New Books URDU

New Books URDU Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from New Books URDU, Book shop, Karachi.

الحمد للہ ایسی مقبولیت تو میری کسی کتاب کو نہیں نصیب ہوئی جیسی مقبولیت شاہانہ خٹک کے پہلے ناول کو ملی ۔ایک ماہ سے بھی کم...
05/01/2026

الحمد للہ
ایسی مقبولیت تو میری کسی کتاب کو نہیں نصیب ہوئی
جیسی مقبولیت شاہانہ خٹک کے پہلے ناول کو ملی ۔
ایک ماہ سے بھی کم وقت میں
ایک ہزار کے ایڈیشن میں سے نصف آن لائن فروخت ہوگیا ۔
۔
۔
مکمل ایڈیشن فروخت ہوتے ہی
شاہانہ خٹک کا دوسرا ناول منظر عام پرآجائے گا ۔
۔
بیگم صاحبہ کو اس کام یابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد
گھر میں ہی ایسا سخت کمپیٹیشن
ہماری تو ساری پھوں پھاں ہوا ہوگئی ۔
۔
۔گھر بیٹھے منگوانے کے لیے رابطہ :
دعا بک پیلس ۔اردو بازار ۔کراچی
شعیب میمن : 03243206908
03212043587
قیمت : 2000
رعایتی قیمت پندرہ سو
ڈاک خرچ فری
۔
نوٹ : کتاب کچھ بولڈ ہے ۔
کم عمر بچے بچیاں آرڈر نہ کریں ۔
۔

طاہرہ مسعود کا بہترین شعری مجموعہ ۔۔۔ باد صبا ۔۔۔۔۔۔۔طاہرہ مسعود،بیرونِ ملک مقیم ہیں، اردو ادب کی ایک منفرد اور معتبر شا...
03/09/2024

طاہرہ مسعود کا بہترین شعری مجموعہ ۔۔۔ باد صبا
۔۔۔۔۔۔۔
طاہرہ مسعود،بیرونِ ملک مقیم ہیں، اردو ادب کی ایک منفرد اور معتبر شاعرہ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ "بادِ صبا" حالیہ عرصے میں شائع ہوا ہے ۔ یہ مجموعہ اردو ادب کے شائقین ،اور احباب ادب میں بہت مقبول ہوا ہے۔ "بادِ صبا" میں شامل غزلیں اور غیر مطبوعہ کلام طاہرہ مسعود کے فکری اور شعری سفر کی ایک عمیق جھلک پیش کرتا ہے۔

"بادِ صبا" میں طاہرہ مسعود کی غزلیں اردو کی روایتی شاعری کی جمالیاتی خصوصیات کو برقرار رکھتے ہوئے ایک نئی تازگی اور فکر انگیزی سے مزین ہیں۔ ان کے اشعار میں عشق، غم، اور زندگی کی پے چیدگیوں کا بیان اس قدر مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ قاری ان کی گہرائی میں ڈوب جاتا ہے۔ طاہرہ کے الفاظ میں جو لسانی خوب صورتی اور فکری بلند پروازی ہے، وہ اس بات کی غماز ہے کہ وہ نہایت گہرائی سے کلاسیکی اور جدید شاعری کا مطالعہ کرتی ہیں۔

"بادِ صبا" کی اشاعت 2023 میں ہوئی اور اسے سال کے بہترین شعری مجموعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مجموعہ اس لحاظ سے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں شامل غیر مطبوعہ کلام طاہرہ مسعود کی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور عکاس ہے۔ ان کی شاعری میں عربی اور فارسی کے محاوروں اور تراکیب کا خوبصورت استعمال ان کے فن کی اعلیٰ مہارت کا مظہر ہے۔

طاہرہ مسعود کی شاعری میں جو بنیادی عناصر پائے جاتے ہیں، ان میں ایک خاص قسم کی روحانی بصیرت اور وجودی فکر شامل ہیں۔ ان کی غزلیں قاری کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتی ہیں اور ان کے اشعار میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کا نہایت دلنشین انداز میں بیان ملتا ہے۔ طاہرہ کی شاعری میں مشرقی ثقافت اور روایات کی جھلک نمایاں ہے، جو ان کے اشعار کو ایک منفرد رنگ عطا کرتی ہے۔

"بادِ صبا" کی قیمت 800 روپے مقرر کی گئی ہے، جو اس قیمتی ادبی شاہ کار کے لیے نہایت موزوں ہے۔ یہ مجموعہ اب فروخت کے لیے دستیاب ہے اور ادب کے شائقین کے لیے ایک بیش قیمت تحفہ ہے۔

آخری بات، طاہرہ مسعود کی شاعری کا مجموعہ "بادِ صبا" اردو ادب میں ایک نئی روح پھونکتا ہے۔ یہ مجموعہ نہ صرف طاہرہ مسعود کے شعری سفر کا اہم سنگ میل ہے بلکہ اس میں اردو زبان کی لطافت، خوب صورتی اور بلاغت بھی بھرپور انداز میں جلوہ گر ہے۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
تحریر : ادارہ
آس پبلی کیشن
۔
رابطہ : 03212043587
اہل علم وادب کی کسی بھی قسم کی کتابوں کی اشاعت کے لیے
سب سے معتبر ۔۔۔ سب سے بہترین اشاعتی ادارہ
۔
آس پبلی کیشن ۔ اردو بازار کراچی
فون : 03212043587

چار بہترین شعری مجموعے اور ان کا تعارف ۔۔۔۔۔۔۔دھیان کے دریچے ۔۔۔۔ از رخسانہ افضل ۔۔۔۔۔۔۔رخسانہ افضل کی شاعری کا پہلا مجم...
02/09/2024

