28/01/2026
گلگت ( کرن قاسم ) ہنزہ کے دور افتادہ علاقے چپورسن میں 01 میگا واٹ ہائیڈل پاور پراجیکٹ میں مبینہ بدعنوانی اختیارات کے ناجائز استعمال اور کروڑوں روپے کی غیر قانونی ادائیگیوں کا کچا چٹھا کھل گیا۔ سیکریٹری واٹر اینڈ پاور کی جانب سے قائم کردہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اپنی تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹا گیا ہے اور تکنیکی طور پر منصوبے کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔
مالی خرد برد کی تفصیلات اخبار کو موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق منصوبے کی لاگت 22 کروڑ 37 لاکھ روپے سے بڑھا کر 37 کروڑ 93 لاکھ روپے کر دی گئی۔ اب تک سرکاری خزانے سے 27 کروڑ 34 لاکھ روپے نکالے جا چکے ہیں، جن میں سے خطیر رقم ایسی چیزوں کی مد میں دی گئی جو سائیڈ پر موجود ہی نہیں۔
ٹھیکیدار کو 33 لاکھ 7 ہزار روپے اور 7 لاکھ 12 ہزار روپے کے ٹرانسفارمرز کی ادائیگی کر دی گئی، لیکن موقع پر ایک بھی ٹرانسفارمر نہیں پہنچا۔
1 کروڑ 12 لاکھ روپے کے ایچ ڈی پی ای پائپوں کی ادائیگی مکمل ہے مگر سائیٹ پر صرف چند سو فٹ پائپ موجود ہیں۔
بغیر کسی قانونی منظوری کے پاور چینل میں 58 لاکھ روپے اور پاور ہاؤس میں 22 لاکھ 90 ہزار روپے کی زائد رقم ٹھیکیدار کو نوازنے کے لیے دی گئی۔
ڈیزائن 105 کیوسک پانی کے لیے تھا مگر مختلف پرانے بجلی گھروں سے لائے گئے چھوٹے سائز کے ناکارہ پائپ ڈال دیے گئے جو صرف 38 کیوسک پانی گزار سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ بجلی گھر کبھی اپنی پوری صلاحیت سے بجلی پیدا ہی نہیں کر سکے گا۔
نئے پائپوں کے لیے مختص 1 کروڑ 35 لاکھ روپے خرچ کرنے کے بجائے پرانا زنگ آلود کباڑ استعمال کیا گیا۔
آر سی سی نہر میں ڈبل سٹیل میش (سریا) کی جگہ سنگل جالی لگا کر کروڑوں روپے کی بچت کی گئی، جس سے نہر کی پائیداری خطرے میں پڑ گئی۔
ڈالر اور مہنگائی کے نام پر کروڑوں کی لوٹ مار رپورٹ کے مطابق ڈالر کی قیمت میں فرق (Dollar Parity) اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافے (Escalation) کے نام پر 4 کروڑ 59 لاکھ روپے کی ایسی ادائیگیاں کی گئیں جن کا کوئی قانونی جواز نہیں ملا۔
ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی سفارش کمیٹی نے واٹر اینڈ پاور ڈویژن ہنزہ اور گلگت کے متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرز (XENs) اور ان کے ماتحت عملے کو براہِ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سول سرونٹ رولز 2011 کے تحت سخت تادیبی کارروائی اور ریکوری کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ بدانتظامی ناقص منصوبہ بندی اور غیر پیشہ ورانہ طرز عملکی بدترین مثال ہے۔.