CT Sports ES

CT Sports ES Vendemos E Reparamos todo tipo de bicicletas (bicicletas de equilibrio, bicicletas de carretera, mot

13/03/2026
13/03/2026

‏اب نئی ۔۔۔رپورٹ آرہی ہے کہ عرب ممالک پاکستانیوں کو ڈیپورٹ۔۔ کرنے پر غور کررہے ہیں اور ایک بہت بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو دیپورٹ کیا جاسکتا ہے اور کچھ ممالک پاکستان کیلئے ویزوں کے اجراء پر پابندی لگانے کا بھی سوچ رہے ہیں ۔ کیوں کہ حالیہ جنگ کے دوران سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کی جانب سے عرب مخالف مہم چلائی گئی ۔ جس پر عرب سخت ناراض ہیں ۔ انہوں نے حکومت سے بھی سخت گلے شکوے کئے ہیں ۔

پاکستان کوشش کررہا ہے کہ بات نہ بڑھے لیکن جو صورتحال ہے وہ زیادہ اچھی نہیں ہے ۔ سوشل میڈیا کا عربوں کے خلاف استعمال ہزاروں پاکستانیو ں کا روزگار لے ڈوبے گا۔۔
جو تجزیہ کار اپنے تبصروں میں محض جذبات کو ترجیح دے رہے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ یہ نہ بھولیں کہ 60 لاکھ سے زائد پاکستانی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور دیگر خلیجی ممالک میں رہتے اور کام کرتے ہیں، اور وہاں سے آنے والا اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ مشکل معاشی حالات میں بھی یہی خلیجی ممالک ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ سعودی عرب میں حرمین شریفین تمام مسلمانوں کا روحانی مرکز ہیں۔

خلیجی ممالک کا امن اور استحکام ہم سب کے لیے نہایت اہم ترجیح ہونی چاہیے۔

مہربانی کر کے اس معاملے پر معاملہ فہمی، دانشمندی، توازن اور حقیقت پسندانہ سوچ کے ساتھ تبصرہ فرمائیں۔ شکریہ
゚viralシalシ

13/03/2026

سٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو: پاکستان کے لیے ایک ناگزیر دفاعی اور معاشی ضرورت
تاریخی پس منظر اور امریکی ماڈل توانائی کی تاریخ میں 1973 کا سال ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جب عرب اسرائیل جنگ کے دوران خلیجی ممالک کی جانب سے تیل کی فراہمی بند ہونے پر امریکہ میں شدید معاشی بحران پیدا ہوا۔ اس تجربے سے سبق سیکھتے ہوئے، امریکی کانگریس نے 1975 میں سٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو (SPR) قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت امریکہ کے پاس ٹیکساس اور لوئیزیانا کی ریاستوں میں زیرِ زمین ذخیرہ کرنے کی مجموعی گنجائش 714 ملین بیرل ہے۔ 2025 کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، اس میں 395 ملین بیرل تیل موجود ہے، جو کہ امریکہ کی 20 ملین بیرل یومیہ کھپت کے حساب سے تقریباً 20 دن کا ہنگامی اسٹاک بنتا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے 2022 میں تیل کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر اس ذخیرے سے تیل نکالا، تاہم 2024 کے بعد سے اس کی مزید فروخت فی الحال بند ہے۔

پاکستان کی ضرورت اور موجودہ صورتحال پاکستان کی روزانہ کی پیٹرولیم مصنوعات کی ضرورت تقریباً 5 لاکھ بیرل ہے۔ اس وقت ملک میں صرف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس 25 دن کا 'بفر اسٹاک' ہوتا ہے، جسے فنی طور پر سٹریٹیجک ریزرو نہیں کہا جا سکتا۔ اگرچہ پاکستان کی فیڈرل وار بک کے مطابق ملک میں 45 دن کا ایندھن ہر وقت موجود ہونا چاہیے، لیکن حقیقت میں ہم اب بھی ایک بڑے اسٹوریج سے محروم ہیں۔ اوگرا (OGRA) نے 2022 میں ایک مطالعے کے بعد حکومت کو ایسا ہی ایک ریزرو بنانے کی تجویز دی تھی، جو 60 دن کی ایمرجنسی ضرورت پوری کر سکے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کو تقریباً 35 سے 40 ملین بیرل کی گنجائش والی فیسلٹی درکار ہے۔

