17/02/2026
سورج گرہن
یہ گرہن پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق منگل 17 فروری 2026 کو دوپہر کے وقت شروع ہوگا۔
#اغاز دوپہر 02:56:15 بجے
#عروج : شام 05:12 بجے
#اختتام: رات 07:27:30 بجے
یہ ایک "حلقہ نما" (Annular) سورج گرہن ہوگا، جسے فلکیاتی اصطلاح میں "رنگ آف فائر" (Ring of Fire) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ گرہن جنوبی ارجنٹائن، چلی، جنوبی افریقہ اور براعظم انٹارکٹیکا میں دیکھا جا سکے گا۔
یہ سورج گرہن پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔
#علمِ نجوم کے ماہرین کے مطابق یہ گرہن برج دلو (Aquarius) کے آخری درجات میں واقع ہو رہا ہے۔ نجومی اعتبار سے برج دلو میں گرہن لگنے کے درج ذیل اثرات بتائے جاتے ہیں:
سیاست، معیشت اور ٹیکنالوجی کے نظام میں اچانک تبدیلیوں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق ایسے اوقات میں احتجاج، فسادات یا چونکا دینے والی خبریں مل سکتی ہیں۔
تاریخی طور پر بعض لوگ گرہن کو زلزلوں یا دیگر قدرتی تغیرات سے بھی منسوب کرتے ہیں، تاہم سائنسی طور پر ان کا براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہے۔
اسلام میں سورج یا چاند گرہن کو کسی کی موت یا زندگی یا کسی نحوست سے منسوب کرنے کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا کہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔
#حدیث مبارکہ:
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"سورج اور چاند کو گرہن کسی کی موت کی وجہ سے نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو۔"
(صحیح بخاری: 1060، صحیح مسلم: 915)
#احتیاطی تدابیر و صدقات★
جہاں یہ نظر آئے گا وہاں کے لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ سورج کو براہِ راست ننگی آنکھ سے ہرگز نہ دیکھیں، کیونکہ یہ بینائی کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے۔
صرف مخصوص فلٹر والے چشمے (ISO certified solar glasses) استعمال کریں۔
گرہن کے وقت "نمازِ کسوف" (سورج گرہن کی نماز) ادا کرنا سنتِ نبوی ﷺ ہے۔اس دوران کثرت سے استغفار، دعا اور صدقہ و خیرات کرنا مستحب ہے۔
اگرچہ یہ گرہن پاکستان میں نظر نہیں آئے گا اس لیے نماز کسوف ادا نہیں کی جائے گی لیکن بہتر ہے کثرت سے استغفار کریں ۔
#صدقات۔ گندم٬ دال چنا٬ مکئی اور سرخ ماش صدقہ کرنا بہتر ہے ۔ ان اوقات میں سفر٬ نکاح٬ منگنی٬ رخصتی اور کسی کاروبار کا افتتاح نہ کریں۔
#اعمال نشہ٬ برائی اور دیگر عادت بد چھڑوانے اور ظالموں کی زبان بندی کے لیے بہترین وقت ہوتا ہے ۔