IDARA ILM O ADAB

IDARA ILM O ADAB Printers, Publishers, Suppliers & Distributors of Islamic & Literary Books in Urdu and Arabic.

اپنے عہد کے عدیم النظیر و بافیض عربی و اردو ادیب، صحافی، مصنف، معلم و مربی حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی رحمہ اللہ تعا...
19/11/2022

اپنے عہد کے عدیم النظیر و بافیض عربی و اردو ادیب، صحافی، مصنف، معلم و مربی حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی رحمہ اللہ تعالیٰ کے سوانحی نقوش پر مشتمل نئی نسل کے مقبول و متعارف صاحبِ قلم نایاب حسن کی کتاب ’ اک شخص دل ربا سا‘ مئی ۲۰۲۲ء کے اواخر میں منظر عام پر آئی ، جسے اپنے دل کش اسلوب، جاذب و سحر انگیز طرزِ تحریر اور حضرت مولانا امینی رحمہ اللہ کی زندگی کے بیشتر علمی و عملی گوشوں کو محیط ہونے کی وجہ سے غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی اور اہلِ علم و ادب نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا؛ چنانچہ اگست ہی میں اس کا پہلا ایڈیشن ختم ہوگیا تھا۔ اس کے فوراً بعد ہی دوسرے ایڈیشن کا ڈول ڈال دیا گیا تھا، جو ستمبر میں آجانا چاہیے تھا، مگر بہ وجوہ تاخیر ہوتی رہی، اس عرصے میں سیکڑوں حضرات نے کتاب کے لیے رابطہ کیا اور انھیں مایوسی ہاتھ آئی۔ بہر کیف خدا کے فضل سے اب دوسرا ایڈیشن بھی منظرِ عام پر آگیا ہے۔ خواہش مند حضرات ادارہ علم و ادب دیوبند سے رابطہ کرکے کتاب حاصل کر سکتے ہیں۔

رابطہ نمبر:9520255550

اپنے عہد کے عدیم النظیر ادیب، صحافی، مصنف، مفکر، مربی و معلم حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی رحمہ اللہ تعالیٰ کی حیات و ...
21/05/2022

اپنے عہد کے عدیم النظیر ادیب، صحافی، مصنف، مفکر، مربی و معلم حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی رحمہ اللہ تعالیٰ کی حیات و خدمات پر نوجوان مصنف،ادیب و صحافی اور "قندیل آنلائن " کے مدیر اعلیٰ نایاب حسن کی کتاب "اک شخص دل ربا سا "، جس کا اہلِ علم و ادب کو شدت سے انتظار تھا، اپنی تمام تر رعنائیوں، شادابیوں اور جمال انگیزیوں کے ساتھ منظرِ عام پر آگئی ہےـ اس کتاب کی خصوصیات مختصراً حسبِ ذیل ہیں، جو اسے حضرت مولانا امینی کی شخصیت اور فکر و فن پر شائع ہونے والی جامع ترین کتاب کا امتیاز بخشتی ہیں:
(۱) یہ کتاب روایتی معنوں میں لکھی جانے والی سوانح حیات نہیں ہے، مگر اس کے باوجود یہ حضرت مولانا نور عالم خلیل امینیؒ کی بیشتر؛بلکہ تمام تر علمی، فکری، ادبی، صحافتی، تعلیمی و تربیتی خدمات کا احاطہ کرتی ہے، ان کے ادبی و نظری امتیازات پر روشنی ڈالتی ہے،ان کے اطوار و اخلاق کی منظر کشی کرتی ہے ،ان کی دل چسپ اداؤں اور جمال انگیز شخصیت کو انوکھے طور و طرز میں بیاں و عیاں کرتی ہے۔ اس میں مشمولہ مضامین کا زیادہ تر حصہ گرچہ بنیادی ڈھانچے کے اعتبار سے وہی ہے،جو مولانا کی وفات کے بعد تین چار ماہ کے دوران ’’قندیل‘‘ اور سوشل میڈیا پر پندرہ قسطوں میں شائع ہوچکا ہے،مگر اسے کتاب کا روپ دینے سے پہلے مصنف نے اس میں خاصی ترمیم و تعدیل اور حذف و اضافے سے کام لیا ہے،گویا اب یہ بالکل تازہ مضامین ہیں،ان پندرہ قسطوں کے علاوہ بھی مولانا کی تصانیف کے تعارف و تجزیہ،ان کی تحقیق و تعلیق اور ان پر کی جانے والی تحقیقوں کا حصہ تو بالکل ہی نیا ہے۔ پہلی بار اسی کتاب میں پڑھنے کو ملے گا۔

