Talha Khan

Talha Khan talha khan

12/02/2025

نادرا کی جانب سے
پہلے سے بنے ہوئے کسی 'ب' فارم کو منسوخ نہیں کیا گیا

جن بچوں کے 'ب' فارم پہلے سے بنے ہوئے ہیں، اور ان کا پاسپورٹ بنوانا ہے یا
10سال سے زیادہ اور 18 سال سے کم عمر جن بچوں کا 'ب' فارم پہلی بار بنوانا ہے تو
والدین ان بچوں کے ہمراہ قریبی نادرا سنٹر تشریف لائیں یا نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے درخواست جمع کرائیں۔

پہلے سے بنے ہوئے 'ب' فارم منسوخ کرنے کی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

مزید معلومات اور اپ ڈیٹس کے لئے نادرا کے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو فالو کریں:

یوٹیوب چینل: https://www.youtube.com/
فیس بُک: https://www.facebook.com/NADRAPAKISTANOFFICIAL
انسٹاگرام: ‏https://www.instagram.com/nadrapak_official
ایکس(ٹویٹر): https://x.com/NadraPak
ویب سائٹ: ‏www.nadra.gov.pk
ہیلپ لائن: 051111786100
موبائل صارفین: 1777

08/09/2024

منیر شاکر کے خلاف جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کا فتویٰ،

اسلامی شعائر اور معتقدات کا انکار و استہزاء کرنے والے کا حکم
سوال :
عرض ہے کہ ہمارے علاقے میں ایک انتہائی چرب زبان خطیب ہیں، موصوف عرصہ دراز سے مسلمانوں کے اندر موجود چودہ صدیوں کے اتفاقی نظریات و اعمال پر تنقید کرتے ہوئے سادہ لوح مسلمانوں کے دلوں میں نہ صرف شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں، بلکہ علماء خصوصًا اسلاف کو قرآن کی آڑ میں کڑی تنقید کا نشانہ بنا کر مسلمانوں کو علماء و اسلاف سے بدظن کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔ ساتھ ہی اپنے ویڈیو بیانات و دروس میں قرآنِ مجید، احادیث رسول ، انبیاء کرام علیہم السلام، مقدس شخصیات و اسلاف امت کے متعلق انتہائی توہین آمیز و گستاخانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، جو مقامی مسلمانوں میں سخت افتراق و انتشار کا باعث بن رہا ہے۔ پختون پٹی کے کئی سادہ لوح مسلمان اس کے دامِ تزویر میں بری طرح پھنس چکے ہیں اور اب وہ بھی کھلم کھلا اسلامی معتقدات و شعار کا نہ صرف انکار کر رہے ہیں، بلکہ استہزا کر رہے ہیں۔ موصوف کی دل آزار باتیں سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں جنہیں ان کے آفیشل یو ٹیوب و فیس بک پیج پر تفصیل کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے، البتہ ہم یہاں موصوف کے چیدہ چیدہ نظریات نقل کر دیتے ہیں :

(١) موصوف احادیث کی صحت کا کھلم کھلا منکر ہے اور احادیث کی کتب کو بھی ایرانی سازش کہتا ہے ۔ معاذ اللہ۔

(۲) موصوف اپنے بیانات میں کہتے ہیں کہ احادیث کی کتب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے دو سو سال بعد ایرانیوں نے تیار کیں۔

(۳) ان تیار شدہ احادیث کے مجموعوں میں ایرانیوں نے اپنی من مانی باتیں داخل کی ہیں۔

(۴) امام بخاری رحمہ اللہ و دیگر جید محدثین کے بارے میں انتہائی سخت نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے اور ان کی عدالت و ثقاہت کو مجروح یا کم از کم مشکوک بنانے کی صراحۃً کنایۃً و اشارۃً کو شش کرتا ہے۔

(۵) موصوف اپنے بیانات میں کہتا ہے کہ قرآن خود رسول اللہ ﷺنے امت کو دیا جبکہ احادیث رسول ﷺ کی وفات کے دو سو سال بعد امتیوں نے لکھ کر دیں اسی لیے احادیث میں اتنی گڑ بڑ اور باہم تضاد ہے۔

(٦) اطاعت رسول ﷺکو تسلیم نہیں کرتا اور کہتا ہےکہ : ” وہ محض ایک انسان تھے اللہ نے چوں کہ ان کی اطاعت کا حکم دیا تو ہم مانتے ہیں اگر وہ بھی معاذ اللہ قرآن کے خلاف کوئی بات کہہ دیں تو ہمیں تسلیم نہیں۔‘‘

