26/10/2023
■ بسم اللہ الرحمن الرحیم ■
■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■
امت مسلمہ کے لئےجہاد بیت المقدس (قبلہ اول) و فلسطین کی حکمتیں اور اغراض محمودہ ۔
■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■
1- پہلی حکمت جہاد فلسطین:-
یہودیوں کا بیت المقدس کی سرزمین میں داخل ہونا امت مسلمہ کا اللہ و رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت سے روگردانی کرنا , اپنی ایمانی کمزوریاں , نافرمانیاں اور اسلام کا نفاذ نہ کرنا اور آپس کے اختلافات کا برا انجام بتلاتا ہے اور یہ بھی کہ امت مسلمہ کو جو بھی مصیبتیں وتکالیف اب تک پہنچتی رہی ہیں ان کے اعمال کی نحوست کی وجہ سے پہنچی ہیں۔
جس کی وجہ سے کفار و مشرکین اور لادینیت ان پر غالب آگئی حالانکہ اسلام کے نزول کے بعد دنیا ( مشرق و مغرب ) پر مسلمان ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے تک غالب رہے۔
اللہ تعالی فرماتا ہے ۔
وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّـٰهُ وَعْدَهٝ اِذْ تَحُسُّوْنَـهُـمْ بِاِذْنِهٖ ۖ حَتّـٰٓى اِذَا فَشِلْتُـمْ وَتَنَازَعْتُـمْ فِى الْاَمْرِ وَعَصَيْتُـمْ مِّنْ بَعْدِ مَآ اَرَاكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ ۚ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الـدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۚ ثُـمَّ صَرَفَكُمْ عَنْـهُـمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۖ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ ۗ وَاللّـٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ (آل عمران :152)
ترجمہ :-
اور اللہ تو اپنا وعدہ تم سے سچا کر چکا جب تم اس کے حکم سے انہیں قتل کرنے لگے، یہاں تک کہ جب تم نے نامردی کی اور کام میں جھگڑا ڈالا اور نافرمانی کی بعد اس کے کہ تم کو دکھا دی وہ چیز جسے تم پسند کرتے تھے، بعض تم میں سے دنیا چاہتے تھے اور بعض تم میں سے آخرت کے طالب تھے، پھر تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائے، اور البتہ تحقیق تمہیں اس نے معاف کر دیا ہے، اور اللہ ایمانداروں پر فضل والا ہے۔
جب مسلمانوں نے ہزاروں سال حکمرانی کے بعد اللہ اور رسول اللہ محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی اور آپس میں حکمرانی پر اختلافات کئے اسلامی حکومتوں کو بادشاہتوں میں تبدیل کردیا مشرق و مغرب کی الگ الگ بادشاہتیں بنالیں تو ان اعمال کا برا انجام یہ ہوا اللہ نے انھیں کمزور کردیا اور ان سے حکمرانی چھین لی اور مغلوب کردیا اور ایسے حالات میں یہودیوں کو بیت المقدس کی سرزمین میں داخل ہونے کا موقع ملا اور یہود و نصاری نے مسلمانوں کی حکومتوں پر قبضہ کر کے تمام مشرکین و کفاروں سے مل کر اپنی مرضی کی حکومتیں بنائیں اور اپنے مرضی کے قوانین و طرز حکومت وہا نافذ کردیا۔
اور جب تیرویں صدی ہجری میں اپنے اعمال کا برا انجام اچھی طرح بھگت لیا تو اس کے جانے کے اسباب سے گریز کرنے لگے اور اس بات کا احساس و ادراک کرنا شروع کیا کہ سرزمین پر اسلامی حکومت کا قیام ناگزیر ہے اور اس کے کہ چھوٹ جانے کہ ہی وجہ سے ہی غلامی نصیب ہوئی ہے۔اب اس صورت حال سےاسی صورت نجات ملے کی کہ امت مسلمہ صحیح رستہ پر گامزن ہو اور اسلامی حکومت کے قیام کے اسباب تلاش کرنے لگے اور جدوجہد شروع کی۔
