردار ہمہ جہت اور پہلو دار ہیں اور ناول کے بیانیے میں ہم انھیں اپنے ماحول سے نبرد آزما اور اپنے آپ کو بدلتے، کامیاب یا ناکام ہوتے دیکھتے ہیں۔

ڈاکٹر خورشید حسنین جو ماہر طبیعات، افسانہ نگار اور شاعر ہیں، انھوں نے اس ناول میں خود کو کرشن چندر اور شوکت صدیقی جیسے اعلیٰ فکشن نگاروں کی روایت سے جوڑا ہے۔ ان کا خارجی حقیقت نگاری کی تکنیک کو اپنانا عین فطری ہوتے ہوئے ان کے ذہن کا شاندار اظہار ہے جس کا پتا ان کے فن ناول کے مختلف عناصر میں جابجا ملتا ہے۔ وہ اپنی معاصر سماجی و سیاسی صورت حال سے گہرے طور پر آگاہ مصنف ہیں۔ اپنے خیال اور اپنے معروض کے مابین یکجائی ان کے ناول میں بہت تابناکی سے دکھائی دیتی ہے۔

✍️ڈاکٹر روش ندیم

کتاب: منظر اک بلندی سے (ناول)
مصنف: خورشید حسنین

مجلد |خوب صورت استر | امپورٹڈ پیپر

قیمت : 1500 روپے

ابھی گھر بیٹھے یہ کتاب ایزی پیسہ ، جاز کیش سے ادائیگی کی صورت میں 1500 روپے میں حاصل کرنے کے لیے اپنا نام، نمبر اور مکمل پتہ ان باکس میں میسج کریں۔ یا ان واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔
03004827500
03042224000
واٹس ایپ لنک:
https://wa.me/message/6K3IUPQTQ2RFI1

📘 𝐓𝐡𝐞 𝐌𝐢𝐬𝐬𝐢𝐧𝐠 𝐏𝐫𝐚𝐲𝐞𝐫: 𝐀𝐧 𝐎𝐝𝐲𝐬𝐬𝐞𝐲 𝐨𝐟 𝐕𝐞𝐫𝐬𝐞​𝐁𝐨𝐨𝐤 𝐋𝐚𝐮𝐧𝐜𝐡 | 𝐀𝐦𝐦𝐚𝐫 𝐀𝐳𝐢𝐳​𝑨𝒌𝒔 𝑷𝒖𝒃𝒍𝒊𝒄𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏𝒔 invites you to a night where silence...
27/12/2025

📘 𝐓𝐡𝐞 𝐌𝐢𝐬𝐬𝐢𝐧𝐠 𝐏𝐫𝐚𝐲𝐞𝐫: 𝐀𝐧 𝐎𝐝𝐲𝐬𝐬𝐞𝐲 𝐨𝐟 𝐕𝐞𝐫𝐬𝐞

​𝐁𝐨𝐨𝐤 𝐋𝐚𝐮𝐧𝐜𝐡 | 𝐀𝐦𝐦𝐚𝐫 𝐀𝐳𝐢𝐳

​𝑨𝒌𝒔 𝑷𝒖𝒃𝒍𝒊𝒄𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏𝒔 invites you to a night where silence finds its voice.
​Join us as we unveil "The Missing Prayer" — a collection that redefines the modern poem. Ammar Aziz’s work is not merely read; it is experienced. Like a Raag that builds in the quiet of the night, these poems evolve from fluid simplicity into intricate tapestries of emotion, leading the reader to breathtaking realizations.
​This is a journey through the landscapes of faith, the echoes of longing, and the rhythmic beauty of a disciplined contemporary voice.

​📅 Saturday, 27th December
🕕 6:00 PM Sharp
📍 Aks Publications
Main Chambers, 3 Temple Road, Lahore

​We look forward to welcoming you to an evening of light, literature, and conversation.

📌Location:(https://maps.app.goo.gl/bN2LUxrxv5uv6xM77)
📞 Contact: 03344096628 | 03042224000
💌 Order a signed copy: (https://wa.me/message/6K3IUPQTQ2RFI1)

📘 𝐓𝐡𝐞 𝐌𝐢𝐬𝐬𝐢𝐧𝐠 𝐏𝐫𝐚𝐲𝐞𝐫: 𝐀𝐧 𝐎𝐝𝐲𝐬𝐬𝐞𝐲 𝐨𝐟 𝐕𝐞𝐫𝐬𝐞​𝐁𝐨𝐨𝐤 𝐋𝐚𝐮𝐧𝐜𝐡 | 𝐀𝐦𝐦𝐚𝐫 𝐀𝐳𝐢𝐳​𝑨𝒌𝒔 𝑷𝒖𝒃𝒍𝒊𝒄𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏𝒔 invites you to a night where silence...
26/12/2025