(۷) اپنے بیان میں کہتا ہے کہ ”رسول رسالہ “ سے ہے بمعنی پیغام رساں ڈاکیہ۔ لہذا رسول، اللہ کا پیغام ( جس سے مراد اس کی صرف قرآن ہے ) لے کر آئے تو وہ رسول ہے اگر اپنی طرف سے کوئی بات کرے تو وہ معاذ اللہ رسول نہیں۔

(۸) اطیعوا الله و اطیعوا الرسول و اولى الامرمیں رسول و اولی الامر کی اطاعت اس وقت واجب ہے جب وہ اللہ کی بات کرے اگر اپنی طرف سے کوئی بات کرے تو معاذ اللہ رسول واجب الاطاعت نہیں۔

(۹) اسی ضمن میں موصوف فرماتے ہیں کہ :

اب لوگ کہتے ہیں کہ رسول کی احادیث حجت ہیں کیوں کہ اس پر کتابیں لکھی گئی ہیں تو اگر رسول اللہ کی احادیث حجت ہیں جس میں رسول کی باتیں ہیں پھر تو معاذ اللہ بادشاہوں کی باتیں بھی حجت ہوں گی اور ان کی باتوں پر بھی کتب لکھنی چاہییں۔ (گویا موصوف کے نزدیک رسول کی حیثیت ایک بادشاہ جیسی ہے معاذ اللہ )

(۱۰) معراج رسول ﷺکا مطلقا انکاری ہے اور مختلف عقلی شبہات و ڈھکوسلے پیش کر کے واقعہ معراج کو مشکوک بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

(١١)رسول اللہ ﷺ کے لیے ہر قسم کی شفاعت کا منکر ہے۔

(۱۲) کلمہ طیبہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ کلمہ نہیں کیوں کہ کلمہ صرف لا اله الا اللہ ہے۔

(۱۳) کلمہ کے دوسرے جز محمد رسول اللہ کے بارے میں کہتا ہے کہ جس طرح شیعوں نے کلمہ میں اضافہ کیا اسی طرح مولویوں نے بھی کلمہ کے اندر محمد رسول اللہ کااضافہ کردیا۔

(۱۴) حضرت سلیمان علیہ السلام جو پرندوں یا حیوانات کی بات سمجھتے تھے ان کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے: حضرت سلیمان علیہ السلام پرندوں کی بولی سمجھتے تھے تو سوال یہ ہے کہ آیا سلیمان علیہ السلام جو ان پرندوں و حیوانات سے باتیں کرتے اور ان کی بولی سمجھتے تھے اور ان سے ان ہی کی آواز میں محو گفتگو ہوتے ؟ اگر ایسا ہے پھر تو یہ سلیمان علیہ السلام کی کھلی گستاخی ہے؛ کیوں کہ بعض حیوانات و پرند (مثلًا کتاوکوا) کی آواز تو بڑی مکروہ و ناپسندیدہ ہے۔ اور اگر حیوانات و پرندے آپ سے انسانوں کی آواز میں بات کرتے تو یہ ان حیوانات و پرندوں کا کمال ہوا، اس میں آپ علیہ السلام کا کمال کہاں سے ہوا؟ معاذ اللہ!

(۱۵) موصوف ایک بیان میں انتہائی دل آزار انداز میں کہتا ہے:

”محمد میرے کوئی چاچا زاد بھائی نہیں کہ میں ان کو مانوں اگر اللہ محمد ﷺ کے ماننے کا نہ کہتا تو میں کبھی نہ مانتا“۔

(۱۶) مفتی مذکور اپنے ایک بیان میں کہتا ہے جسے نقل کرتے ہوئے بھی ہاتھوں پر رعشہ طاری ہوتاہے کہ :

روایات میں تو یہ بھی ہے کہ اگر کسی نے ایک نماز قضا کی اور پھر ادا بھی کر دے تب بھی دو کروڑ اٹھاسی لاکھ سال جہنم میں جلے گا تو نبی اکرم ﷺنے ایک دن میں تین نمازیں قضا کی ہیں ان کو جہنم میں (معاذ اللہ ) کتنے عرصہ کی سزا ملے گی۔ ( نقل کفر کفر نہ باشد معاذ اللہ )