2- دوسری حکمت جہاد فلسطین:-
اللہ تعالی اپنے رسولوں ان کے متبعین مومنین و مجاہدین کے بارے میں سنت جاری ہے کہ کبھی وہ غالب آجاتے ہیں اور کبھی مغلوب ہوجاتے ہیں لیکن انجام کار کامیابی انہی کو ہوتی ہے کیونکہ اگر ہمیشہ غالب رہیں تو ان کے ساتھ مومن اور غیر مومن دونوں شامل ہوجائیں اور صادق اور کاذب کے درمیان تمیز نہ ہو اور اگر ہمیشہ مغلوب ہوں تو اس سے بعثت و رسالت اور اللہ کی حاکمیت کے نفاذ کا مقصد فوت ہوجائے پس اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ اللہ تعالی نے دونوں امروں کو جمع کردیا تاکہ حق کی وجہ سے پیروی اختیار کرنے والوں اور صرف غلبہ اور شان و شوکت کی وجہ سے پیروی کرنے والوں کے درمیان فرق ہوجائے۔
3- تیسری حکمت جہاد فلسطین :-
یہ رسولوں کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جیسا کہ ہرقل نے ابوسفیان سے کہا تھا کیا تم نے کبھی ان سے جنگ کی? ابوسفیان نے کہا , ہاں , ہرقل نے کہا ان کے اور تمہارے درمیان جنگ کیسی رہی ? ابو سفیان نے کہا: برابرسرابر کبھی وہ غالب آگئے اور کبھی ہم غالب آگئے , ہرقل نے کہا اسی طرح رسولوں کو آزمایا جاتا ہے پھر آخر میں انجام انہی کا ہوتا ہے۔ (بخاری)
4- چوتھی حکمت جہاد فلسطین :
تاکہ صادق اور منافق کاذب کے درمیان امتیاز ہوجائے کیونکہ جب اللہ تعالی نے غزوہ بدر میں مسلمانوں کو کفار پر غلبہ عطا فرمایا اور ان کی شہرت ہوگئی تو یہ صورت حال دیکھ کر ان کے ساتھ بہت سے لوگ ظاہری طور پر اسلام میں داخل ہوگئے حالانکہ وہ پوشیدہ طور پر مسلمان نہ تھے تو اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ بندوں سے آزمائش کے ذریعے امتحان لے جس سے مومن اور منافق جدا جدا ہوجائیں چنانچہ منافقین نے اس غزوہ احد میں سر اٹھایا اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے تھے اسے اگل دیا اور اپنی پوشیدہ دشمنی کو ظاہر کردیا اور ان کا خفیہ معاملہ ظاہر ہوگیا اور لوگ تین گرہوں میں منقسم ہوگئے۔ 1- کافر 2- مومن 3- منافق اور مومنین کو اس بات کا علم ہوگیا کہ ان کے اپنے گھروں میں بعض ان کے دشمن ہیں اور وہ ان سے جدا نہیں ہوتے اس لیے وہ اس سے بھی محتاط ہوگئے اور ان سے گریز کرنے لگے ۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
مَّا كَانَ اللّـٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰى مَآ اَنْتُـمْ عَلَيْهِ حَتّـٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۗ وَمَا كَانَ اللّـٰهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلٰكِنَّ اللّـٰهَ يَجْتَبِىْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ يَّشَآءُ ۖ فَاٰمِنُـوْا بِاللّـٰهِ وَرُسُلِهٖ ۚ وَاِنْ تُؤْمِنُـوْا وَتَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِـيْمٌ ۔
(آل عمران:179)
اللہ مسلمانوں کو اس حالت پر رکھنا نہیں چاہتا جس پر تم اب ہو جب تک کہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کر دے، اور اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کر دے لیکن اللہ اپنے رسولوں میں جسے چاہے چن لیتا ہے، سو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
