Kitab walay

Kitab walay Kitab Walay offers a wide collection of Urdu, English, and Arabic books for all ages. Discover, explore, and grow with Kitab Walay.

From literature and learning to religion and self-development, we provide quality reads for everyone.

یہ کتاب مناسب قیمت پر دستیاب ہے، آرڈر کے لیے انباکس کیجیے۔شکریہ
31/12/2025

یہ کتاب مناسب قیمت پر دستیاب ہے، آرڈر کے لیے انباکس کیجیے۔

شکریہ

کتاب کا نام: کائنات کا عنوانموضوع: سیرت النبیمصنف: شیخ ہمایوں حنیف دامت برکاتہمصفحات: 290سائز: لمبائی: 22.5 cm، چوڑائی: ...
30/12/2025

کتاب کا نام: کائنات کا عنوان

موضوع: سیرت النبی

مصنف: شیخ ہمایوں حنیف دامت برکاتہم

صفحات: 290

سائز: لمبائی: 22.5 cm، چوڑائی: 14.5cm

خصوصیات:
امپورٹ پیپر، بہترین پرنٹنگ

تفصیل:
سیرت النبی کے موضوع پر ایک اللہ والے کے ہاتھ سے عشق نبی میں ڈوب کر لکھی ہوئی کتاب جو یقیناً آپکی زندگی میں سنت رسول ﷺ کا عشق اور اتباع سنت کا جذبہ پیدا کرے گی۔

قیمت: 1450 روپے

رعایتی قیمت: صرف 1100 روپے۔
(ڈیلیوری چارجز لاگو ہونگے)

خریدنے کے لیے واٹس ایپ کیجیے:

+923352518438

کَرناٹک میں ایک فیملی کورٹ کے باہر، ایک بیوی نے مجمع کے سامنے اپنے شوہر کو مارا پیٹا۔ اس نے اسے بار بار تھپڑ مارے، اس کے...
30/12/2025

کَرناٹک میں ایک فیملی کورٹ کے باہر، ایک بیوی نے مجمع کے سامنے اپنے شوہر کو مارا پیٹا۔ اس نے اسے بار بار تھپڑ مارے، اس کے بال کھینچے، گالیاں دیں اور سب کے سامنے مسلسل تشدد کرتی رہی۔
حیران کن بات یہ تھی کہ شوہر مار کھاتے ہوئے بھی مسکراتا اور ہنستا رہا۔ ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ یہ سب برداشت کر رہا ہے — بلکہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اس سے لطف اندوز ہو رہا ہو۔ گویا وہ کہہ رہا ہو:
“اور مارو، میں مسکراتا رہوں گا۔”
ہر تھپڑ کے بعد وہ اپنی بیوی کی طرف مسکرا کر دیکھتا۔

شوہر کو مار کھاتے ہوئے مسکراتا دیکھ کر بیوی اور زیادہ چڑ گئی۔ جتنا وہ غصے میں آتی گئی، اتنا ہی زیادہ اسے مارتی رہی — اور اتنا ہی زیادہ وہ مسکراتا اور لطف لیتا رہا۔

اس معاملے کا پس منظر یہ تھا:
ان کا طلاق کا کیس عدالت میں چل رہا تھا۔ بیوی نے ماہانہ 6 لاکھ روپے نان و نفقہ (الیمونی) کا مطالبہ کیا تھا، حالانکہ وہ خود اچھی طرح تعلیم یافتہ ہے اور ایک تکنیکی شعبے میں کام کرتی ہے۔

حتمی فیصلے سے پہلے، شوہر نے اپنی ساری جائیداد اپنی ماں کے نام منتقل کر دی۔ قانونی طور پر وہ کسی چیز کا مالک نہیں رہا — صفر۔ جب عدالت نے اس کی آمدنی اور اثاثے چیک کیے تو اس کے نام پر کچھ بھی نہیں نکلا۔ چنانچہ عدالت نے نان و نفقہ کی رقم صفر مقرر کر دی۔
ماہانہ 6 لاکھ سے سیدھا صفر۔

فیصلے کے بعد، جیسے ہی وہ عدالت سے باہر نکلے، بیوی نے اپنا سارا غصہ شوہر پر نکال دیا۔ اس کی چیخ و پکار، گالیاں اور مار پیٹ شوہر کو ایک عجیب سی تسکین دے رہی تھیں۔ جب بھی وہ اسے مارتی، وہ اور زیادہ سکون سے مسکراتا اور بڑے اطمینان سے اس کی طرف دیکھتا۔