(۱۷) نواسہ رسول ﷺحضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے اہلِ بیت میں سے معاذ اللہ نہ ہونے کے متعلق کہتا ہے : ”حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ اہلِ بیت میں سے نہیں؛ کیوں کہ نسبت باپ کی طرف ہوتی ہے نہ کہ ماں کی طرف حضرت حسین ابو طالب کی اولاد میں سے ہیں“۔

(۱۸) نماز تراویح کا قائل نہیں اور کہتا ہے کہ تراویح کی مشروعیت کا قائل ہونا کہ یہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے، اگر سنت کی نیت سے پڑھی جائیں تو یہ شرک ہے۔ معاذ اللہ!

(۱۹) رسول اللہ ﷺ یا اولیاء اللہ سے محبت کرنا ان کی محبت کا درس دینا شرک ہے اور مولویوں نے پوری زندگی منبروں سے اسی شرک کا ارتکاب کیا ہے۔

(۲۰) قرآن کی تفسیر نہ احادیث سے جائزہے نہ اقوال صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین سے اور نہ مفسرین سے ۔( معاذ اللہ )

(۲۱) مولویوں نے قرآن کو روایات کا غلام بناد یا ۔معاذ اللہ!

(۲۲) قرآن کو ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ عکرمہ، آلوسی، رازی رحمہ اللہ علیہم اجمعین اور دیگر مفسرین کا غلام بنادیا گیا۔

(۲۳) حوض کوثر کا منکر ہے جس کا ثبوت مشہور احادیث سے ہے۔

(۲۴) معتزلہ کی طرح پل صراط کا انکار کرتا ہے۔

( ۲۵) تنعیم و تعذیب قبر یعنی حیات فی القبر کا مطلقًا منکر ہے۔

(۲۶) معجزات و کرامات کا سرے سے انکار کرتا ہے۔

(۲۷) بلکہ جا بجا معجزات و کرامات کا موقع بموقع استہزا کرتا ہے۔

(۲۸) ذکر سبحان الله الحمد لله الله أكبروغیرہ کے فضائل کا منکر ہے اور اسے ایک لایعنی کام کہتا ہے ۔ معاذ اللہ!

(۲۹) تصوف کا مطلقًا منکر ہے، بلکہ تصوف کو شرک سمجھتا ہے۔

(۳۰) مذاہبِ اربعہ (احناف شوافع ، حنابلہ، مالکیہ ) کو دینِ اسلام کے متبادل مولویوں کا بنایا ہوا دین کہتا ہے۔ معاذ اللہ!

(۳۱) مدارس کو فرقہ وار یت اور انسان و اکابر پرستی کا مرکز و گڑھ کہتا ہے ۔

(۳۲) اللہ کے علاوہ کسی کےلیے بھی زندہ باد کا نعرہ لگانے کو شرک کہتا ہے۔

(۳۳) گزشتہ سال ایک ہندو عورت کی رسول اللہﷺ کی شان میں گستاخی پر رد عمل دیتے ہوئے کہتا ہے کہ معاذ اللہ اس ہندو عورت سے زیادہ پیغمبر کی شان میں گستاخیاں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اور ان جیسے دیگر محد ثین نے کی ہیں: لہذا ان کے خلاف احتجاج کرو۔ معاذ اللہ!

(۳۴) سحر و جادو کے اثرات سے مطلقًا انکار کرتا ہے۔

(۳۵) کہتا ہے کہ: "رسول اللہ ﷺ پر نہ جاد ہوا اور نہ جادو اثر کر سکتا ہے ، اور اس باب میں وارد تمام روایات و اقوال سلف کا انکار کرتا ہے۔

( ۳۶) قرآن مجید میں "ہدہد" سے مراد پر ندہ نہیں، بلکہ انسان ہے اور اسی طرح نملہ سے مراد عورت ہے۔

(۳۷) مفتی مذکور عبادات خصوصًا نماز میں صرف فرائض کا قائل ہے، جب کہ سنتوں کو وہ نفل کا درجہ دیتا ہے اور کھلم کھلا لوگوں کو ترغیب دیتا ہے کہ یہ کوئی ضروری نہیں، کر لیا تو ثواب ہے، نہ کیا تو کوئی گناہ وحرج نہیں۔

(۳۸) مومن کا ہتھیار دعا و عبادات خصوصًا نماز کے متعلق استہزا کرتے ہوئے کہتا ہے :

کافر ہم مسلمانوں کی کھلم کھلا بے عزتی کر رہے ہیں اور ہم دعاؤں اور نمازوں میں مشغول ہیں دعاؤں اور نمازوں کا کوئی فائدہ نہیں ۔معاذ اللہ !

