10/06/2026
پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور جمہوریت
پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک یہ تاثر موجود رہا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے جمہوری عمل کو مکمل آزادی کے ساتھ پنپنے نہیں دیا۔ بارہا ایسا دیکھا گیا کہ جب منتخب حکومتیں اپنے سیاسی سفر پر گامزن ہوتی ہیں تو مختلف وجوہات کی بنا پر انہیں وقت سے پہلے ختم کر دیا جاتا ہے۔ کبھی کرپشن کے الزامات سامنے آتے ہیں، کبھی غداری کے فتوے لگتے ہیں، اور یوں عوامی مینڈیٹ رکھنے والی حکومتوں کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے۔ افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ بعض سیاسی عناصر نے بھی اصولی سیاست کے بجائے وقتی مفادات کو ترجیح دی اور طاقتور حلقوں کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتے رہے۔
آزاد کشمیر کی سیاست میں بھی اسی طرزِ عمل کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص نشستوں کے ذریعے آزاد کشمیر کی حکومتوں پر اثر و رسوخ قائم رکھنے کی کوشش کی گئی۔ اس خطے کو مالی اور انتظامی طور پر کمزور رکھا گیا تاکہ وہ مکمل طور پر مرکز اور اسٹیبلشمنٹ کے زیرِ اثر رہے۔ تعلیم، صحت، پولیس اور دیگر ریاستی اداروں میں مداخلت نے عوامی ترقی کی رفتار کو سست کر دیا، جس کے باعث آج بھی یہ خطہ بنیادی سہولیات کے حوالے سے کئی مشکلات کا شکار ہے۔
جب عوام نے ان حالات سے تنگ آ کر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے مطالبات پیش کیے تو انہیں طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران نوجوانوں پر گولیاں چلیں، قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور کئی خاندان سوگوار ہوئے۔ بعد ازاں مذاکرات کے دوران عوامی مطالبات تسلیم کیے گئے اور ان پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی گئی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ وعدے بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔
نتیجتاً عوام ایک بار پھر اپنے حقوق کے لیے میدان میں نکلے۔ اس بار بھی طاقت کا استعمال کیا گیا اور مظاہرین کے خلاف کارروائیاں ہوئیں، جن میں بچے، بزرگ اور خواتین بھی متاثر ہوئے۔ تاہم کشمیری عوام نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کے بجائے مزید استقامت کا ثبوت دیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں صرف طاقت کے بل بوتے پر نہیں چل سکتیں۔ پائیدار استحکام، ترقی اور قومی یکجہتی کے لیے عوامی رائے، جمہوری اداروں اور آئینی بالادستی کا احترام ناگزیر ہے۔ فوج کا بنیادی اور قابلِ احترام کردار ملکی دفاع ہے، جبکہ سیاسی معاملات عوام کے منتخب نمائندوں کے سپرد ہونے چاہییں۔ جب بھی طاقت کے مراکز اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتے ہیں تو اس کے اثرات ریاستی اداروں، معیشت اور سماجی ہم آہنگی پر مرتب ہوتے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ریاستی ادارے آئینی حدود کے اندر رہ کر اپنے فرائض انجام دیں، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور مسائل کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات، انصاف اور جمہوری اصولوں کے مطابق تلاش کیا جائے۔ قومیں ڈنڈے اور جبر سے نہیں بلکہ اعتماد، انصاف اور عوامی شراکت سے ترقی کرتی ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ عوام کے جائز حقوق اور پرامن جدوجہد کا احترام کیا جانا چاہیے، اور پاکستانی قیادت کو ایسے فیصلے کرنے چاہییں جو عوامی اعتماد کو بحال کریں، قومی یکجہتی کو مضبوط بنائیں اور جمہوری اقدار کو فروغ دیں ۔
مظہر عالم چوہدری