Bookline.store

Bookline.store books, stationary items & all school needs

05/01/2023

بچے کہنا کیوں نہیں مانتے...!

اس لیے کہ
آپ کو اپنی بات منوانے کا طریقہ نہیں آتا..!!

ہمارے استاد کہتے ہیں
ٹریننگ بچوں کی نہیں تمہاری ہونی چاہیئے

میں نے کہا استاد پھر بتائیے
بچے کیسے ہماری بات مان لیں...؟

وقت پر پڑھائی کریں
کھانا ٹھیک سے کھائیں
اپنے سامان کپڑے، کھلونے سمیٹ کر رکھیں
اپنا کمرہ صاف رکھیں
وقت پر ہوم ورک کر لیں
بڑوں کے ساتھ تمیز سے پیش آئیں
بچے آپس میں لڑائی جھگڑا نہ کریں
وغیرہ وغیرہ وغیرہ...!!!

استاد محترم نے جواب دیا
بچے ہر بات مان لیں گے
بس انہیں زبان سے کہنا چھوڑ دو..!
اور اپنی برین پاور سے کام لو

ابھی
تم سارا سارا دن رات صبح شام ہفتوں ان کے ساتھ
جھک جھک کرتے ہو
اور صرف ایک منفی لائن بار بار دھراتے ہو

تم ایسا کیوں نہیں کرتے..!
تم پڑھائی کیوں نہیں کرتے.!
تم کھانا کیوں نہیں کھاتے.!
تم اتنا لڑتے کیوں ہو.!
تم اتنے گندے کیوں رہتے ہو.!
تم آپس میں لڑتے کیوں ہو.!
تم نے میرا دماغ کھا لیا ہے.!

تم
تم
تم

آپ نے بچوں سے شکوہ کر کر کے
ان تک منفی انرجی پہنچا کر انہیں تھکا دیا ہے..!
ان کے دل دماغ میں منفی سوچوں کا انبار لگ گیا ہے
وہاں کسی اچھے کام کی پازیٹو سوچ کو رکھنے کی جگہ ہی نہیں ہے
اور تم نے خود ایسا کیا ہے

اب
آپ ان سے
ان ہی کے بھلے کی فائدہ کی کوئی بات
کہتے ہو
وہ اس کا الٹ کرتے ہیں
وجہ آپ خود ہو
آپ انہیں زبان سے ھدایات دینا بند کر دو
اب ایک نیا تجربہ کرو
اور چوبیس گھنٹے میں دو بار
رات کو جب بچے سوئے ہوں
اور صبح انہیں جگاتے وقت
ان کے قریب بستر پر بیٹھ کر
کان کے پاس سرگوشی کے انداز میں
ان کے اچھے کاموں کی تعریف کرو
انہیں ایپریشیٹ کرو
انہیں حوصلہ دو
ان سے کہو
تم بہت سمجھدار ہو
تم بہت ذہین ہو
تم بہت ذمہ دار ہو
تم بہت تمیز دار ہو
غرض یہ کہ
آپ ان میں جو جو خوبی دیکھنا چاہتے ہو
اور ان کی جو بھی خراب عادات تبدیل کرنا چاہتے ہو
ان کے لاشعوری ر ذہن میں محفوظ کر دو
یاد رکھو
جو بات لاشعور میں محفوظ ہوگئی
وہ زندگی بھر اسے یاد رکھیں گے
اور اس پر عمل پیرا ہونگے
رات کو بچوں کے سونے کے فوری بعد اور صبح
انہیں جگاتے وقت ان کے سب کانشز مائنڈ سے
گفتگو کرو
زیادہ بہتر ہے یہ گفتگو زبان کی بجائے
اپنی مائنڈ سے کی جائے
پھر دن اور رات
میں اپنی عبادات کے بعد کچھ وقت مراقبہ
بھی کیجئے
اس مراقبہ کے دوران اپنے بچوں کو
اپنے رشتوں کو، دوست احباب اہل خانہ کو
ان سب کو جنہیں آپ بہت اچھا دیکھنا چاہتے ہیں
اپنی مثبت سوچ، پازیٹو انرجی
ان تک پہنچاؤ
پھر دیکھو
چند روز میں
مشکل سے مشکل بچہ
یا کوئی بھی اور رشتہ کس طرح
تمہاری بات مانتا ہے