(۳۹) قرآن کا ترجمہ نہیں آتا تو محض تلاوت کا کوئی ثواب نہیں ۔

(۴۰) اگر نماز میں پڑھی جانے والی سورتوں اور تسبیحات کا ترجمہ نہیں آتا تو ایسی نماز کا کوئی فائدہ نہیں اور اس پر کوئی ثواب نہیں۔

( ۴۱) موصوف اپنے ایک بیان میں کہتا ہے کہ : قرآن تو انقلاب کی کتاب ہے نہ کہ حفظ و تلاوت کرنے کی کتاب ۔

(۴۲) موصوف کو مولویوں سے سخت بغض و عناد ہے، کوئی بیان ایسا نہیں جس میں علماء کا استہزا ، ان پر تنقید نہ ہو، بات کوئی بھی ہو گھما پھرا کر اس کی تان آخر اس پرآکر ٹوٹتی ہے کہ:

دنیا میں اس وقت جو بھی فساد بر پا ہے اس کی وجہ مولوی ہے اور اس تمام افتراق و انتشار فتنہ و فساد کاذمہ دار مولوی ہے۔

(۴۳) موصوف کہتا ہے: امارت اسلامی افغانستان کا مقصد تو قرآن کا نفاذ تھا، مگر اب وہاں طالبان ابوحنیفہ کا دین نافذ کر رہے ہیں۔

(۴۴) اجماع کی حجیت کے قائل نہیں ہیں ۔

(۴۵) آیة الکرسی یاوہ سورتیں جن کے نام فضائل احادیث یا بزرگان کے تجربات میں وارد ہیں یا آیاتِ حفظ ان کے بارے میں کہتا ہے کہ :

تم نے اللہ تعالی کو آیت الکرسی اور سورتوں کا نو کر بنادیا ہے ۔ (یعنی تم یہ آیتیں وسورتیں پڑھو گے تو کیا اللہ معاذاللہ تمہارا نو کر ہے جو تمہاری حفاظت کرے گا)

(۴۶) 9 سال کی عمر میں اماں عائشہ طیبہ طاہر رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کا انکار کرتا ہے اور اس حوالے سے امام بخاری رحمہ اللہ علیہ اور دیگر محدثین پرسخت جرح کرتے ہوئے ان کی تو هین و تذلیل کرتا ہے ۔

(۴۷) معراج کی رات پانچ نمازوں کا ملنا اور فرض ہونے کا نہ صرف منکر ہے، بلکہ انتہائی نازیبا استہزائیہ انداز میں ان کا انکار کرتا ہے ۔

(۴۸) کہتا ہے کہ نماز یں تو پچھلی امتوں پر بھی فرض تھیں اور معراج کی رات سے پہلے فرض تھیں؛ لہذا وہ تمام روایات جس میں معراج کی رات نماز کا تحفہ ملنے کا ذکر ہے، بے بنیاد غلط اور جھوٹی ہیں ۔ معاذ اللہ!

(۴۹) موصوف کا نظریہ ہے کہ : قربانی صرف حاجی کے ساتھ خاص ہے، غیر حاجی کے لیے قربانی نہ فرض ہے، نہ واجب نہ سنت، بلکہ یہ صرف گوشت کا حصول ہے۔

(۵۰) تراویح کے وجود خصوصًا سنت ہونے کا علی الاطلاق منکر ہے۔ جس کی وجہ سے پچھلے کچھ سالوں سے عبادات میں سست مسلمانوں نے اس عبادت کو کلیۃً ترک کر دیا اور دیگر کو بھی یہی تعلیم دیتے ہیں ۔

(۵۱) موصوف قرآن کریم کی من مانی تفسیر کرنے کے لیے راہ ہموار کرتے ہوئے کہتا ہے : قرآن کریم کامل کتاب ہے؛ لہذا اس کی تفسیر کے لیے نہ احادیث کی ضرورت ہے نہ روایات صحابہ کرام اور نہ اقوال مفسرین، جو قرآن کی تفسیر احادیث و روایات یا اقوال سلف سے کرتا ہے، وہ گویا قرآن کو ناقص سمجھتا ہے ۔ (معاذ اللہ )

