01/11/2022
لفظ Halloween دو الفاظ کا مجموعہ ہے
(Hallow + evening=Halloween)
"ہالو Hallow" کا مطلب ہے۔
کسی چیز کو مقدس بنا کے اختیار کرنا اور Evening ہے شام ۔
یعنی کہ
"مقدس شام "۔
ہالووین عیسائیوں کا ایک تہوار ہے جو 31 اکتوبر کو منایا جاتا ہے ۔ اس تہوار کا آغاز سلٹیک (Celtic) لوگوں سے ہوا جو کہ آئر لینڈ کے رہنے والے تھے ۔
وہاں ٹھنڈ بہت زیادہ ہوتی تھی اور نومبر میں بہت برف باری ہوتی تھی تو انکے بہت سے لوگ مر جاتے تھے ۔
بہت سا جانی اور مالی نقصان ہوتا تھا ۔
اس پر انکا عقیدہ یہ تھا کہ جو لوگ مر جاتے ہیں۔
وہ دوسری دنیا میں جا کر یا تو خدا بن جاتے ہیں۔
یا پھر بھوت ۔
اور نومبر میں ہماری اور انکی دنیا کے درمیان موجود دروازہ کھل جاتا ہے اور ہماری دنیا میں آکر ہمیں مارتے ہیں ۔
خون خرابہ کرتے ہیں ۔
تو اس سے بچاؤ کے لیے انھوں نے یہ حل نکالا کہ اکتوبر کی آخری رات آگ جلائیں اور سب اسکے گرد جمع رہیں۔
اور طرح طرح کے خوفناک ماسک اور کاسٹیوم پہن لیں ۔
تاکہ وہ بد روحیں ہمیں پہچان نا سکیں ۔
یا وہ ہمیں اپنے جیسا سمجھ کے چھوڑ دیں یا پھر ہم سے ڈر جائیں ۔
اسوقت اس تہوار کا نام
Samhain festival تھا ۔
بعد میں رومن بادشاہ نے اس میں اپنا سیاسی اور مذہبی فائدہ دیکھ کے اس میں مزید چیزیں شامل کیں اور ہوتے ہوتے آج یہ یہاں تک ہالووین فیسٹول کے نام سے جانا جاتا ہے ۔
اب بات کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو کیوں اس میں شمولیت سے روکا جاتا ہے ۔
وہ اس لیے کہ یہ فیسٹول تو ہے ہی شیاطین کے لیے ،انکے خوف کی وجہ سے ہی تو یہ منایا جاتا ہے ۔
انکے قہر سے بچنے کے لیے
تو Being a Muslim ہم کیسے ایسے کسی تہوار میں شامل ہو سکتے ہیں کہ جہاں شیاطین کو اتنا طاقتور دکھایا جارہا ہے۔
کہ انکے ڈر سے طرح طرح کے ماسک پہنے جارہے ہیں ۔
ان سے چھپتے پھر رہے ہیں ۔
ایک صحابی کو ٹھوکر لگی تو انھوں نے کہا کہ شیطان نے مجھے ٹھوکر لگا دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے یہ کہہ کر شیطان کو طاقتور بنا دیا ۔
وہ تو بہت خوش ہوا ہے تمہاری اس بات سے ۔
تم نے بسم اللہ کیوں نہیں کہا ۔
ہمارے پاس تو قرآن جیسی سپر پاور موجود ہے کہ جس کی تلاوت سے شیاطین ڈر کے بھاگ جاتے ہیں ۔
تو ہم کیوں ڈریں شیاطین سے ۔
ہمیں تو گھر میں داخل ہونے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا سکھائی گئی ہے کہ اگر نا پڑھو گے تو شیطان تمہارے ساتھ گھر میں داخل ہوجائے گا ۔
دنیا کی سب سے بڑی ہارر مووی دو منٹ میں ختم ہو جائے گی اگر ہم آیت الکرسی پڑھ لیں ۔
اور جہاں تک رہی بات کہ ہم دوسروں کو نا روکیں تو یہ تو ایک مسلمان کے لیے قطعاً جائز نہیں ہے کیونکہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں تلقین کی تھی تو ایک کشتی کی مثال بیان کی تھی کہ اس میں کچھ لوگ اوپر ہوں گے اور کچھ لوگ نیچے ۔ اور اگر نیچے والے لوگ چاہیں کہ ہم کشتی میں نیچے سے سوراخ کرلیں اور ادھر سے پانی لینا شروع کردیں تو ڈوبیں گے تو سب ہی، کیا اوپر والے اور کیا نیچے والے ۔
یہی حال امت مسلمہ کا ہے۔
اگر ہم ایک دوسرے کو نہیں روکیں گے تو تباہ ہم سب ہوں گے ۔
ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ یہ ایک Innocent festival ہرگز نہیں ہے یہ ایک شیطانی تہوار ہے ۔
اور یہ تو سراسر ہمارے Believe system پہ حملہ ہے۔
اگر ہمارا Believe system متاثر ہوا تو ہماری تو پہچان اور ساری Ideology ختم ہو جائے گی ۔
یاد رکھیں ہمارا یہ مذہب اسلام دوسرے Man made religions جیسا ہرگز نہیں ہے ۔
جس میں جو چاہا شامل کرلیا یہ اللہ کا بنایا ہوا ہے ۔
جس میں کسی ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہمارے لیے فائنل ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛
ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے ورنہ تم دعائیں کروگے تو تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوں گیں ۔
ترمذی
اور مزید فرمایا ..
جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ ان میں سے ہے ..