Khayaban e Kutab

Khayaban e Kutab Dear Book Lovers �
we have Urdu books and Novels series . And We Can Provide Any book which you want

26/03/2024

"ابھی پہلی محبت کے ...
بہت سے قرض باقی ہیں ...
ابھی پہلی مسافت کی ...
تھکن سے چُور ہیں پاؤں ...
ابھی پہلی رفاقت کا ...
ہر ایک گھاؤ سلامت ھے ...
ابھی مقتول خوابوں کو بھی دفنایا نہیں ھم نے ...
ابھی آنکھیں ہیں عدت میں ...
ابھی یہ سوگ کہ دن ہیں ...
ابھی اس کرب کی کیفیت سے باہر کیسے آ جائیں ...
ابھی اس زخم کو بھرنے دو ...
ابھی کچھ دن گزرنے دو ...
یہ غم کہ نیلگوں دریا ...
اتر جائیں تو سوچیں گے ...
ابھی یہ درد تازہ ھے ...
سنبھل جائیں تو سوچیں گے ...
ابھی یہ زخم رِستے ہیں ...
یہ بھر جائیں تو سوچیں گے ...
دوبارہ کب اجڑنا ھے "---!!!

’’ہم سب کے اندر اداسی ہے ‘ ایڈم ۔تنہائی کا ایک خلا ء جو.....جو مغرب ڈھلتے ہی ہمیں نگلنے کو منہ کھولے بیٹھا ہوتا ہے ۔ سار...
27/11/2023

’’ہم سب کے اندر اداسی ہے ‘ ایڈم ۔تنہائی کا ایک خلا ء جو.....جو مغرب ڈھلتے ہی ہمیں نگلنے کو منہ کھولے بیٹھا ہوتا ہے ۔ سارے دن کے کام کاج کے بعد.....اس وقت ہمیں ’انسانوں‘ کی ضرورت پڑتی ہے ۔ یہ اداسی کا وقت ہوتا ہے ۔ خوف اور تنہائی کا ۔ایک شخص اس وقت کو گزارنے کے لیے ہمیں کافی نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنے اردگرد بہت سے دوست اور رشتے اکٹھے کرنے چاہئیں تاکہ وہ ہر شام ہماری مدد کیا کریں۔‘‘
’’ہاں۔اسی لیے ہر شام کو ہم اپنی دنیا میں اپنے اپنے سیل فون لے کر سب سے کٹ کے بیٹھ جاتے تھے۔لوگ کہتے ہیں ‘ ہم اپنے فونز کے عادی ہو گئے ہیں۔ مگر اب مجھے لگتا ہے چے تالیہ کہ ہم ان لوگوں کے عادی ہو جاتے ہیں جو فون کے ذریعے ہم سے جڑے ہوتے ہیں۔‘‘

23/11/2023
اداس لمحو اجاڑ راتوںمیرے تخیل سے دور بھاگو یہ نیند مجھ سے بیزار کیوں ہے  ؟اس دکھ کو مجھ سے ہی پیار کیوں ہے  ؟یہ لوگ جو م...
19/11/2023

اداس لمحو
اجاڑ راتوں
میرے تخیل سے دور بھاگو
یہ نیند مجھ سے بیزار کیوں ہے ؟
اس دکھ کو مجھ سے ہی پیار کیوں ہے ؟
یہ لوگ جو میرے ہمسفر ہیں
یہ میری سوچوں سے بےخبر ہیں
یہ مجھ سے کہتے ہیں
تتلیوں پر میں جگنوؤں پر
کتاب لکھوں....!!
کہ چاہتوں کا نصاب لکھوں
انھیں میں کیسے بتاؤں کہ اب
بہار موسم گزر چکا ہے
اداس بے کل خزاں کا موسم
ہمارے دل میں اتر چکا ہے
ہمارے قہقوں کا
خوشبوؤں کا
وہ دورکب کا گزر چکا ہے
اب تو جینا وبال اپنا
نہ رنگ و روپ و جمال اپنا
تھا جس کو تھوڑا خیال اپنا
وہ شخص تو کب کا بچھڑ چکا ہے ....... 🍂

