Goodwill Instute Education - GIE

Goodwill Instute Education - GIE A school....... students were provided with better education and sports.

26/07/2021

Stay safe.

16/04/2021

I was also beaten by the teacher in class. 😞😞😞
Not only this much but soooo much...😭😭😭
aaj jo kuch bi hu teacher ki wajeh se hu.👼👼👼
-Teachers.

10/11/2020

‎‫ہم شاہ جہاں کے ہتھ کٹے مزدور تک گئے
فاقہ اور فکر ایک ساتھ تندور تک گئے

موسیٰ کے سوا کوئی بھی زندہ نہی بچا
جو لوگ خدا دیکھنے کوہِ طور تک گئے

اندھیرے میں اندھیرا ہی میرا ساتھی تھا
ہم روشنی کے دھوکے میں بڑی دور تک گئے

مولا تیری دنیا میں تجھے ہر جگہ ڈھونڈا
جب خود میں ہم اترے تو تیرے نور تک گئے

پھانسی کا اعلان جب مسجد میں ہوا تھا
پھر دیکھنے مجھے چوک میں معذور تک گئے

کچھ نے اسے کافر کہا کچھ نے شہیدِ حق
ہم حق کا ظرف کھوجنے منصور تک گئے

ہم لوگ ہوس زادے ہیں اسی واسطے حیدر
ہم لوگ تو جنت میں بھی بس حور تک گئے‬‎

04/11/2020
https://youtu.be/jsa8OZKNpBQ
15/10/2020

https://youtu.be/jsa8OZKNpBQ

Presenting the song 'ilm', sung & composed by the students of Delhi Public School Srinagar. To attain knowledge is to make the world a safer and better place...