چار بہترین شعری مجموعے اور ان کا تعارف
۔۔۔۔۔۔۔
دھیان کے دریچے ۔۔۔۔ از رخسانہ افضل
۔۔۔۔۔۔۔
رخسانہ افضل کی شاعری کا پہلا مجموعہ "دھیان کے دریچے" اردو ادب میں ایک نہایت اہم اضافہ ہے۔ 2023 میں شائع ہونے والا یہ مجموعہ نہ صرف اپنے موضوعات کی گہرائی کی بنا پر قابلِ ذکر ہے بلکہ اس کی زبان میں جو لطافت اور شائستگی ہے، وہ بھی اس کو ممتاز بناتی ہے۔
رخسانہ افضل کا تعلق کراچی سے ہے، اور ان کا شعری انداز عصرِ حاضر کی روایتی شاعری سے کچھ مختلف ہے۔ "دھیان کے دریچے" کی نظمیں ایک ایسے فکری سفر کا احاطہ کرتی ہیں جو قاری کو اندرونی اور بیرونی دنیا کے رازوں میں غوطہ زن کرتی ہیں۔ ہر نظم میں ایک فلسفیانہ فکر موجود ہے جو قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔
رخسانہ کی شاعری میں محبت، وجود، اور انسانیت جیسے موضوعات پر بہت عمدگی سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان کی نظموں میں جو الفاظ کا انتخاب ہے، وہ ایک منفرد لسانی اور فکری بصیرت کا عکاس ہے۔ ان کے اشعار میں عربی اور فارسی کے الفاظ کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ مشرقی ادبی روایت سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
رخسانہ افضل کی نظموں میں ایک خاص قسم کی روحانیت کا عکس بھی دکھائی دیتا ہے۔ ان کے الفاظ میں ایک طرح کی گہرائی ہے جو دل میں اتر جاتی ہے۔ ان کی شاعری میں فکر و فلسفہ کی آمیزش اس قدر خوبصورت ہے کہ قاری اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
"دھیان کے دریچے" کی قیمت 600 روپے رکھی گئی ہے، جو کہ ایک مناسب قیمت ہے اس قیمتی ادبی سرمایہ کے لیے۔ یہ مجموعہ فروخت کے لیے دستیاب ہے اور اسے اردو ادب کے شائقین کی خاصی پذیرائی ملی ہے۔
رخسانہ افضل کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے یہ کہنا ضروری ہے کہ انہوں نے اپنے کلام میں نہ صرف جدید دور کے مسائل کو اجاگر کیا ہے بلکہ روایتی اقدار اور افکار کو بھی بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی شاعری ایک ایسا آئینہ ہے جس میں قاری اپنی ذات کے کئی پہلوؤں کو دیکھ سکتا ہے۔

آخر میں، "دھیان کے دریچے" کو اردو ادب کے نئے افق کا حامل قرار دینا کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ یہ مجموعہ نہ صرف رخسانہ افضل کی تخلیقی صلاحیتوں کا عکاس ہے بلکہ اس میں اردو زبان کی خوبصورتی اور لطافت بھی بھرپور انداز میں جھلکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
باد صبا ۔۔۔۔۔ از طاہرہ مسعود
۔۔۔۔
طاہرہ مسعود، جو بیرونِ ملک مقیم ہیں، اردو ادب کی ایک منفرد اور معتبر شاعرہ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ "بادِ صبا" حالیہ عرصے میں شائع ہوا ہے اور یہ مجموعہ اردو ادب کے شائقین میں بہت مقبول ہوا ہے۔ "بادِ صبا" میں شامل غزلیں اور غیر مطبوعہ کلام طاہرہ مسعود کے فکری اور شعری سفر کی ایک عمیق جھلک پیش کرتا ہے۔
"بادِ صبا" میں طاہرہ مسعود کی غزلیں اردو کی روایتی شاعری کی جمالیاتی خصوصیات کو برقرار رکھتے ہوئے ایک نئی تازگی اور فکر انگیزی سے مزین ہیں۔ ان کے اشعار میں عشق، غم، اور زندگی کی پیچیدگیوں کا بیان اس قدر مؤثر انداز میں کیا گیا ہے کہ قاری ان کی گہرائی میں ڈوب جاتا ہے۔ طاہرہ کے الفاظ میں جو لسانی خوبصورتی اور فکری بلند پروازی ہے، وہ اس بات کی غماز ہے کہ وہ نہایت گہرائی سے کلاسیکی اور جدید شاعری کا مطالعہ کرتی ہیں۔
"بادِ صبا" کی اشاعت 2023 میں ہوئی اور اسے سال کے بہترین شعری مجموعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مجموعہ اس لحاظ سے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں شامل غیر مطبوعہ کلام طاہرہ مسعود کی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور عکاس ہے۔ ان کی شاعری میں عربی اور فارسی کے الفاظ کا خوبصورت استعمال ان کے فن کی اعلیٰ مہارت کا مظہر ہے۔
طاہرہ مسعود کی شاعری میں جو بنیادی عناصر پائے جاتے ہیں، ان میں ایک خاص قسم کی روحانی بصیرت اور وجودی فکر شامل ہیں۔ ان کی غزلیں قاری کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتی ہیں اور ان کے اشعار میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کا نہایت دل نشین انداز میں بیان ملتا ہے۔ طاہرہ کی شاعری میں مشرقی ثقافت اور روایات کی جھلک نمایاں ہے، جو ان کے اشعار کو ایک منفرد رنگ عطا کرتی ہے۔
"بادِ صبا" کی قیمت 800 روپے مقرر کی گئی ہے، جو اس قیمتی ادبی شاہکار کے لیے نہایت موزوں ہے۔ یہ مجموعہ اب فروخت کے لیے دستیاب ہے اور ادب کے شائقین کے لیے ایک بیش قیمت تحفہ ہے۔
آخری بات، طاہرہ مسعود کی شاعری کا مجموعہ "بادِ صبا" اردو ادب میں ایک نئی روح پھونکتا ہے۔ یہ مجموعہ نہ صرف طاہرہ مسعود کے شعری سفر کا اہم سنگ میل ہے بلکہ اس میں اردو زبان کی لطافت، خوبصورتی اور بلاغت بھی بھرپور انداز میں جلوہ گر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
درد کی چھاؤں ۔۔۔۔ از احمد منہاج
۔۔۔۔۔۔
احمد منہاج، جو کراچی کے ممتاز قلم کار اور شاعر ہیں، نے حال ہی میں اپنے پہلے شعری مجموعے "درد کی چھاؤں میں" کے ذریعے اردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ یہ مجموعہ گزشتہ بائیس برسوں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے، جس میں شامل نظمیں اردو شاعری کی جدید اور منفرد انداز کی بہترین مثالیں ہیں۔
"درد کی چھاؤں میں" کی نظمیں احمد منہاج کی گہری فکری اور جذباتی تجربات کا آئینہ دار ہیں۔ ان کی شاعری میں جو موضوعات نمایاں ہیں، ان میں درد، تنہائی، عشق، اور انسانی جذبات کی مختلف کیفیات شامل ہیں۔ ان کی نظموں میں جو لسانی چابک دستی اور خیالات کی گہرائی ہے، وہ قاری کو حیرت زدہ کر دیتی ہے۔ احمد منہاج کے اشعار میں عربی اور فارسی کے الفاظ کا حسن ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔
احمد منہاج کی شاعری کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی نظموں میں انسانی زندگی کی پے چیدگیوں کو نہایت سادہ لیکن مؤثر انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ان کی نظموں میں موجود درد اور کرب کا احساس قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے، اور اس کا دل و دماغ ان کی فکر کی گہرائی میں اتر جاتا ہے۔
احمد منہاج نے اپنی شاعری میں مشرقی روایات اور جدید دور کے مسائل کو یکجا کیا ہے، جس سے ان کی شاعری میں ایک نیا رنگ اور تازگی پیدا ہوتی ہے۔
"درد کی چھاؤں میں" کی اشاعت 2023 میں ہوئی اور یہ مجموعہ سال کے بہترین شعری مجموعوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی قیمت 700 روپے رکھی گئی ہے، جو کہ اس اعلیٰ ادبی کاوش کے لیے نہایت مناسب ہے۔ یہ مجموعہ اب فروخت کے لیے دستیاب ہے اور اردو ادب کے شائقین کے لیے ایک نایاب تحفہ ثابت ہو رہا ہے۔
احمد منہاج کی شاعری کا یہ مجموعہ نہ صرف ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف ہے بلکہ اردو شاعری کے میدان میں ایک نئے دور کا آغاز بھی ہے۔ "درد کی چھاؤں میں" اردو ادب میں ایک اہم اضافہ ہے، جو قاری کو انسانی جذبات اور فکر کے مختلف رنگوں سے روشناس کراتا ہے۔ اس مجموعے کی نظمیں دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں اور قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔
آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ "درد کی چھاؤں میں" احمد منہاج کی فکری گہرائی اور لسانی مہارت کا شاہکار ہے، جو اردو ادب کے شائقین کے لیے ایک لازوال خزانہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
شیریں سخن ۔۔۔۔ از طاہرہ مسعود
۔۔۔۔۔۔۔
طاہرہ مسعود، اردو ادب کی ایک ممتاز شاعرہ، اپنی نادر تخلیقی صلاحیتوں کی بہ دولت آج دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم ہونے کے باوجود، ان کی شاعری میں وطن کی محبت، زبان کا حُسن اور ثقافتی رنگ نمایاں طور پر موجود ہیں۔ ان کا تیسرا شعری مجموعہ شیریں سخن" نہایت موزوں نام کے ساتھ، ان کی فن کارانہ مہارت اور جذباتی نزاکت کا آئینہ دار ہے۔
"شیریں سخن" کی غزلیں، جہاں روایتی عشقیہ مضامین کو اپنی انفرادیت سے نوازتی ہیں، وہیں عصرِ حاضر کے مسائل اور انسانی حیات کی پے چیدگیوں کو بھی انتہائی باریک بینی سے اُجاگر کرتی ہیں۔ طاہرہ مسعود کی شاعری کا خاصہ ان کا فارسی اور عربی زبان کے الفاظ کا خوش اسلوبی سے استعمال ہے، جو ان کے اشعار کو ایک لافانی چاشنی عطا کرتا ہے۔ ان کے کلام میں جہاں محبت کی شیرینی ہے، وہیں درد کی تلخی بھی ایک منفرد انداز میں جلوہ گر ہے۔
"شیریں سخن" کی اہمیت صرف اس کی غزلوں میں ہی نہیں، بلکہ اس میں شامل غیر مطبوعہ کلام میں بھی ہے، جو ان کے شعری سفر کی ابتدا سے لے کر حال تک کے تجربات اور احساسات کو محفوظ کرتا ہے۔ یہ مجموعہ 2023 کے بہترین شعری مجموعوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے، جو طاہرہ مسعود کی شعری عظمت کا ثبوت ہے۔
اس کی قیمت 900 روپے ہے، جو اس کی ادبی وقعت اور قیمتی مواد کے لحاظ سے نہایت مناسب ہے۔ **"شیریں سخن"** ہر اُس قاری کے لیے ایک لازوال خزانہ ہے جو اردو غزل کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہونے کا خواہاں ہو۔ یہ مجموعہ نہ صرف طاہرہ مسعود کی شاعری کا سنگِ میل ہے، بلکہ اردو ادب کی ثروت میں بھی ایک گراں قدر اضافہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔
تحریر : ادارہ
آس پبلی کیشن
۔۔۔۔۔۔
رابطہ : 03212043587
۔۔۔۔۔۔
اپنی کتابوں کی ،بہترین اشاعت کے لیے
معتبر ترین ادارہ ۔
آس پبلی کیشن ۔اردو بازار کراچی