ایک اور بات
بہت ہی اہم بات
بچوں اور دیگر رشتہ داروں سے
گلے شکوہ کرنا چھوڑ دو
نہ ان سے کوئی شکوہ کرو
نہ ان کے بارے میں کسی اور سے گلے شکوے کرو
یہ گلہ، شکوہ، طعنہ، طنز یہی وہ
بیڈ انرجی ہے
جو آج کل بچوں کو، رشتوں کو
تعلقات کو سخت نقصان پہنچا رہی ہے

ابھی دیر نہیں ہوئی..!
آج سے اپنے سمجھانے کے انداز کو بدل کر دیکھتے ہیں
خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں
بہت محبت 💖💖💖💖
♥️

11/05/2022
08/12/2021

*دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئےاور ہم پاکستانی!*

07/01/2021

دنیا بھر میں آنلائن شاپنگ
کیوں مفید بنتی جا رہی ہے؟
***********

پاکستان میں دکانوں سے شاپنگ کرتے ہوئے کبھی کبھی صاف نظر آتا ہے کہ سامنے والا گاہک کو الو بنا رہا ہے، اور کبھی کبھی تو دکانداروں کی ڈھٹائی دیکھنے والی ہوتی ہے۔ گاہک کے پاس کڑوے گھونٹ بھرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔ ۔

ایک مثال دیتا ہوں: ایک ویسٹ کوٹ خریدنے گیا۔ دکاندار نے جو پیس مجھے دکھایا اس پر کمر کے پیچھے (پہننے پر وہ جگہ ممکنہ طور پر جہاں انسانی جسم کا گردہ ہوتا ہے پر آتی) تقریبا 3 سینٹی میٹر مربع کپڑے کا سٹکر سلائی کر کے لگایا گیا تھا۔ سٹکر پر انگریزی حروف ایچ ڈی لکھے ہوئے تھے۔ صاف ظاہر تھا کہ کسی عیب کو چھپانے کیلیئے ایسا کیا گیا ہے۔ میں نے دکاندار سے کہا؛ حاجی صاحب، یہ کیا ہے؟ آپ کے پاس اچھا مال نہیں؟ فرمانے لگے: کہ ہم تو بس ایچ ڈی کمپنی کا مال بیچتے ہیں۔ میں حیران-کیہڑی ایچ ڈی کمپنی! جو اپنا لوگو ویسٹ کوٹ کے پاسے پر لگاتی ہے! میری مسکراہٹ کو پہچان کر حاجی صاحب واسکٹ کو سمیٹتے ہوئے فرمانے لگے: نہیں ہے ہمارے پاس مال، کہیں اور سے جا کر خرید لو۔

میری طرح کئی لوگوں کو بھاؤ تاؤ کرتے ہوئے بہت کوفت ہوتی ہے اور کئی دفعہ مروت میں الٹا نقصان بھی ہو جاتا ہے۔ کچھ دکاندار تیز طراری یا نوسر بازی کو اپنا وطیرہ بنا کر رکھتے ہیں اور ٹھگی فریبی سے باز نہیں آتے۔ کچھ اعتماد بنا کر بد اعتمادی کرتے ہیں جو لوگوں کو آنلائن شاپنگ کی راہ دکھاتا ہے۔