کاش بچے نہ مریںکاش جنگ کے اختتام تک وہ عارضی طور پر آسمانوں کی جانب چلے جائیںپھر جب وہ بحفاظت گھر لوٹیں اور ان کے والدین...
13/11/2023

کاش بچے نہ مریں
کاش جنگ کے اختتام تک
وہ عارضی طور پر آسمانوں کی جانب چلے جائیں
پھر جب وہ بحفاظت گھر لوٹیں
اور ان کے والدین ان سے پوچھیں
آپ کہاں تھے؟
تو وہ کہیں
ہم بادلوں کے ساتھ کھیل رہے تھے
__________
فلسطینی شاعر
غسان كنفانی

13/11/2023

اس نے بسم اللہ سے اپنی تقریر کا آغاز کیا تھا ہمیشہ کی طرح۔ اس نے مجمع کو قرآنی آیات سنائی تھیں۔ کہ عزت اور ذلت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اور اس کے بعد اس نے سراٹھا کر مجمع کو دیکھا تھا اور پھر جیسے اس کا ذہن خالی ہوگیا تھا۔ ایک لمحہ کے لئے وہ بھول گیا تھا کہ اسے وہاں کیا کہنا تھا۔ اس نے سر جھکا کر دوبارہ روسٹرم پر رکھے اس کاغذ پر نظر دوڑائی تھی جس پر اس نے اس تقریر کے نکات لکھے تھے۔ وہ ساری عمر صرف نکات نوٹ کرکے ہی تقریریں کرتا رہا تھا۔ اپنی یادداشت اور اپنے علم پر ایسا ہی اندھا یقین رکھتا تھاوہ، اور اب وہ بالکل خالی ذہن کے ساتھ ہونقوں کی طرح اس مجمع کو دیکھ رہا تھا جو اس کے اگلے الفاظ کے منتظر تھے ۔ اس کے پچھلے الفاظ ان کے سر سے گزرے تھے۔ افریقہ کے وہ قبائل جو اس وقت وہاں اکٹھے تھے وہ آج بھی اللہ کی عبادت نہیں کرتے تھے، نہ ہی اللہ کے وجود کو پہچانتے اور مانتے تھے۔ وہ بہت سی دوسری چیزوں کو اعلیٰ، برتر مانتے تھے۔ ان کے لئے وہ رب (جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے) بھی اتنا ہی نا آشنا تھا جتنا وہ۔ ’’رب جو عزت اور ذلت عطا کرنے پر قادر تھا۔‘‘ سالار سکندر کو اب ایسا اور کیا کہنا تھا جو سمجھ میں آتا اور بہت آسانی سے آتا اور یہی وہ لمحہ تھا جب اسے آخری خطبہ یاد آیا تھا۔
’’میں ایک ایسی آرگنائزیشن کا حصہ ہوں جس نے ماضی میں اس خطے اور آپ لوگوں کے ساتھ بہت زیادتیاں کی ہیں۔ آپ لوگوں کو کمتر سمجھا گیا۔ آپ لوگوں کے حقوق چھینے گئے۔ آپ لوگوں کے وسائل اور اثاثوں پر ناجائز قبضہ کیاگیا۔ میں اس سب کے لئے آپ سے معذرت خواہ ہوں کیوں کہ میں ایک ایسے مذہب کو ماننے والا ہوں جس کے پیغمبر امانتوں میں خیانت سے منع کرتے تھے۔ وہ اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرنے کی تلقین کرتے تھے جو اپنے لئے۔ جنہوںنے بتایا کہ کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر برتری حاصل نہیں ہے۔ وہ انسانی مساوات کی بات کرتے تھے۔ ذات پات، رنگ و نسل، چھوت چھات کو نہیں مانتے تھے۔‘‘
سالار سکندر حافظ تھا، مبلغ نہیں تھا۔ مقرر تھا، مفسر نہیں تھا۔ زندگی میں اس نے کبھی اپنے پروفیشن میں مذہب کو لانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ آج بھی اس نیت سے وہاں نہیں آیا تھا، پر اس وقت جو بھی اس کی زبان سے نکل رہا تھا وہ دل کی آواز تھی اور دلوں تک جارہی تھی۔