"سرمد کا اغوا" اور "کاوش صدیقی کا اغوا" ابن آس محمد کے قلم سے  بچوں کے لیے سنسنی خیز اور دلچسپ جاسوسی کہانیاں۔۔۔۔۔ابن آس...
27/08/2024

"سرمد کا اغوا" اور "کاوش صدیقی کا اغوا"
ابن آس محمد کے قلم سے
بچوں کے لیے سنسنی خیز اور دلچسپ جاسوسی کہانیاں
۔۔۔۔۔

ابن آس کے ناول "سرمد کا اغوا" اور "کاوش صدیقی کا اغوا" بچوں اور نوجوانوں کے لیے انتہائی پرلطف اور دل چسپ جاسوسی ناول ہیں، جو تجسس کے تانے بانوں سے بُنے گئے ہیں۔ ان ناول کی کہانیوں میں تین ننھے، مگر ذہین بچے—بنٹی، ڈبو اور شبو—مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، جو اپنی بےپناہ عقل و شعور اور دلیری کے ذریعے چھوٹے چھوٹے جرائم کی تحقیقات کرتے ہیں۔ یہ کہانیاں ان بچوں کے حوصلے اور اجتماعی کوششوں کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں، جو قارئین کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان میں مسائل کا سامنا کرنے اور انہیں حل کرنے کی قوت پیدا کرتی ہیں۔
۔
"سرمد کا اغوا" کی داستان کا مرکزی نقطہ سرمد کا اغوا ہے، جسے بنٹی، ڈبو اور شبو اپنی ذہانت، اجتماعی بصیرت اور شجاعت کے ذریعے حل کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ یہ داستان قاری کو ایک نہ ختم ہونے والے تجسس میں مبتلا کرتی ہے، جہاں بچے پیچیدہ مسائل کا سامنا کرتے ہوئے مجرموں کے چہرے سے نقاب اُتارتے ہیں۔ سرمد کی اصل حقیقت کہانی کو ایک نیا اور حیرت انگیز موڑ دیتی ہے، جو قاری کو چونکا دیتا ہے۔

