05/05/2026
شہید مولانا شیخ ادریس صاحب کے ساتھ ایک ذاتی تعلق اور قربت رہی، ان کی شہادت صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا کھلا ثبوت ہے۔ پختونخوا میں آئے روز ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے واقعات معمول بنتے جارہے ہیں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ صوبائی اور مرکزی حکومتیں اس حوالے سے معنی خیز خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ خاموشی دراصل اس ناکامی کا اعتراف ہے جو عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مسلسل سامنے آرہی ہے۔ ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں پختونخوا کو ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کسی بھی مکتب فکر، کسی بھی طبقے یا کسی بھی فرد کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ محفوظ ہے۔ اگر کوئی پختون ہے تو وہ امن دشمن قوتوں کے نشانے پر ہے، اور یہ ایک انتہائی تشویشناک حقیقت ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کو ترک کریں اور سنجیدگی کے ساتھ پختونخوا میں امن کے قیام کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں۔ بصورت دیگر حالات اس نہج پر پہنچ سکتے ہیں کہ عوام خود اپنے تحفظ کیلئے کھڑے ہونے پر مجبور ہوجائیں گے، جس کے نتائج مزید خطرناک ہوسکتے ہیں۔
وہ امن جو سینکڑوں اے این پی کارکنوں، عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی لازوال قربانیوں کے نتیجے میں حاصل کیا گیا تھا، آج اسے چند غیر سنجیدہ اور جذباتی فیصلوں کے ذریعے ضائع کیا جارہا ہے۔ پختونخوا ایک بار پھر بدامنی کی لپیٹ میں آچکا ہے اور یہ صورتحال کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ شہید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحتیابی نصیب کرے۔ آمین