سالٹ کیورنز (Salt Caverns): ایک محفوظ اور سستا حل اسٹریٹجک اسٹوریج کے لیے دو طریقے پوری دنیا میں رائج ہیں:

زیرِ زمین نمک کے کنویں (Salt Caverns): امریکہ، فرانس اور جرمنی اسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ زمین کی گہرائی میں نمک کی دیواروں والے کنویں ہوتے ہیں جہاں تیل رسنے کا خطرہ نہیں ہوتا اور یہ بیرونی حملوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ اس کی تعمیراتی لاگت 4 سے 6 ڈالر فی بیرل ہے، جبکہ اس کی دیکھ بھال (Maintenance) کی سالانہ لاگت محض 20 سینٹ فی بیرل آتی ہے۔

سٹیل ٹینک (Steel Tanks): یہ زمین کے اوپر بنائے جاتے ہیں جیسے چین نے بنائے ہیں۔ ان کی تعمیراتی لاگت 15 سے 20 ڈالر فی بیرل ہے اور ان کی مینٹیننس بھی ایک ڈالر فی بیرل کے حساب سے کافی مہنگی پڑتی ہے۔

معاشی و دفاعی فوائد پاکستان کے لیے نمک کے ذخائر والے کنویں بنانا معاشی طور پر زیادہ سودمند ہے کیونکہ ہمارے ہاں نمک کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ اس منصوبے پر تقریباً ایک سے دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پاکستان عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے پر (یا روس جیسے ممالک سے رعایت پر) بڑی مقدار میں تیل خرید کر ذخیرہ کر سکتا ہے۔ جب عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھیں تو اس ذخیرے سے تیل نکال کر عوام کو سستا فراہم کیا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف معیشت مستحکم ہوگی بلکہ توانائی کے بحران سے بھی مستقل چھٹکارا مل سکے گا۔

موجودہ غیر یقینی عالمی سیاسی حالات اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے، پاکستان کے لیے 'سٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو' کا قیام اب محض ایک آپشن نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت بن چکا ہے۔

13/03/2026

As informed earlier, ONLY PAF will lead these negotiations 🦅🇵🇰

This is the only delegation, Pakistan gonna send for "negotiations".

13/03/2026

سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے مشکل وقت میں ایک سچے دوست کی طرح ساتھ کھڑا رہا ہے۔ جب بھی پاکستان کو معاشی دباؤ یا عالمی دباؤ کا سامنا ہوا، سعودی عرب نے پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑا اور ہر ممکن تعاون کیا۔ 🤝🇵🇰🇸🇦

1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد جب پاکستان پر سخت پابندیاں لگیں اور معیشت دباؤ میں آگئی تو سعودی عرب نے پاکستان کو ادھار تیل فراہم کیا تاکہ ملک کی معیشت کو سہارا مل سکے۔

2018 کے معاشی بحران میں بھی سعودی عرب نے اربوں ڈالر کی مالی مدد دی اور اسٹیٹ بینک میں ڈپازٹ رکھ کر پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کیا۔

قدرتی آفات کے وقت بھی سعودی عرب نے دل کھول کر مدد کی۔ چاہے 2005 کا زلزلہ ہو یا 2010 اور 2022 کے تباہ کن سیلاب، سعودی حکومت اور عوام نے پاکستانیوں کی بھرپور مدد کی۔

جنگوں کے دوران بھی سعودی عرب نے پاکستان کی حمایت کی۔ 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں میں سعودی عرب نے پاکستان کے مؤقف کی سفارتی اور مالی حمایت کی اور دنیا کے سامنے پاکستان کا ساتھ دیا۔

آج بھی لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں روزگار حاصل کر رہے ہیں اور وہاں سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر پاکستان کی معیشت کے لیے بہت بڑا سہارا ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ صرف سفارتکاری کا نہیں بلکہ اسلامی بھائی چارے، اعتماد اور مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہونے کا رشتہ ہے۔ ❤️🇵🇰🇸🇦

