ZF Traders & General Store

ZF Traders & General Store We deals in Gifts and General Items on cheap rated bases. Best one selection

12/02/2025

یہ بچہ سائٹ سپر ہائی وے پولیس کی حفاظت میں ہے۔ یہ اغواکاروں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوا ہے۔۔۔۔
خدارا اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔۔۔۔
یہ شہر اب ڈمپر اور واٹر ٹینکر مافیا کےساتھ ساتھ اسٹریٹ کرمنلز۔۔۔۔۔جرائم پیشہ مافیا کے چنگل میں ہے۔۔۔
اللہ تعالیٰ حکمرانوں کو قانون کی بالادستی قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

16/10/2024

SHARE THIS VIDEO IN ALL GROUPS

As received

وزیر اعظم سے اپیل۔۔۔وفاقی حکومت کے اس فیصلے کے فوائد سفید پوش طبقے کو حاصل نہیں ہوسکیں گے۔کیونکہ۔۔۔ 200 یونٹ سے کم بجلی ...
09/07/2024

وزیر اعظم سے اپیل۔۔۔

وفاقی حکومت کے اس فیصلے کے فوائد سفید پوش طبقے کو حاصل نہیں ہوسکیں گے۔
کیونکہ۔۔۔ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والا طبقہ یا تو بہت غریب ہے یا اتنا امیر ہے کہ اب وہ 5 کلو واٹ سے زیادہ پاور کا سولر سسٹم لگاچکا ہے اور اس طبقے کا بل اب 200 یونٹ سے کم ہی آتا ہے۔ وزیر اعظم اور پالیسی میکرز کو مراعات کا فیصلہ 250 سے 300 یونٹ والوں تک بڑھانا چاہیئے ۔ اس طرح بہت غریب اور صاحب حیثیت سولر سسٹم والوں کے علاوہ وہ طبقہ بھی مستفید ہوسکے گا جو اب تک بوجوہ 5 لاکھ روپے کا 3 سے 5 کلو واٹ کا سولر سسٹم نہیں لگاسکا ہے البتہ اس کا روٹین بل 250 سے 300 یونٹ تک کا آتا ہے۔
حکومت سندھ اور حکومت پنجاب کی سولر سسٹم پالیسی کامیاب ہونے کی صورت میں 200 یونٹ والا فیصلہ بھی بڑی آبادی کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔

20/05/2024

کیا دنیا کی کسی عدالت نے کبھی چور کے ساتھ اس کے محلے داروں کو بھی سزا دی ہے۔۔۔۔ْ ؟
پاکستان میں ایسا روزانہ دن میں کئی بار ہوتا ہے۔ بجلی فراہم کرنے والے اداروں نے اپنے حق میں ایسا ظالمانہ قانون پاس کرارکھا ہے یعنی جس علاقے سے ریکوری کم ہو اس پورے علاقے کی بجلی کاٹ دو یا 10 گھنٹے کی اعلانیہ لوڈشیڈنگ کردو۔۔۔۔غیر اعلانیہ کا کوئی حساب کتاب نہیں ۔۔۔
بجلی فراہم کرنے والے ادارے جب نادہندگان یا چوروں کو پکڑنے کے بجائے پورے پورے علاقے کی بجلی بند کریں گے تو ملک میں انارکی تو پھیلے گی۔ یہ چھوٹی سی بات کسی بھی حکومت کی سمجھ میں کیوں نہیں آرہی ہے؟
واپڈا یا کے الیکٹرک کی جانب سے جب آئے روز یہ وضاحت جاری ہوتی ہے کہ فلاں علاقے پر صارفین پر اتنے کروڑ یا اتنے ارب روپے واجب الادا ہیں تو ان سے کوئی پوچھے کہ جب اسٹار صارفین کبھی غلطی سے بجلی کا بل نہ بھریں تو 40 روز بعد بجلی کاٹ دی جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ پھر یہ کون سے صارفین ہیں جنہیں اتنی مہلت ملتی رہتی ہے کہ ایک ایک علاقے پر کروڑوں یا اربوں روپے کے واجبات جمع ہوجاتے ہیں اور طویل لوڈشیڈنگ کا عذاب پوری پوری بستی کو ملنے لگتا ہے۔
بات بالکل واضح ہے ۔۔ واپڈا اور کے الیکٹرک کے افسران اور عملہ نااہل ہیں یا یہی لوگ بجلی چوروں کے سرپرست ہیں۔
جب پورے علاقے میں دس گھنٹے سے زائد کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے یا بجلی کاٹ دی جاتی ہے تو چور صارفین اپنے ساتھ اسٹار صارفین کو بھی مظاہروں پر اکسا کر سڑکوں پر لے آتے ہیں۔ سڑکیں بند ہوجاتی ہیں اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر پریشان ہورہے ہوتے ہیں۔
اس افراتفری کا ایک ہی علاج ہے کہ سزا صرف چور کو ملے،، پورے علاقے کو نہیں۔۔
۔۔۔۔عابد حسین۔۔۔۔
اس غیر انسانی پالیسی کو ختم ہونا چاہیے اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو اور سپریم کورٹ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے ورنہ یہی سمجھا جائے کہ اس چور سرپرستی والی پالیسی میں اوپر تک سب ملوث ہیں۔

