HAQ KI AAWAZ

HAQ KI AAWAZ Haq ki aawaz

20/07/2018

وہ مفتی کا تھپڑ تھا یا کوئی کڑکا
دکان صحافت کو بخشا ہے تڑکا...
جسے دیکھیے، تبصرہ لکھ رہا ہے
کہ جیسے ہو کوئی انوکھا سا جھٹکا
پہل جس نے کی، پارسا بن گئی ہے
حفاظت کی جرات، خطا بن گئی ہے
یہاں عورتوں پر کشادہ ہیں راہیں
پٹائی کریں، شوق سے جن کی چاہیں
مگر مرد کو کچھ اجازت نہیں ہے
پٹے ہر جگہ پر، قباحت نہیں ہے
یہ ٹی وی کے چینل، خدا ہی بچائے
یہ نفرت کے گھر ہیں، یہاں کون جائے؟
غلط کو روا، سچ کو یہ جھوٹ کہ دیں
ملے گر جو قیمت تو سب جھوٹ کہ دیں
ہمارے وطن کو یہ کیا ہوگیا ہے؟؟؟
جسے دیکھیے، ایک بہروپیا ہے....
لگائے جو تھپڑ، وہ اب جیل میں ہے
مچائے جو دنگا، وہی ریل میں ہے..
اٹھو، ظالموں سے عصا چھین لو تم
بڑھو رہزنوں سے قبا چھین لو تم...
ہجومی تشدد کی برسات ہے اب
جدھر دیکھئے، رات ہی رات ہے اب
نہ سوامی بچے ہیں نہ کوئی بچا ہے
تشدد کا ہر سو تماشہ بپا ہے......
حکومت نہ جانے کہاں سو گئی ہے
یہ ستا کی چاہت میں بس کھو گئی ہے
یہ جور و ستم کب تلک چل سکے گا؟
یہ کھوٹا ہے سکہ، نہیں چل سکے گا...
غریبوں کے دن آئیں گے اب یہاں پر
کرن آس کی جگمگائے جہاں پر.....
جو وعدے تھے سارے، کہاں کھو گئے ہیں؟
امیدیں جگا کر، کہاں سو گئے ہیں........؟
یہ مزدور و مالک سبھی کہ رہے ہیں
امیر اور مفلس سبھی کہ رہے ہیں....
کسان اور تاجر سبھی کہ رہے ہیں....
ملازم و لازم سبھی کہ رہے ہیں...
پلٹ دیں گے اب ہم حکومت کا نقشہ
ملا دیں گے مٹی میں طاقت کا نشہ
اٹھو اک نیا انقلاب آرہا ہے.........
افق سے نیا آفتاب آرہا ہے.......

04/04/2018

तलाक पर छेड़ा चुप रहे।
अज़ान पर छेड़ा चुप रहे।
पाकिस्तानी कहा चुप रहे।
वन्दे मातरम पर चुप रहे।
मदरसों को आतंक का अड्डा कहा चुप रहे।
ना करनी सेना बने।
ना भीम सेना बने।
ना शिव सेना बने।
ना बजरंग दल बने।
ना आग लगाई, ना पटरी उखाड़ीं, ना किसी को नुकसान पहुंचाया, ना किसी को गाली दी, ना देश के सर्वोच्च न्यायालय को कोसा।

सब्र किया और करते रहेंगे।

क्यों कि हमारा देश है, हम नही चाहते हमसे कोई नुकसान हो वतन का ।

क्यों कि इज़्ज़त वतन की हम से है, शौहरत वतन की हम से है, हिम्मत वतन की हम से है, दौलत वतन की हम से है, हम देश के हैं रखवाले मतवाले।

अल्लाह सब्र करने वालों के साथ है।

30/03/2018
28/03/2018

ابھی تک میں نے چار بیویں والا ایک بھی انسان نہیں دیکھا : مولانا ولی رحمانی
نیو دہلی ۔ 28 مارچ 2018
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جلد ہی سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرنے والا ہے۔جس میں وہ بتانا چاہتا ہیکہ نکاح،حلالہ اور کثرت ازدواج مسلم لا بورڈ کے اہم حصے ہیں۔اور کورٹ کو اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہئے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے میڈیا کو کو بتایاکہ یہ سوال صرف نکاح ،حلالہ اور کثرت ازدواج کے معاملے میں کورٹ کے دخل کا نہیں ہے بلکہ لو۔ان رلیشن شپ کو بھی درست قرار دینے کا مسئلہ ہے۔
ولی رحمانی نے کہاکہ ملک میں لو۔ان رلیشن شپ کو قانونی قرار دیاگیا ہے تو آخرتعدد ازدواج جو کہ اب ختم ہو چکا ہے۔اس میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے۔ابھی تک میں نے چار بیویں والا ایک بھی انسان نہیں دیکھا ہے۔ہندستان کے مسلمانوں میں کثرت ازدواج کا طریقہ ختم ہو چکا ہے۔اس مسئلے کو ڈاکٹر راما چندرن کی قیادت میں سپریم کورٹ میں اٹھانا ہماری ترجیح ہے۔

گزشتہ سال سینئر وکیل راماچندرن نے جمیعۃ علماء ہند کی جانب سے تین طلاق کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے بولا تھا کہ ہر پارٹی اپنے نجی لا کو چننے کا آئینی حق ہے۔دائر کی جانے والی عرضی کے بارے میں ذکرکرتے ہوئے رحمانی نے بتایا کہ ہم تین اہم مسئلے اٹھانے والے ہیں۔

माशाअल्लाह  पेज लाइक करके आगे शेयर कीजिए
28/03/2018

माशाअल्लाह पेज लाइक करके आगे शेयर कीजिए

26/03/2018

ہر مرض سے نجات

(سورة نحل کی آیت نمبر 128)ایک ہزار مر تبہ جس بیما ر کو پڑھ کر دم کیا جائے اگر مو ت اس وقت نہ ہو گی تو فوراً اسی دن مریض تندرست ہو جائے گا ۔ کم سے کم تین روز تک اس عمل کو کیا جا ئے ۔ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِینَ اتَّقَووَّالَّذِینَ ھُم مُّحسِنُونَ

Address

Surjapur
Supaul
852125

Telephone

00966503561211

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when HAQ KI AAWAZ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category