ابن آس کا یہ ناول نہ صرف تفریح فراہم کرتا ہے بلکہ بچوں کی تخلیقی سوچ اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھاتا ہے۔ کہانی کے پیچیدہ موڑ اور دلچسپ حالات بچوں کے ذہنوں کو مصروف رکھتے ہیں اور انہیں اپنی توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ مزید برآں، بنٹی، ڈبو اور شبو جیسے کردار بچوں کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے اور اپنی ذہانت کو بروئے کار لانے کی تحریک دیتے ہیں۔
بچوں کے لیے جاسوسی ناول نہایت ضروری ہیں کیونکہ یہ ان کی تخیل کی پرواز کو بلند کرتے ہیں اور ان میں تفکر اور استدلال کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ ایسی کہانیاں بچوں کی ذہنی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، کیونکہ یہ کہانیاں انہیں منطقی استدلال، تجسس کے تسلسل اور مسائل کے حل کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ ناول بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا کرتے ہیں اور ان کے تجسس کو زندہ رکھتے ہیں، جو کہ ان کی علمی اور اخلاقی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔
۔
"کاوش صدیقی کا اغوا"
ابن آس کا ایک اور شاہکار، "کاوش صدیقی کا اغوا"، بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایک پُراثر جاسوسی کہانی ہے جو قاری کو ابتدا سے لے کر انتہا تک اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔ اس کہانی میں تین ننھے جاسوس۔۔۔ بنٹی، ڈبو، اور شبو—کی جرات مندی اور ذہانت کو مرکزیت دی گئی ہے، جو ایک مشہور ادیب کاوش صدیقی کے اغوا کے پیچیدہ معمہ کو حل کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔
"کاوش صدیقی کا اغوا" کی کہانی میں اس معروف شخصیت کے اچانک غائب ہونے کی وجوہات کا پتہ لگانا ایک نہایت پیچیدہ مسئلہ بن جاتا ہے۔ بنٹی، ڈبو، اور شبو نے پہلے بھی کئی چھوٹے جرائم کو حل کیا ہوتا ہے، لیکن اس بار انہیں ایک بڑے اور سنجیدہ معاملے کا سامنا ہے۔ ان بچوں کی کاوش کہ وہ اغوا کے معمہ کو حل کریں اور کاوش صدیقی کو بچا سکیں، کہانی کو نہایت سنسنی خیز اور دلچسپ بنا دیتی ہے۔
"سرمد کا اغوا" اور "کاوش صدیقی کا اغوا" جیسے جاسوسی ناول بچوں کے لیے نہایت مفید ہیں، کیونکہ یہ انہیں تفریح فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ کہانیاں بچوں کو نہ صرف مسائل حل کرنے کی صلاحیتیں سکھاتی ہیں بلکہ انہیں انصاف کے لیے کھڑا ہونے اور صحیح و غلط کی تمیز کرنے کی اہمیت بھی سکھاتی ہیں۔

ابن آس کے یہ ناول ہر اس بچے کے لیے پڑھنے کے لائق ہیں جو تجسس، سنسنی، اور عقل و دانش سے بھرپور کہانیوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ یہ کہانیاں ان کی ذہنی نشوونما اور علمی ترقی میں بے حد معاون ثابت ہوں گی۔

تحریر: ادارہ
آس پبلی کیشن ۔۔اردو بازار ۔کراچی ۔
رابطہ : 03212043587

" امی سچ کہتی ہیں "بچوں کے لیے ان کے بچپن کا ان مول تحفہکہانیوں کا ایک بہترین مجموعہ ،جو بچوں کی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے ...
26/08/2024

" امی سچ کہتی ہیں "
بچوں کے لیے ان کے بچپن کا ان مول تحفہ
کہانیوں کا ایک بہترین مجموعہ ،جو بچوں کی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
فوزیہ عرفان کراچی سے تعلق رکھنے والی، بچوں کی ایک ممتاز ادیبہ ہیں، جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے بچوں کی ادبی دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی تحریریں نہ صرف دل چسپ ہوتی ہیں بلکہ وہ بچوں کی تربیت و تعلیم میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
فوزیہ عرفان نے بچوں کے لیے جو کہانیاں لکھی ہیں، وہ بچوں کی فطرت، معصومیت، اور ان کے جذبات کی عکاسی کرتی ہیں۔ وہ اپنی تحریروں میں اسلوب کی خوب صورتی کے ساتھ ساتھ بچوں کی نفسیات کو مدنظر رکھتی ہیں اور ایسی کہانیاں تخلیق کرتی ہیں جو نہ صرف بچوں کو تفریح فراہم کرتی ہیں بلکہ ان کے ذہنوں میں اچھے اخلاق، سماجی اقدار اور اسلامی تعلیمات کی روشنی بھی ڈالتی ہیں۔

فوزیہ عرفان کی کتاب "امی سچ کہتی ہیں" منظر عام پر آ چکی ہے، جس میں کل اٹھارہ کہانیاں شامل ہیں۔ یہ کہانیاں بچوں کے لیے ایسی نصیحتوں اور اخلاقی تعلیمات پر مشتمل ہیں جو عموماً مائیں اپنے بچوں کو ان کی کم عمری میں سکھاتی ہیں۔
اس کتاب کی ہر کہانی میں فوزیہ عرفان نے بچوں کو زندگی کی اہم باتیں سکھانے کی کوشش کی ہے۔ آئیے ہر کہانی پر مختصر روشنی ڈالتے ہیں۔

السلام علیکم۔۔۔ ادب کا پہلا قدم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کہانی میں بچوں کو سلام کرنے کی اہمیت اور فضیلت سکھائی گئی ہے۔ اسلام میں سلامتی اور امن کا پیغام دینا بہت بڑی نیکی ہے، اور فوزیہ عرفان نے اس کہانی کے ذریعے بچوں کو یہ نیکی کرنے کی ترغیب دی ہے۔ بچوں کو بتایا گیا ہے کہ سلام کرنا ایک سنت عمل ہے جو نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں شامل ہے، اور یہ کہ اس سے لوگوں کے دلوں میں محبت اور احترام پیدا ہوتا ہے۔

شریر بچے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"شریر بچے" کہانی میں فوزیہ عرفان نے بچوں کو شرارت اور بد تمیزی کے فرق کو واضح کیا ہے ، دوسروں کے ساتھ محبت اور اچھے سلوک کی اہمیت بتائی ہے۔ کہانی کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ شریر ہونا بری بات نہیں ، بد تمیز ہونا بری بات ہے ۔۔۔ شرارت میں بھی اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ کہانی بچوں کی اخلاقی تربیت کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔

آخر ہم بھی انسان ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی بچوں کو دوسروں کے حقوق کی پہچان اور ان کے ساتھ عدل و انصاف سے پیش آنے کی اہمیت سکھاتی ہے۔ فوزیہ عرفان نے اس کہانی کے ذریعے بچوں کو یہ درس دیا ہے کہ کسی بھی شخص کو کم تر نہ سمجھیں اور سب کے ساتھ مساوی سلوک کریں۔

جان وروں کے ساتھ سلوک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کہانی میں فوزیہ عرفان نے بچوں کو جان وروں کے حقوق اور ان کے ساتھ اچھے سلوک کی اہمیت بتائی ہے۔ کہانی کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ جان ور بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے ساتھ شفقت اور محبت سے پیش آنا چاہیے۔

