15/08/2021
پورے ہندوستان میں کہیں بھی منگانے کے لیے رابطہ کریں
+91 95202 55550
تصنیف: ادیب عصر حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی مدظلہ استاذ ادبِ عربی دارالعلوم دیوبند و ایڈیٹر انچیف ماہنامہ الداعی دارالعلوم دیوبند
افغانستان اور عراق میں امریکہ اور اُس کے حلیفوں کی ظاہری عسکری جیت سے مسلمانوں کو حد درجہ تکلیف ہوئی؛ کیوں کہ انھوں نے امریکہ اور اُس کے دوستوں کی شکست کی اتنی دعائیں مانگیں کہ خدا کے سامنے رونے، گڑگڑانے اور بلکنے و تڑپنے کا مسلمانوں کو اپنے رب کے تئیں یہ انداز اور یہ ناز مصنف کے بہ قول اُس کو اپنی ٦۷ سالہ زندگی میں یاد نہیں۔ مسلمانوں نے عربی کے علاوہ ہر خطے کی ہر زبان میں، اپنے رب سے آرزو و منت کی کہ خدایا ! طاقت و ترقی کے نشے سے بد مست امریکہ کو تو اپنی قدرت کاملہ سے ٹھکانے لگادے، ہمارے گناہوں سے چشم پوشی کر تے ہوے، اپنی غفاری و ستاری کو کام میں لاتے ہوے مسلمانوں کی تقصیرات سے در گزر کر تے ہوے، اپنی قہاری کے طفیل، اس کو شکست و ریخت سے دو چار کر دے؛ تاکہ وہ آیندہ امتِ مسلمہ کی ناک میں دم نہ کر سکے۔
لیکن خداے بے نیاز و حکیم نے بہ ظاہر اُن کی کوئی دعا قبول نہ کی اور مادی وسائل اور ہتھیار کے انبار کے مالک امریکہ اور اُس کے شریکِ ظلم حلیفوں کو ہی “فتح” سے نواز دیا؛ تاکہ وہ نہ صرف مذکورہ دونوں مسلم ملکوں؛ بل کہ سارے عربی و مسلم ملکوں اور ساری دنیا کے دین پسند مسلمانوں کے لیے، اِس دنیا کو تنگ جگہ بنا ڈالنے کی اپنی کاروائی کو، اُسی طرح انجام دیتا رہے، جس طرح انجام دینے کی اُس کی خواہش رہی ہے۔
مصنف نے افغانستان کے سقوط کے وقت، بہ طورِ خاص مسلمانوں کو اپنے خدا سے بہت شکوہ سنج پایا اور اور اُن کی یہ خواہش بھی اُن کی زبان سے سنی اور اُن کے چہروں پر پڑھی کہ اللہ پاک کو کم از کم اس وقت تو امریکہ کو ہرا ہی دینا تھا، بعد میں خداے کریم جو چاہتا کرتا !
اس کتاب میں عام مسلمانوں کے اسی خلجان کے علاج کی دوا فراہم کرنے کی کو شش کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں اسباب و مسببات کی جکڑ بندی کی سنت ہی رائج ہے اور ہمارے لیے جنگ اور صلح اور دوست و دشمن سے معاملے و مقابلے کے تعلق سے نبی اکرمﷺ کے کردار و عمل اور قول و فعل میں مکمل راہ نمائی موجود ہے۔ نقشۂ عمل اور زندگی کا روز نامچہ، اللہ کے آخری اور پایندہ دین میں، آیندہ مسلمانوں کے لیے بھی وہی رہےگا، جو قرنِ اول کے مسلمانوں یعنی صحابۂ کرام کے لیے رہاہے۔
اس کتاب کے ذریعے، تعبیر کی لذت، انداز تکلم کی ندرت اور تلمیحات و استعارات کی نفاست سے با ذوق قاری کو دل کی غذا، روح کی شفا، یقین کی روشنی اور خیالات و احساسات کی صیقل گری کی تد بیر بھی ہم دست ہوتی ہے۔
یہ کتاب بتاتی ہے کہ بعض دفعہ شکست کی صورت میں فتح ہوتی ہے اور اور فتح در حقیقت شکست یا اُس کا مقدمہ ہوتی ہے۔ پھر خدا کی حکمت و مصلحت کو خود اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہ بعض دفعہ ظالموں کو ظلمِ بے پناہ کے باوجود ڈھیل دیے جاتاہے؛ تاکہ وہ اُس کی شدید پکڑ کا یقینی طور پر مستحق ہو کر اُس کے عذابِ الیم سے با لیقین دو چار ہوں۔ پھر یہ کہ دنیا دارالجزا نہیں، یہ تو صرف دارالعمل ہے، حساب چکانے کی جگہ دارِ آخرت ہے، اس کے با وجود خداے ذو الجلال کبھی کبھی یہاں بھی ظالموں کی عبرت ناک پکڑکا منظر دکھاتا ہے۔ قرآن پاک نے ظالموں کی پکڑ کے بہت سے واقعات اپنی محکم آیات میں ہماری عبرت کے لیے پیش کیے ہیں۔
اِس کتاب میں اُن سارے حقائق کو مختصراً و مُدَلّلاً پیش کرنے کی کو شش کی گئی ہے۔