یعنی اللہ تعالی تمہیں تمہاری اس حالت پر چھوڑنے والا نہیں کہ مومن منافقوں کے ساتھ ملے جلے رہیں یہاں تک کہ اہل ایمان کو اہل نفاق سے جدا کردے جیسا کہ اللہ تعالی نے غزوہ احد کے دن آزمائش سے انھیں جدا کردیا اور واضع طور پر انھیں الگ کردیا۔
5- پانچویں حکمت جہاد فلسطین:
اللہ نے اپنے نیک بندوں اور اپنی جماعت کی طرف سے خوشی اور رنج , پسندیدہ ناپسندیدہ ,کامیابی اور ناکامی ہر حال میں اپنی بندگی کا اظہار کروایا جب وہ اپنی پسندیدہ اور ناپسند دونوں حالتوں میں بندگی اور اطاعت پر جمے رہے تو یہی حقیقی طور پر اللہ کے بندے کہلانے کے لائق ہوئے اور ان کا حال ان کی مانند نہ ہوا جو صرف خوشی ,نعمت اور عافیت کی حالت میں اللہ کی عبادت اور بندگی کرتا ہے ۔
6 - چھٹی حکمت جہاد فلسطین :
اگر اللہ تعالی ہمیشہ مسلمانوں کی نصرت فرماتا اور انھیں ہر موقع پر دشمنوں پر فتح سے نوازتا اور دشمنوں کو ان کے سامنے مغلوب اور مقہور کرتا تو ان کے نفوس میں سرکشی پیدا ہوجاتی اور فخر و تکبر آجاتا اور اگر اللہ ان کے لیے نصرت اور فتح میں کشادگی عطا فرمادیتا تو یہ اسی حال کی طرف چلے جاتے کہ اگر اللہ ان کے لیے رزق میں کشادگی پیدا فرمادیتا ( کہ زمین میں فساد برپا ہوجاتا) پس اللہ کی بندوں کی مصلحت اس میں ٹھہری ہو ان کو خوشی ورنج , تنگی و خوشحالی اور قبض (روک , رکاوٹ,گرفتگی ,تنگی) و بسط ( فراخی,آزادی,کشادگی,پھیلاؤ ,وسعت) دونوں طرح کے احوال میں رکھا جائے اور اللہ تعالی ہی اپنے بندوں کے امور کا مدبر ہے اور وہ ان سے باخبر اور ان کو دیکھنے والا ہے۔
7- ساتویں حکمت جہاد فلسطین :
جب اللہ تعالی نے ان کو شکست , مغلوبیت , مصیبت سے آزمائش میں ڈالا تو ان میں تذل , عاجزی اور خضوع پیدا ہوگیا جس کے باعث یہ عزت و نصرت کے مستحق ہوگئے کیونکہ نصرت و فتح کی خلعت سے اسی وقت نوازا جاتا ہے جب کہ تذلل و انکسار کا حصول ہوجائے چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّـٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُـمْ اَذِلَّـةٌ ۖ فَاتَّقُوا اللّـٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُـرُوْنَ (آل عمران:123)
اور اللہ بدر کی لڑائی میں تمہاری مدد کر چکا ہے حالانکہ تم کمزور تھے، پس اللہ سے ڈرو تاکہ تم شکر کرو -
اور ارشاد باری ہے :
لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیۡ مَوَاطِنَ کَثِیۡرَۃٍ ۙ وَّ یَوۡمَ حُنَیۡنٍ ۙ اِذۡ اَعۡجَبَتۡکُمۡ کَثۡرَتُکُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡکُمۡ شَیۡئًا وَّ ضَاقَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّیۡتُمۡ مُّدۡبِرِیۡنَ ﴿ۚ سورۃ توبہ:۲۵﴾
25. بیشک اللہ نے بہت سے مقامات میں تمہاری مدد فرمائی اور (خصوصاً) حنین کے دن جب تمہاری (افرادی قوت کی) کثرت نے تمہیں نازاں بنا دیا تھا پھر وہ (کثرت) تمہیں کچھ بھی نفع نہ دے سکی اور زمین باوجود اس کے کہ وہ فراخی رکھتی تھی، تم پر تنگ ہو گئی چنانچہ تم پیٹھ دکھاتے ہوئے پھر گئےo
پس اللہ رب العزت جب بندے کو عزت سے نوازنے کا ارادہ فرماتے ہیں اور اس کو نصرت و فتح عطافرمانا چاہتے ہیں تو اس کی عزت , نصرت اور فتح اس کے تذلل و انکساری کے بقدر ہوتی ہے ۔
8- آٹھویں حکمت جہاد فلسطین :