بیمار کی عیادت کے فائدے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فوزیہ عرفان نے اس کہانی میں بچوں کو بیماروں کی عیادت کرنے کی اہمیت بتائی ہے۔ عیادت ایک ایسا عمل ہے جس سے نہ صرف بیمار خوش ہوتے ہیں بلکہ یہ عمل اللہ کے نزدیک بھی محبوب ہے۔ اس کہانی کے ذریعے بچوں کو عیادت کی فضیلت اور اس کے اجر کی اہمیت سمجھائی گئی ہے۔

ہمارے ماں باپ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی والدین کی خدمت اور ان کی عزت کی اہمیت پر مبنی ہے۔ فوزیہ عرفان نے بچوں کو بتایا ہے کہ والدین کا احترام اور ان کی خدمت کرنا نہ صرف دینی فریضہ ہے بلکہ دنیاوی کامیابی کا ذریعہ بھی ہے۔ اور یہ سب کچھ ایک دل چسپ کہانی کے ذریعے سمجھایا اور سکھایا گیا ہے ۔

خوش رہنے کا نسخہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کہانی میں بچوں کو خوش رہنے کے طریقے بتائے گئے ہیں۔ فوزیہ عرفان نے اس کہانی کے ذریعے بچوں کو سکھایا ہے کہ دوسروں کی مدد کرنا، سچ بولنا اور اللہ کا شکر ادا کرنا خوشی کے بنیادی اصول ہیں۔

صلح کروانے کا ثواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی بچوں کو صلح کروانے اور لوگوں کے درمیان اختلافات ختم کرنے کی اہمیت بتاتی ہے۔ فوزیہ عرفان نے اس کہانی کے ذریعے بچوں کو یہ درس دیا ہے کہ صلح کروانا اللہ کے نزدیک بہت بڑا عمل ہے اور اس کا اجر عظیم ہے۔

قصہ ایک پکنک کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی بچوں کو پکنک کے ذریعے تفریح کا موقع فراہم کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ انہیں یہ سکھاتی ہے کہ تفریح کے دوران بھی اچھے اخلاق اور نظم و ضبط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔

رمضان کی برکت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فوزیہ عرفان نے اس کہانی میں بچوں کو رمضان کے مہینے کی برکتوں اور فضیلتوں کے بارے میں بتایا ہے۔ بچوں کو یہ سکھایا گیا ہے کہ روزے رکھنا اور عبادت کرنا اللہ کے نزدیک بہت بڑا عمل ہے۔ اور اس پس منظر میں نہایت عمدہ کہانی بیان کی گئی ہے ۔

گھڑی اور ہماری زندگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کہانی میں وقت کی اہمیت اور اس کی قدر و قیمت سکھائی گئی ہے۔ فوزیہ عرفان نے بچوں کو یہ درس دیا ہے کہ وقت کی پابندی اور اس کا صحیح استعمال کام یابی کا راز ہے۔

مہمان: جام یابی کا راستہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی بچوں کو مہمان نوازی کی اہمیت بتاتی ہے۔ فوزیہ عرفان نے اس کہانی کے ذریعے بچوں کو سکھایا ہے کہ مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں اور ان کی خدمت کرنا باعث برکت ہے۔
فوزیہ عرفان نے اس کہانی میں بچوں کو کامیابی حاصل کرنے کے اصول بتائے ہیں۔

پیارے نبی کے پیارے اعمال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کہانی میں بچوں کو نبی کریم ﷺ کے اعمال اور سنتوں کی پیروی کرنے کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ فوزیہ عرفان نے اس کہانی کے ذریعے بچوں کو سکھایا ہے کہ سنتوں پر عمل کرنا دنیا اور آخرت دونوں میں کام یابی کا ذریعہ ہے۔

استاد قابل عزت ہستی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فوزیہ عرفان نے اس کہانی میں استاد کی عزت اور ان کے مقام کی اہمیت بتائی ہے۔ بچوں کو سکھایا گیا ہے کہ استاد کی عزت اور ان کی بات ماننا ایک طالب علم کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اور یہ سب کچھ ایک بہترین کہانی کے ذریعے سکھایا گیا ہے ۔

اپنا حصہ ڈالو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی بچوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لیے ہے۔ فوزیہ عرفان نے بچوں کو سکھایا ہے کہ معاشرے کی بھلائی کے لیے ہر فرد کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔

اللہ دیکھ رہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فوزیہ عرفان نے اس کہانی میں بچوں کو اللہ کے خوف اور نیکی کرنے کی ترغیب دی ہے۔ کہانی کا پیغام یہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ ہر وقت ہماری نگرانی کر رہا ہے۔

گھمنڈی لوگوں کا انجام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کہانی میں فوزیہ عرفان نے بچوں کو گھمنڈ اور غرور کے نقصان بتائے ہیں۔ کہانی کا پیغام یہ ہے کہ عاجزی اور انکساری اللہ کو پسند ہے اور گھمنڈی لوگوں کا انجام برا ہوتا ہے۔

ربی زدنی علما
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی علم کی اہمیت اور اس کے حصول کی ترغیب دیتی ہے۔ فوزیہ عرفان نے بچوں کو سکھایا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور علم ہی انسان کی اصل دولت ہے۔
کتاب کی اہمیت والدین کے لیے اہم پیغام
۔۔۔۔۔۔۔۔
"امی سچ کہتی ہیں" کی کہانیاں نہایت اہم ہیں کیوں کہ یہ بچوں کو زندگی کے ابتدائی دور میں وہ تربیت فراہم کرتی ہیں جو ان کے مستقبل کے لیے بنیاد بنتی ہے۔
والدین کی طرف سے بچوں کے لیے یہ کتاب ایک قیمتی تحفہ ہے کیوں کہ اس میں شامل کہانیاں نہ صرف بچوں کی اخلاقی تربیت کرتی ہیں بلکہ انہیں زندگی کی مختلف آزمائشوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار بھی کرتی ہیں۔
یہ کتاب بچوں کو نہ صرف اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا درس دیتی ہے ،بلکہ انہیں انسان اور انسانی سماج میں بہترین انسان کے طور پر خود پیش کرنے کا ہنر سے سکھاتی ہے اور انہیں ایک کام یاب اور خوش حال زندگی کے اصول سکھاتی ہے۔
والدین کو یقین دلایا جا سکتا ہے کہ "امی سچ کہتی ہیں" جیسی کتابیں بچوں کی زندگی کو سنوارنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
فوزیہ عرفان ایک ایسی ادیبہ ہیں جو بچوں کی نفسیات کو بہ خوبی سمجھتی ہیں اور اس کا اظہار ان کی کہانیوں میں بہ درجہ اتم موجود ہوتا ہے۔ ان کی تحریروں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ نہ صرف بچوں کے دل کو بھاتی ہیں بلکہ ان کی ذہنی نشوونما اور اخلاقی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
فوزیہ عرفان کی کہانیاں محض نصیحتیں نہیں ہیں، بلکہ وہ ایسی دل چسپ اور دل کش کہانیاں تخلیق کرتی ہیں جو بچوں کے دلوں میں گھر کر جاتی ہیں۔ ہر کہانی میں وہ اس طرح سے پیغام پہنچاتی ہیں کہ بچہ کہانی کی کشش میں کھو کر خود بخود اس پیغام کو سمجھ لیتا ہے اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