(۵۲) موصوف کہتے ہیں کہ:

مدارس میں اساتذہ نے مجھے وہ د دین سکھایا جو قرآن کے خلاف ہے۔ (یاد رہے کہ موصوف کے اساتذہ میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرکردہ مدارس کے محدثین کرام و مشایخ ہیں۔)

(۵۳) موصوف کا نظریہ ہے کہ : " رمضان کے مہینے کی کوئی خاص فضیلت نہیں۔"

(۵۴) صلوۃ التسبیح کو جعلی و من گھڑت نماز کہتا ہے اور کہتا ہے شریعت میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

غرض یه اس شخص کے چند عقائد و نظریات ہیں جو بندے نے نقل کیے ہیں، ورنہ اس کے دروس میں اس سے کہیں زیادہ خرافات کو سنا جا سکتا ہے ، یاد رہے کہ ان تمام باتوں خصوصًا مقدس شخصیات و شعار اسلام کا ذ کر کرتے ہوئے انتہائی عامیانہ وتو ہین آمیز انداز اپناتا ہے۔

اس تفصیل کے بعد :

کیا فرماتے ہوئے علمائے دین متین و مفتیان دین اسلام قرآن و سنت کے دلائل کی روشنی میں کہ :

(۱) ایسے عقائد کا حامل شخص خواہ کوئی بھی ہو کیا ایسے شخص کو مسلمان کہا جا سکتا ہے؟

(۲) کیا مندرجہ بالا نظریات مسلمانوں یا اسلام کے نظریات ہیں؟

(۳) کیا ایسے نظریات کے حامل شخص کے دروس سننا جائز ہے؟

(۴) ایسے نظریات کے حامل شخص کو ایک دینی راہ نما بنا کر اس کے انٹر یوز کرنا اور پھر اسے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس اور چینلزسے نشر کرنا یا شیر کرنا جائز ہے؟

(۵) ایسے نظریات کے حامل شخص کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاشرتی تعلقات رکھنا جائز ہے؟

(٦) ایسے شخص کے مدرسے میں اپنے بچوں کو داخل کروانا یا اس کے مدرسے کے ساتھ مالی یا دیگر تعاون کرنا جائز ہے؟

(٧) ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

براهِ کرم مندرجہ بالا سوالات کے جوابات دلائل کی روشنی میں جلد سے جلد عنایت فرمائیں؛ تا کہ اس شخص کے دام تزویر میں پھنسے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہی کی دلدل میں مزید دھنسنے سے بچایا جا سکے۔

جواب
1-2- سوال نامہ میں ذکرکردہ اکثر نظریات معتزلہ اور منکرین حدیث کےنظریات ہیں ، جب کہ بعض باتوں سے احادیثِ مبارکہ اور علماءِ امت کی توہین واستخفاف کا پہلو بھی نکلتا ہے، جو شخص ذکرکردہ نظریاتِ واہیہ و فاسدہ کا حامل ہو وہ اہلِ سنت والجماعت اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔

3-ایسے نظریات کے حامل شخص کے دروس سننے سے احتراز لازم ہے۔

4- 5-ایسے نظریات کے حامل شخص کودین کا راہ نما ومقتدا بناناجائز نہیں ہے، اس کے انٹرویوز کرنا ویڈیوز شیر کرنا کسی بھی طور پر جائز نہیں ہے،نیز ایسے نظریات کا حامل شخص جب تک اپنے باطل نظریات سے باز نہ آئے اور تجدیدِ ایمان نہ کرے، اس کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے سے اجتناب کیاجائے۔

6-ایسے نظریات کے حامل شخص کے مدرسہ میں اپنے بچوں کو علم دین سیکھنے کے لیے بھیجنا،اور اس کے مدرسہ کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون کرناجائز نہیں ہے۔

7-ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔

ترتیب وار حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔

1-2 مرقاة المفاتيحمیں ہے:

162 - "وعن أبي رافع رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ( «لا ألفين أحدكم متكئا على أريكته، يأتيه الأمر من أمري مما أمرت به أو نهيت عنه، فيقول لا أدري، ما وجدنا في كتاب الله اتبعناه» ) . رواه أحمد وأبو داود، والترمذي، وابن ماجه، والبيهقي في (دلائل النبوة)