📘 𝐓𝐡𝐞 𝐌𝐢𝐬𝐬𝐢𝐧𝐠 𝐏𝐫𝐚𝐲𝐞𝐫: 𝐀𝐧 𝐎𝐝𝐲𝐬𝐬𝐞𝐲 𝐨𝐟 𝐕𝐞𝐫𝐬𝐞

​𝐁𝐨𝐨𝐤 𝐋𝐚𝐮𝐧𝐜𝐡 | 𝐀𝐦𝐦𝐚𝐫 𝐀𝐳𝐢𝐳

​𝑨𝒌𝒔 𝑷𝒖𝒃𝒍𝒊𝒄𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏𝒔 invites you to a night where silence finds its voice.
​Join us as we unveil "The Missing Prayer" — a collection that redefines the modern poem. Ammar Aziz’s work is not merely read; it is experienced. Like a Raag that builds in the quiet of the night, these poems evolve from fluid simplicity into intricate tapestries of emotion, leading the reader to breathtaking realizations.
​This is a journey through the landscapes of faith, the echoes of longing, and the rhythmic beauty of a disciplined contemporary voice.

​📅 Saturday, 27th December
🕕 6:00 PM Sharp
📍 Aks Publications
Main Chambers, 3 Temple Road, Lahore

​We look forward to welcoming you to an evening of light, literature, and conversation.

📌Location:(https://maps.app.goo.gl/bN2LUxrxv5uv6xM77)
📞 Contact: 03344096628 | 03042224000
💌 Order a signed copy: (https://wa.me/message/6K3IUPQTQ2RFI1)

Wishing a Merry Christmas to the global Christian community, especially to our Pakistani Christian brothers and sisters....
25/12/2025

Wishing a Merry Christmas to the global Christian community, especially to our Pakistani Christian brothers and sisters. The teachings of Jesus Christ, centered on love, unity, and peace, serve as a guiding light for us all. Let’s use this day as a reminder to reaffirm our commitment to fostering peace and prosperity for everyone. 🎄

“رودادِ ستم” — آزادیٔ اظہار کی جدوجہد کی داستانکتاب: رودادِ ستممصنف: حامد میرناشر: عکس پبلی کیشنز—————————————روزنامہ 92...
24/12/2025

“رودادِ ستم” — آزادیٔ اظہار کی جدوجہد کی داستان

کتاب: رودادِ ستم
مصنف: حامد میر
ناشر: عکس پبلی کیشنز

—————————————
روزنامہ 92 میں شائع شدہ
(تبصرہ / کالم)
تاریخ: 23 دسمبر 2025
✍️ علی احمد ڈھلوں
—————————————