فوزیہ عرفان کی کہانیوں کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ بچوں کی روزمرہ کی زندگی سے بہت قریب ہوتی ہیں۔ کہانیوں کے کردار اور واقعات بچوں کی دنیا سے جڑے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے بچے نہ صرف کہانیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ ان سے بہت کچھ سیکھتے بھی ہیں۔ فوزیہ عرفان نے اپنی تحریروں میں بچوں کی عمر، دل چسپیوں اور ان کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی کہانیاں ہر عمر کے بچوں کے لیے مفید اور دل چسپ ثابت ہوتی ہیں۔

والدین کے لیے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ "امی سچ کہتی ہیں" جیسی کتابیں ان کے بچوں کی ابتدائی تربیت کے لیے کتنی اہم ہیں۔ خاص طور پر 6 سے 12 سال کی عمر کے بچوں کے لیے یہ کتاب نہایت موزوں ہے، کیوں کہ اس عمر میں بچے سیکھنے اور سمجھنے کے عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ یہ وہ دور ہوتا ہے جب بچوں کی شخصیت کی تعمیر ہو رہی ہوتی ہے، اور فوزیہ عرفان کی کہانیاں بچوں کو اس عمر میں بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

"امی سچ کہتی ہیں" ایک ایسی کتاب ہے جو بچوں کو نہ صرف اسلامی تعلیمات سے روشناس کراتی ہے بلکہ انہیں اچھے اخلاق، سماجی ذمے داریوں اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کی سمجھ بھی دیتی ہے۔ یہ کتاب بچوں کے بستے میں ہر وقت موجود ہونی چاہیے کیوں کہ یہ ان کی روزمرہ کی زندگی کے لیے ایک بہترین ساتھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کتاب کی کہانیاں بچوں کو نہ صرف اچھی عادتیں اپنانے کی ترغیب دیتی ہیں بلکہ انہیں زندگی کی مختلف مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار بھی کرتی ہیں۔

لہٰذا، والدین کے لیے یہ نہایت اہم ہے کہ وہ اس کتاب کو اپنے بچوں کی ابتدائی تربیت کا حصہ بنائیں اور انہیں ان کہانیوں کے ذریعے بہتر انسان بنانے کی کوشش کریں۔ "امی سچ کہتی ہیں" جیسی کتابیں بچوں کے لیے بہترین تحفہ ہیں جو ان کے مستقبل کو روشن اور کامیاب بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
یہ ایک باتصویر کتاب ہے ۔ہر کہانی کا خوب صورت اسکیچ بنوایا گیا ہے ۔
کتاب بڑے سائز میں ہے ۔۔۔
سفید کاغذ پر ہے ۔اور خوب صورت ہارڈ بائنڈنگ میں ہے ۔
۔۔۔۔
تحریر : ادارہ ۔
(آس پبلی کیشن . اردو بازار کراچی )
۔
گھر بیٹھے منگوانے کے لیے ابھی رابطہ کریں ۔
قیمت : 800 روپے ( ڈاک خرچ فری )
۔۔۔
رابطہ :
۔ 03212043587
۔03162608616

قلندر بابابچوں اور نوجوانوں کے لیے ۔۔ ایک لاجواب ناول ۔۔۔۔۔سید عرفان علی یوسف کا بچوں کے لیے لکھا گیا ناول "قلندر بابا" ...
25/08/2024

قلندر بابا

بچوں اور نوجوانوں کے لیے ۔۔ ایک لاجواب ناول
۔۔۔۔۔
سید عرفان علی یوسف کا بچوں کے لیے لکھا گیا ناول "قلندر بابا" اردو ادب میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ کہانی ایک غیر معمولی اور پراسرار کردار، قلندر بابا، کے گرد گھومتی ہے، جس کی موجودی اور عدم موجودی خود ایک راز سے کم نہیں۔ اس کہانی کا مرکزی کردار، نعمان، ایک معصوم اور تجسس سے بھرپور بچہ ہے، جو اس پراسرار شخصیت کی حقیقت جاننے کے لیے مسلسل کوشاں رہتا ہے۔ اس ناول کو آپ " نیلے پہاڑوں کا راز" کی دوسری کڑی کیہہ سکتے ہیں ، اگرچہ یہ مکمل ناول ہے ۔
قلندر بابا کی شخصیت میں ایسی گہرائی اور پیچیدگی ہے جو کہانی کو دلکش اور پُر اثر بناتی ہے۔ نعمان کی بے قرار فطرت اور قلندر بابا کے ناقابل فہم اعمال، کہانی کو ایک پراسرار ماحول میں لے جاتے ہیں جہاں حقیقت اور خیال کی سرحدیں مٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ نعمان کے ذہن میں اُٹھنے والے سوالات، قلندر بابا کی آمد و رفت کی پوشیدہ وجوہ ، اور اس کردار کے پس پردہ راز، بچوں کو ایک غیر معمولی دنیا میں لے جاتے ہیں۔

ناول میں نعمان کی جستجو اور مہم جوئی کا سلسلہ دراصل انسانی تجسس اور علم کی طلب کی علامت ہے۔ نعمان کی یہ مہمات اسے مختلف مراحل اور حالات سے گزارتی ہیں، جہاں وہ نہ صرف دنیا کے پوشیدہ رازوں سے واقف ہوتا ہے بلکہ اپنے اندرونی خوف اور وسوسوں کا بھی سامنا کرتا ہے۔ ہر مہم ایک نیا سبق اور نئی بصیرت فراہم کرتی ہے، اور ہر بار نعمان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ قلندر بابا کے راز کے قریب پہنچ رہا ہے، لیکن پھر ایک نیا پہلو سامنے آجاتا ہے جو اس کی جستجو کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

قلندر بابا کا کردار ایک فلسفیانہ پہلو بھی رکھتا ہے، جو زندگی کے پراسرار حقائق کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ کہاں سے آتے ہیں اور کہاں چلے جاتے ہیں، اس سوال کا جواب پوری کہانی میں ایک اسرار کے پردے میں چھپا رہتا ہے۔ جب آخرکار اس راز سے پردہ اُٹھتا ہے، تو کہانی میں حیرت و استعجاب کے نئے در وا ہوتے ہیں، جو نعمان اور قارئین دونوں کے لیے ایک عمیق فکری تجربہ ثابت ہوتا ہے۔
"قلندر بابا" ایک ایسی داستان ہے جو نہ صرف بچوں کے لیے ایک دلچسپ اور مہم جوئی سے بھرپور کہانی فراہم کرتی ہے، بلکہ ان کے ذہنوں کو فلسفیانہ سوالات اور زندگی کے پراسرار پہلوؤں پر غور و فکر کی دعوت بھی دیتی ہے۔
سید عرفان علی یوسف نے اس ناول کے ذریعے بچوں کے لیے ایک ایسا ادبی شاہکار تخلیق کیا ہے، جو ان کے ادبی ذوق کو جلا بخشتا ہے اور انہیں علم کی جستجو میں مصروف رکھتا ہے۔ قلندر بابا کی شخصیت اور نعمان کی مہمات، اس کہانی کو اردو ادب میں ایک نایاب اور لازوال مقام عطا کرتی ہیں۔

