Dera Ch Mohammad Ramzan. 43/E.B

Dera Ch Mohammad Ramzan. 43/E.B Ch Mohammad Ramzan to share anything about 43-E.B. qaboola Arifwala

Cotton campaign 2025
24/01/2025

Cotton campaign 2025

08/03/2024
26/09/2023
اگر آپ اچھا رزق کما رہے ہیں تو یقین جانیں اس میں آپ کی ذہانت یا صلاحیتوں کا کوئی کمال نہیں، بڑے بڑے عقل کے پہاڑ خاک چھان...
26/02/2020

اگر آپ اچھا رزق کما رہے ہیں تو یقین جانیں اس میں آپ کی ذہانت یا صلاحیتوں کا کوئی کمال نہیں، بڑے بڑے عقل کے پہاڑ خاک چھان رہے ہیں۔

اگر آپ کسی بڑی بیماری سے بچے ہوئے ہیں تو اس میں آپ کی خوراک یا حفظانِ صحت کی اختیار کردہ احتیاطی تدابیر کا کوئی دخل نہیں۔ ایسے بہت سے انسانوں سے قبرستان بھرے ہوئے ہیں جو سوائے منرل واٹر کے کوئی پانی نہیں پیتے تھے مگر پھر اچانک انہیں برین ٹیومر، بلڈ کینسر یا ہیپاٹائٹس سی تشخیص ہوئی اور وہ چند دنوں یا لمحوں میں دنیا سے کوچ کر گئے۔

اگر آپ کے بیوی بچے سرکش نہیں بلکہ آپ کے تابع دار و فرمانبردار ہیں، خاندان میں بیٹے بیٹیاں مہذب، باحیا و با کردار سمجھے جاتے ہیں، تو اس کا سب کریڈٹ بھی آپ کی تربیت کو نہیں جاتا کیوں کہ بیٹا تو نبی کا بھی بگڑ سکتا ہے اور بیوی تو پیغمبر کی بھی نافرمان ہو سکتی ہے۔

اگر آپ کی کبھی جیب نہیں کٹی، کبھی موبائل نہیں چھنا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بہت چوکنّے اور ہوشیار ہیں، بلکہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ آپ غلط وقت پر غلط جگہ پاۓ نہیں گۓ۔
:

یہ غالباً ہر انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ خود دوسروں سے اچھا کما رہا ہو تو یہ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ وہ ضرور دوسروں سے زیادہ محنتی، چالاک اور منضبط (organised) ہے اور اپنے کام میں زیادہ ماہر ہے۔ پھر وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے جن کو نپا تلا رزق مل رہا ہے، ان پر تنقید کرتا ہے، ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ مگر جب یکلخت وقت کا پہیہ الٹا گھومتا ہے تو اس کو پتہ چل جاتا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس تھی جو وہ سمجھ بیٹھا تھا۔

اگر کوئی چاہتا ہے کہ اسے رزق کے معاملہ میں آزمایا نہ جائے تو تین کام کرے:

اوّل: جو کچھ مل رہا ہے اسے محض مالک کی عطا سمجھے نہ کہ اپنی قابلیت کا نتیجہ اور ساتھ ہی مالک کا شکر بھی بجا لاتا رہے۔

دوئم: جن کو کم یا نپاتلا رزق مل رہا ہے انہیں حقیر نہ جانے نہ ان لوگوں سے حسدکرے جن کو "چھپر پھاڑ" رزق میسر ہے۔ یہ سب رزّاق کی اپنی تقسیم ہے۔ اس کے بھید وہی جانے۔

سوئم: جتنا ہو سکے اپنے رزق میں دوسروں کو شامل کرے۔ زیادہ ہے تو زیادہ، کم ہے تو کم شامل کرے۔ سب سے زیادہ حق، والدین اور رحم کے رشتوں کا ہے۔ نانا نانی، دادا دادی، بہنیں اور بھائی ہیں۔ اس کے بعد خون کے دوسرے رشتے ہیں جیسے خالہ، پھوپھی، چچا، ماموں، چچی وغیرہ۔ پھر دوسرے قریبی رشتہ دار یا مسکین و لاچار لوگ۔

مصافحہ کرنا، یعنی ہاتھ ملانا، انسانی معاشرے میں پائی جانے والی صدیوں پرانی روایت ہے لیکن اس کا آغاز کس طرح ہوا، اس بارے ...
02/02/2020