11/05/2024

آخر کار موجودہ حکومت نے 24 اداروں کی نجکاری کی منظوری دے دی۔ یہ فیصلہ اس جرم کا اقرار ہے

11/05/2024

کہاں تک سنو گے،،،کہاں تک سناؤں۔۔؟
کہاں تک گنو گے،،،کہاں تک گناؤں۔۔؟

آخر کار موجودہ حکومت نے 24 اداروں کی نجکاری کی منظوری دے دی۔ یہ فیصلہ اس جرم کا اقرار ہے کہ ہر سیاسی پارٹی اور ہر مارشل لاء ان اداروں کو کامیابی سے نہیں چلاسکا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں 24 اداروں کی نجکاری کی منظوری دیدی گئی‘ اجلاس میں 84 حکومتی ملکیتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا جبکہ 40 حکومتی ملکیتی اداروں کو درجہ بندی کے تحت چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
نجکاری کیلئے سفارش کیے گئے اداروں کی فہرست میں پی آئی اے ، فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ، ایچ بی ایف سی ، زرعی ترقیاتی بینک‘یوٹیلیٹی اسٹورزکارپوریشن، پیکو، جنکوون‘ٹو،تھری،فور کے علاوہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں لیسکو ، پیسکو ، آئیسکو ، میپکو ، جیپکو ، حیسکو ،پیسکو،سیپکو اور دیگر ادارے شامل ہیں۔
اسٹیٹ لائف انشورنس، سندھ انجینئرنگ لمیٹڈ،پاکستان ری انشورنس کارپوریشن بھی نجکاری کی فہرست میں شامل ہیں۔
ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے تین تین بار بلا شرکت غیرے حکومت کی۔ اس کے علاوہ ملک میں تین طویل ترین مارشل لاء بھی لگے لیکن یہ بڑی پارٹیاں اور طویل مارشل لاء والے بھی اپنے اپنے دور حکومت میں ان میں سے بیشتر اداروں کو سنبھالنے میں بری طرح ناکام رہے۔سیاسی حکومتوں نے اپنے اپنے دور میں پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل سمیت بعض دیگر اداروں کی نجکاری کی مخالفت یا نجکاری کے عمل میں تاخٰیری حربوں کا عمل جاری رکھا کیونکہ معاملہ ووٹ بینک کا تھا۔ سیاسی بھرتیاں ہوتی رہیں ،ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی افسران تعینات ہوتے رہے، نجکاری سے متعلق ہر حکومت نے وزارتوں کے مکمل مزے بھی لیے۔اس دوران زر تلافی دے دے کر قومی خزانہ نا صرف خالی کیا گیا بلکہ ملک کو دیلوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیا گیا۔
اب آئی ایم ایف کی شدید دباؤ میں ایک بار پھر ان اداروں کو ناکام اور خسارے والے ادارے قرار دے کر قومی خزانے سے جان چھڑانے کی بات کی جارہی ہے۔ لیکن ان حکم رانوں سے کوئی یہ پوچھے کہ ان تھوک کے بھاؤ اداروں کی ناکامی کا زمہ دار جو جو بھی رہا ہے اس سے بھی کوئی باز پرس ہوگی یا نہیں۔ اعلیٰ مراعات یافتہ طبقہ ، وفاقی سیکریٹریز، وزیر ، مشیر، ریٹائرڈ جنرلز سمیت ہر زمہ دار سے پوچھا جائے کہ ان کے دور میں ادارے کیوں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اگر ان زمہ داروں کے پاس مناسب جواز ہوں تو انہیں معاف کردیا جائے اور وہ جسے ذمہ دار قرار دیں اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے کیونکہ عوام نے غربت کی بہت سزا بھگت لی۔