سید عرفان علی یوسف کے ناول "قلندر بابا" میں موجود پراسراریت اور فلسفیانہ پہلو کہانی کو صرف ایک مہم جوئی کے قصے سے کہیں بڑھ کر ایک عمیق اور معنی خیز تجربہ بناتے ہیں۔ اس ناول کا پلاٹ ہمیں نعمان کے ہمراہ ایک ایسے سفر پر لے جاتا ہے جو بظاہر ایک بچے کی سادہ سی جستجو معلوم ہوتا ہے، لیکن جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے، اس کی تہہ در تہہ پیچیدگیوں کا ادراک ہوتا ہے۔

قلندر بابا کا کردار ایک ایسی علامت ہے جو صدیوں سے روحانیت اور معرفت کی تلاش میں سرگرداں انسان کی عکاسی کرتا ہے۔ نعمان کی حیرانی اور اس کے دل میں پیدا ہونے والے سوالات دراصل ان سوالات کی نمائندگی کرتے ہیں جو ہر انسان کے دل میں کسی نہ کسی موڑ پر جنم لیتے ہیں۔ قلندر بابا کے ہر عمل اور ہر گفتگو میں چھپے معانی، نعمان کو ایک نئی سوچ اور فکری سفر کی جانب مائل کرتے ہیں۔

کہانی میں موجود پراسرار مقامات، جن کی طرف قلندر بابا کے قدم اٹھتے ہیں، دراصل انسان کے اندرونی مناظر اور روحانی منازل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ نعمان کا ان مقامات کی جانب کشش محسوس کرنا، اور وہاں پہنچ کر نئے رازوں کا سامنا کرنا، دراصل اس کی روحانی ترقی اور فکری بلوغت کی جانب اشارہ ہے۔

قلندر بابا کے اصل راز کا افشا ہونا، جہاں نعمان کو حیران و پریشان کرتا ہے، وہیں اس کے لیے ایک نیا باب بھی کھولتا ہے۔ اس لمحے نعمان اور قارئین دونوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ حقیقت ہمیشہ بظاہر جو نظر آتی ہے، اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور پراسرار ہوتی ہے۔ یہ راز محض قلندر بابا کی ذات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک گہری فلسفیانہ اور روحانی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے، جو انسانی زندگی اور کائنات کی بھید بھری گہرائیوں کو سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔
"قلندر بابا" ایک ایسا ناول ہے جو بچوں کے لیے ایک مہم جوئی کی داستان ہونے کے ساتھ ساتھ، ایک گہری فلسفیانہ اور روحانی تجربہ بھی پیش کرتا ہے۔
سید عرفان علی یوسف نے اس کہانی میں ایسی گہرائی اور پیچیدگی پیدا کی ہے جو بچوں کے ادب کے قارئین کو ایک منفرد تجربہ فراہم کرتی ہے۔ قلندر بابا کا کردار، اپنی پراسراریت کے باوجود، حقیقت کے گہرے رازوں کو کھوجنے کی تحریک دیتا ہے، اور نعمان کی جستجو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کے سوالات کے جوابات ہمیشہ ظاہری سطح پر نہیں ملتے، بلکہ ان کے لیے گہرائی میں اترنا ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔
( تحریر : ادارہ آس پبلی کیشن )
۔۔۔۔
قیمت : 600
ڈلیوری مفت
۔۔۔۔۔۔
رابطہ : آس پبلی کیشن ۔اردو بازار ۔کراچی
۔03212043587
۔03162608616
۔۔۔۔۔۔

نیلے پہاڑوں کا رازبچوں کے لیے سید عرفان علی یوسف کا  تحریر کردہ ایک شاہ کار ناول ۔۔۔۔۔۔سید عرفان علی یوسف کا بچوں کے لیے...
25/08/2024

نیلے پہاڑوں کا راز
بچوں کے لیے سید عرفان علی یوسف کا تحریر کردہ ایک شاہ کار ناول
۔۔۔۔۔۔

سید عرفان علی یوسف کا بچوں کے لیے تخلیق کردہ ناول، "نیلے پہاڑوں کا راز" بچوں کے ادب میں ایک ممتاز مقام کا حامل ہے۔ یہ ناول نہ صرف کہانی کی گہرائی اور پیچیدگی کی بناء پر بچوں کے ادبی افق پر اپنی الگ پہچان رکھتا ہے، بلکہ اس میں موجود لغوی اور معنوی رنگا رنگی، تخیل کی پرواز، اور الفاظ کی بنت بچوں کے اذہان میں علم اور شعور کی نمو کے لیے بے مثال تحریک فراہم کرتی ہے۔

اس ناول کی کہانی انیسویں صدی کے عظیم رومانوی ادب کی یاد دلاتی ہے، جہاں پراسرار مقامات اور عجیب و غریب کرداروں کے درمیان ایک دلچسپ اور محیر العقول داستان بُنی گئی ہے۔
"نیلے پہاڑوں کا راز" میں موجود کرداروں کی نفسیات، ان کے جذباتی تضادات، اور ان کی عقل و فہم کی چپقلش، سید عرفان علی یوسف کی ادبی مہارت اور بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ناول کے مرکزی کردار،نعمان اور اس کے دوستوں کی مہم جوئی، بچوں اور نو عمروں کو ایک خواب ناک اور پراسرار دنیا میں لے جاتی ہے جہاں ہر لمحہ نیا راز افشا ہوتا ہے اور ہر گھڑی ایک نیا چیلنج سامنے آتا ہے۔

عرفان علی یوسف نے اس ناول میں بچوں کے ذوق کے عین مطابق زبان استعمال کی ہے، جس میں عربی، فارسی، اور مقامی اردو کے الفاظ کی آمیزش نہایت خوبصورت انداز میں کی گئی ہے۔ ان کا اسلوب تحریر، جو کہ نہایت پر اثر اور جامع ہے، بچوں کے ذہن میں ادب کے تئیں ایک گہرا اثر چھوڑتا ہے۔