جیحامد میر کا شمار پاکستان کے بہترین صحافیوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے ہر قسم کے حالات میں بھی سچائی کا دامن نہیں چھوڑا، وہ کبھی اپنے نقطہ نظر سے پیچھے نہیں ہٹے، حالانکہ کئی جگہوں پر اور اُن کے کالموں میں مجھے اُن سے بارہا اختلاف بھی رہا ، مگر اختلاف رائے ہونا اچھی بات ہے، ناکہ آپ بغض سے کام لیں۔ حامد میر کے مخالفین بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ ہمیشہ بے باک صحافت کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ تبھی اس بے باکی کی وجہ سے اُن پر حملے بھی ہوئے، اُنہیں گولیاں بھی لگیں۔ اُن کی گاڑی کے ساتھ بم بھی باندھا گیا۔ خیر یہ انہی کا حوصلہ ہے کہ یہ سب کچھ برداشت بھی کرتے ہیں اور اپنے قلم میں تبدیلی بھی نہیں لاتے۔ حامد میر کی ویوور شپ بھی کروڑوں میں ہے تو یقیناً وہ یہ سب آسانی سے نہیں سہتے ہوں گے۔ ایک اور بات جو ان کے کریڈٹ میں جاتی ہے کہ وہ ڈکٹیٹر شپ سے زیادہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے ماریں بھی کھائیں انہوں نے ہر حکمران کی خامیوں کو ڈسکس کیا، فضول کاسہ لیسی کبھی نہیں کی۔ آپ حامد میر کے متعلق کبھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ہمیشہ نواز شریف کی تعریف کرتے ہیں،،، یا شہباز شریف کے لیے صحافت کرتے ہیں یا عمران خان کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں، یا زرداری صاحب کے دربار میں حاضری دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ جس کی جہاں تعریف بنتی تھی، وہاں تعریف کی اور جہاں انہوں نے غلط فیصلے کیے اُن پر سخت تنقید بھی کی۔ مشرف دور پر اُن پر پابندی بھی لگی رہی لیکن وہ اس یقین کے ساتھ جمہوریت کی بات کرتے رہے کہ ملک میں کبھی نہ کبھی جمہوریت ضرور قائم ہوگی۔ آپ بانی پی ٹی آئی کے بارے میں حامد میر کی حالیہ سال میں رائے کو دیکھ لیں۔ جب وہ اقتدار میں تھے تو اُن کے سخت ناقد رہے لیکن جیسے ہی انہوں نے اقتدار چھوڑا اور موجودہ سرکار نے اُن کے ساتھ ظلم و زیادتی کی روایات قائم کی ۔ بلکہ تحریک انصاف پر پابندیوں کے حوالے سے بھی اُنہوں نے کھل کر مخالفت کی بلکہ اُنہوں نے کہا کہ اصل جمہوریت کا ایک دن ڈکٹیٹر شپ کے سو سالوں سے بہتر ہے۔ خیر یہ تعریفیں میں میر صاحب کی اس لیے نہیں کر رہا کہ میرے اُن سے کوئی ذاتی تعلق ہے یا وہ میرے کسی رشتے دار کے تعلق والے ہیں بلکہ ہمارا محض صحافتی رشتہ ہے اور گزشتہ دنوں اُن کی کتاب ’’روداد ستم‘‘ پڑھ کر تو میں اُن کا مزید گرویدہ ہوگیا۔۔۔ یہ کتاب محض یادداشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ پاکستان میں طاقت کے مراکز اور آزاد صحافت کے درمیان جاری ایک طویل اور خونی کشمکش کی مستند دستاویز ہے۔ یہ کتاب ہمیں اس تلخ حقیقت سے روبرو کراتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں سوال اٹھانا، تحقیق کرنا اور سچ بیان کرنا آج بھی ایک خطرناک عمل ہے۔ حامد میر نے اس کتاب میں اپنے صحافتی سفر کا آغاز ایک عام رپورٹر کی حیثیت سے کیا ہے، جہاں وہ بتاتے ہیں کہ صحافت میں آنے کا مقصد شہرت یا طاقت نہیں بلکہ معاشرتی ناانصافیوں کو بے نقاب کرنا تھا۔ مگر جیسے جیسے ان کی آواز طاقتور ہوتی گئی، ویسے ویسے ان کے خلاف دباؤ، الزامات اور دھمکیوں کا دائرہ بھی وسیع ہوتا چلا گیا۔ ’’رودادِ ستم‘‘ میں بیان کیے گئے واقعات اس بات کی واضح مثال ہیں کہ پاکستان میں صحافی کو صرف خبر نہیں لکھنی پڑتی بلکہ اپنی جان، عزت اور خاندان کی سلامتی کا حساب بھی رکھنا پڑتا ہے۔ کتاب کا ایک اہم پہلو وہ تفصیل ہے جس میں مصنف سنسرشپ کا ذکر کرتے ہیں۔ حامد میر یہ واضح کرتے ہیں کہ سنسرشپ صرف خبر روکنے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک منظم ذہنی جنگ ہے، جہاں صحافی کو یا تو خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے یا پھر اسے متنازع بنا کر عوام کی نظروں میں مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔ ’’رودادِ ستم‘‘ کا سب سے دردناک باب وہ ہے جس میں قاتلانہ حملے کی روداد بیان کی گئی ہے۔ یہ واقعہ کسی فلمی منظر سے کم نہیں، مگر افسوس کہ یہ حقیقت ہے۔ کتاب میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ اگر ایک معروف صحافی پر دن دہاڑے حملہ ہو جائے تو عام شہری کے لیے انصاف کی امید کس حد تک حقیقت پسندانہ ہے؟یہ کتاب ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ حب الوطنی کا نعرہ کس طرح اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جو سوال کرے وہ غدار، جو تحقیق کرے وہ ایجنڈا رکھتا ہے، اور جو طاقتور کو آئینہ دکھائے وہ ملک دشمن قرار پاتا ہے۔ حامد میر اس رویے کو فکری جبر قرار دیتے ہیں جو قوموں کو آگے بڑھنے نہیں دیتا۔ اہم بات یہ ہے کہ مصنف خود احتسابی سے بھی نہیں کتراتے۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ بعض مواقع پر ان سے غلطیاں بھی ہوئیں، مگر وہ اس مؤقف پر قائم رہتے ہیں کہ صحافت میں غلطی کا حل گولی نہیں بلکہ دلیل اور جواب ہونا چاہیے۔ یہی بات ’’رودادِ ستم‘‘ کو ایک سنجیدہ اور معتبر تحریر بناتی ہے۔یہ کتاب نوجوان صحافیوں کے لیے رہنمائی بھی ہے اور انتباہ بھی۔ رہنمائی اس لیے کہ یہ بتاتی ہے کہ سچ کی تلاش کیسے کی جاتی ہے، اور انتباہ اس لیے کہ یہ راستہ آسان نہیں۔ ’’رودادِ ستم‘‘ ہمیں باور کراتی ہے کہ اگر معاشرے میں صحافت کو خاموش کر دیا جائے تو اندھیرا صرف نیوز روم تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ’’رودادِ ستم‘‘ دراصل پاکستان میں آزادی اظہار کی نبض پر ہاتھ رکھ کر لکھی گئی کتاب ہے۔ یہ کتاب قاری سے سوال کرتی ہے:کیا ہم ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں سچ بولنے والا محفوظ نہ ہو؟اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ’’رودادِ ستم‘‘ محض پڑھنے کی نہیں بلکہ سمجھنے اور اس پر سوچنے کی کتاب ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان میں حامد میر جیسے صحافیوں کو لمبی زندگی عطافرمائے اوراللہ انہیں ہر قسم کے ’’شر‘‘ سے محفوظ رکھے(آمین)