’’زندگی میں ہموار زمین کی طرح ہوتی کون سی چیز ہے ‘ ایڈم؟رشتے ‘ کیرئیر ‘ شوق....ہر چیز یا تو اوپر جاتی ہے ‘ یا نیچے ۔ اگر...
12/11/2023

’’زندگی میں ہموار زمین کی طرح ہوتی کون سی چیز ہے ‘ ایڈم؟رشتے ‘ کیرئیر ‘ شوق....ہر چیز یا تو اوپر جاتی ہے ‘ یا نیچے ۔ اگر دوستی پہ محنت نہ کی جائے تو اس کا گراف نیچے چلا جاتا ہے ۔‘‘
’’اور کیسے محنت کی جاتی ہے دوستی پہ؟‘‘
’’دیکھو ....کوئی آپ کو اسے زبردستی نبھانے پہ مجبور نہیں کر سکتا ۔ یہ خون کے تعلق سے بے نیاز ہوتی ہے ۔صرف دل سے کی جاتی ہے اور وہی لوگ اپنے دوست کے دل سے نہیں اترتے جن میں وہ دو چیزیں ہوتی ہیں جو الله تعالیٰ نے قرآن میں بیان فرمائی ہیں۔بہت سا صبر اور خوش نصیبی۔ ان دو چیزوں کی مدد سے ایک دوست دوسرے کے دل میں آئی عداوت کو اچھی باتوں سے دور کر سکتا ہے۔یہ صبر انسان کو خود پیدا کرنا ہوتا ہے اور بخت اسے الله تعالیٰ عطا کرتاہے ۔‘‘
’’بخت؟ کیا اچھا دوست نصیب سے ملتا ہے ؟‘‘
’’بالکل ! لیکن آج کل کے بچے تو اپنے دوستوں کی تنقید تک نہیں سہہ سکتے ۔ ایسے نازک لوگوں کو بخت نہیں لگا کرتے ‘ ایڈم۔اس کے لیے برداشت سے دوستوں کی بری بھلی باتوں پہ منفی ردِ عمل دینے سے خود کو روکنا ہوتا ہے ۔جو تحمل سے اپنے دوست کی خطاؤں کو معاف کرتا ہے ‘ اسے ہی الله بخت لگاتا ہے ۔ اور یہ خوش بختی اس کو مزید اچھی دوستیاں عطا کرتی ہے ۔‘‘
’’یعنی کسی عام دوست کو برداشت کرنے پہ الله یا تو اسی کو خاص بنادے گا یا آپ کو کوئی اور خاص دوست عطا کرے گا ؟‘‘
’’میں نے تو ایسے ہی ہوتے دیکھا ہے۔ لوگوں کی فطرت سمجھ کے ان کو ڈیل کرو گے تو دل زیادہ نہیں دکھے گا۔ '‘

اور جتنے میرے ساتھ زندگی میں حادثے ہوئے ‘ میں ان کو بھی ایک تجربہ سمجھتا ہوں۔ میری بیٹی آریانہ ....سب جانتے ہیں کہ وہ کھ...
12/11/2023