اللہ تعالی نے اپنے مومنین بندوں کے لیے اپنے عزت و اکرام کے گھر جنت میں منازل تیار کررکھی ہیں جن تک وہ صرف اپنے اعمال کے ذریعے نہیں پہنچ سکتے اور ان درجات تک وہ ابتلاء و آزمائش اور مصائب کے ذریعے ہی پہنچ سکتے ہیں اس لیے اللہ تعالی نے ان کے لیے ایسے اسباب کا سامان پیدا کردیا جن میں ابتلاء و آزمائش کے ذریعے وہ ان درجات تک پہنچ سکیں جیسا کہ اعمال صالحہ جو ان درجات تک پہنچانے کے اسباب میں سے ہیں ان کی توفیق بھی اللہ تعالی نے مرحمت فرمائی ۔
9 - نویں حکمت جہاد فلسطین :
دائمی عافیت , نصرت اور مالداری سے نفوس میں سرکشی اور دنیا کی طرف میلان پیدا ہوجاتا ہے اور یہ ایسا مرض ہے جو اللہ کی طرف اور آخرت کی طرف بڑھنے سے رکاوٹ بنتا ہے چونکہ اللہ تعالی نے جو ان بندوں کا رب اور مالک ہے اور ان پر بڑا مہربان ہے۔ ان پر اپنے فضل کا ارادہ کیا تو انھیں ابتلاءوآزمائش میں مبتلا کردیا تاکہ وہ اس رکاوٹ بننے والے مرض کے لیے دواء بن جائے اور یہ ابتلاء آزمائش کی مثال ایسے ہے جیسے طبیب بیمار کو بیماری زائل کرنے کے لئے کڑوی دوادیتا ہے اور تکلیف دہ رگوں کو بیماریاں ختم کرنے کے لئے کاٹ دیتا ہے اس کا آپریشن کردیتا ہے اگر وہ ایسے نہ کرے تو ان رگوں اور اس کی بیماری کی وجہ سے جان جاسکتی ہے ۔
10 - دسویں حکمت جہاد فلسطین :
شہادت اللہ کے ہاں اعلی مراتب میں سے ہے اور شہداء اللہ کے خواص اور اس کے مقربین شمار ہوتے ہیں اور صدیقیت کے درجہ کے بعد شہادت ہی کا درجہ ہے اور اللہ رب العزت پسند فرماتے ہیں کہ اپنے بندوں میں بعض کو شہداء بنائے ان کے خون اللہ کی محبت اور اس کی رضا میں بہائے جائیں اور وہ اللہ کی رضاوخوشنودی کو اپنی جانوں پر ترجیح دیں اور اس درجہ کے حصول کا طریق یہی ہوسکتا ہے کہ ایسے اسباب پیدا کردیں جس سے دشمن مسلط ہوجائے۔
11 - گیارہویں حکمت جہاد فلسطین :
جب اللہ تعالی نے ارادہ فرمایا کہ اس کے دشمن ہلاک اور تباہ ہوجائیں تو ان کی ہلاکت اور تباہی کے اسباب پیدا فرمادے اور کفر کے بعد اس کے بڑے بڑے اسباب یہ تھے , ان کی سرکشی , ظلم و ستم ,اللہ کے احکامات کا انکار کرنا, اللہ اور اس کے رسولوں اور مومنین سے دشمنی کرنا , اللہ کے اولیاء کو تکالیف پہنچانے کی پوری پوری کوشش کرنا , ان سے جنگ و قتال کرنا اور ان پر غلبہ پالینا , ان اسباب کی وجہ سے اللہ کے اولیاء و مجاہدین گناہوں اور عیوب سے صاف ہوگئے اور ان کے دشمن ہلاکت اور بربادی کے زیادہ مستحق ہوگئے اللہ تعالی نے اسے مندرجہ ذیل آیات میں ارشاد فرمایا ہے :
وَلَا تَهِنُـوْا وَلَا تَحْزَنُـوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ (آل عمران-139)
اور سست نہ ہو اور غم نہ کھاؤ اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔
اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُـهٝ ۚ وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُـهَا بَيْنَ النَّاسِۚ وَلِيَعْلَمَ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ ۗ وَاللّـٰهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِيْنَ (آل عمران :140)
اگر تمہیں زخم پہنچا ہے تو انہیں بھی ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے، اور ہم یہ دن لوگوں میں باری باری بدلتے رہتے ہیں، اور تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے بعضوں کو شہید کرے، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