(۲) کتاب کی دوسری خوبی ؛بلکہ یوں کہیں کہ اس کے ماتھے کا جھومر اس کا دوسرا حصہ ہے،جو مولانا کی خود نوشت یادداشتوں پر مشتمل ہے اور ان سے مختصراً ہی سہی،مولانا کی زندگی اور معرکہ ہاے حیات سے خود ان کی زبانی تعارف حاصل ہوتا ہے۔ واقفانِ حال جانتے ہیں کہ مولانا امینی کے بارے میں خود ان کی زبان و قلم سے جاننا کتنا پر لطف و لذت آگیں ہوسکتا ہے!

(۳) کتاب کی تیسری خوبی یہ ہے کہ اس میں ۱۹۸۲ء سے لے کر مئی ۲۰۲۱ء تک کے اڑتیس انتالیس سالہ دورانیے میں مولانا نے مجلہ ’’الداعی‘‘ عربی میں جن موضوعات پر لکھا،جن اردو تحریروں اور کتابوں کے عربی ترجمے کیے،جن قومی و عالمی مسائل کے تجزیے کیے،امت اور ملت کو درپیش چیلنجز کے جن جن پہلووں کی نشان دہی کی، جن ملکی و غیر ملکی شخصیات کو بعد از مرگ اپنی تحریروں کے ذریعے زندگی و پایندگی بخشی،جن ادبی،لسانی و تنقیدی موضوعات کو انھوں نے اپنے نتائجِ تحریر و قلم رانی سے ثروت مند بنایا ،ان سب کا اشاریہ مرتب کرکے پیش کیا گیا ہے۔ یہ اشاریہ مولانا کے فکر و نظر اور علم و قلم کی وسعت،تنوع اور رنگارنگی کی منہ بولتی تصویر ہے اور آیندہ ان پر ریسرچ کرنے والوں کے لیے نہایت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

(۴) ایک خوبی اس کتاب کی یہ بھی ہے کہ اس پر اردو کے ممتاز ناقد اور نہایت رسیلی نثر لکھنے والے ادیب جناب حقانی القاسمی نے تعارفی تحریر لکھی ہے، جو اس میں شامل ہے۔ حقانی صاحب مولانا کے بڑے عزیز و محبوب شاگردوں میں رہے ہیں،انھوں نے اپنی تحریر میں مولانا سے وابستہ بڑی پر لطف یادیں شیئر کی ہیں۔

(۵) کتاب اپنے ظاہری سراپا کے اعتبار سے بھی خوش منظر ،دیدہ زیب اور اپنے موضوع یعنی مولانا نور عالم خلیل امینی ہی کی طرح نفیس و نستعلیق ہے اور اسے دیکھتے ہی آنکھیں روشن ہوجاتی ہیں ـ

اہلِ علم وادب اور کتاب بینی کا ذوق رکھنے والے حضرات ادارۂ علم و ادب سے رابطہ فرمائیں اور ہندوستان بھر میں کہیں بھی حضرت امینی کا یہ دلچسپ و خوب صورت زندگی نامہ منگوائیں:
+919520255550

26/04/2022

نئی دہلی:عربی زبان کے بافیض معلم،ادیب،صحافی و مفکر مولانا نور عالم خلیل امینی حیات و خدمات پر پہلی مبسوط و مفصل کتاب’’اک شخص دل ربا سا‘‘عنقریب منظر عام پر آنے والی ...