اور جتنے میرے ساتھ زندگی میں حادثے ہوئے ‘ میں ان کو بھی ایک تجربہ سمجھتا ہوں۔ میری بیٹی آریانہ ....سب جانتے ہیں کہ وہ کھو گئی ....سب جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا ۔ میں چاہتا تو اس کا غم لے کر تارک الدنیا ہو جاتا ....خود کو بلیم کرتا....دنیا بھر کو بلیم کرتا....مگر میں نے اس کو ایک تجربے کے طور پہ لیا۔الله کی چیز تھی ‘ االله نے لے لی ‘ لیکن کیا میں نے اس امانت کا شکر ادا کیا تھا ؟ اور اب مجھے اپنے باقی دونوں بچوں کو کیسے پالنا ہے ‘ ان کے لئے الله کا شکر گزار کیسے ہونا ہے ‘ میں بس یہی سوچتا ہوں۔ مثبت رویہ وہ دیکھنے کا نام ہے جو آپ کے پاس بچ گیا ہے اور منفی رویہ ہر وقت اس کو سوچنے کا نام ہے جو کھو گیا ہے۔
مجھے اپنے ملک کے لوگ مایوس اچھے نہیں لگتے ۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ مثبت بنیں۔ پر امید۔ اونچے خواب رکھنے والے ۔ وسیع سوچ رکھنے والے ۔ میں چاہتا ہوں لوگ شکر گزار بنیں۔ جو ہے اس کی قدر کریں۔ جو نہیں ہے ‘ اس کو زیادہ نہ سوچا کریں۔
قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو اونچے خواب دیکھتی ہیں‘ اور یاد رکھنا جیفری ۔ اگر آپ کو آپ کا خواب ڈراتا نہیں ہے ‘ تو وہ بڑا خواب ہے ہی نہیں۔
اگر ہم دنیا کو بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنا رویہ بدلنا ہو گا ‘ اور ہم دیکھیں گے کہ دنیا خودبخود بدلنے لگی ہے ۔یہ سوچ اور وژن کی تبدیلی ہے جو میں ایک بہتر ملائیشیا ء میں دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘

11/11/2023

ہم سب اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر ''زمانۂ جاہلیت'' سے ضرور گزرتے ہیں، بعض گزر جاتے ہیں، بعض ساری زندگی اسی زمانے میں گزار دیتے ہیں۔ آپ اس میں سے گزر چکے ہیں۔ آپ کا پچھتاوا بتا رہا ہے کہ آپ گزر چکے ہیں۔ میں آپ کو پچھتاوے سے روکوں گا نہ توبہ اور دعا سے، آپ پر فرض ہے کہ آپ اپنی ساری زندگی یہ کریں، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ شکر بھی ادا کریں کہ آپ نفس کی تمام بیماریوں سے چھٹکارا پا چکے ہیں۔
اگر دنیا آپ کو اپنی طرف نہیں کھینچتی اگر اللہ کے خوف سے آپ کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں، اگر دوزخ کا تصور آپ کو ڈراتاہے، اگر آپ اللہ کی عبادت اس طرح کرتے ہیں، جس طرح کرنی چاہئے، اگر نیکی آپ کو اپنی طرف راغب کرتی ہے اور برائی سے آپ رُک جاتے ہیں تو پھر آپ صالح ہیں۔ کچھ صالح ہوتے ہیں، کچھ صالح بنتے ہیں، صالح ہونا خوش قسمتی کی بات ہے، صالح بننا دودھاری تلوار پر چلنے کے برابر ہے۔ اس میں زیادہ وقت لگتاہے۔ اس میں زیادہ تکلیف سہنی پڑتی ہے۔''

پیرِکامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم از عمیرہ احمد

05/11/2023

''وہ محبت جس کا مقام اس دنیا کے تمام رشتوں میں پائی جانے والی محبت سے ارفع ہے، وہ محبت ماں کی محبت ہوتی ہے۔''

03/11/2023

بہت ہنسنے ، دوسروں کا مذاق اڑانے ، نقلیں اتارنے اور نصیحت کرنے والے کی بات قبول کرنے کی بجاۓ اسے ٹھٹھے میں اڑا دینے سے مومن کو بچنا چاہیے .

حسن انجام

اگر انسان میں وفاداری ‘ سچائی اور ایمان ہی نہ ہو تو وہ کیسا انسان ہوا ؟ باقی ساری خوبیاں اورڈگریاں سب کے پاس ہوتی ہیں۔ م...
03/11/2023

اگر انسان میں وفاداری ‘ سچائی اور ایمان ہی نہ ہو تو وہ کیسا انسان ہوا ؟ باقی ساری خوبیاں اورڈگریاں سب کے پاس ہوتی ہیں۔ مگر سچائی سیکھی نہیں جاتی ۔یہ تو انسان کی گھٹی میں ہوتی ہے ۔

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khayaban e Kutab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Khayaban e Kutab:

Share

Category