23/06/2020

ﻣﺮﺯﺍ ﻏﺎﻟﺐ ( 1797 ﺀ- 1869 ﺀ) ﺍﺭﺩﻭ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ
ﺷﺎﻋﺮ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﻈﻤﺖ ﮐﺎ ﺭﺍﺯ ﺻﺮﻑ ﺍﻥ ﮐﯽ
ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﮯ ﺣﺴﻦ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﺎﺍ
ﺻﻞ ﮐﻤﺎﻝ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺯ ﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺣﻘﺎﺋﻖ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻧﻔﺴﯿﺎﺕ ﮐﻮ
ﮔﮩﺮﺍﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮐﺮ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﯼ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﻋﺎﻡ ﻟﻮﮔﻮﮞ
ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ﻏﺎﻟﺐ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺁﺷﻮﺏ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﻮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮﺗﮯ
ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﺳﮯ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﭘﺮ
ﭼﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ﻏﺎﻟﺒﺎً ً ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﭘﺲ ﻣﻨﻈﺮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ
ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﮩﺮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﺳﻌﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯽ۔
ﻣﺮﺯﺍ ﻏﺎﻟﺐ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﺳﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﯿﮓ ﺧﺎﮞ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﯿﮓ
ﺗﮭﺎ ۔ ﺁﭖ ﺩﺳﻤﺒﺮ 1797 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻏﺎﻟﺐ ﺑﭽﭙﻦ
ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﺘﯿﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺭﺵ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﭽﺎ ﻣﺮﺯﺍ ﻧﺼﺮ
ﺍﻟﻠﮧ ﺑﯿﮓ ﻧﮯ ﮐﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭨﮫ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﭽﺎ ﺑﮭﯽ
ﻓﻮﺕ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﻧﻮﺍﺏ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﺨﺶ ﺧﺎﮞ ﻧﮯ ﻣﺮﺯﺍ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﺎ
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﺳﮯ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮﺍ ﺩﯾﺎ۔ 1810ﺀ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮦ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ
ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﻧﻮﺍﺏ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﺨﺶ ﮐﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻣﺮﺯﺍ
ﺍﻟﮩﯽ ﺑﺨﺶ ﺧﺎﮞ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﻣﺮﺍﺀﺑﯿﮕﻢ ﺳﮯ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ
ﺑﻌﺪ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﺑﺎﺋﯽ ﻭﻃﻦ ﮐﻮ ﺧﯿﺮ ﺑﺎﺩ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺩﮨﻠﯽ ﻣﯿﮟ
ﻣﺴﺘﻘﻞ ﺳﮑﻮﻧﺖ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯽ۔
ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺮﺯﺍ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺮﻭﺽ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔
ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻟﯽ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺍ ﻭﺭ ﻗﺮﺽ ﮐﺎ
ﺑﻮﺟﮫ ﻣﺰﯾﺪ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺁﺧﺮ ﻣﺎﻟﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ
ﻏﺎﻟﺐ ﻧﮯ ﻗﻠﻌﮧ ﮐﯽ ﻣﻼﺯﻣﺖ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ 1850 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺎﺩﺭ
ﺷﺎﮦ ﻇﻔﺮ ﻧﮯ ﻣﺮﺯﺍ ﻏﺎﻟﺐ ﮐﻮ ﻧﺠﻢ ﺍﻟﺪﻭﻟﮧ ﺩﺑﯿﺮ ﺍﻟﻤﻠﮏ ﻧﻈﺎﻡ ﺟﻨﮓ ﮐﺎ
ﺧﻄﺎﺏ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺗﯿﻤﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺎﻣﻮﺭ
ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ 50 ﺭﻭﭘﮯ ﻣﺎﮨﻮﺭ ﻣﺮﺯﺍ ﮐﺎ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﻣﻘﺮﺭ ﮨﻮﺍ۔
ﻏﺪﺭ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺮﺯﺍ ﮐﯽ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﭘﻨﺸﻦ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ
ﺍﻧﻘﻼﺏ 1857ﺀ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺮﺯﺍ ﻧﮯ ﻧﻮﺍﺏ ﯾﻮﺳﻒ ﻋﻠﯽ ﺧﺎﮞ ﻭﺍﻟﯽ
ﺭﺍﻣﭙﻮﺭ ﮐﻮ ﺍﻣﺪﺍﺩ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ ﻣﺎﮨﻮﺍﺭ ﻭﻇﯿﻔﮧ
ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﻣﺮﺯﺍ ﮐﻮ ﺗﺎﺩﻡ ﺣﯿﺎﺕ ﻣﻠﺘﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﮐﺜﺮﺕ ﺷﺮﺍﺏ ﻧﻮﺷﯽ
ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺻﺤﺖ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺗﺒﺎﮦ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﻣﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮯ
ﮨﻮﺷﯽ ﻃﺎﺭﯼ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ 15 ﻓﺮﻭﺭﯼ 1869 ﺀ ﮐﻮ
ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﻧﻮﭦ ﭨﺼﻮﯾﺮﯼ ﮐﻤﻨﭧ ﺳﮯ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ ﮐﺮﯾﮟ ﺷﮑﺮﯾﮧ ....
ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﻼﻡ
ﮐُﻨﺞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﮨﻮﮞ ﯾﻮﮞ ﭘَﺮ ﮐﮭﻼ
ﮐﺎﺷﮑﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﻗﻔﺲ ﮐﺎ ﺩﺭ ﮐﮭﻼ
ﮨﻢ ﭘﮑﺎﺭﯾﮟ، ﺍﻭﺭ ﮐﮭﻠﮯ، ﯾﻮﮞ ﮐﻮﻥ ﺟﺎﺋﮯ
ﯾﺎﺭ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﭘﺎﻭﯾﮟ ﮔﺮ ﮐﮭﻼ
ﮨﻢ ﮐﻮ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺭﺍﺯ ﺩﺍﺭﯼ ﭘﺮ ﮔﮭﻤﻨﮉ
ﺩﻭﺳﺖ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺭﺍﺯ ﺩﺷﻤﻦ ﭘﺮ ﮐﮭﻼ
ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺩﻝ ﭘﺮ ﺑﮭﻼ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺩﺍﻍ
ﺯﺧﻢ ﻟﯿﮑﻦ ﺩﺍﻍ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮐﮭﻼ
ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯼ ﮐﺐ ﺍﺑﺮﻭ ﻧﮯ ﮐﻤﺎﮞ
ﮐﺐ ﮐﻤﺮ ﺳﮯ ﻏﻤﺰﮮ ﮐﯽ ﺧﻨﺠﺮ ﮐﮭﻼ
ﻣُﻔﺖ ﮐﺎ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺑُﺮﺍ ﮨﮯ ﺑﺪﺭﻗَﮧ
ﺭﮨﺮﻭﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﺩۂ ﺭﮨﺒﺮ ﮐﮭﻼ
ﺳﻮﺯِ ﺩﻝ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﮮ ﺑﺎﺭﺍﻥِ ﺍﺷﮏ
ﺁﮒ ﺑﮭﮍﮐﯽ، ﻣﯿﻨﮧ ﺍﮔﺮ ﺩﻡ ﺑﮭﺮ ﮐﮭﻼ
ﻧﺎﻣﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺁ ﮔﯿﺎ ﭘﯿﻐﺎﻡِ ﻣﺮﮒ
ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺧﻂ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﭘﺮ ﮐﮭﻼ
ﺩﯾﮑﮭﯿﻮ ﻏﺎﻟﺐؔ ﺳﮯ ﮔﺮ ﺍﻟﺠﮭﺎ ﮐﻮﺋﯽ
ﮨﮯ ﻭﻟﯽ ﭘﻮﺷﯿﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻓﺮ ﮐﮭﻼ