اس کتاب میں حسنِ خط کی اہمیت کو اجاگر کر نے کے ساتھ ساتھ بہ طور خاص خط رقعہ  کی ضرورت و اہمیت کو اجا گر اور اس کو سیکھنے...
11/10/2021

اس کتاب میں حسنِ خط کی اہمیت کو اجاگر کر نے کے ساتھ ساتھ بہ طور خاص خط رقعہ کی ضرورت و اہمیت کو اجا گر اور اس کو سیکھنے کے طریقے کی راہ نمائی کی گئی ہے۔ آسانی کے لیے نہ صرف خط رقعہ؛ بل کہ خطِ نسخ کے بہت سے نمونے دسیوں صفحات میں جلی اور خفی دونوں طرح کے پیش کیےگئے ہیں؛ تاکہ طلبہ اُن کی مشق بہ آسانی کرسکیں۔
ساتھ ہی عہد بہ عہد عربی خطوط کی ترویج و ترقی پر ایک طائرانہ نظر کتاب کے شروع ہی میں ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ آغاز اسلام، عہد اموی، عہد عباسی، عہد فاطمی اور عہد عثمانی میں عربی خطوط کن مراحل سے گزرے اور کون کون سے بڑے خوش نویسوں اور عربی خطاطوں نے ان کی ترقی میں حصہ لیا اور نام کمایا۔
عصر حاضر کے عربی کے باکمال خوش نویسوں اور خطاطوں کا بھی مختصرًا تعارف پیش کیا گیا ہے۔
عصر حاضر کے اہم عربی خطوط کا تعارف اور نمونہ بھی پیش کیا گیا ہے، جس سے یہ کتاب اس حوالے سے دستاویزی اور تاریخی بن گئی ہے۔
کتاب چوں کہ ہندوستان میں منفرد تھی اور ہے؛ اس لیے — الحمد للّہ — اس کے مسلسل بہت سے ایڈیشن شائع ہوے اور عربی زبان کے طلبہ و علما نے اس سے بہت فائدہ اٹھایا اور اٹھا رہے ہیں، آپ بھی اِس سے محروم نہ رہیں اور آج ہی ادارہ علم و ادب دیوبند سے یہ کتاب خریدیں خود فائدہ اٹھائیں اور دوستوں کوبھی فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیں۔

ادارہ علم و ادب دیوبند
+91 95202 55550

اس کتاب کو پڑھنے کے بعد نہ صرف حقائق سے بہ خوبی آگاہی ہوتی ہے؛ بل کہ ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے؛ عقیدے کی پختگی کاسا...
30/09/2021

اس کتاب کو پڑھنے کے بعد نہ صرف حقائق سے بہ خوبی آگاہی ہوتی ہے؛ بل کہ ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے؛ عقیدے کی پختگی کاسامان ہاتھ آتا ہے؛ اسلام کے قوی الاعصاب مذہب ہونے پر ایمان تازہ ہوتا ہے؛ باطل کی پسپائی پسندی اور حق کے نہتھے ہونے کے باوجود جیت کا منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور قاری اِس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ باطل کا نصیبہ ہی یقینی پسپائی ہے، اسی لیے اس کا سارا زور، سارے ہتھیار، ساری تدبیریں ڈھیر ہوتی جارہی ہیں اور اندھیرے میں تیر چلاکر وہ کچھ بھی حاصل نہیں کرپارہا۔

یہ کتاب چھٹی صدی ہجری کے صاحبِ قلب و نظر فقیہ امام برہان الدین زرنوجی کی تصنیف ہے جو فقہ حنفی کی مشہور ترین کتاب “ہدایہ”...
28/08/2021

