IH Shopping

IH Shopping Buy Trusted Products at affordable rate...

12 hours long battery life A single full charge can be used continuously for about 4 hours, With the charging box, it ca...
17/12/2022

12 hours long battery life A single full charge can be used continuously for about 4 hours, With the charging box, it can be used for about 12 hours
Charging Box Charging Time: about 2 Hours
Single earphone net weight about 4.1g
Wireless connection Bluetooth 5.0
Communication Distance: 10 Meters
Headphone standby time: About 150
Redmi Airdot REDMI AIRDOT 2 MI AIRDOTS

Product Code: MZ9300115APLZN

Fabric: Polyester FleeceAvailable Sizes: Medium,Large,XL, XXLMedium: (Length 27,Shoulder 19,Chest 42)Large: (Length 28,S...
17/12/2022

Fabric: Polyester Fleece
Available Sizes: Medium,Large,XL, XXL
Medium: (Length 27,Shoulder 19,Chest 42)
Large: (Length 28,Shoulder 20,Chest 44)
XL: (Length 29,Shoulder 21,Chest 46)
XXL: (Length 30,Shoulder 22,Chest 48)
Close End Hoodie

Product Code: MZ4200202SVS

27/01/2021
11/01/2021

According to tech and geek experts, is probably the best alternate to WhatsApp if we talk about user privacy. It is easy to use, has similar features to such as a disappearing messaging feature, voice, and video calling but the only thing it misses out on is the animated emojis and usage of GIFs/media. Will you be switching? More on Adcave.

19/12/2020

Learn to say ‘no’ to the good so you can say ‘yes’ to the best.v

16/12/2020

"سانحہ پشاور"

پاکستان میں تکفیری دہشتگردی کی تاریخ بہت تلخ ہے لیکن اس تاریخ میں سانحہ اے پی ایس پشاور جیسا المناک سانحہ کوئی دوسرا رونما نہ ہوا، جس میں معصوم بچوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا۔ ایسا سانحہ جس نے دردِ دل رکھنے والے ہر انسان کی روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ جذبات کو الفاظ میں ڈھالنے پر ملکہ رکھنے والے بہت سے لوگوں کے الفاظ کرب و تکلیف کی وجہ سے ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ چونکہ ہمارا اوڑھنا بچھونا تو ہے ہی غمِ حسینؑ اس لئے ہم اسی کی پناہ ڈھونڈتے رہے اور جب جب دل میں سوال پیدا ہوتا رہا کہ آخر کوئی معصوم بچوں کو کیسے ذبح کرسکتا ہے تو فورا کربلا کے ایک چھ ماہ کے شہید کو یاد کرکے دل کو جواب دیتے رہے۔

میں نے اس سانحے کے رونما ہونے کے بعد کئی بار ناصر کاظمی کا مختلف کلام بھی صرف اس لئے بار بار پڑھا کیوں کہ ناصر کاظمی نے اپنے کلام میں تاریخِ انسانی کی سب سے بڑی ہجرت کے دوران رونما ہونے والے المیوں کے کرب و یاس کو اپنی شاعری میں بیان کیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک تحریر لکھی تھی جس میں گمان ظاہر کیا تھا کہ اگر ناصر کاظمی آج حیات ہوتے تو ہجرت کے المیوں پر لکھے اپنے تمام کلام کو شاید اس سانحے سے منسوب کردیتے، بالخصوص یہ شعر:

"ذرا گھر سے نکل کر دیکھ ناصرؔ

چمن میں کس قدر پتے جھڑے ہیں"

کچھ روز گزرے اور آنسووں کی وجہ سے دھندلی ہوئی آنکھیں کچھ صاف ہوئیں اور اطراف میں نظر دوڑائی تو لوگوں کو کہتے پایا کہ اس دلخراش سانحے نے پوری قوم کر متحد کردیا ہے، کسی نے بتایا کہ پوری قوم دہشتگردوں کے خلاف یک زبان ہے۔ لیکن کیا واقعی ایسا تھا؟ میں نے غور کیا تو محسوس کیا کہ قوم اس بات پر تو متحد ہے کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ظلم ہوا لیکن قوم کا ایک دھڑا قاتلوں کا نام لینے سے گریزاں ہے، ایک دھڑے کی آنکھیں بچوں کیلئے آنسووں سے تر ہیں اور زبان ڈرون کے ردعمل کی دہائی دے رہی ہے، ایک دھڑا وہ بھی نظر آیا جس نے قاتلوں کی مذمت کرنے سے ہی انکار کردیا، ایک دھڑا وہ تھا جس نے آرمی پبلک سکول کے سامنے ڈمہ ڈولہ کے بچوں کی چارپائیاں بچھا کر اعلان کردیا کہ یہ بھی تو بچے تھے، ایک دھڑا اسے مکمل طور پر بیرونی سازش قرار دیتا نظر آیا قطع نظر اس سے کے صوفی محمد کے داماد ملا فضل اللہ سے لیکر وہ تمام دہشتگرد جنہیں پچھلے چند سالوں میں سولہ دسمبر کو پھانسیاں دینے کی خبر دی جاتی رہی، وہ سب پاکستانی تھے۔ میں کیسے یقین کر لیتا کہ قوم اس سانحے پر متحد ہے جب میں نے غزہ، روہنگیاہ اور شام کیلئے عظیم الشان ریلیاں نکال کر عالمی "استکبار" کی مذمت میں نعرے لگانے والوں کو ایک بار بھی پاکستانی تاریخ کے اس المناک ترین سانحے میں ملوث طالبان کے خلاف ریلی تو کُجا، اُن کا نام تک لیتے نہیں دیکھا۔ میرے تلخ الفاظ پر معذرت لیکن قوم بالکل متحد نہیں تھی، قوم متحد ہوتی تو ہمیں تاویل پرستی نہیں، بلا مشروط مذمت، نفرت اور لعنت نظر آتی۔