Today is World Elder Abuse Awareness Day.Violence against older people, who are already bearing the brunt of this pandem...
15/06/2020

Today is World Elder Abuse Awareness Day.

Violence against older people, who are already bearing the brunt of this pandemic, has risen sharply since the beginning of the COVID-19 pandemic and imposition of lockdown measures.

11/06/2020

لباس......... تن سے اتار دینا
کسی.......کو بانہوں کے ہار دینا
پھر اس کے جذبوں کو مار دینا

اگر ....محبت یہی ہے جاناں`
تومعاف کرنا مجھے نہیں ہے…!!!

گناہ............... کرنے کا سوچ لینا
حسین............. پریاں دبوچ لینا
پھر ان کی آنکھیں ہی نوچ لینا

اگر.......محبت یہی ہے جاناں`
تومعاف کرنا مجھے نہیں ہے…!!!

کسی....... کو لفظوں کے جال دینا
کسی.... کو جذبوں کی ڈھال دینا
پھر .....اس کی عزت اچھال دینا

اگر ......محبت یہی ہے جاناں`
تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے....!!!

اندھیر...... نگری میں چلتے جانا
حسین............ کلیاں مسل دینا
اور ......اپنی فطرت پہ مسکرانا

اگر....... محبت یہی ہے جاناں`
تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے....!!

31/05/2020

I'm not adding 2020 to my age.
Coz...
I didn't use it ....😷😷

23/04/2020

*غازی ارطغرل کون تھا*

یہ سب بھائی غور سے پڑھیں اور اپنی دوستوں کو شئیر کریں.

ارتغل غازی خلافت عثمانیہ کے بانی ہے , آپکی پیدائش 1191 عیسوی میں ہوئی اور وفات 1280 عیسوی میں کچھ کتابیں 1281 بتاتے ہیں, آپ ہی کے تین بیٹے تھے گندوز, ساؤچی اور عثمان اور آپکے تیسرے بیٹے عثمان نے 1291 یعنی اپنے والد ارتغل کی وفات کے 10 سال بعد خلافت بنائی اور ارتغل کے اسی بیٹے عثمان کے نام سے ہی خلافت کا نام خلافت عثمانیہ رکھا گیا لیکن خلافت کی بنیاد ارتغل غازی رح رکھ کر گئے تھے ….