(لا أدري) ، أي: لا أعلم غير القرآن ولا أتبع غيره أو لا أدري قول الرسول (ما وجدنا) : ما موصولة أو موصوفة (في كتاب الله) ، أي: القرآن (اتبعناه) : يعني: وما وجدناه في غيره لا نتبعه، أي: وهذا أمر الذي أمر به عليه الصلاة والسلام أو نهى عنه لم نجده في كتاب الله فلا نتبعه، والمعنى لا يجوز الإعراض عن حديثه عليه الصلاة والسلام، لأن المعرض عنه معرض عن القرآن. قال تعالى: {وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا} [الحشر: 7] وقال تعالى {وما ينطق عن الهوى - إن هو إلا وحي يوحى} [النجم: 3 - 4] وأخرج الدارمي عن يحيى بن كثير قال: كان جبريل ينزل بالسنة كما ينزل بالقرآن، كذا في الدر، ثم من قال بأنه عليه الصلاة والسلام كان مجتهدا ينزل اجتهاده منزلة الوحي لأنه لا يخطئ، وإذا أخطأ ينبه عليه بخلاف غيره."

(کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالكتاب والسنة، ج:1، ص:245، ط:دار الفكر، بيروت - لبنان)

وفیه أيضا:

"قال تعالى: {‌لتبين ‌للناس ما نزل إليهم} [النحل: 44] ولا خفاء في الإجمالات القرآنية، والتبيينات الحديثية، فإن الصلاة مجملة لم يبين أوقاتها، وأعدادها، وأركانها، وشرائطها، وواجباتها، وسننها، ومكروهاتها، ومفسداتها إلا السنة، وكذا الزكاة لم يعلم مقدارها، وتفاصيل نصابها، ومصارفها إلا بالحديث، وكذا الصوم، والحج، وسائر الأمور الشرعية، والقضايا، والأحكام الدينية، وتمييز الحلال، والحرام، وتفاصيل الأحوال الأخروية، فعليك بالكتاب، والسنة، وإجماع الأمة، وبالاجتناب عن طريق أرباب الهوى، وأصحاب البدعة ; لتكون من الفرقة الناجية السالكة طريق المتابعة على وجه الاستقامة. ولله در القائل:

كل العلوم سوى القرآن مشغلة … إلا الحديث، وإلا الفقه في الدين

العلم متبع ما فيه حدثنا … وما سوى ذاك وسواس الشياطين."

(مقدمة المؤلف، ج:1، ص:11، ط:دار الفكر، بيروت - لبنان)

حجة اللہ البالغة میں ہے:

"اعلم :

" أنه لا سبيل لنا إلى معرفة الشرائع والأحكام إلا خبر النبي ﷺ ، بخلاف المصالح ، فإنها قد تُدرك بالتجربة ، والنظر الصادق ، والحَدْس ، ونحو ذلك . ولا سبيل لنا إلى معرفة أخباره الله إلا تَلَقَّي الروايات المنتهية إليه بالاتصال والعنعنة ، سواء كانت من لفظه، أو كانت أحاديث موقوفةً قد صحت الرواية بها عن جماعة من الصحابة والتابعين ، بحيث يبعد إقدامهم على الجزم بمثله لولا النص أو الإشارة من الشارع ، فَمِثْلُ ذلك رواية عنه ﷺ دلالة . وتلقي تلك الروايات لا سبيل إليه في يومنا هذا ، إلا تتبع الكتب المدونة في علم الحديث، فإنه لا يوجد اليوم رواية يعتمدعليها غيرمدونة."

(طبقات کتب الحدیث، ج:1، ص:440، ط:دارابن کثیر)

تفسير الخازن میں ہے:

"قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ."﴿آل‌عمران: ٣١﴾

ولما نزلت هذه الآية قال عبد الله بن أبي ابن سلول رأس المنافقين لأصحابه: إن محمدا يجعل طاعته كطاعة الله ويأمرنا أن نحبه كما أحبت النصارى عيسى ابن مريم فأنزل الله عز وجل: قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ يعني أن طاعة الله متعلقة بطاعة رسول الله صلى الله عليه وسلم فإن طاعته لا تتم مع عصيان رسول الله صلى الله عليه وسلم ولهذا قال الشافعي رضي الله عنه: كل أمر أو نهي ثبت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم جرى ذلك في الفريضة واللزوم مجرى ما أمر الله به في كتابه أو نهى عنه، وقال ابن عباس رضي الله عنهما: فإن طاعتكم لمحمد صلى الله عليه وسلم طاعتكم لي، فأمّا أن تطيعوني وتعصوا محمدا فلن أقبل منكم. فَإِنْ تَوَلَّوْا أي أعرضوا عن طاعة الله ورسوله فَإِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْكافِرِينَ أي لا يرضى فعلهم ولا يغفر لهم. (خ) عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كل أمتي يدخلون الجنة إلّا من أبى قالوا: ومن يأبى؟ قال: من أطاعني دخل الجنة ومن عصاني فقد أبى». (ق) عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أطاعني فقد أطاع الله ومن عصاني فقد عصى الله، ومن يطع الأمير فقد أطاعني، ومن يعص الأمير فقد عصاني». قوله عز وجل."