لنک:
https://roznama92news.com/post/%E2%80%99%E2%80%99%D8%B1%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%AF-%D8%B3%D8%AA%D9%85%E2%80%98%E2%80%98

✨ تقریبِ پذیرائی — سَرمَد صہبائی کی نئی کتب ✨کام رچنا اور The Blessed Curse📚 زیرِ صدارت: ڈاکٹر تبسّم کاشمیری🌟 مہمانِ خصو...
11/12/2025

✨ تقریبِ پذیرائی — سَرمَد صہبائی کی نئی کتب ✨

کام رچنا اور The Blessed Curse

📚 زیرِ صدارت: ڈاکٹر تبسّم کاشمیری

🌟 مہمانِ خصوصی: احمد جاوید صاحب

💬 اظہارِ خیال:

ڈاکٹر اطہر مسعود، ڈاکٹر نعیم ورک، عامر فراز، ڈاکٹر محمد عباس

🎙️ ماڈریٹر: محمد فہد

🗓️ 13 دسمبر 2025، بروز ہفتہ
⏰ شام 6 بجے تا 8 بجے
📍 عکس پبلی کیشنز، لاہور

🔹 شرکت کے لیے کسی دعوت نامے کی ضرورت نہیں۔

📞 رابطہ:
0304-2224000 | 0334-4096628



لوکیشن :
https://g.co/kgs/bupytS

✨ Meet The Author ✨ملاقات — محمد دین جوہر صاحب کے ساتھ ایک شام📕 نبراسِ نظر(دورِ حاضر کے مسائل اور ان کی مذہبی تفہیم)✍️ م...
28/11/2025

✨ Meet The Author ✨
ملاقات — محمد دین جوہر صاحب کے ساتھ ایک شام

📕 نبراسِ نظر
(دورِ حاضر کے مسائل اور ان کی مذہبی تفہیم)
✍️ مصنف: محمد دین جوہر

🗓️ تاریخ: ہفتہ، 29 نومبر 2025
⏰ وقت: شام 6 بجے سے 8 بجے تک
📍 مقام:
عکس پبلی کیشنز ، میاں چیمبرز 3- ٹیمپل روڈ نزد ریگل چوک لاہور۔

🔹 تقریب میں شرکت کے لیے کسی دعوت نامے کی ضرورت نہیں۔

📞 رابطہ:
محمد نوفل جیلانی: 03042224000
محمد مدثر خان: 03344096628

🕯️ کتاب کے بارے میں

"نبراسِ نظر" میں دورِ حاضر کے فکری و تہذیبی مسائل اور اُن کی مذہبی تفہیم پر مشتمل محمد دین جوہر کے منتخَب مضامین شامل ہیں۔ ان تحریروں میں جدیدیت، استعمار اور استشراق کے فکری اثرات، دینی تعبیرات پر اُن کی چھاپ، اور جدید تعلیم کے فکری تناظر جیسے مباحث نمایاں ہیں۔یہ مجموعہ ہمارے معاشرتی اور تہذیبی منظرنامے کے فکری مباحث میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوتا ہے۔

