19/08/2023
تشنۂ کامی کی سزا دو تو مزا آ جائے
تُم ہمیں زہر پلا دو تو مزا آ جائے
میرِ محفل بنے بیٹھے ہیں بڑے ناز سے ہم
ہمیں محفل سے اُٹھا دو تو مزا آ جائے
تُم نے احسان کیا تھا جو ہمیں چاہا تھا
اب وہ احسان جتا دو تو مزا آ جائے
آپنے یوسف کی زلیخا کی طرح تُم بھی کبھی
کُچھ حسینوں سے ملا دو تو مزا آ جائے
چین پڑتا ہی نہیں ہے تُمھیں اب میرے بغیر
اب جو تُم مُجھ کو گنوا دو تو مزا آ جائے