ایسے لوگ جو دن کا بیشتر حصہ دفتروں میں گزار دیتے ہیں ان کے پاس واپسی پر گھر جاتے ہوئے اتنی سکت نہیں ہوتی کہ اب کچھ وقت ضرورت کی چیزیں تلاش کرنے اور خریدنے میں بھی گزاریں۔ کچھ خواتین کام کے کپڑوں میں شاپنگ سے گریز کرتی ہیں اور خاص شاپنگ کیلیئے آنا وقت اور پلاننگ چاہتا ہے۔ ان لوگوں کو بھی آنلائن شاپنگ سوٹ کرتی ہے۔

چین میں کسی کمرشل بلڈنگ میں چلے جائیے: لابی میں پارسلز کا انبار لگا ہوا ہوگا۔ بلڈنگ میں قائم دفاتر کا عملہ اوپر نیچے آتے جاتے اور لابی سے گزرتے ہوئے اپنے اپنے پارسلز (اگر ان کے پاس پارسل ڈیلیور ہو چکنے کا نوٹیفیکیشن آ چکا ہو تو) تلاش کر کے لیجاتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی صورتحال ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، مارکیٹس اور شاپنگ مالز میں دیکھنے والی ہوتی ہے۔ جہاں کا مصروف ترین عملہ بھی اپنی شاپنگ کیلیئے وقت نکال لیتا ہے اور ڈیلیوری والے سٹاف کو ان کے کمروں اور کام کی جگہوں پر پارسل پہنچا رہے ہوتے ہیں۔

اس بار 11-11 پر تاؤباؤ کو ھانزھو کی ایک مشہور یونیورسٹی میں روبوٹ وھیکلز چلانے پڑے جس پر گیٹ پر ٹھہرے عملہ کے لوگ پارسلز لاد دیتے تھے اور روبوٹ یونیورسٹی کے اندر مختلف سپاٹس پر ڈیلیور کر دیتے تھے۔ اس طرح جا کر کام کا زور توڑا گیا۔

چین میں آنلائن شاپنگ کو جو چیز سب سے منفرد بناتی ہے وہ یہاں کی کوریئر سروسز ہیں، چین کی آخری نکڑ سے بھیجا ہوا ہوا پارسل بھی تیسرے دن آپ کی میز پر ہوتا ہے۔ لوگ صرف موبائل کے کور ہی نہیں زندہ مچھلی، مشرق میں بیٹھ کر مغربی کنارے کے تازہ پھل، زندہ پودے، مصالحے، دور دراز پہاڑوں سے جمع کی گئی شہد، سینے پرونے کا سامان اور دوائیاں تک منگواتے ہیں۔ پارسلز میں دو یوان سے لیکر دو ہزار یوان کی بھی چیز ہوتی ہے مگر رکھا ایسے ہی ہوتا ہے جیسے دو یوان والا پارسل۔ میرے محلے کی سپر مارکیٹ والے نے اپنی دکان پر آئے ہوئے پارسل دکان کے پچھلے دروازے کے پاس رکھوائے ہوتے ہیں جہاں سے خود جا کر خود ہی ڈھونڈھنا اور خود ہی اٹھا کر چلے جانا ہوتا ہے۔

پاکستان میں یہ کاروبار خوب پروان چڑھ رہا ہے۔ جس طرح شروع شروع کے پہلے سیلابی ریلے میں آلائشیں بھی ساتھ آ جاتی ہیں اور صاف پانی وقت کے ساتھ ساتھ دیر سے آتا ہے۔ ایسے ہی آنلائن کام کے شروع میں کاروباری اقدار سے ناوافق اور اخلاقی تقاضوں سے نابلد لوگ بھی اس فیلڈ میں آئیں گے مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہی لوگ بچیں گے جن کا معیار، قیمتیں، کسٹمر کیئر اور فیڈ بیک بولے گا۔