اسکے بعد اسی خلافت نے 1291 عیسوی سے لیکے 1924 تک , 600 سال تک ان ترکوں کی تلواروں نے امت مسلمہ کا دفاع کیا...

اس کے ساتھ مسجد نبوی. گنبد خضریٰ اور مسجد حرام کی جدید تعمیر . سیدنا امیر حمزہ کا مزار . مکہ مکرمہ تک ایک عظیم الشان نہر . آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار پرانوار کے گرد سیسہ پلائی دیوار . مکہ مکرمہ تک ٹرین منصوبہ جیسے عظیم کارنامے سرانجام دیے...



ارتغل غازی کا خاندان وسطہ ایشیا سے یہاں آیا تھا اور انکے جدِ امجد اوغوز خان Oghuz khan کے بارہ بیٹے تھے جن سے یہ بارہ قبیلے بنے جن میں سے ایک یہ قائی قبیلہ Kayi تھا جس سے ارتغل غازی تعلق رکھتا تھا آپکے والد کا نام سلیمان شاہ تھا, ارتغل غازی کے تین اور بھائی تھے, صارم, ذوالجان اور گلدارو ,آپکی والدہ کا نام حائمہ تھا…



آپکا قبیلہ سب س پہلے وسطہ ایشیا Central asia سے ایران پھر ایران سے اناطولیہ Anatolia آئے تھے منگولوں کی یلغار سے نمٹنے کےلئے..... جہاں سلطان علاو الدین جو سلجوک Seljuk سلطنت کے سلطان تھے اور یہ سلجوک ترک سلطنت سلطان الپ ارسلان Sultan Alap Arslan نے قائم کی تھی 1071 میں byzantine کو battle of Manzikert میں عبرت ناک شکست دے کے اور سلطان الپ ارسلان تاریخ کی بہت بڑی شخصیت تھی اور اسی سلطنت کا آگے جاکے سلطان علاؤ الدین بنے تھے…..



اسی سلطان علاوالدین کے سائے تلے یہ 12 قبیلے اوغوز خان Oghuz khan رہتے تھے, اور اس قائی قبیلے کے چیف ارتغل بنے اپنے والد سلیمان شاہ کی وفات کے بعد, سب سے پہلے اہلت Ahlat آئے تھے پھر اہلت سے حلب Aleppo گئے تھے 1232 جہاں *سلطان صلاح الدین ایوبی* کے پوتے الغزیز کی حکومت تھی, سب سے پہلے ارتغل نے العزیز کو اس کے محل میں موجود غداروں سے نجات دلائی پھر اس سے دوستی کی پھر سلطان علاو الدین کی بھتیجی حلیمہ سلطان سے شادی کی.... جس سے آپکو تین بیٹے ہوئے اوپر جو میں نے نام دیے ہیں, ایوبیوں اور سلجوقیوں کی دوستی کروائی, صلیبیوں کے ایک مضبوط قلعے کو فتح کیا جو حلب کے قریب تھا, اسکے بعد ارتغل سلطان علاو الدین کے بہت قریب ہوگیا….



اس کے بعد منگولوں کی یلغار قریب ہوئی تو ارتغل غازی نے منگول کے ایک ایم لیڈر نویان کو شکست دی ,نویان منگول بادشاہ اوکتائی خان کا Right hand تھا ,اوکتائی خان چنگیز خان کا بیٹا تھا اور اس اوکتائی کا بیٹا ہلاکو خان تھا جس نے بغداد کو اس قدر روندا تھا کہ بغداد کی گلیاں خون سے بھر گئی تھیں دریائے فرات سرخ ہو گیا تھا…

