16/06/2025
میں نے اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو پڑھتا ہی چلا گیا۔ افسانوں اور ناولوں سے زیادہ دلچسپ ہے۔ جب ق جب قاری ایک دفعہ شروع کرتا ہے تو پھر شروع کیا گیا باب مکمل کیے بغیر نہیں چھوڑتا۔ صحابہ نیا نام اور صحابیات بیان کی شان میں محبت کے سمندر میں ڈوب کر لکھی گئی ہے۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں اس کتاب کا نام ” محبت کا سمندر“ رکھتا اور تمام اہل ایمان کو اس میں غوطہ زن ہونے کا مشورہ دیتا۔ یہ کتاب رسول اللہ صلی علیم کی ازواج مطہرات اور آپ کی پاکیزہ بیٹیوں اور نواسیوں کی درخشندہ سیرت کی ایک جھلک ہے۔ میں نے جب اسے پڑھا تو بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ کیوں؟ یہ آپ کو کتاب پڑھ کر پتہ چل جائے گا۔ میں اس کتاب کے مطالعہ کے دوران بار بار زار و قطار رونے لگتا۔ حتی کہ مجھ سے کتاب پڑھی نہ جاتی اور میں اسے بند کر کے رکھ دیتا۔ جب طبیعت سنبھلتی تو پھر پڑھنے لگتا اس لیے کہ اس میں امام کا ئنات سرور کائنات آقائے دو جہاں محمد رسول اللہ کے ساتھ محبت والفت کی اور وفا وقربانیوں کی داستانیں ہی ایسی ہیں کہ پڑھنے کے بعد قاری کا دل چاہتا ہے وہ خود آقا پر قربان ہو جائے ۔ وہ خواتین کہ جو بیوی، بیٹی اور ماں کے روپ میں دنیا میں موجود ہیں کے لیے تو یہ خاص تحفہ ہے۔ اسے عرب دنیا کے مشہور عالم و سکالر احمد خلیل جمعہ نے تحریر کیا ہے جبکہ اردو قالب میں مولانا محمود احمد غضنفر اللہ نے ڈھالا ہے۔ پاکستان میں یہ پہلی بار دار الابلاغ کے پلیٹ فارم سے منظر عام پر آرہی ہے۔ اس کتاب کو خریدے گفٹ دیجئے خود پڑھیے اور محبتوں کے سمندر میں مسحور کن اور مسرور کن غوطے لگائیے کہ جو آپ کے جنتوں کے پر فضاء باغات میں ہمیشہ رہنے کا سبب بن جائیں ۔ آمین