Zam Zam Store

Zam Zam Store Danish Qasim Like to banta hai

06/10/2021

اے صبا مصطفیٰ سے کہہ دینا غم کے مارے سلام کہتے ہیں
یاد کرتے ہیں تم کو شام وسحر دل ہمارے سلام کہتے ہیں

اللہ اللہ حضور کی باتیں مرحبا رنگ ونور کی باتیں
چاند جن کی بلائیں لیتا ہے اور ستارے سلام کہتے ہیں

اللہ اللہ حضور کے گیسُو بھینی بھینی مہکتی وہ خوشبو
جس سے معمور ہے فضا ہر سو وہ نظارے سلام کہتے ہیں

جب محمد کا نام آتا ہے رحمتوں کا پیام آتا ہے
لب ہمارے درود پڑھتے ہیں دل ہمارے سلام کہتے ہیں

زائرِ کعبہ تو مدینہ میں پیارے آقا سے اتنا کہہ دیا
آپ کی گردِ راہ کو آقا بے سہارے سلام کہتے ہیں

ذکر تھا آخری مہینے کا تذکرہ چھڑِ گیا مدینے کا
حاجیو مصطفیٰ سے کہہ دینا غم کے مارے سلام کہتے ہیں

اے خدا کے حبیب پیارے رسول یہ ہمارا سلام کیجئے قبول
آج محفل میں جتنے حاضر ہیں مل کے سارے سلام کہتے ہیں

13/09/2021
29/08/2021
09/08/2021

ّه_عنہ
===================
مسجد النبوی میں آج بھی وہ مقام موجود ہے جہاں سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کو حالت نماز (فجر) میں شدید زخمی کیا گیا اور جس کے باعث آپکی یکم محرم ٢٣ ہجری کو مظلوم شہادت ہوئی - ( یہ واقعہ آج سے چودہ سو انیس سال قبل پیش آیا )
=================================================
فرام دی ڈیسک آف
خاکروب حرمین شریفین
وسیم احمد خاکی
پاینیر ویب سایٹ-- اھلا'' ---
http://www.ahlanpk.org/
0334-3596158(pakistan)
====================

زیر نظر تصویر مسجد النبوی میں ریاض الجننہ میں محراب النبوی صلی الله علیہ وسلم سے آگے پہلی اور دوسری صف کے سنگم پر ہے جہاں سرخ رنگ کے کارپیٹ بچھے رہتے ہیں اور اس مقام سے محراب عثمانی صاف نظر آ ر ہ ہے جہاں آج سے کچھہ عرصہ قبل تک امام صاحب کھڑے ہوکر فرض نمازوں کی امامت کرتے تھے - اس مقام کو میں نے لال تیر سے ظاہر کیا ہے -

زیر نظر تصویر اصل میں دو تصاویر ہیں - اوپر والی تصویر میں زمین پر لال کارپیٹ بچھے ہوے ہیں اور میں نے ان کارپیٹ پر چوکور خانے سے اس مقام کی نشاندھی کی ہے جو بہت ہی دلگداز اور دلوں کو مغموم کرنے والا مسجد النبوی کا گوشہ ہے - گو کہ یہ خطہ دلوں کو رلاتا ہے اور اس کی زیارت سے دلوں میں ایک ایسی پھانس گڑ جاتی ہے کہ جب اس کا خیال آتا ہے تو قلوب میں اس کی چبھن کا احساس قوی سے قوی ہونے لگتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ حصہ متبرک ہے - نہ جانے کتنے لوگ روز انہ فرض نمازوں اور نفل نمازوں کے دوران اس مقام پر اپنی جبینیں الله سبحان تعالی کے سامنے سجدہ ریز کرتے ہیں لیکن اگر انکو علم ہو جایے کہ یہ کون سا اعلی مقام ہے تو انکی آنکھوں سے سیل بے رواں کا بہنا نہ گزیر ہوجایے اور وہ اپنی قسمت پر رشک کرنے لگیں -