یہ کتاب چھٹی صدی ہجری کے صاحبِ قلب و نظر فقیہ امام برہان الدین زرنوجی کی تصنیف ہے جو فقہ حنفی کی مشہور ترین کتاب “ہدایہ” کے مصنف علامہ امام برہان الدین علی بن ابی بکر مرغینانی فرغانی متوفی ۵۹۳ھ کے شاگرد رشید تھے۔
یہ کتاب دارالعلوم دیوبند اور سینکڑوں مدرسوں میں داخلِ نصاب ہے؛ کیوں کہ یہ اپنے موضوع پر لاجواب کتاب ہے۔ اس کا موضوع جیساکہ اس کے نام سے ظاہر ہے، طالب علم کی تربیت، تادیب، اس کی جامع رہ نمائی اور ایسے راستے کی نشان دہی ہے، جس کے ذریعے وہ تحصیلِ علم کے مقاصد میں کام یابی کے ساتھ اپنے مولی کی خوش نودی کی منزل کو پاکر دونوں جہاں میں سرخ رو اور اعلی و ارفع بن سکتاہے۔

یہ کتاب بر صغیر میں بہت سے کتب خانوں سے شائع ہوئی ہے، ہر ایک نسخہ عموماً دوسرے سے مختلف ہے۔ بعض نسخوں میں بعض عبارتیں پیچیدہ اور غیر مربوط سی ہیں۔
ادیب کبیر حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی عرق ریزی اور کئی سال کی محنت کے بعد بہت سے قدیم و جدید نسخوں کے مابین موازنہ کرکے صحیح ترین نسخہ تیار کیا ہے اور ساتھ ہی حاشیے پر الفاظ کی مکمل و مفصل ضروری شرح و تحقیق، نیز اعلام کا تعارف، حدیثوں کی تخریج وغیرہ کی ہے، جسے ادارہ علم وادب نے اپنے معیاری طرز پر شائع کیا ہے۔
یہ نسخہ بفضلہٖ تعالی بہت مکمل و مصحح ہے، اسی لیے دارالعلوم دیوبند میں طلبہ کو یہی نسخہ مستعار دیا جاتا ہے۔
یہ نسخہ ہر طالب علم اور مدرس کی ناگزیر ضرورت ہے، اس کے بعد کسی شرح کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

پورے ہندوستان میں کہیں بھی بہ ذریعہ ڈاک منگانے کے لیے رابطہ کریں

+91 95202 55550
ادارہ علم و ادب دیوبند

پورے ہندوستان میں کہیں بھی منگانے کے لیے رابطہ کریں +91 95202 55550
15/08/2021

پورے ہندوستان میں کہیں بھی منگانے کے لیے رابطہ کریں

+91 95202 55550

تصنیف: ادیب عصر حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی مدظلہ استاذ ادبِ عربی دارالعلوم دیوبند و ایڈیٹر انچیف ماہنامہ الداعی دارالعلوم دیوبند