آنلائن کام کرنے والے جب تک خود ایک برانڈ نہ بن جائیں تب تک ان کے انفرادی کام کرنے سے بہتر کسی بڑے پلیٹ فارم کی چھتری تلے کام کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح ایک تو اس پلیٹ فارم مہیا کرنے والے ادارے کی ضمانت موجود رہتی ہے جو گاہک کو نفسیاتی تحفظ فراہم کرتی ہے دوسرا بیچنے والا بھی اپنے پیسوں کے بارے میں مطمعن رہتا ہے۔ دنیا کچھ لے کچھ دے کے اصول پر زیادہ بہتر چلتی ہے۔

ملتان میں بیٹھ کر سوات کے موسمی پھل، کپڑے، ٹوپیاں اور دیگر سوغاتیں مل جاتی ہیں تو مجھے اور کیا چاہیئے۔ ایسے ہی اگر کسی سوات کے بھائی کو ملتان کی چیز سوات بیٹھے ہی مل جائے تو اس کو گلوبل ویلیج بنی اس دنیا کا سچ میں فائدہ ملے گا۔

آپ اس آنلائن بزنس کو کتنا کیش کرنا چاہتے ہیں، اس آنلائن بزنس میں کونسا مرحلہ اپنانا چاہتے ہیں آپ پر منحصر ہے۔

(چائنہ میں رہائش پذیر ایک پاکستانی کی تحریر )

ایک چینی کہاوت  ہے کہ "جب آدمی 10 کتابیں پڑھتا ہے تووہ 10 ہزار میل کا سفر کرلیتا ہے۔ "گورچ فوک کہتے ہیں:" اچھی کتابیں وہ...
03/12/2020

ایک چینی کہاوت ہے کہ "جب آدمی 10 کتابیں پڑھتا ہے تووہ 10 ہزار میل کا سفر کرلیتا ہے۔ "

گورچ فوک کہتے ہیں:
" اچھی کتابیں وہ نہیں جو ہماری بھوک کو ختم کردیں بلکہ اچھی کتابیں وہ ہیں جو ہماری بھوک بڑھائیں۔۔۔۔۔۔۔ زندگی کو جاننے کی بھوک ۔۔''

ائولس گیلیوس کہتے ہیں:" کتابیں خاموش استاد ہیں ۔۔"

فرانس کافکا:
"ایک کمرہ بغیر کتاب کے ایسا ہی ہے جیسے ایک جسم بغیر روح کے ۔۔"

گوئٹے :
"بہت سے لوگوں کو یہ بات نہیں معلوم ہے کہ مطالعہ سیکھنا کتنا مشکل اور وقت طلب کام ہے، میں نے اپنے 80 سال لگا دیے لیکن پھر بھی یہ نہیں کہہ سکتا ہوں کہ میں صحیح سمت کی جانب ہوں۔۔۔۔۔”

تھومس فون کیمپن:
"جب میں عبادت کرتا ہوں تو میں خدا سے باتیں کرتا ہوں، لیکن جب میں کوئی کتاب پڑھتا ہوں تو خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے۔۔۔۔۔"

جین پاؤل:
"کتابیں ایک طویل ترین خط ہے جو ایک دوست کے نام لکھا گیا ہو۔۔"

گٹھولڈ لیسنگ:
"دنیا اکیلے کسی کو مکمل انسان نہیں بنا سکتی، اگر مکمل انسان بننا ہے تو پھر اچھے مصنفین کی تصانیف پڑھنا ہونگی ۔۔۔"

نووالیس :
" کتابوں سے بھری ہوئی لائبریری ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہم ماضی اور حال کے دیوتاؤں سے آزادی کے ساتھ گفتگو کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔"

دو جرمن اقوال :

" کتابیں پیالے کی مانند ہیں جن سے پانی پینا تمہیں خود سیکھنا ہوگا"

"جرمن زبان میں گدھے کو ایزل کہتے ہیں جب اس لفظ کو الٹا پڑھا جائے تو یہ لیزے بنتا ہے اس لئے یہ کوئی عجوبہ نہیں ہے اگر یہ کہا جائے کہ کچھ معلومات حاصل کرنے کے لئے تمھیں گدھے کی طرح محنت کرنا ہوگی۔

ایک سروے کے مطابق پاکستان میں فی کس اوسطاً صرف 6 پیسے سالانہ کتاب کے لئے خرچ کیے جاتے ہیں...
اکثر بعد میں ردی میں بیچ کر اس کا پتیسہ کھا لیا جاتا ہے.