🕯️ مصنف کے بارے میں

محمد دین جوہر نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم۔اے انگریزی کیا۔-88-1987ء میں وہ انگریزی اخبار The Nation سے وابستہ رہے اور بعد ازاں محکمۂ تعلیم پنجاب میں لیکچرر تعینات ہوئے۔ ان کے مضامین Viewpoint اور Dawn جیسے اخبارات میں شائع ہوتے رہے۔
1996 میں انہوں نے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے کر نجی شعبے کا رخ کیا۔ وہ ایک نجی تعلیمی ادارے سے وابستہ ہیں اور سہ ماہی مجلہ "جی" کے مدیر بھی ہیں۔ اُن کی علمی دل چسپی میں مغربی جدیدیت، اس کے تہذیبی اثرات، اور برصغیر میں استعمار کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فکری صورتِ حال شامل ہیں۔

✨ تقریبِ رونمائی ✨📘 داؤ دَہ جَنگ — Tao Te Chingصحیفۂ داؤ مت کی نئی اردو ترجمانیچینی سے انگریزی ترجمہ : توشی ایزوتسو/ سید...
22/11/2025

✨ تقریبِ رونمائی ✨

📘 داؤ دَہ جَنگ — Tao Te Chingصحیفۂ داؤ مت کی نئی اردو ترجمانی
چینی سے انگریزی ترجمہ : توشی ایزوتسو/ سید حسین نصر
فارسی ترجمہ متن اور شرح : سید حسین نصر
اردو ترجمہ ـــ متن وشرح فارسی : محمد سہیل عمر
صاحبِ صدر: محمد سہیل عمر
💎 مہمانانِ اعزاز:
ڈاکٹر عمار خان ناصر، ڈاکٹر قیصر شہزاد ، ڈاکٹر نعیم ورک ، محمد ابرار حسین ،ڈاکٹر طیّب عثمانی، محمد سجاد بشیر
🎙️ ماڈریٹر: محمد فہد

🗓️ تاریخ: 23 نومبر 2025، بروز اتوار
📍 مقام: عکس پبلی کیشنز، لاہور
⏰ وقت: سہ پہر 4 بجے شام
نوٹ:
🔹 تقریب میں شرکت کے لیے کسی دعوت نامے کی ضرورت نہیں۔

📞 رابطہ:محمد نوفل جیلانی: 03042224000
محمد مدثر خان: 03344096628

🕯️ کتاب کے بارے میں
”داؤ دَہ جَنگ “مشرقِ بعید کی وہ timeless کتاب ہے جس نے صدیوں سے انسانی فکر، روحانیت اور اخلاقیات پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔
یہ نیا اردو ایڈیشن نہ صرف ایک ترجمہ ہے بلکہ ایک فکری و روحانی پُل ہے،جس کے ذریعے سے داؤ مت کی لطیف حکمت، جمالیاتی سادگی اور باطنی سکون اردو زبان میں نئی معنویت کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔محمد سہیل عمر نے فارسی متن کی نزاکت، اس کے تہذیبی سیاق اور لاؤتزہ کی حکمتِ دیرپا کو ایک ایسی روانی سے اردو میں منتقل کیا ہے کہ قاری اصل روح سے قریب تر ہو جاتا ہے۔
سید حسین نصر کی توضیحات اس ایڈیشن کو علمی اعتبار سے اور بھی معتبر بناتی ہیں اور روایت، فلسفہ، مذہبی فکر اور کائناتی توازن کے مباحث ایک بڑی فکری کڑی میں جڑتے چلے جاتے ہیں۔یہ کتاب نہ صرف مشرقی حکمت کا دروازہ کھولتی ہے بلکہ جدید انسان کے داخلی اضطراب میں سکون، فہم اور توازن کی جستجو بھی پیش کرتی ہے۔داؤ کی دنیا میں قدم رکھنا، خود کو جاننے کی ایک نئی سمت دریافت کرنا ہے۔


Address

3-temple Road
Lahore

Opening Hours

Monday 10:00 - 20:00
Tuesday 10:00 - 20:00
Wednesday 10:00 - 20:00
Thursday 10:00 - 20:00
Friday 10:00 - 20:00
Saturday 10:00 - 20:00

Telephone

+923042224000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kitab mahal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kitab mahal:

Share