22/03/2026
۔
ڈاکٹر عتیق الرحمن لکھتے ہیں 👇👇👇
عید مبارک!
جس طرح پاکستانی افغانیوں کو کوسنے دیتے ہیں کہ 40 سال گزار کر پاکستان کے ساتھ وفادار نہیں، بالکل یہی حال خلیج میں مقیم پاکستانیوں کا بھی ہے۔
آج ایک جاننے والے کا تبصرہ تھا، "ایران بہت اچھا کرتا ہے جو ان بے غیرت اور منافق عربوں کو سیدھا کر رہا ہے، ان کو تباہ کر دینا چاہیے"
ہم نے دریافت فرمایا کہ "جناب عالی آپ کہاں سے محو گفتگو ہیں؟"
فرماتے ہیں "دبئی سے"
عرض کی حضرت ، آپ کیوں ان منافق عربوں کی خدمت گزاری کر رہے ہیں،ایران تشریف لے جائیں، جہاد میں بھی شامل ہو جائیں اور ساتھ ساتھ رہبر معظم کی خدمت بھی کیجئے گا۔
فرماتے ہیں "رزق حلال کماتا ہوں، ہم پاکستانی یہاں سے نکل جائیں تو ریت اور اونٹ 🐫 ہی باقی بچیں گے"
میں نے عرض کی کہ جناب آپ درست فرما رہے ہیں، آپ لوگ عربوں کی خدمت کر کہ ان کو اس قابل بنا رہے ہو کہ وہ امریکہ کی خدمت کرے، تو تم شریک مجرم ہوئے نا، اپنے آپ کو کوسنے دو جو بھی دینے ہیں
لیکن آگے سے فضول بحث کے علاوہ کیا منطقی جواب ممکن ہے ؟
دیکھو بھئی، اگر امارات کی کوئی ریفائنری تباہ ہوتی ہے تو پاکستانی بیروزگار ہوں گے ،
اگر قطر کی ایل این جی تباہ ہوتی ہے تو پاکستانی بیروزگار ہوں گے۔
اگر ریاض کا کوئی ہوٹل 🏨 ٹوٹتا ہے تو کسی پاکستانی کا رزق چھنے گا
اور ہم ایسی نمک حرام مخلوق ہیں، جس شہر میں جس فیکٹری میں ، جس ملک میں کماتے ہیں اسی کا برا سوچتے ہیں
ارے بھائی میرے جیسا کوئی شخص سعودیوں کو برا بھلا کہے جس نے 10 سال پہلے سعودی عرب سے ملنے والا جاب آفر لیٹر مسترد کیا ہے تو بات سمجھ میں آ سکتی ہے ، وہ لوگ جو اسی تھالی میں سے کھا رہے ہیں جس میں چھید کرنے کا سوچتے ہیں، تو پھر ان میں اور پاکستان میں 50 سال گزارنے کے بعد پاکستان سے دشمنی کرنے والے افغانیوں میں کیا فرق ہے؟
ایران میں رجیم چینج کی ہم سب کو فکر ہے، لیکن یقین کیجئے کسی بھی عرب ملک میں رجیم چینج ہوتا ہے تو وہاں موجود کسی پاکستانی کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا۔
یاد ہے نا جب لیبیا میں رجیم چینج ہوا، وہاں سے کروڑوں ڈالر کما کر بھیجنے والوں کا کیا حال ہوا تھا ؟ اس سے زیادہ برا حال پاکستانیوں کا ہوگا اگر کہیں رجیم چینج ہوتا ہے تو
عقل سے عاری لوگ اس تحریر کو ایران کی مخالفت یا امریکہ کی حمایت سے تعبیر کریں گے ، جب میری حمایت تو پاکستانیوں کی معیشت اور روزگار کے ساتھ ہے۔
میں دو دجالوں کے مقابلے میں ایران کے ساتھ ہوں، لیکن اگر مقابلہ ایران اور عرب دنیا کا ہو تو میں عرب ممالک کے ساتھ ہوں۔
میری خواہش وہی ہے جو ہر پاکستانی کی ہے، کہ ایران اور عرب دنیا کے درمیان تنازعہ نہ ہو، لیکن کچھ لوگوں کی خواہش بیحد عجیب ہے، وہ یہ چاہتے ہیں کہ ایران عرب دنیا کا تیا پانچہ کر دے لیکن عرب جوابا بھنگ پی کر سوئے رہیں۔
ایران اور عرب تنازعہ امت مسلمہ کی تباہی ہے، لیکن اس تباہی سے بچنے کی کنجی ایران کے پاس ہے اور ایران کو ذمہ دارانہ طرز عمل اپنانا ہوگا۔ اور اگر ایران کا اہل عرب سے تنازعہ ہوتا ہے میں پاکستانی معیشت کے ساتھ کھڑا ہوں، ۔جس کا انحصار عرب دنیا پر ہے