مصافحہ کرنا، یعنی ہاتھ ملانا، انسانی معاشرے میں پائی جانے والی صدیوں پرانی روایت ہے لیکن اس کا آغاز کس طرح ہوا، اس بارے میں کچھ انتہائی دلچسپ نظریات پائے جاتے ہیں
ہاتھ ملانے کی روایت کے متعلق ایک عام پایا جانے والا نظریہ یہ ہے کہ قدیم زمانے میں جب اجنبی افراد کے درمیان ملاقات ہوتی تھی تو اس بات کا سخت خدشہ لاحق ہوتا تھا کہ فریق مخالف کے پاس کوئی ہتھیار ہو سکتا ہے۔ اس شک کو رفع کرنے کے لئے کہ ان کے پاس کوئی خطرناک چیز نہیں ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملاتے تھے تا کہ یقین ہو جائے کہ ان کے ہاتھ خالی ہیں۔ یعنی وہ لوگ اپنے امن پسندانہ عزائم کے اظہار کیلئے دوسرے شخص سے ہاتھ ملاتے تھے۔ جب وہ اپنا خالی دایاں ہاتھ دوسرے کی جانب بڑھاتے تھے تو یہ اس بات کا اظہار ہوتا تھا کہ ان کے پاس کو ئی ہتھیار یا دیگر خطرناک چیز نہیں ہے اور ان کے عزائم برے نہیں ہیں۔
ماہرین بشریات کہتے ہیں کہ ہم مصافحہ کرتے ہوئے ہم اپنے ہاتھوں کو اوپر نیچے جھٹکا دیتے ہیں اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ قدیم دور کا انسان ہاتھ ملانے کے بہانے یہ تسلی کرنا چاہتا تھا کہ دوسرے شخص کی آستین میں اگر کوئی ہتھیار چھپا ہے تو وہ نیچے گر جائے۔ قدیم معاشرے میں جو بات سلامتی کے پیش نظر ایک ضرورت تھی وہ رفتہ رفتہ محض ایک روایت بن گئی۔

مصافحے کے بارے میں ایک اور نظریہ یہ بھی ہے کہ ہاتھ ملانا حلف لینے یا پختہ عہد کرنے کی علامت ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں تو گویا وہ آپس میں ایک پختہ تعلق کا عہد اور اعلان کررہے ہوتے ہیں۔ اس بارے میں تاریخ دان والٹر برکٹ کہتے ہیں ’’ہم زبانی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ کوئی عہد و پیمان کرتے ہیں لیکن جب ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہیں تو گویا یہ اس عہد و پیمان کو برقرار رکھنے کا رسمی اعلان ہوتا ہے۔‘‘ صدیوں قبل کے زمانے میں ہاتھ ملانا زیادہ تر عہد و پیمان کے رسمی اعلان کے طور پر ہی استعمال ہوتا تھا لیکن عام میل جول میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کی روایت زیادہ پرانی نہیں ہے۔ کچھ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ عام میل جول میں ہاتھ ملانے کی روایت 17ویں صدی میں عام ہونا شروع ہوئی اور ابتدائی طور پر اسے جھک کر آداب پیش کرنے یا سرجھکا کر احترام کا اظہار کرنے کے متبادل کے طور پر اختیار کیا گیا۔

بچے کی ذہنی صحت، کامیابی کی ضمانتبچے قدرت کا بہترین عطیہ اور والدین کا سرمایہ حیات ہیں،جن کا کوئی نعم البدل نہیں۔ماں باپ...
17/01/2020

بچے کی ذہنی صحت، کامیابی کی ضمانت

بچے قدرت کا بہترین عطیہ اور والدین کا سرمایہ حیات ہیں،جن کا کوئی نعم البدل نہیں۔ماں باپ بچے کی بنیادی ضروریات کے ساتھ ساتھ ان کی جسمانی صحت کا بھی بہت خیال رکھتے ہیں اگر وہ بیمار ہوجائیں تو ان کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتے ہیں ان کے مختلف ٹسٹ کرواتے ہیں یعنی جسمانی صحت کے لحاظ سے ان کا کافی خیال تو رکھتے ہیں لیکن ان کی ذہنی صحت کے بارے میں بعض اوقات لاپرواہی برتتے ہیں جس کی وجہ سے بچے بہت سے مسائل شکار ہوجاتے ہیں۔تمام والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی حاصل کرے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب بچے کی جسمانی اور ذہنی صحت دونوں بہترین ہوں۔
آئیے جانتے ہیں کہ والدین کو کن اقدامات کو اپنانا چاہیے جن کی مدد سے بچے کی ذہنی صحت بہترین طریقے پر نشونما پاسکتی ہے۔

-- بچے کی ذہنی صحت کے لیے سب سے اہم جزو والدین کی محبت اور پیار ہے۔

-- والدین کو چاہیے کہ بچوں کے ساتھ کوالٹی وقت گزاریں،ان کے ساتھ ان کی دل چسپی کے موضوعات پر گفتگو کریں۔

-- ان کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں اور ان کی باتوں کو دھیان سے سنیں۔

-- ان سے جو وعدہ کریں وہ پورا کریں۔

-- والدین نصیحت کی بجائے رول ماڈل بنیں۔

-- بچے بڑھتی ہوئی عمر میں ہارمونزتبدیلی ہونے کی وجہ سے جذباتی ہوتے ہیں اس وقت ان کو بہت پیار اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت والدین کو چاہیے کہ ان کی طرف بھر پور توجہ دیں۔

-- والدین کی طرف سے تحفظ کا احسا س بچوں کو پر اعتماد بناتا ہے جو کہ بچوں کی ذہنی پختگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

-- بچوں کے ساتھ کھیلیں اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں بات چیت کریں۔

-- بچوں کی کامیابیو ں پر ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کی خوشیوں کو منائیں۔