نیچے والی تصویر بھی اسی مقام کی ہے مگر اس وقت کارپیٹ اس مقام سے ہٹا ہوا ہے اور تیر سے نہات وضاحت سے مسجد النوی کے فرش پر اس مقام متبرک کی نشان دہی کی جارہی ہے - ( اس مقام کی بایں ہاتھہ پر الگ بھی واضح تصویر دی جارہی
ہے )
حدیث پاک میں ہے کہ رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا تھا--- ''کیسا رہے گا اگر میں مسجد نبوی کو کو قبلہ رو وسیع کر دوں اور یہ کہتے ہوے آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے قبلہ رو اشارہ فرمایا تھا -
سینا عمر رضی الله تعالی عنہ نے اپنے دور حکومت میں اس حکم کی تعمیل فرمائی اور مسجد النبوی کو قبلہ رخ اتنا بڑھایا جو آپکو اس تصویر میں نظر آرہا ہے - گویا سینا عمر رضی الله تعالی عنہ کے دور میں امام صاحب کے کھڑے ہونے کی جگہ یہی مقرر ہوئی - یہ میرے علم نہیں کہ یہاں کوئی محراب بنائی گئی تھی یا نہیں . تا ہم یہ یہ ضرور ہے کہ یہی وہ مقام تھا جہاں سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ نمازوں کی امامت کرتے تھے -

اور پھر اسلامی تاریخ کا دلوں کو رلا دینے والا واقعہ اس مقام پر. جس کی تصویر آپکو کو نظر آ رہی ہے . وقوع پزیر ہوا جب 7 نومبر 644ء، بمطابق 26 ذوالحجہ 23ھ کو عین فجر کی نماز کے وقت امامت کے فرائض کے دوران سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ پر چپکے سے ایک غلام ابو لولو فیروز نے مسجد نبوی میں خنجر سے حملہ کیا اور تین جگہ وار کیے- ایک مقام پر چھہ وار کا ذکر بھی ہے ۔ آپ ان زخموں سے جانبر نہ ہوسکے اور دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ اف کس قدر بد قسمت تھا ابو فیروز لولو جو محسن امّت اور یار نبی صلی الله علیہ وسلم کی قدر و قیمت کو نہ جان سکا - اور یوں مسجد النبوی کا یہ گوشہ عاشقان عمر رضی الله تعالی عنہ کے لیے ہمیش کے لیے امر ہوگیا - لیکن مناسب رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے زایرین اس کی زیارت اور لطافتوں سے محروم رہتے ہے -

بعد میں صحابہ اکرم نے ابو لولو فیروز کو بھی وہیں موقع پر جہنم واصل کر دیا -

شہادت کا پورا واقعہ چاہیں تو درج ذیل میں پڑھ لیں =
===================================
مدینہ منورہ میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک مجوسی علام فیروز تھا جو کے ابو لولو کی کنیت سے مشہور تھا۔ ایک دن وہ مغیرہ رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کے آیا کہ میرا مالک مجھے سے زیادہ محصول لیتا ہے آپ کم کرائیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے رقم دریافت کی تو اس نے جواب دیا دو درم روزانہ۔ آپنے اسکا پیشہ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ آہنگری اور نقاشی کا کام کرتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر تو یہ رقم زیادہ نہیں۔ ابو لولو یہ سن کے بہت غصے میں آیا اور وہاں سے چل دیا۔
دوسرے دن جب فجر کی نماز کی امامت شروع کی آپ نے تو اس ملعون نے آگے بڑھ کے خنجر سے تابڑ توڑ 6 وار کئیے۔ جس میں سے ایک وار ناف کو چیرتا ہوا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فورا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو کھینچ کے آگے امامت میں کردیا اور خود زخموں کی شدت سے بے ہوش ہو کے گر پڑے۔
ملعون ابو لولو مسجدِ نبوی سے بھاگا لوگوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی جس میں بہت صحابی زخمی اور ایک صحابی کلیب بن ابی بکیر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ اس سے پہلے کے گرفتار ہوتا اس نے خود کشی کر لی اور یوں نامراد ٹھرا۔