ناول کے پلاٹ میں موجود پیچیدہ ربط و ضبط، کہانی کے تسلسل کے دوران سامنے آنے والے مسائل اور ان کے حل کی جستجو، سید عرفان علی یوسف کی فنی مہارت کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے اپنی اس تخلیق میں نہ صرف بچوں کی دلچسپیوں کا خیال رکھا ہے بلکہ ان کی ذہنی و فکری تربیت پر بھی زور دیا ہے۔
"نیلے پہاڑوں کا راز" بچوں کے لیے لکھے گئے ادب کا ایک نادر نمونہ ہے جو ان کے تخیل کو مہمیز دیتا ہے اور انہیں زندگی کے حقیقی اسرار و رموز کو سمجھنے کی جانب راغب کرتا ہے۔
"نیلے پہاڑوں کا راز" سید عرفان علی یوسف کا ایسا ناول ہے جو بچوں کی ادب میں ایک مستقل مقام رکھتا ہے۔ یہ ناول نہ صرف بچوں کی ادبی تربیت کے لیے نہایت مفید ہے بلکہ ان کے علمی، جذباتی، اور تخلیقی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی زبان، اسلوب، اور پلاٹ کی پیچیدگی بچوں کے ذوق کو جلا بخشتی ہے اور انہیں زندگی کے گہرے حقائق سے روشناس کراتی ہے۔
۔
( تحریر : شاہانہ خٹک)
۔۔۔۔۔۔
قیمت : 600 روپے
ڈاک خرچ فری
رابطہ واٹس ایپ
۔03212043587
۔03162608616

"سرمد کا اغوا" اور "کاوش صدیقی کا اغوا" ابن آس محمد کے قلم سے  بچوں کے لیے سنسنی خیز اور دلچسپ جاسوسی کہانیاں۔۔۔۔۔ابن آس...
24/08/2024

"سرمد کا اغوا" اور "کاوش صدیقی کا اغوا"
ابن آس محمد کے قلم سے
بچوں کے لیے سنسنی خیز اور دلچسپ جاسوسی کہانیاں
۔۔۔۔۔

ابن آس کے ناول "سرمد کا اغوا" اور "کاوش صدیقی کا اغوا" بچوں اور نوجوانوں کے لیے انتہائی پرلطف اور دل چسپ جاسوسی ناول ہیں، جو تجسس کے تانے بانوں سے بُنے گئے ہیں۔ ان ناول کی کہانیوں میں تین ننھے، مگر ذہین بچے—بنٹی، ڈبو اور شبو—مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، جو اپنی بےپناہ عقل و شعور اور دلیری کے ذریعے چھوٹے چھوٹے جرائم کی تحقیقات کرتے ہیں۔ یہ کہانیاں ان بچوں کے حوصلے اور اجتماعی کوششوں کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں، جو قارئین کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان میں مسائل کا سامنا کرنے اور انہیں حل کرنے کی قوت پیدا کرتی ہیں۔
۔
"سرمد کا اغوا" کی داستان کا مرکزی نقطہ سرمد کا اغوا ہے، جسے بنٹی، ڈبو اور شبو اپنی ذہانت، اجتماعی بصیرت اور شجاعت کے ذریعے حل کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ یہ داستان قاری کو ایک نہ ختم ہونے والے تجسس میں مبتلا کرتی ہے، جہاں بچے پیچیدہ مسائل کا سامنا کرتے ہوئے مجرموں کے چہرے سے نقاب اُتارتے ہیں۔ سرمد کی اصل حقیقت کہانی کو ایک نیا اور حیرت انگیز موڑ دیتی ہے، جو قاری کو چونکا دیتا ہے۔

ابن آس کا یہ ناول نہ صرف تفریح فراہم کرتا ہے بلکہ بچوں کی تخلیقی سوچ اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھاتا ہے۔ کہانی کے پیچیدہ موڑ اور دلچسپ حالات بچوں کے ذہنوں کو مصروف رکھتے ہیں اور انہیں اپنی توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ مزید برآں، بنٹی، ڈبو اور شبو جیسے کردار بچوں کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے اور اپنی ذہانت کو بروئے کار لانے کی تحریک دیتے ہیں۔
بچوں کے لیے جاسوسی ناول نہایت ضروری ہیں کیونکہ یہ ان کی تخیل کی پرواز کو بلند کرتے ہیں اور ان میں تفکر اور استدلال کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ ایسی کہانیاں بچوں کی ذہنی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، کیونکہ یہ کہانیاں انہیں منطقی استدلال، تجسس کے تسلسل اور مسائل کے حل کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ ناول بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا کرتے ہیں اور ان کے تجسس کو زندہ رکھتے ہیں، جو کہ ان کی علمی اور اخلاقی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔
۔
"کاوش صدیقی کا اغوا"
ابن آس کا ایک اور شاہکار، "کاوش صدیقی کا اغوا"، بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایک پُراثر جاسوسی کہانی ہے جو قاری کو ابتدا سے لے کر انتہا تک اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔ اس کہانی میں تین ننھے جاسوس۔۔۔ بنٹی، ڈبو، اور شبو—کی جرات مندی اور ذہانت کو مرکزیت دی گئی ہے، جو ایک مشہور ادیب کاوش صدیقی کے اغوا کے پیچیدہ معمہ کو حل کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔
"کاوش صدیقی کا اغوا" کی کہانی میں اس معروف شخصیت کے اچانک غائب ہونے کی وجوہات کا پتہ لگانا ایک نہایت پیچیدہ مسئلہ بن جاتا ہے۔ بنٹی، ڈبو، اور شبو نے پہلے بھی کئی چھوٹے جرائم کو حل کیا ہوتا ہے، لیکن اس بار انہیں ایک بڑے اور سنجیدہ معاملے کا سامنا ہے۔ ان بچوں کی کاوش کہ وہ اغوا کے معمہ کو حل کریں اور کاوش صدیقی کو بچا سکیں، کہانی کو نہایت سنسنی خیز اور دلچسپ بنا دیتی ہے۔
"سرمد کا اغوا" اور "کاوش صدیقی کا اغوا" جیسے جاسوسی ناول بچوں کے لیے نہایت مفید ہیں، کیونکہ یہ انہیں تفریح فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ کہانیاں بچوں کو نہ صرف مسائل حل کرنے کی صلاحیتیں سکھاتی ہیں بلکہ انہیں انصاف کے لیے کھڑا ہونے اور صحیح و غلط کی تمیز کرنے کی اہمیت بھی سکھاتی ہیں۔

ابن آس کے یہ ناول ہر اس بچے کے لیے پڑھنے کے لائق ہیں جو تجسس، سنسنی، اور عقل و دانش سے بھرپور کہانیوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ یہ کہانیاں ان کی ذہنی نشوونما اور علمی ترقی میں بے حد معاون ثابت ہوں گی۔

تحریر:
(بالاج سکندر )

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when New Books URDU posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to New Books URDU:

Share

Category