-- بچوں کو درپیش مسائل سنیں اور ان کی رہنمائی کریں۔

-- بچے اور والدین دن میں ایک وقت مقرر کریں جو ایک ساتھ گزاریں گے اور اس میں موبائل کا استعمال منع ہو گا۔

-- والدین کو چاہیے کہ بچوں کے منظم (بہترین ڈسپلن)کرنے کے لیے اصول مقرر کریں اورخود بھی ان پر عمل پیرا بھی ہوں۔

-- بے جا روک ٹوک اور سختی بچے کی ذہنی بگاڑ کا باعث بنتی ہے،اس سے پر ہیز کریں۔

-- والدین کو چاہیے کہ بچوں سے گھر کے چھوٹے چھوٹے کام کروائیں تاکہ ان میں احساس ذمہ داری پیدا ہو۔

ان تمام باتون پر عمل پیرا ہونے سے بچے کی ذہنی صحت میں اضافہ ہو گا،وہ خود اعتماد اور ذمہ دار ہو گا اور زندگی میں کامیابی کی راہ کی گامزن ہو ہو گا۔

مجھے ایک بار ٹرین سے لاھور جانے کا اتفاق ہوا میں جس ڈبے میں سفر کر رہا تھا اس میں ایک بوڑھا بھی بیٹھا تھا- اس کی عمر مجھ...
15/01/2020

مجھے ایک بار ٹرین سے لاھور جانے کا اتفاق ہوا میں جس ڈبے میں سفر کر رہا تھا اس میں ایک بوڑھا بھی بیٹھا تھا- اس کی عمر مجھ سے کافی زیادہ تھی اس کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس تھا۔ اس کے جسم سے عجیب سی سمیل smell آ رہی تھی ایسے لگتا تھا کہ وہ دن بھر جسمانی مشقت کرتا رہا ہے اور بار بار کپڑے پسینے میں شرابور ہونے کی وجہ سے اس سے ایسی ھمک آ رہی ہےمیں حسب عادت اس سے باتیں کرنے لگا گو طبیعت نہیں چاہ رہی تھی ، تجسس کی حس بیدار ہوئی اور اس سے باتیں کرنے لگا
میں نے پوچھا بابا کہاں جانا ہےوہ مسکرایا اور بولا گھراب میں تلملایا بھی لیکن مجھے لگا کہ وہ کوئی عام شخص نہیں کوئی بابا ہے جو اس نے مجھے اتنا مختصر اور جامع جواب دیا ہے
میں اس کے قریب ہو گیا اور پوچھا”جوانی اچھی ہوتی ہے کہ بڑھاپا”اس نے کہا جوانوں کے لیے بڑھاپا اور بوڑھوں کے لیے جوانی میں نے کہا وہ کیسے
بولا ” بوڑھے اگر جوان ہو جائیں تو شاید وہ پہلے والی غلطیاں کبھی نہ دہرائیں اوراگر جوان بوڑھوں کو تجربے کے طور پر لیں تو ان کی تو ان کی جوانی بے داغ اور بے عیب گزرے
اس بوسیدہ کپڑوں والے بوڑھے نے اتنی وزنی بات کر دی کہ بڑے مفکر اور دانشور ایسی بات نہیں کر سکتے.

(از اشفاق احمد زاویہ 3)

حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ ہندوستان میں رام پور جیل میں تھےجیل میں دانے دئیے گئے کہ ان کا آٹا پیسو۔کہ...
07/01/2020

حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ
ہندوستان میں رام پور جیل میں تھے
جیل میں دانے دئیے گئے کہ ان کا آٹا پیسو۔
کہا گیا عطاء اللہ تو باغی ہے اس لیئے تیری یہی سزا ہے کہ تو آج چکی پیس۔
عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے مزہ آیا۔
میں نے رومال اتار کر رکھ دیا۔
وضو کر کے بسم اللہ پڑھ کے میں نے چکی بھی پیسنی شروع کر دی۔
اور سورہ یاسین کی تلاوت بھی شروع کر دی
عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں جب میں نے قرآن کو سوز سے اور آواز سے پڑھا تو سپرنٹنڈنٹ جیل قریب تھا وہ نکل کر آیا اور قریب آکر روتا ہوا کھڑا ہو گیا اور جیل کا دروازہ کھلوا دیا
کہنے لگا
عطاء اللہ تجھے تیرے نبی کی قسم ہے بس کر
اگر تو نے دو آیتیں اور پڑھیں تو میرا جگر پھٹ جائے گا
یہ تھا انگریز پر قرآن سننے کا اثر....

نوٹ:
#شیئر کرتے رہا کریں بھائی لوگو
اپکا ایسی پوسٹس شیئر کرنے سے میری محنت کم ہو جاتی ہے ورنہ شیئرنگ کا کام بھی مجھے ہی کرنا پڑتا ہے جزاک اللہ‎

Address

43/E. B Bhawalnagr Road
Arifwala
54800

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dera Ch Mohammad Ramzan. 43/E.B posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dera Ch Mohammad Ramzan. 43/E.B:

Share