فورا نماز ختم ہوتے ہی طبیب کو بلایا آپ رضی اللہ عنہ جیسے ہی ہوش میں آئے تھوڑے تو عظمت دیکھیں کہ یہ پوچھا کی کسی مسلمان نے تو حملہ نہیں کیا۔ بتلایا گیا نہیں ملعون مجوسی ابو لولو نے کیا تو فورا کہا الحمد اللہ مجھے کسی مسلمان نے نہیں مارا۔
زخموں کی شدت کچھ ایسی تھی کے جب کچھ کھلایا پلایا جاتا تو ناف والے زخم سے خوراک انتڑیوں سے باہر نکل جاتی اس طرح کی حالت دیکھ کے لوگ غمزدہ ہو گئے اور ساتھ ہی آپ سے اپنا جانشین مقرر کرنے کو بھی کہا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحٰمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ، زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ ، طلحہ رضی اللہ عنہ ، علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو طلب کر کے یہ ذمہ داری ان پہ سونپی اور اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کے ہاں پیغام بھجوایا کہ ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت طلب کرو۔کیا مقام کیا عزت تھی انکی نبی پاک ﷺ کے گھرانے کے لئیے کہ اجازت مانگ رہے دفن کے لئیے بھی۔ اماں عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ جگہ میں نے اپنے لئیے رکھی تھی لیکن میں فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو اپنی ذات پہ ترجیح دیتی ہوں ۔یہ خبر سن کے آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا کے ان کی خواہش پوری ہوئی اور آخر یکم محرم الحرام اور بعض کے مطابق دوم محرم کو آپ شہادت کا جام نوش کرتے ہوے اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے اور ہمیشہ کے لئے حیات ہو گئے۔ آپکی نمازِ جنازہ صہیب رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ ، علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے قبرِ مبارک میں اتارا ۔

یا نبی سلامٌ علیک یا نبی سلامٌ علیکیا رسول سلامٌ علیک رحمتوں کے تاج والےدو جہاں کے راج والےعرش کے معراج والےعاصیوں کے لا...
23/03/2021

یا نبی سلامٌ علیک یا نبی سلامٌ علیک
یا رسول سلامٌ علیک رحمتوں کے تاج والے
دو جہاں کے راج والے
عرش کے معراج والے
عاصیوں کے لاج والے
یا نبی سلامٌ علیک ، یا رسول سلامٌ علیک
یا نبی سلامٌ علیک ، صلوٰۃ اللہ علیک
ہے یہ حسرت در پہ آئیں
اشک کے دریا بہائیں
داغ سینے کے دکھائیں
سامنے ہو کر سنائیں
یا نبی سلامٌ علیک ، یا رسول سلامٌ علیک
یا نبی سلامٌ علیک ، صلواتُ اللہ علیک
جان کر کافی سہارا
لے لیا ہے در تمہارا
خلق کے وارث خدارا
لو سلام اب تو ہمارا
یا نبی سلامٌ علیک، یارسول سلامٌ علیک
یا نبی سلامٌ علیک، صلواتُ اللہ علیک
میرے مولا ، میرے سرور
ہے یہی ارمان اکبر
پہلے قدموں میں رکھے سر
پھر کہے یہ سر کو اُٹھا کر
یا نبی سلامٌ علیک، یارسول سلامٌ علیک
یا نبی سلامٌ علیک،

❤❤صلی اللّه علیہ وآلہ وبارک وسلم ❤❤
❤❤ اللھم ربنّا آمین ❤❤

کرم مانگتا ہوں عطا مانگتا ہوں الہی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوںعطا کر تو شانِ کریمی کا صدقہ دلا دے الہی رحیمی کا صدقہنہ مان...
24/02/2021

کرم مانگتا ہوں عطا مانگتا ہوں الہی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں

عطا کر تو شانِ کریمی کا صدقہ دلا دے الہی رحیمی کا صدقہ

نہ مانگوں گا تجھ سے تو مانگوں گا کس سے تیرا ہوں میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں

الہی ہمیں شاد ومسرور رکھنا بلاوؔں سے ہم کو سدا دُور رکھنا

پریشانیاں ہم کو گھیرے ہوئے ہیں پریشانیوں سے پناہ مانگتا ہوں

جو مفلس ہیں سن کو تو دولت عطا کر جو بیمار ہیں ان کو صحت عطا کر

مریضوں کی خاطر دعا مانگتا ہوں الہی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں

ہوا ہے نہ مویوس تیرا سوالی پھرا ہے نہ کوئی تیرے در سے خالی

یہاں تیری خاطر جمع سب ہو میں سب کی طرف سے دعا مانگتا ہوں

الہی تجھے واسطہ پنجتن کا ہو شاداب غنچہ دلوں کے چمن کا

الہی تجھے واسطہ غوث الوریٰ کا الہی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں

خوشا وہ دن حرم پاک کی فضاؤں میں تھازباں خموش تھی دل محو التجاؤں میں تھا در کرم پہ صدا دے رہا تھا اشکوں سےجو ملتزم پہ کھڑ...
28/12/2020

خوشا وہ دن حرم پاک کی فضاؤں میں تھا
زباں خموش تھی دل محو التجاؤں میں تھا


در کرم پہ صدا دے رہا تھا اشکوں سے
جو ملتزم پہ کھڑے تھے ، میں ان گزاؤں میں تھا


غلاف خانہ کعبہ تھا میرے ہاتھوں میں
خدا سے عرض و گزارش کی انتہاؤں میں تھا


حطیم میں مرے سجدوں کی کیفیت تھی عجب
جبیں زمین پہ تھی ذہن کہکشاؤں میں تھا


طواف کرتا تھا پروانہ وار کعبے کا
جہان ارض و سما جیسے میرے پاؤں میں تھا


فضائے معرفت آثار میں تھا دل سرشار
مرا وجود خدا کے کرم کی چھاؤں میں تھا


دھڑک رہا ہے مرے ساز روح پر اب بھی
وہ ایک نغمہ جو “ لبیک“ کی صداؤں میں تھا

مجھے یقین ہے میں پھر بلایا جاؤں گا
کہ یہ سوال بھی شامل مری دعاؤں میں تھا

یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دوپڑھ کے نبیﷺؐ کی نعت لحد میں اُتار دودیکھا ابھی ابھی ہے نظر  نے جمالِ یاراۓ موت! مجھ کو تھ...
20/12/2020

یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو
پڑھ کے نبیﷺؐ کی نعت لحد میں اُتار دو

دیکھا ابھی ابھی ہے نظر نے جمالِ یار
اۓ موت! مجھ کو تھوڑی سی مہلت اُدھار دو

سنتے ہیں جاں کنی کا لمحہ ہے بہت کٹھن
لے کر نبیﷺ کا نام یہ لمحہ گزار دو

میرے کریمﷺ میں تِرے در کا فقیر ہوں
اپنے کرم کی بھیک مجھے بار بار دو

گَر جیتنا ہے عشق میں لازم یہ شرط ہے
کھیلو اگر یہ بازی تو ہر چیز ہار دو

یہ جان بھی ظؔہوری نبیﷺ کے طفیل ہے
اِس جان کو حضورﷺ کا صدقہ اُتار دو

سوئے  طیبہ  جانے   والو!   مجھے  چھوڑ  کر  نہ  جانامیری  آ نکھوں   کو   دکھا   دو   شہِ  دین   کا  آستانہہیں   وہ   جالی...
12/12/2020

سوئے طیبہ جانے والو! مجھے چھوڑ کر نہ جانا
میری آ نکھوں کو دکھا دو شہِ دین کا آستانہ

ہیں وہ جالیاں سنہری میری حسرتوں کا محور
وہ سنبھالا مجھ کو دیں گے جو ہیں خاص رب کے دلبر

مجھے پہنچ کر مدینہ، نہیں لوٹ کر ہے آنا
سوئے طیبہ جانے والو ! مجھے چھوڑ کر نہ جانا

میں تڑپ رہا ہوں تنہا میری بے بسی تو دیکھو
میں اسیرِ رنج و غم ہوں میری بے کلی تو دیکھو

ذرا روضہِ نبی ﷺ کا مجھے راستہ بتانا
سوئے طیبہ جانے والو ! مجھے چھوڑ کر نہ جانا

درِ مصطفٰی ﷺ پر میری جب حاضری لگے گی
مجھے پھر کرم سے ان کے، نئی زندگی ملے گی

کوئی کل کا، ایک پل کا، نہیں کچھ بھی ہے بھروسہ
مجھے ہم سفر بنا لو کہیں رہ نہ جاؤں پیاسا