وَلِيُمَحِّصَ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَيَمْحَقَ الْكَافِـرِيْنَ (آل عمران:141)
اور تاکہ اللہ ایمان والوں کو پاک کردے اور کافروں کو مٹا دے۔
اللہ رب العزت نے اس خطاب میں مومنین کو جرأت ودلیری , مضبوطی , عزائم کی پختگی کی ترغیب بھی دی اور نہایت بلیغ اور احسن انداز میں تسلی بھی دی اور کفار کے غلبہ میں جو اللہ کی حکمتیں پوشیدہ تھیں ان کو بھی ذکر فرمایا چنانچہ ارشاد فرمایا :
اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُـهٝ ۚ وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُـهَا بَيْنَ النَّاسِۚ وَلِيَعْلَمَ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ ۗ وَاللّـٰهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِيْنَ ( آل عمران: 140)
اگر تمہیں زخم پہنچا ہے تو انہیں بھی ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے، اور ہم یہ دن لوگوں میں باری باری بدلتے رہتے ہیں، اور تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے بعضوں کو شہید کرے، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
جیسا کہ ارشاد فرمایا:
وَلَا تَـهِنُـوْا فِى ابْتِغَـآءِ الْقَوْمِ ۖ اِنْ تَكُـوْنُـوْا تَاْ لَمُوْنَ فَاِنَّـهُـمْ يَاْ لَمُوْنَ كَمَا تَاْ لَمُوْنَ ۖ وَتَـرْجُوْنَ مِنَ اللّـٰهِ مَا لَا يَرْجُوْنَ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ عَلِيْمًا حَكِـيْمًا (سورۃ النساء:104)
اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔
پھر تمہیں کیا ہوا کہ تم رنج اور تکلیف میں کمزور پڑتے ہو اور ہمت ہارتے ہو حالانکہ انھیں یہ تکلیف شیطان کی راہ میں پہنچی ہے جب کہ تمہیں میرے راستے میں میری خوشنودی حاصل کرتے ہوئے پہنچی ہے ۔ پھر اللہ اللہ تعالی نے خبر دی کہ اللہ تعالی اس دن میں ان ایام کو لوگوں کےدرمیان بدلتے رہتے ہیں کہ کبھی اپنے دوستوں کو فتح دے دیتے ہیں اور کبھی اپنے دشمنوں کو جب کہ آخرت کا مقصد اس کے برعکس ہے کیونکہ اس میں عزت , نصرت اور کامیابی و کامرانی صرف اور صرف ایمان والوں ہی کے لیے ہوگی۔
جہاد میں اللہ مومنین اور منافقین کو جدا کردیتا ہے ۔جہاد میں ایمان اور نفق چھپے نہیں رہتے عام حالات میں چھپ جاتے ہیں ۔
اور اللہ لوگوں کے ایمان اور نفاق ظاہر کرکے رہتا ہے۔ غیب میں جاننے کے بعد مشاہدہ کے طور پر بھی جان لے کیونکہ علم غیبی پر ثواب و عقاب مرتب نہیں ہوتے بلکہ ثواب و عقاب اس وقت مرتب ہوتے ہیں جب عمل مشاہدہ ہوجائے اور جس سے اس کا ادراک ہوسکے۔
جہاد میں اللہ مومنین کو شہداء کا مرتبے پر فائز کرنا چاہتا ہے کیونکہ اللہ شہداء کو محبوب رکھتا ہے۔ اللہ نے ان کے لئے اعلی درجے کی منازل تیار کر رکھی ہیں اور شہداء کو اپنی ذات کے لیے خالص بناتا ہے اس لئے انھیں درجہ شہادت سے نوازتا ہے۔
اور اللہ فرماتا ہے "واللہ لا یحب الظلمین" (ال عمران 140)
" اور اللہ ظالمین سے محبت نہیں کرتا ۔"
اللہ منافقین کو ناپسند فرماتا ہے اور ان سے بغض رکھتاہے اور انھیں رسوا اور ہلاک کرتا ہے ۔