(سورۃ آل عمران الآیة:31، ج:1، ص:239، ط:دار الكتب العلمية - بيروت)

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر میں ہے:

"وفي البزازية: فالاستخفاف بالعلماء؛ لكونهم علماء استخفاف بالعلم، والعلم صفة الله تعالى منحه فضلاً على خيار عباده ليدلوا خلقه على شريعته نيابةً عن رسله، فاستخفافه بهذا يعلم أنه إلى من يعود، فإن افتخر سلطان عادل بأنه ظل الله تعالى على خلقه يقول العلماء بلطف الله اتصفنا بصفته بنفس العلم، فكيف إذا اقترن به العمل الملك عليك لولا عدلك، فأين المتصف بصفته من الذين إذا عدلوا لم يعدلوا عن ظله! والاستخفاف بالأشراف والعلماء كفر. ومن قال للعالم: عويلم أو لعلوي عليوي قاصداً به الاستخفاف كفر. ومن أهان الشريعة أو المسائل التي لا بد منها كفر، ومن بغض عالماً من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر، ولو شتم فم عالم فقيه أو علوي يكفر وتطلق امرأته ثلاثاً إجماعاً."

(کتاب السیر، باب المرتد، الفاظ الکفرأنواع، ج:1، ص:695، ط:دار احیاء التراث العربی)

شرح العقائدالنسفیةمیں ہے:

"والمعراج الرسول الله له في اليقظة بشخصه الى السماء، ثم الى ماشاء الله تعالى من العلى حق، أي ثابت بالخبرالمشهور، حتى ان منكره يكون مبتدعاً---فالإسراء وهو من المسجد الحرام إلى بيت المقدس قطعي ثبت بالكتاب، والمعراج من الأرض إلى السماء مشهور، ومن السماء إلى الجنة أو العرش أو غير ذلك آحاد."

(ص: 133، ط: دارإحیاث التراث العربي)

الفتاوی الهندیة میں ہے:

" ومن أنكر المعراج ينظر إن أنكر الإسراء من مكة إلى بيت المقدس فهو كافر وإن أنكر المعراج من بيت المقدس لا يكفر."

(الباب الخامس في الإمامة الفصل الخامس في بيان من يصلح اماماً لغيره، ج: 1، ص: 84، ط: دار الفكر)

إكفار الملحدين في ضروريات الدين میں ہے:

"والحاصل أن من كان من أهل قبلتنا ولم يغل حتى لم يحكم بكفره تصح الصلاة خلفه، وتكره، ولا يجوز خلف منكر الشفاعة، والرؤية، وعذاب القبر، والكرام الكاتبين، لأنه كافر لتواتر هذه الأمور من الشارع عليه السلام ومن قال: لا يرى لعظمته وجلاله، فهو مبتدع."

(النقل فيه عن المحدثين والفقهاء والمتكلمين وكبار المحققين وجم غفير من المصنفين، ص:51، ط:المجلس العلمی/ باکستان)

کفایة المفتی میں ہے:

"جو شخص مرزا اور مرزائی جماعت کو کافر نہ سمجھے اور مرزائیوں سے رشتہ ناتا رکھتا ہو اور وفات عیسیٰ علیہ السلام کا قائل ہو اور معراج جسمانی کا منکر ہو اور شفاعت کا منکر ہو وہ گمراہ اور بد دین ہے اس کی امامت جائز نہیں

محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ‘ دہلی

(۱) قال في التنویر و شرحه: ’’ وإن أنکر بعض ما علم من الدین ضرورۃ کفر بھا فلا یصح الاقتداء به أصلاً الخ(باب الإمامة ۱/۵۶۱ ‘ ط سعید )

(کتاب الصلوٰۃ، ج: 3، ص:112، ط: دارالاشاعت)