درِ مصطفٰی ﷺ ہے عشرت میرا آخری ٹھکانہ
سوئے طیبہ جانے والو ! مجھے چھوڑ کر نہ جانا

ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ

نبی ﷺ  کا لب پر جو ذکر ہے بےمثال آیا کمال آیا جو ہجرِ طیبہ میں یاد بن کر  خیال آیا  کمال آیا تری  ﷺ دعاوٴں ہی کی بدولت ع...
09/11/2020

نبی ﷺ کا لب پر جو ذکر ہے بےمثال آیا کمال آیا
جو ہجرِ طیبہ میں یاد بن کر خیال آیا کمال آیا

تری ﷺ دعاوٴں ہی کی بدولت عذابِ رب سے بچے ہوئے ہیں
جو حق میں اُمّت کے تیرےؓ لب پر سوال آیا کمال آیا

غرور حوروں کا توڑ ڈالا لگا کے ماتھے پہ تِل خدا نے
جو کالے رنگ کا غلام تیرا ﷺ بلال رضی اللہ عنہ آیا کمال آیا

نبی ﷺ کی آمد سے نور پھیلا فضائے شب پر نکھار آیا
چمن میں کلیوں کے رُخ پہ حُسن وجمال آیا کمال آیا

عمرؓ کی جرات پہ جاوٴں قرباں کہ جس سے شیطان بھی ہے لرزاں
عمرؓ کے آنے سے کفر پر جو زوال آیا کمال آیا

نبی ﷺ تو صائم سبھی ہیں اعلیٰ ہیں رتبے سب کے عظیم و بالا
مگر جو آخر میں آمنہؓ کا وہ لال ﷺ آیا کمال آیا ۔

اُنظُـــــر حَـــــالَنَا یارســـــول اللّٰـــــہﷺ                ہـــــم غلاموں پہ ہو آقـــــاﷺ نظر کـــــرم🌺میـــں تو ...
09/11/2020

اُنظُـــــر حَـــــالَنَا یارســـــول اللّٰـــــہﷺ
ہـــــم غلاموں پہ ہو آقـــــاﷺ نظر کـــــرم

🌺میـــں تو اُمّتـــی ہوں اے شاہِ امـــم
کـــر دے میرے آقا ‎ﷺ اب نظرِ کـــرم

مـــیں تو بے سہارا ہوں دامن بھی ہے خالی
نبیوں کے نبی ‎ﷺ تیری شـــــان ہے نرالـــی

🌺میـــں تو اُمّتـــی ہوں اے شاہِ امـــم
کـــر دے میرے آقا ‎ﷺ اب نظرِ کـــرم

غـــــم کے اندھیروں نے یوں گھیرا ہوا ہـــے
آقا ‎ﷺ دشـــــوار اب جینا میـــــرا ہوا ہـــے
بـــــگڑی بنا دو میری طـــــیبہ کے والـــــی
نبیوں کے نبی ‎ﷺ تیری شـــــان ہے نرالـــی

🌺میـــں تو اُمّتـــی ہوں اے شاہِ امـــم
کـــر دے میرے آقا ‎ﷺ اب نظرِ کـــرم

جس کو بلایا گیا وہی عـــــرشِ بریں ہـــے
آپ ‎ﷺ کے سِــــوا ایسا کـــــوئی نہیں ہـــے
جس کی نہ بات کوئی رب نے بھی ٹالـــــی
نبیوں کے نبی ‎ﷺ تیری شـــــان ہے نرالـــی

🌺میـــں تو اُمّتـــی ہوں اے شاہِ امـــم
کـــر دے میرے آقا ‎ﷺ اب نظرِ کـــرم

💞میـــں صدقے یا رســــــــــــــــــول اللّٰہ ﷺ
صلـــی اللّٰـــہ علیـــہ والـــہ وسلـــم

Address

Karachi

Telephone

03452556582

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zam Zam Store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Zam Zam Store:

Share