04/08/2024
کلام کرتی نہیں بولتی بھی جاتی ہے
تری نظر کو یہ کیسی زبان آتی ہے
کبھی کبھی مجھے پہچانتی نہیں وہ آنکھ
کبھی چراغ سے چاروں طرف جلاتی ہے
یہ چار سو کا اندھیرا سمٹنے لگتا ہے
کچھ اس طرح تری آواز جگمگاتی ہے
میں اس کو دیکھتا رہتا ہوں رات ڈھلنے تک
جو چاندنی تیری گلیوں سے ہوکے آتی ہے
یہ روشنی بھی عطا ہے تری محبت کی
جو میری روح کے منظر مجھے دکھاتی ہے
امجد اسلام امجد