أحكام القرآن للجصاص میں ہے:

"وهذا مما يحتج به في قبول توبة الزنديق متى أظهر الإسلام; لأن الله تعالى لم يفرق بين الزنديق وغيره إذا أظهر الإسلام; وهو يوجب أن من قال لا إله إلا الله محمد رسول الله، أو قال إني مسلم، أنه يحكم له بحكم الإسلام; لأن قوله تعالى: {لمن ألقى إليكم السلام} إنما معناه: لمن استسلم فأظهر الانقياد لما دعي إليه من الإسلام وإذا قرئ" السلام" فهو إظهار تحية الإسلام، وقد كان ذلك علما لمن أظهر به الدخول في الإسلام; وقال النبي صلى الله عليه وسلم للرجل الذي قتل الرجل الذي قال أسلمت والذي قال لا إله إلا الله: "قتلته بعدما أسلم؟ " فحكم له بالإسلام بإظهار هذا القول."

(‌‌مطلب البيان من الله تعالى على وجهين، ج:2، ص:310، ط:دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)

أحكام القرآن لابن العربيمیں ہے:

"فجعل الله لسليمان ‌معجزة ‌فهم ‌

كلام ‌الطير والبهائم والحشرات؛ وإنما خص الطير لأجل سوق قصة الهدهد بعدها. ألا تراه كيف ذكر قصة النمل معها، وليست من الطير. ولا خلاف عند العلماء في أن الحيوانات كلها لها أفهام وعقول.

وقد قال الشافعي: الحمام أعقل الطير. وقد قال علماء الأصوليين: انظروا إلى النملة كيف تقسم كل حبة تدخرها نصفين لئلا ينبت الحب، إلا حب الكزبرة فإنها تقسم الحبة منه على أربع؛ لأنها إذا قسمت بنصفين تنبت، وإذا قسمت بأربعة أنصاف لم تنبت. وهذه من غوامض العلوم عندنا، وأدركتها النمل بخلق الله ذلك لها."

(الآية الثانية قوله تعالى علمنا منطق الطير، ج:3، ص:472، ط:دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

تشنيف المسامع بجمع الجوامعمیں ہے:

"والمعجزة أمر خارق للعادة مقرون بالتحدى مع عدم المعارضة، والتحدى الدعوى.

(ش): لما قدم الإرسال بالمعجزات احتاج إلى تعريفها؛ ولأن ظهورها طريق إلى معرفة صدق النبي، وسميت بذلك لما فيها من تعجيز الذين معهم التحدى عن المقابلة بمثلها، قال الإمام في الرسالة النظامية تسميتها بذلك تجوز، فإن المعجز في الحقيقة خارق ولكن سميت بذلك؛ لأنه تبين بها أن من ليس نبيا يعجز عن الأتيان بما يظهره الله تعالى على النبي، فقوله: «أمر» جنس يشمل الخارق وغيره، وإنما عبر به لشموله القول والفعل والإعدام؛ لأن المعجز قد يكون إيجادا وإعداما، كما لو تحدى بأن يعدم جبلاً فينعدم، وكمنع إحراق النار. ولهذا قال بعضهم: فعل أو ما يقوم مقامه؛ لأن العدم ليس بفعل، وقوله: «خارق للعادة، فصل؛ لأنه نزل من الله تعالى منزلة التصديق بالقول، وأما ما لا يكون خارقا للعادة كطلوع الشمس كل يوم، فلا يكون دالاً على الصدق وإلا لادعى كل كاذب أنه نبي، وألبس علينا النبي والمتنبي، وعلم من إطلاقه أنه لا يشترط في الخارق أن يكون معينا."

(الکتاب السابع في الأجتهاد، ج:2، ص:309، ط:دارالکتب العلمية)

كتاب الأربعين في مناقب أمهات المؤمنينمیں ہے:

"وأهل البيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلي وفاطمة والحسن والحسين رضي الله عنهم أجمعين

هذا حديث صحيح وقد روي من وجه آخر دون ذكر أم سلمة قلت يارسول الله وقد رواه

25/06/2024

دوران ڈرائیونگ موبائیل فون کا استعمال قانونا جرم ہے۔ موبائیل فون کے استعمال سے گریز کریں۔ مفاد عامہ کی خاطر اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ دو سروں تک پہنچائیں۔

Address

Stret One
Sharjah
HGKM

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Talha Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share