افغانستان اور عراق میں امریکہ اور اُس کے حلیفوں کی ظاہری عسکری جیت سے مسلمانوں کو حد درجہ تکلیف ہوئی؛ کیوں کہ انھوں نے امریکہ اور اُس کے دوستوں کی شکست کی اتنی دعائیں مانگیں کہ خدا کے سامنے رونے، گڑگڑانے اور بلکنے و تڑپنے کا مسلمانوں کو اپنے رب کے تئیں یہ انداز اور یہ ناز مصنف کے بہ قول اُس کو اپنی ٦۷ سالہ زندگی میں یاد نہیں۔ مسلمانوں نے عربی کے علاوہ ہر خطے کی ہر زبان میں، اپنے رب سے آرزو و منت کی کہ خدایا ! طاقت و ترقی کے نشے سے بد مست امریکہ کو تو اپنی قدرت کاملہ سے ٹھکانے لگادے، ہمارے گناہوں سے چشم پوشی کر تے ہوے، اپنی غفاری و ستاری کو کام میں لاتے ہوے مسلمانوں کی تقصیرات سے در گزر کر تے ہوے، اپنی قہاری کے طفیل، اس کو شکست و ریخت سے دو چار کر دے؛ تاکہ وہ آیندہ امتِ مسلمہ کی ناک میں دم نہ کر سکے۔
لیکن خداے بے نیاز و حکیم نے بہ ظاہر اُن کی کوئی دعا قبول نہ کی اور مادی وسائل اور ہتھیار کے انبار کے مالک امریکہ اور اُس کے شریکِ ظلم حلیفوں کو ہی “فتح” سے نواز دیا؛ تاکہ وہ نہ صرف مذکورہ دونوں مسلم ملکوں؛ بل کہ سارے عربی و مسلم ملکوں اور ساری دنیا کے دین پسند مسلمانوں کے لیے، اِس دنیا کو تنگ جگہ بنا ڈالنے کی اپنی کاروائی کو، اُسی طرح انجام دیتا رہے، جس طرح انجام دینے کی اُس کی خواہش رہی ہے۔
مصنف نے افغانستان کے سقوط کے وقت، بہ طورِ خاص مسلمانوں کو اپنے خدا سے بہت شکوہ سنج پایا اور اور اُن کی یہ خواہش بھی اُن کی زبان سے سنی اور اُن کے چہروں پر پڑھی کہ اللہ پاک کو کم از کم اس وقت تو امریکہ کو ہرا ہی دینا تھا، بعد میں خداے کریم جو چاہتا کرتا !
اس کتاب میں عام مسلمانوں کے اسی خلجان کے علاج کی دوا فراہم کرنے کی کو شش کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں اسباب و مسببات کی جکڑ بندی کی سنت ہی رائج ہے اور ہمارے لیے جنگ اور صلح اور دوست و دشمن سے معاملے و مقابلے کے تعلق سے نبی اکرمﷺ کے کردار و عمل اور قول و فعل میں مکمل راہ نمائی موجود ہے۔ نقشۂ عمل اور زندگی کا روز نامچہ، اللہ کے آخری اور پایندہ دین میں، آیندہ مسلمانوں کے لیے بھی وہی رہےگا، جو قرنِ اول کے مسلمانوں یعنی صحابۂ کرام کے لیے رہاہے۔
اس کتاب کے ذریعے، تعبیر کی لذت، انداز تکلم کی ندرت اور تلمیحات و استعارات کی نفاست سے با ذوق قاری کو دل کی غذا، روح کی شفا، یقین کی روشنی اور خیالات و احساسات کی صیقل گری کی تد بیر بھی ہم دست ہوتی ہے۔
یہ کتاب بتاتی ہے کہ بعض دفعہ شکست کی صورت میں فتح ہوتی ہے اور اور فتح در حقیقت شکست یا اُس کا مقدمہ ہوتی ہے۔ پھر خدا کی حکمت و مصلحت کو خود اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہ بعض دفعہ ظالموں کو ظلمِ بے پناہ کے باوجود ڈھیل دیے جاتاہے؛ تاکہ وہ اُس کی شدید پکڑ کا یقینی طور پر مستحق ہو کر اُس کے عذابِ الیم سے با لیقین دو چار ہوں۔ پھر یہ کہ دنیا دارالجزا نہیں، یہ تو صرف دارالعمل ہے، حساب چکانے کی جگہ دارِ آخرت ہے، اس کے با وجود خداے ذو الجلال کبھی کبھی یہاں بھی ظالموں کی عبرت ناک پکڑکا منظر دکھاتا ہے۔ قرآن پاک نے ظالموں کی پکڑ کے بہت سے واقعات اپنی محکم آیات میں ہماری عبرت کے لیے پیش کیے ہیں۔
اِس کتاب میں اُن سارے حقائق کو مختصراً و مُدَلّلاً پیش کرنے کی کو شش کی گئی ہے۔

Address

Opposite Idgah Ground Deoband, Near Indira Park, Darul Uloom Waqf Road
Deoband
247554

Opening Hours

Monday 9am - 8pm
Tuesday 9am - 8pm
Wednesday 9am - 8pm
Thursday 9am - 8pm
Friday 9am - 8pm
Saturday 9am - 8pm
Sunday 2pm - 8pm

Telephone

+919045927907

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when IDARA ILM O ADAB posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to IDARA ILM O ADAB:

Share