29/11/2020
Tarbiyah Series(Class Playgroup - Kindergarten)
13/11/2020

Tarbiyah Series
(Class Playgroup - Kindergarten)

16/10/2020

اگر آپ اچھا رزق کما رہے ہیں تو یقین جانیں اس میں آپ کی ذہانت یا صلاحیتوں کا کوئی کمال نہیں، بڑے بڑے عقل کے پہاڑ خاک چھان رہے ہیں۔

اگر آپ کسی بڑی بیماری سے بچے ہوئے ہیں تو اس میں آپ کی خوراک یا حفظانِ صحت کی اختیار کردہ احتیاطی تدابیر کا کوئی دخل نہیں۔ ایسے بہت سے انسانوں سے قبرستان بھرے ہوئے ہیں جو سوائے منرل واٹر کے کوئی پانی نہیں پیتے تھے مگر پھر اچانک انہیں برین ٹیومر، بلڈ کینسر یا ہیپاٹائٹس سی تشخیص ہوئی اور وہ چند دنوں یا لمحوں میں دنیا سے کوچ کر گئے۔

اگر آپ کے بیوی بچے سرکش نہیں بلکہ آپ کے تابع دار و فرمانبردار ہیں، خاندان میں بیٹے بیٹیاں مہذب، باحیا و با کردار سمجھے جاتے ہیں، تو اس کا سب کریڈٹ بھی آپ کی تربیت کو نہیں جاتا کیوں کہ بیٹا تو نبی کا بھی بگڑ سکتا ہے اور بیوی تو پیغمبر کی بھی نافرمان ہو سکتی ہے۔

اگر آپ کی کبھی جیب نہیں کٹی، کبھی موبائل نہیں چھنا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بہت چوکنّے اور ہوشیار ہیں، بلکہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ نے بدقماشوں، جیب کتروں اور رہزنوں کو آپ کے قریب نہیں پھٹکنے دیا تاکہ آپ ان کی ضرر رسانیوں سے بچے رہیں۔
:
الحمدللّٰہ مجھے مذکورہ بالا تمام نعمتیں میسر ہیں سوائے اس کے کہ ایک بار حیدرآباد میں ایک تھکا ہوا نوکیا موبائل جیب سے نکل گیا وہ بھی اس لیے کہ میرے ایک عزیز کا موبائل نکل جانے پر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ لوگ کیسے مست و مدھوش ہو کر چلتے ہیں کہ کوئی ان کی جیب سے موبائل لے اڑے، انہیں پتہ تک نہیں چلتا۔ بس اگلے ہی دن میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگیا۔ من میں جھانکا تو اندر سے صدا آئی: اے ڈیڑھ ہوشیار! جب تقدیر کا لکھا سامنے آ جائے تو عقل کی چڑیا پرواز کر جایا کرتی ہے۔

یہ غالباً ہر انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ خود دوسروں سے اچھا کما رہا ہو تو یہ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ وہ ضرور دوسروں سے زیادہ محنتی، چالاک اور منضبط (organised) ہے اور اپنے کام میں زیادہ ماہر ہے۔ پھر وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے جن کو نپا تلا رزق مل رہا ہے، ان پر تنقید کرتا ہے، ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ مگر جب یکلخت وقت کا پہیہ الٹا گھومتا ہے تو اس کو پتہ چل جاتا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس تھی جو وہ سمجھ بیٹھا تھا۔

