Al-Noor Enterprises

Al-Noor Enterprises Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al-Noor Enterprises, Book shop, Lahore.

Al-Noor Enterprises is an online & physical store, where you can buy Urdu, Islamic & Arabic Books, Novels, Prose & Fiction Books of all famous writers, Stationary, Water Bottles and Lunch Box etc.

28/04/2026
27/09/2025

السلام علیکم
کیسے حال ہیں آپ سب کے؟
کیا ہماری پوسٹ آپ کو نظر آرہی ہے؟

30/08/2024

ملحدین کے نا معقولیت سے لبریز اعتراضات کا رد کیوں ضروری ہے؟
ڈاکٹر حافظ عثمان احمد ’’دفاعِ سیرت‘‘ میں لکھتے ہیں کہ انڈر سٹینڈنگ محمد از علی سینا کا رد لکھنا اس لیے ضروری تھا کہ
ملحدین کا طریقۂ واردات یہ ہے کہ گالیاں بکتے ہیں اور کہتے ہیں:
’’دیکھو! ہماری کتاب کا کوئی جواب نہیں لکھ سکا۔‘‘
عامۃ الناس اس پروپیگنڈے سے متاثر ہونے لگتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مسلمان نوجوانوں کے لیے دفاعِ سیرت کو لکھا گیا، تا کہ نوجوان نسل علمی بنیادوں پر ملحدین کا سامنا کر سکے۔
کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیجیے
03220433120
بصیرت پبلی کیشنز، لاہور

29/08/2024

ملحدین کے ایک اعتراض کا مشہور مستشرق منٹگمری واٹ کی طرف سے جواب
دفاع سیرت از ڈاکٹر حافظ عثمان احمد سے ماخوذ ایک اقتباس

صحابیٔ رسول نے کہا کہ رسول اللہﷺ کا سر مبارک میرے زانو پر تھا کہ وحی کا نزول شروع ہوا۔ مجھے لگا کہ میرا زانو چٹخ جائے گا۔ اسی طرح نبیﷺ اونٹنی قصواء پر سوار ہوتے تو وحی کے نزول کے وقت وہ بوجھ نہ برداشت کرپاتی تھی، اس لیے بیٹھ جاتی تھی۔ اگر وحی کے وقت بوجھ پڑنا مرگی کے باعث تھا تو اس احمق سے سوال بنتا ہے کہ کیا یہ مرگی کا مرض آگے منتقل ہوجاتا تھا؟ جن کی گود میں نبی اکرمﷺ کے سر مبارک کے ہوتے ہوئے وحی نازل ہوئی، انھیں تو کبھی شبہ بھی نہیں گزرا کہ کوئی مرض کا دورہ ہے، لیکن ’’سائیکالوجی‘‘ کوبند آنکھوں سے انکشاف ہوا ہے۔
معروف مستشرق منٹگمری واٹ نے اس لیے لکھا ہے:
On some occasions at least there were physical accompaniments. He would be gripped by a feeling of pain, and in his ears there would be a noise like the reverberation of a bell. Even on a very cold day the bystanders would see great pearls of sweat on his forehead as the revelation descended upon him. Such accounts led some Western critics to suggest that he had epilepsy, but there are no real grounds for such a view. Epilepsy leads to physical and mental degeneration, and there are no signs of that in Muhammad; on the contrary he was clearly in full possession of his faculties to the very end of his life.
(Watt, Montgomery, Muhammad Prophet and Statesman, London: Oxford University Press, 1961, pp 18-19)
’’(نزولِ وحی کے وقت) بعض مواقع پر کچھ جسمانی معاملات بھی ساتھ ظاہر ہوتے تھے ۔وہ درد کی جکڑبندی محسوس کرتے تھے اور ان کے کانوں میں ایک شور ،جیسے گھنٹیاں بج رہی ہوں ، سنائی دیتا تھا۔ یہاں تک کہ جب آپ پر وحی نازل ہوتی تو سخت سرد دن میں بھی ساتھ کھڑا آدمی آپ (ﷺ) کے ماتھے پر پسینےکے بڑے بڑے موتی دیکھتا تھا۔اس طرح کے کچھ معاملات کے باعث بعض مغربی نقاد اس کو مرگی قرار دینے کی جانب چلے گئے،لیکن اس رائے کے اختیار کرنے کے لیے کوئی حقیقی بنیاد موجود نہیں ۔مرگی کے نتیجے میں جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں تنزلی کا شکار ہو جاتی ہیں ، لیکن محمد (ﷺ) میں تو ایسی علامات نہیں پائی گئیں ،بل کہ اس کے برعکس وہ بالکل واضح طور پر اپنے تمام اعضاء و جوارح کی صلاحیتوں کے ساتھ ، زندگی کے آخری ایام تک مضبوط رہے۔‘‘