حقائق تو یہ بتاتے ہیں کہ ملک میں ہر وہ ادارہ ترقی کررہا ہے جو اسٹیلشمنٹ ،وفاقی بیوروکریسی یا سیاسی دباؤ سے پاک ہے اور ان کے ملازمین کو مرتے دم تک یا ریٹائر ہونے تک ملازمت کا تحفظ حاصل نہیں ہے البتہ ان اداروں میں اچھی کارکردگی پر ترقی اور خراب کارکردگی پر برطرفی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ جیسے تمام موبائل کمپنیاں کامیاب ہوگئیں لیکن پی ٹی سی ایل ناکام ہے ۔ بڑے نجی ٹی وی چینل کامیاب ہیں لیکن پی ٹی وی ناکام ہے ۔ ایف ایم ریڈیو کامیاب ہے لیکن ریڈیو پاکستان کے ملازمین پریشان ہیں۔ پاکستان پوسٹ آفس ناکام ہے لیکن ٹی سی ایس سمیت ہر کوریئر کمپنی کامیاب ہے۔ پاکستان ریلوے خسارے میں ہے لیکن نجی ٹرانسپورٹ سروس ڈائیو،، فیصل موور، وڑائچ کوچ، اسکائی ویز کامیاب ہیں۔پاکستان ریلوے کی فریٹ سروس کے مقابلے میں نجی گڈز ٹرانسپورٹ سروس کامیاب ہے۔ پی آئی اے کا برا حال ہے لیکن بیشتر نجی ایئر لائنز منافع میں ہیں۔
جب ان سب اداروں کو چلانے والے عام پاکستانی اتنے با صلاحیت ہیں تو وفاقی اور صوبائی بیورو کریسی کے نظام کی تجدید ضروری ہے۔ یہ کیا جاسکتا ہے کہ سی ایس ایس کے ذریعے آنے والے افسران کو پہلے چھ ماہ نجی کامیاب اداروں میں انٹرن شپ کرائی جائے، سرکاری مستقل ملازمت کو کارکردگی سے مشروط کیا جائے ۔
ناکام اداروں میں سیاسی دباؤ اور سیاسی بھرتیوں کے زمہ داروں کا تعین کرکے ان پارٹیوں سے پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل کا خسارہ پورا کرایا جائے۔

Name: Mini Table FanWorking Time: 4-6hOutput Power: 2WCharging Input: 5V-1ABattery: 1500mASize: 20.00cm * 10.00cm * 25.0...
09/03/2024

Name: Mini Table Fan
Working Time: 4-6h
Output Power: 2W
Charging Input: 5V-1A
Battery: 1500mA
Size: 20.00cm * 10.00cm * 25.00cm
Detail: USB Charging Creative Desktop transparent Light Air Conditioning Gift Custom Logo Mini Fan

Note: Actual product color may vary slightly from the image due to the color variations of each photograph and each mobile screen.

Retail Price: 4550
Ramazan price 3550
Contact or Order now..03212593902
Name...
Cell...
Full address.

12/01/2024

Address

Karachi
Korangi Colony
75080

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ZF Traders & General Store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ZF Traders & General Store:

Share