دبئی میں ایک صاحب سے واسطہ پڑا۔ پہلے مجبور و پریشان تھے، پھر کنسٹرکشن کی کمپنی کھول لی۔ پر شکوہ آفس بنایا، سمجھیں کہ لاکھوں میں کھیلنے لگے۔ ملاقات کے لیے گیا تو ایک مشترک دوست کے بارے میں پوچھا، جو بیچارے مفلوک الحال رہا کرتے تھے۔ پھر کہنے لگے، وہ تو بڑے کم عقل انسان ہیں، ساری زندگی یوں ہی عسرت میں گزار دی۔ یہ کام کر لیتے وہ کام کر لیتے، وغیرہ وغیرہ۔
کوئی دس بارہ سال کا وقفہ آگیا، ہماری ملاقات نہ ہوئی۔ پھر ایک دن کسی کام سے ان کے آفس جانا ہوا۔ خود نہیں تھے بلکہ پورا اسٹاف ہی بدلا نظر آیا۔ میں نے موصوف کا نام لے کر پوچھا کہ کہاں گئے، پہلے تو یہ ان کا آفس تھا؟ بتایا گیا، مرحوم ہو چکے۔ پھر تفصیل بتائی جو کچھ یوں تھی کہ کاروبار میں نقصان ہونے کی وجہ سے پیچھے ہوتے چلے گئے پھر مقروض اور نادہندہ بن کر جیل پنہچ گئے۔ چیک باؤنس کیس میں سزا ہوئی اور اُسی سزا کے دوران جیل ہی میں انتقال کر گئے، اس حال میں کہ فیملی پاکستان میں تھی، نہ کوئی عزیز قریب تھا نہ کوئی فیملی میمبر۔

یہ خبر سنتے ہی میرے سامنے دس سال قبل کا اسی کمرے کا منظر گھوم گیا جہاں گول گھومتی کرسی پر بیٹھ کر مرحوم ایک سادا اور خدا مست درویش کی مالی ابتری کا مذاق اڑا رہے تھے۔ بادشاہ کو فقیر بنتے دیر نہیں لگتی، سن رکھا تھا مگر بچشمِ خود دیکھا اس دن تھا۔

اگر کوئی چاہتا ہے کہ اسے رزق کے معاملہ میں آزمایا نہ جائے تو تین کام کرے:

اوّل: جو کچھ مل رہا ہے اسے محض مالک کی عطا سمجھے نہ کہ اپنی قابلیت کا نتیجہ اور ساتھ ہی مالک کا شکر بھی بجا لاتا رہے۔

دوئم: جن کو کم یا نپاتلا رزق مل رہا ہے انہیں حقیر نہ جانے نہ ان لوگوں سے حسدکرے جن کو "چھپر پھاڑ" رزق میسر ہے۔ یہ سب رزّاق کی اپنی تقسیم ہے۔ اس کے بھید وہی جانے۔

سوئم: جتنا ہو سکے اپنے رزق میں دوسروں کو شامل کرے۔ زیادہ ہے تو زیادہ، کم ہے تو کم شامل کرے۔ سب سے زیادہ حق، والدین اور رحم کے رشتوں کا ہے۔ نانا نانی، دادا دادی، بہنیں اور بھائی ہیں۔ اس کے بعد خون کے دوسرے رشتے ہیں جیسے خالہ، پھوپھی، چچا، ماموں، چچی وغیرہ۔ پھر دوسرے قریبی رشتہ دار یا مسکین و لاچار لوگ۔ یقین رکھیں کہ جب بہت سے دعا کے ہاتھ اس کے حق میں اٹھیں گے تو برکت موصلہ دھار بارش کی مانند برسے گی جس کی ٹھنڈی پھوار اس کی زندگی کو گلشن گلشن بنا دے گی۔

حافظ صفوان

Address

Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+924237230672

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bookline.store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bookline.store:

Share

Category