14/08/2025
14 اگست 2025 پیغام پاکستان کا سلسلہ اختتام پذیر ہونے کو ہے۔ ہمارے مصنفین نے بے حد خوب صورتی اور جانفشانی سے اس بزم کو سجایا اور اپنے پیغامات سے گروپ کو رونق بخشی۔
اس بزم کا ایک اور عمدہ، فکر انگیز پیغام آپ کی بصارتوں کی نذر، دانیال حسن لکھتے ہیں
اہلِ وطن
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
آج چودہ اگست کا سورج، افقِ وطن پر روشن ہو کر سبز ہلالی پرچم کو نئی تابندگی عطا کر رہا ہے، تو میرے دل کے نہاں خانوں سے ایک ہی صدا بلند ہو رہی ہے:
یہ دن چراغاں کا دن نہیں، یہ دن تقریبات برپا کرنے کا دن نہیں ، یہ لمحہ جشن و سرور کا لمحہ نہیں بلکہ یہ لمحہ تجدیدِ عہد کا، عہدِ وفا کا، عہدِ قربانیوں کو یاد کرنے کا ہے جن کے بدلے ہمیں یہ آزاد وطن ملا ۔
میرے ہم وطنو!
وہ مائیں جنہوں نے اپنے لالوں کو اس پاک سرزمین پر قربان کیا، وہ باپ جنہوں نے اپنے جوان بیٹوں کے جنازے اٹھائے، وہ بہنیں جنہوں نے آنچل کے ٹکڑوں سے کفن سیا، اُن سب نے یہ خاکِ وطن ہمیں سپرد کی۔
لیکن کیا ہم نے اُس قربانی کی لاج رکھی؟ کیا ہم نے وطن کو ماں کا درجہ دیا؟
آزادی ایک نعمت ہے لیکن اس کی بقا مسلسل جدوجہد کی محتاج ہے۔ اتحاد، ایمان اور قربانی ہی وہ ستون ہیں جن پر وطن کا قصرِ عظمت قائم رہتا ہے۔
اہلِ وطن!
اپنی ذات سے نکل کر قوم کے لیے جینا سیکھو۔ حب الوطنی ملی نغموں سے نہیں، عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔ چراغاں دل میں ہو تو گلیاں خود روشن ہو جاتی ہیں۔
اس یومِ آزادی پر یہ عہد کریں کہ ہم وطن کے وفادار بیٹے بنیں گے، سچ کے داعی، اتحاد کے علَم بردار اور قربانی کے خوگر بنیں گے ۔
پاکستان زندہ باد۔
دانیال حسن چغتائی