کتاب حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ کریں اور گھر بیٹھے کتاب منگوائیں
03220433120

28/08/2024

ملحد علی سینا کے تعصب کی نمایاں مثال

علی سینا کا تعصب اس درجہ برہنہ ہے کہ "مذہبی ایذا رسانی کی داستان" کے عنوان سے باب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسلمانوں پر مکی دور میں کوئی تشدد نہیں ہوا، بلکہ معمولی آمنا سامنا ہوا ہے، حتی کہ شعب ابی طالب کے بائیکاٹ کو بھی ایذا رسانی نہیں قرار دیتا لیکن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اپنی بہن فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا کو زد و کوب کرنے کی روایت کو قبول کرتا ہے اور اپنی کتاب کا حصہ بناتا ہے، یعنی صحابی پر طعن قائم کرنے کے لیے اپنے موقف کے متضاد بات کو بھی ماننے کو تیار ہے۔
ماخوذ از دفاع سیرت صفحہ نمبر 15

27/08/2024

ملحد علی سینا کی کتاب "انڈر سٹینڈنگ محمد" کا مدلل جواب بہ نام "دفاع سیرت" از ڈاکٹر حافظ عثمان احمد رد الحاد کے سلسلے میں مفید کتاب ہے۔
صفحات 224
قیمت 850

27/08/2024

آج بروز 27 اگست 2024 لاہور کی ایک معروف ترین پرائیویٹ یونیورسٹی میں لیکچرر اسلامک اسٹڈیز کی پوسٹ کے لیے انٹرویو کے سلسلے میں جانا ہوا۔ انٹرویو کا ٹائم 11 بجے دن کا دیا گیا تھا اور تقریبا 30 میں سے 28 کینڈیڈیٹ 11 بجے سے پہلے ہی موجود تھے، لیکن شومئی قسمت انٹرویو کا آغاز 2 گھنٹے کی تاخیر کے بعد تقریبا 1 بجے ہوا۔ ناچیز کا لسٹ میں پانچواں نمبر تھا اور یوں پورے ساڑھے تین گھنٹے کے انتظار کے بعد تقریبا 2 بج کر 30 منٹ پہ انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ اس دوران میں مجھ سمیت دیگر کینڈیدیٹ گرمی کی شدت برداشت کرتے رہے۔ انتظامی معاملات اس قدر عروج پر تھے کہ اس مکمل دورانیہ میں پانی کا ایک گلاس تک نہ پوچھا گیا اور نہ ہی کہیں کوئی ڈسپنسر نظر آیا۔
اکثر اوقات سرکاری اداروں کی نا اہلی کی بات کی جاتی ہے لیکن یہاں تو پرائیویٹ سیکٹر کی ابتری بھی قابل دید ہے۔
علوم اسلامیہ سے منسلک افراد کا وقت کے ضیاع اور دیگر انتظامی کوتاہیوں کا یہ رویہ افسوس ناک حد تک پریشان کن ہے۔ مسند وعظ پہ درس دینے کی بہ جائے عملی پیش رفت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس قدر افراد کا وقت ضائع کرنا کہاں کی دانش مندی ہے، لیکن بے حسی کا عالم یہ ہے کہ احساس زیاں بھی اب موجود نہیں ہے۔ بہ قول اقبال

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

صاحبان اقتدار و اختیار کو سوچنے ، سمجھنے اور مناسب اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

Address

Lahore

Telephone

+923339931306

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Noor Enterprises posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category