ایک مرد کو اتنا خوش دیکھنا، جبکہ وہ خود شدید غصے میں تھی، بیوی کو اور زیادہ طیش دلا رہا تھا۔ ہر تھپڑ کے بعد شوہر کی مسکراہٹ جیسے یہ کہہ رہی ہو:

“بیبی، یہ چالاکی اور چالبازی میں نے تم ہی سے سیکھی ہے۔ اگر آج تم اپنی ‘گرو فیس’ وصول کر رہی ہو تو میں خوشی خوشی کیوں نہ ادا کروں؟”

29/12/2025

اہل علم سے محبت کرنا سیکھیں

ہم نے بچپن ہی سے تبلیغ کے ماحول میں آنکھ کھولی، اپنے اردگرد ہمیشہ دین اور اہلِ دین کو دیکھا، اکابرِ تبلیغ کی صحبتیں میسر آئیں، جن کی زندگیوں میں اعتدال بھی تھا، محبت بھی، اور جوڑنے کا سلیقہ بھی۔
اسی ماحول کی برکت ہے کہ دل میں ہمیشہ علماء، مشائخ، اہلِ اللہ اور اہلِ دل سے محبت رہی۔
اب یہ محبت محض وابستگی نہیں رہی، بلکہ رچ بس گئی ہے، اسی محبت کے ساتھ جینا ہے اور اسی کے ساتھ مرنا ہے۔
اب سوشل میڈیا کا دور ہے، کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ یہ مزاج ختم ہوجائے، مگر یہ ممکن نہیں، چند سال قبل کرونا کا زمانہ آیا، اس وقت بھی اسی نوعیت کے مسائل سامنے آئے تھے۔
اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے قائدِ العصر حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان صاحب رحمہ اللہ کو جنہوں نے اپنے ہی لوگوں کے درمیان آراء، رویّوں اور مزاجوں کے اختلاف باوجود اعتدال کے ساتھ جینا اور سب سے محبت کرنا سکھایا، ان کی باتیں آج بھی دل میں گونجتی ہیں۔
ان کی شخصیت اس دور کی بہترین اور متوازن شخصیت تھی، اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت کی نعمتوں سے مالا مال فرمائے، آمین۔

ان کی دو نصیحتیں آج بھی مشعلِ راہ ہیں:
① اپنے آپ کو کبھی اپنوں اور بڑوں کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا، ہمیشہ اپنے اکابر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھنا، اس پر باتیں بھی ہوں گی، اعتراضات بھی آئیں گے، لوگ تمہیں اس راستے سے ہٹانے کی کوشش کریں گے، مگر جمے رہنا کیونکہ یہی ہمارا اصل سرمایہ ہیں۔
② جس بات کو شریعت کی روشنی میں حق سمجھو، اسے طریقے، حکمت اور اعتدال کے ساتھ بیان کرتے رہنا، کچھ باتیں فوراً کہنے کی ہوتی ہیں اور کچھ باتیں ٹہراؤ اور انتظار مانگتی ہیں، صبر کرنا، جلد بازی نہ کرنا، کیونکہ عجلت مؤمن کی میراث نہیں، تحمل اور برداشت ہی اہلِ ایمان کی اصل شان ہے۔
یہی دو نصائح سنہ 2004ء میں مرشدی عارف باللہ حضرت واصف منظور صاحب نور اللہ مرقدہ بھی فرما چکے تھے۔
تب بھی حالات سخت تھے، بس فرق یہ تھا کہ اس وقت سوشل میڈیا نہ تھا، لہٰذا انسانوں کی دنیا میں فرشتوں کی تلاش نہیں کی جاتی تھی۔
آج عجیب دور ہے، کئی دنوں سے اپنی ہی علمی، دینی اور سیاسی برادری کی جانب سے ... جس طرح کے تیر و ترکش چلتے نظر آرہے ہیں، وہ دل کو بے حد زخمی کردیتے ہیں۔
اسی دکھے دل کے ساتھ انہی الفاظ پر گفتگو ختم کرتا ہوں، رہے نام میرے اللہ کا!

27/12/2025
❤️❤️
24/12/2025

❤️❤️

Address

Urdu Bazar
Karachi

Opening Hours

Monday 10:00 - 19:00
Tuesday 10:00 - 19:00
Wednesday 10:00 - 19:00
Thursday 10:00 - 19:00
Friday 10:00 - 19:00
Saturday 10:00 - 19:00
Sunday 08:00 - 14:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kitab walay posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share