اسی نویان کو شکست ارتغل نے دی تھی…



اور پھر ارتغل غازی اپنے قبیلے کو لیکے سوغت Sogut آئے بلکل قسطنطنیہ Contantinople کے قریب, اور پہلے وہاں بازنطین Byazantine کے ایک اہم قلعے کو فتح کیا اور یہیں تمام ترک قبیلوں کو اکٹھا کیا اور سلطان علاو الدین کے بعد آپ کے بیٹے غیاث الدین سلطان بن گئے انکی بیٹی کے ساتھ ہی عثمان کی شادی ہوئی ایک جنگ میں سلطان غیاث الدین شہید ہو گئے تو عثمان غازی سلطان بن گئے اور انکی نسل سے جاکے *سلطان محمد فاتح رح* تھے جس نے 1453 میں جاکے قسطنطنیہ فتح کیا تھا اور اسی پے حضور صلیٰ اللہ علیہ والہ وسلم کی غیبی خبر پوری ہوئی……

تاریخ میں ارتغل غازی جیسے جنگجو بہت کم ملتے ہیں لیکن ہماری نسل انکو جانتی نہیں بہت بہادر جنگجو تھے آپ…

ہر واریئر جنگجو اسلام میں گذرا اس پہ جس نے کچھ نہ کچھہ اسلام کے لیئے کیا اس کا ایک روحانی پہلو ضرور ہے, اسکے پیچھے ایک روحانی شخصت ضرور ہوتی ہے جسکی ڈیوٹی اللہ پاک نے لگائی ہوتی ہے تاریخ اٹھا لیں بھلے اسلام کے آغاز سے لیکے اب تک آج بھی اگر کوئی اسلام کے لیئے امت مسلمان کے لیئے کوئی ڈیوٹی کر رہا ہے تو اسکا روحانی پہلو بھی ضرور ہوگا….

اس جنگجو ارطغرل غازی کے پیچھے اللہ پاک نے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیضان سے جسکی ڈیوٹی لگائی تھی وہ *شیخ محی الدین ابن العربی رح* تھے ( آپ درجنوں کتب کے مصنف ہیں اس کے ساتھ آپ نے قرآن پاک کی مایہ ناز تفسیر بھی لکھی علم کی دنیا کے بادشاہ جانے جاتے تھے اور تصوف میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے) جو اندلس سے ارتغل غازی کی روحانی مدد کو پہنچے تھے…

امام ابن العربی نے ارتغل غازی کو دو مرتبہ موت کے منہ سے نکالا اور ہروقت ارتغل کی روحانی مدد کرتے رہتے تھے


حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوبصورت حدیث شریف ہے نہ کہ
” اتقوا فراسة المؤمن؛ فإنه ينظر بنور الله : ترجمہ مومن کی فراصت سے ڈرو کہ وہ اللہ لے نور سے دیکھتا ہے ” ..

یہ کوئی جذباتی یا مبالغہ آرائیاں نہیں ہیں یہ سب وہی سمجھ سکتا جو روحانیت پے یقین رکھتا ہو, جسکو یہ نور نہیں حاصل وہ اندھا ہے اسے کچھ سمجھ نہیں آئے جیسے لبرل سیکیولر برگیڈ…



اللہ پاک ارتغل غازی Ertugrul Ghazi کا رتبہ بلند فرمائے اور ہزاروں رحمتیں ہوں ان کی قبر پر❣

18/04/2020

ہوں اس کوچے کے ہر ذرے سے آگاہ

ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں

نہیں اٹھتے قدم کیوں جانب دیر

کسی مسجد میں بہکایا گیا ہوں

10/04/2020

مدت سے جس کی آس تھی وہ راستے میں یوں ملے،،،
،،،
،،،
ہم نظر ملا کے تڑپ اُٹھے وہ نظر جھکا کے گزر گیے،،،،
،،
،،

Address

Pulwama

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Goodwill Instute Education - GIE posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share