13/03/2026

مغربی بنگال کے شہر مرشد آباد کے نواح میں ایک عمارت کے بچے کھچے آثار باقی ہیں۔ میر جعفر کی رہائش گاہ کے اس دروازے کو آج "نمک ح۔ رام ڈیوڑھی" کہا جاتا ہے ۔۔۔ وجہ تو آپ تو جانتے ہی ہیں۔ وہ نمک ح۔ رام محض تین برس بعد اپنے انجام کو پہنچ گیا تھا۔
بس اسی طرح کسی روز بیلجئیم سے بھی تصویریں آئیں گی 😉

13/03/2026
13/03/2026

ایک پراسرار ریڈیو براڈکاسٹ جو ایران، امریکہ، اسر-- آئل جنگ کے پہلے دن سے جاری ہے۔۔۔۔۔

28 فروری 2026,
ایران پر اتحادیوں کے حملے کے پہلے دن ایک ناقابل فہم ریڈیو براڈ کاسٹ سگنل کو دنیا کے کئی خطوں میں سنا گیا۔
یہ سگنل ایک مردانہ آواز پر مشتمل ہے جو پرسکون لہجے میں " فارسی " میں کچھ ہندسے دہرا رہا تھا۔

اس ریڈیو سگنل میں فارسی میں کچھ ہندسوں کو ترتیب سے پڑھا جاتا ہے۔
پھر ایک مختصر وقفہ۔۔۔۔
پھر تین مرتبہ " توجہ، توجہ ، توجہ " کے الفاظ۔
جس کے بعد دوبارہ ہندسے بولے جانے کا آغاز ہوجاتا ہے۔

ان ہندسوں کی ترتیب اس پوسٹ کے ساتھ نتھی تصویر میں دی گئی ہے۔

بعض اوقات یہ سگنل طویل ہوتا ہے اور بعض اوقات مختصر۔
ابھی تک اس بات کا پتا نہیں چلایا جا سکا کہ یہ سگنل کہاں سے براڈکاسٹ ہورہا ہے۔
تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سگنل مغربی یورپ میں کسی مقام سے براڈکاسٹ کیا جارہا ہے۔

جنگ کے 5ویں دن کسی نے اس سگنل کو جان کرنے کی کوشش کی۔
لیکن اگلے دن یہ پیغام ایک نئی فریکوئنسی پر نشر ہونے لگا۔

اس سگنل کو لے کر امریکہ اور یورپ میں قدرے خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔

کیونکہ بعض انٹیلی جنس زرائع کے مطابق یہ سگنل پوری دنیا میں تعینات ایرانی سلیپر سیلز کو متحرک کرنے اور پوری دنیا میں امریکی و اسر-- آئلی اہداف کو نشانہ بنانے کی ایک منظم مہم میں ٹریگر کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یعنی ایرانی انٹیلی جنس کے وہ آپریٹوز جنہیں طویل عرصے سے پوری دنیا میں سلیپر سیلز کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔ یہ سگنل ان کے لیے " حملے کا سگنل " ہو سکتا ہے۔ جسے ڈی-کوڈ کر کے وہ حملوں کے بارے میں ہدایات حاصل کر سکتے ہیں۔

تاہم ابھی تک اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔۔۔۔
اور نہ ہی ابھی تک اس سگنل کے منبع کا پتا چلایا جا سکا ہے۔

Dirección

Benetúser

Horario de Apertura

Lunes 09:00 - 21:00
Martes 09:00 - 21:00
Miércoles 09:00 - 21:00
Jueves 09:00 - 21:00
Viernes 09:00 - 21:00
Sábado 09:00 - 21:00

Página web

Notificaciones

Sé el primero en enterarse y déjanos enviarle un correo electrónico cuando CT Sports ES publique noticias y promociones. Su dirección de correo electrónico no se utilizará para ningún otro fin, y puede darse de baja en cualquier momento.

Contacto La Empresa

Enviar un mensaje a CT Sports ES:

Compartir