غالبا تین چار برس پہلے، اس سانحے کی پہلی برسی پر اسی فیس بک پر میں نے ایک مخصوص فکر کی حامل تنظیم کی جانب سے بنائی گئی ایک ویڈیو دیکھی جو سانحہ پشاور میں قتل ہونے والے بچوں کو "خراجِ تحسین" پیش کرنے کیلئے بنائی گئی تھی۔ مجھے پوری ویڈیو یاد نہیں لیکن اُس ایک سین اور ایک جملہ اب تک میرے ذہن پر نقش ہے۔ اس ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ایک ماں کو جونہی خبر ملی کی سکول پر حملہ ہوگیا ہے تو وہ مصلی بچھا کر بیٹھی اور کچھ ان الفاظ میں دعا مانگنے لگی:

"اے اللہ، میرے بچے سے وہ کام لے لے جو تجھے پسند ہے"۔

یعنی میرے بچے کو "شہادت" نصیب ہوجائے۔ یہ وہ طرزِ عمل اور فکر ہے جو قتل، سفاکیت اور درندگی پر شہادت، تقدس اور جانثاری کی متبرک چادر ڈال کر تاویل پرستی کی تمام حدیں پار کرتا نظر آتا ہے۔ اُس قوم کو آپ کیسے متحد کہہ سکتے ہیں جس کا ایک بہت بڑا طبقہ اس "Massacre" کو قربانی قرار دے؟ یہ قتل عام تھا، سفاکیت تھی اور معصوم بچوں کے والدین کی روحوں تک کو زخمی کردینے والا سانحہ تھا۔ یہ قربانی نہیں تھی، اس پر شہادت کر متبرک غلاف مت ڈالیں۔

آج اس سانحے کی چھٹی برسی ہے۔ اُداس اور جذبات سے مغلوب تو ہم سب ہی ہیں لیکن آئیں ایک بار اپنے اطراف پر نظر بھی دوڑاتے جائیں کہ کون اس تکفیری دہشتگردی کے خلاف بلا مشروط بولتا نظر آرہا ہے، کون "Backhanded" مذمت میں مصروف ہے، کون قتل پر شہادت کے غلاف ڈال رہا ہے اور کون ان معصوم بچوں کو ان کے والدین کیلئے جنت کا ٹکٹ قرار دیتا نظر آرہا ہے؟ وہی والدین جن میں سے کوئی ماں ذہنی توازن کھو بیٹھی، کوئی باپ اپنا منہ پیٹتا نظر آیا اور کبھی یہ سب اکٹھے ہوکر شہرِ اقتدار میں "انصاف" مانگتے نظر آئے۔

میں یہ بات ایمانداری سے کہنا چاہوں گا کہ سانحہ پشاور جیسا المیہ اس قوم کیلئے ایک لٹمس ٹیسٹ ہونا چاہئے۔ ایسا ٹیسٹ جس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں۔ یہ صرف اور صرف اپنے اپنے ضمیر کی عدالت میں پیش ہونے کا معاملہ ہے، یہاں کسی تاویل کی گنجائش نہیں۔

پھول دیکھے تھے جنازوں پہ ہمیشہ شوکتؔ

کل میری آنکھ نے پھولوں کے جنازے دیکھے

- نور درویش

15/12/2020

It was a cold night of December 2014. I was coming back from a prank shoot for a private channel. My shirt was torn and my face had scratches from one violent victim of my prank. On my way back I ran out of petrol of my bike. At that moment I realized that the director forgot to give me 100Rs of my petrol. I tried to call my brother but my phone had no credit. And that was the first time I got scared. For the first time I got a doubt in my heart that is this work really worth it? All the people I am making laugh, are they really laughing with me or the world is laughing at my situation?
That was the most scariest day of my professional career. When I got home after two hours of walking with my bike. My mom couldn't hold her tears and asked me to quit this work. And that day. I was shaken to my core.
Fast forward to this December. I am standing next to this car. People see this luxurious car. I see that Nadir Ali who just didn't quit that day and went to shoot next day.

To doston dekhnay mai to ye aik gari hai. Likin asal mai ye aik artist ki struggle ki kahaani hai!

Love

Nadir

12/12/2020
11/12/2020
11/12/2020

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when IH Shopping posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to IH Shopping:

Share