جہاد سے اللہ کفار کو ان کے ظلم و ستم اور سرکشی کی وجہ سے انھیں ہلاک کرتا ہے پھر اس کے بعد مومنین پر اس بارے میں ان پر واضع بھی فرمایا کہ کیا انہوں نے( مومنین) نے یہ گمان کرلیا ہے کہ وہ اللہ کے راستے میں جہاد اور دشمن کی ایذاؤں پر صبر کیے بغیر جنت میں داخل ہوجائیں گے یہ ناممکن ہے کیونکہ اللہ نے ایسا گمان کرنے والے پر انکار فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد باری ہے:
اَمْ حَسِبْتُـمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ جَاهَدُوْا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِـرِيْنَ (ال عمران:142)
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے اور (حالانکہ) ابھی تک اللہ نے نہیں ظاہر کیا ان لوگوں کو جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں اور ابھی صبر کرنے والوں کو بھی ظاہر نہیں کیا۔
یعنی جہاد فلسطین کا واقع ہونا اور اس پر عمل کرنے والوں کے لئے اللہ کا انھیں اس کے بدلے میں جنت عطا فرمانا کیونکہ اللہ کی جزاء و امر واقع معلوم پر ہوتی ہے نہ کہ محض علم پر۔
پھر اللہ تعالی نے مومنین کی شکست پر انھیں اس کے بارے میں ڈانٹا جس کی وجہ خود ان کی شہادت کی تمنا کرنا تھا اور اس کی ملاقات کا شوق رکھتے تھے۔
چنانچہ ارشاد باری ہے :
وَلَقَدْ كُنْتُـمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُۖ فَقَدْ رَاَيْتُمُوْهُ وَاَنْتُـمْ تَنْظُرُوْنَ (ال عمران: 143)
اور تم موت (کے آنے) سے پہلے اس کی آرزو کرتے تھے، سو اب تم نے اسے آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا۔
ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں جب اللہ تعالی نے اپنے ارشاد کے ذریعے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہداء بدر پر اپنی کرامت اور فضل کی خبر دی تو لوگوں کو شہادت کی رغبت ہوئی اور انھوں نے قتال کی تمنا ظاہر کی تاکہ وہ بھی اس میں شہید ہوسکیں اور اپنے بھائیوں سے جنت میں مل سکیں تو اللہ تعالی نے احد کے دن اس کے اسباب پیدا فرمادیئے لیکن اس میں بہت کم لوگ ڈٹے رہے اور نہیں بھاگے اور بہت سے بھاگ گئے تو اللہ تعالی نے یہ مذکورہ آیت نازل فرمائی۔
12 - بارہویں حکمت جہاد فلسطین :
دنیا میں ہر دور میں تمام انبیاء و رسولوں اور مومنین و مجاہدین سے جنگ و اختلافات کی اصل وجہ , سبب, غرص و غایت , موجب , کارن , باعث جنگ صرف ایک ہی رہا تھا رہا ہے اور رہے گا اللہ کی حاکمیت کا نفاذ جس کی وجہ سے مومنین نے دعوت وجہاد کیا اور کافرین و مشرکین اور ییود و نصاری نے مومنین و مجاہدین کا قتال کیا انھیں ہجرت کرنے پر مجبور کیا اور اکثر یہودیوں نے تو انبیاء علیہ السلام کو قتل تک بھی کیا ۔
جس کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔
اور جہاد فلسطین کی اصل وجہ و سبب بھی یہی ہے لیکن مومنین اور مجاہدین اللہ کی حاکمیت کے نفاذ و سربلندی کے لئے ہمیشہ سے جہاد کررہے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔ظالم کفار و مشرکین یہود و نصاری یہ مظلوموں پرظلم و ستم اور ان کو گھروں ڈے نکالنا دربدر کرنا ان پر روٹی پانی رزق کی بندش کرنے کی کوشش کرنا ان سب کے پیچھے بنیادی وجہ اللہ و رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا ہے۔یہ جنگ اللہ کی جنگ ہے کسی زر زمین یا شخصیت اس کی بنیادی وجہ نہیں ہے۔ مثلأ
" واقعہ احد رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال سے پہلے ایک مقدمہ اور زینہ کے طور پر تھا اللہ تعالی نے انھیں مضبوط کیااور انھیں اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہوگئے واپس پھرنے پر ڈانٹا کہ ان پر صورت میں بھی واجب تھا کہ وہ اپنے دین اور اللہ کی وحدانیت پر ڈٹے رہتے اور اس کی خاطر مرجاتے اور جان دے دیتے کیونکہ وہ تو اللہ کی عبادت کرتے ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی رب ہے اور وہ زندہ ہے اسے کبھی موت نہیں آئے گی اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پاگئے یا شہید ہوگئے تب بھی ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ آپ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو چھوڑ دیں اور اس سے پھر جائیں کیونکہ ہر ذی روح کو موت کا مزہ تو چکھنا ہے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں بھیجے گئے اور نہ تم لوگوں کو ہمیشہ کے لیے پیدا کیا گیا ہے بلکہ تمہیں چاہیے کہ اسلام اور اپنے دین پر جان دے دو کیونکہ موت تو یقینی ہے۔
چاہے اب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی یا نہیں ہوئی ۔اسی لیے اللہ تعالی نے ان لوگوں کو ڈانٹا جو اس وقت دین سے پھر کر بھاگ گئے جب شیطان نے یہ پکارا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قتل ہوگئے۔
چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے :
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِـهِ الرُّسُلُ ۚ اَفَاِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُـمْ عَلٰٓى اَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَّضُرَّ اللّـٰهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِى اللّـٰهُ الشَّاكِرِيْنَ (ال عمران : 144)
اور محمد تو ایک رسول ہے، اس سے پہلے بہت رسول گزرے، پھر کیا اگر وہ مرجائے یا مارا جائے تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے، اور جو کوئی الٹے پاؤں پھر جائے گا تو اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑے گا اور اللہ شکر گزاروں کو ثواب دے گا۔
اور شاکرین ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس (دین اسلام ) اللہ کی نعمت کی قدر کو پہچانا اور اس پر قائم رہے یہاں تک کہ شہید ہوگئے پس اس عتاب کا اثر اور اس خطاب کا حکم اس وقت ظاہر ہوا جس دن رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاوصال ہوا اور جنہوں نے مرتد ہونا تھا وہ مرتد ہوگئے اور شاکرین اپنے دین پر قائم اور ثابت قدم رہے پھر اللہ تعالی نے ان کی مددو نصرت کی انھیں عزت بخشی اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں ان کو فتح سے نوازا اور بہتر انجام انہی کو حاصل ہوا۔
یہی کچھ فلسطینی مجاہدین کے ساتھ ہونا ہے ان صابرین و شاکرین کو اللہ اپنی مدد سے فتح سے ہمکنار کرے گا تمام عالم کفار و مشرکین , یہود و نصاری کے مقابلے میں اور ان کی مدد و نصرت کرے گا انھیں عزت بخشے گا انھیں شہیدوں کے مرتبے پر فائز کررہا ہے اور فتح اور انجام انہی کو حاصل ہوگا۔ انشاءاللہ۔
جزاک اللہ خیر۔
پاکستان زندہ باد ۔ پاکستان نیشنل پارٹی پائندہ باد ۔
پاک فوج زندہ باد ۔ آئی۔ایس۔آئی پائندہ باد ۔
چیئرمین پاکستان نیشنل پارٹی ۔
سید عامر عالم بن سید عبدالحکیم۔