11/06/2026
Fitoor
انابیہ کی ایک جھلک دیکھنے کے بعد
عارب پاگل ہوا پھر رہا تھا۔
شکورے پتا کراؤ کون لڑکی ہے وہ
مجھے ہر حال میں وہ لڑکی چاہیے
کیا یار اتنی لڑکیاں ہیں اللہ جانے کون تھی
شکورے اگر صبح تک اس لڑکی کا پتا نہیں کیا تو تیری خیر نہیں۔
اچھا یار کچھ کرتا ہوں شکورے نے جھنجھلا کر کہا۔
ایک تو اس سالے کو سہی لڑکیوں کا چسکا لگوایا ہے
اب سالہ لڑکی دیکھتے ہی رال ٹپکانے لگ جاتا ہے
چل شکورے چھوڑ جاسوسی پر بندے صبح تک کہی دانا پانی نہ بند ہو جائے .........
رمل آپو کہاں ہیں آپ...
کیوں کیا ہوا؟
آپو آپ کو پتا نہ آج قیس لالہ کا birth day ہے۔ انابیہ نے رازداری سے کہا۔
ہاں میں جانتی ہوں اور سب تیاری بھی کر چکی ہوں...
تیاری لیکن کہاں۔انابیہ حیران رہ گئی۔
شہر والی حویلی میں یار اور کہاں
تم کسی طرح لالہ کو اور نمل جانو کو ادھر لے آؤ۔ میں مورے کو کال چکی ہوں وہ لوگ بھی پہنچنے والے ہوں گے
اور ہاں میری الماری میں نمل اور قیس کے ڈریسز پڑے ہیں.
جی جی آپو میں سمجھ گئ
میں نمل اور لالہ کو انہی ڈریس میں لے کر آؤں گی۔انابیہ نے بات سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
تمھارے پاس 1 گھنٹہ ہے
اوکے آپو...
..... ❣️❣️......
نمل آپو.... کدھر ہیں آپ. انابیہ نے پوچھا۔
کیا ہوا بیو میں ادھر ہوں کچن میں
او آپو آپ کیا کر رہی کچن میں پوچھتے ہوئے انابیہ کچن میں داخل ہوئی اور
کچن میں داخل ہوتے ہی اس کی ہنسی چھوٹ گئی
ہاہاہاہا نمل آپو اپ کو کس نے کہا کچن میں آنے کا...
نمل شاید آٹا گوندھنے کی کوشش کر رہی تھی
اور یوں لگ رہا تھا اس نے خود آٹے والی ڈرمی میں چھلانگ لگا دی ہو
بیو تم ہنس رہی ہو
پہلے وہ تمھارے گندے لالہ مجھے آدھے گھنٹے کا کہہ کر ابھی تک نہیں آۓ اور ہمیں اتنی بھوک لگ رہی ہے نمل نے رونی شکل بناتے ہوئے کہا۔
ارے ارے بجو آپ کو بھوک لگ رہی ہے
چلیں آج آپ کو اچھی سی جگہ سے ٹریٹ دیتی ہوں
واؤ ٹریٹ۔ نمل خوشی سے چلائی۔
لیکن وہ تمھارے گندے لالہ جانے نہیں دیں گے نہ۔ساتھ ہی منہ بناتے نمل نے کہا۔
ارے لالہ سے میں پوچھ چکی ہوں
آپ یہ ڈریس لیں اور پیارا سا تیار ہو جائیں ۔انابیہ نے ڈریس نمل کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا۔
واؤ میرا ڈریس تم لے کر آئ ہو ۔نمل کی آنکھوں میں ڈریس کو دیکھتے ایک الگ چمک آئی۔
ہاں نہ آپو تیار ہو جائیں۔
اوکے کہتے نمل تیار ہونے کمرے کی طرف چلی گئی ۔
اور ہاں بیو آپ نےںمیرا میک اپ کرنا ہے۔
میک کا کہتے نمل کے چہرے پر خوبصورت مسکان آئی جسے انابیہ نے بڑے غور سے دیکھا اور پھر پوچھا۔
ارے کیا ہوا
کچھ نہیں چلو۔نمل نے شرماتے ہوئے کہا
مجھے تیار ہونے میں مدد دو۔
آدھے گھنٹے میں بیہ.. نمل کو تیار کر چکی تھی
واؤ آپو
ماشاءاللہ ❤️ بلیک کلر تو بنا ہی آپ کے لیے ہے
بلیک کلر کی پاؤں تک آتی میکسی پہنے، بالوں کا جوڑا بناۓ کچھ بالوں کی لٹییں فرنٹ پر چھوڑے ہونٹوں پر ریڈ لپ سٹک لگاۓ بلیک ہی ہیل پہنے وہ کسی پری کی طرح لگ رہی تھی
اوکے آپو
لالہ بس پہنچ ہی رہے ہیں
آپ ان کا انتظار کریں میں بھی چینج کر لوں ۔
اوکے بیو....
انابیہ کو گۓ دس منٹ ہو چکے تھے لیکن قیس ابھی تک نہیں آیا تھا
ہم بھی بات نہیں کریں گے ۔نمل نے تصور میں قیس سے کہا۔
کہہ کر گۓ تھے گڑیا.. پکا پرومس آدھے گھنٹے میں آ جاؤں گا لیکن دیکھو شام ہو گئ اب تو ہمیں بھوک بھی اتنی لگی ہےبہم بلکل بات نہیں کریں گے
روم میں داخل ہوتے قیس نے نمل کے فقرے با خوبی سنے تھے
ارے میری چندہ ناراض ہو گئ
ہم ابھی اپنی چندہ کا منا....
نمل جو دوسری طرف چہرہ کیۓ بیٹھی ہوئ تھی قیس کی آواز پر پلٹی اور قیس کے منہ سے الفاظ چھن چکے تھے
نمل تو سادگی میں اس کے دل پر قیامت ڈھاتی تھی آج تو وہ ہتھیاروں سے لیس ہو کر اس کے سامنے کھڑی تھی۔
خان جی ہم بلکل بات نہیں کریں گے
ہم بتا رہے ہیں..آج ہم سخت ناراض ہیں
لیکن قیس کچھ سنتا تو جواب دیتا
وہ ٹرانس کی کیفیت میں نمل کی جانب بڑھا تھا
کیا ہوآ خان جی آپ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں کیا ہم اچھے نہیں لگ رہے؟
بیہ آپی نے کیا یہ سب...
خان چلتے ہوۓ بلکل اس کے سامنے رک گیا وہ بنا پلک جھپکے نمل کو دیکھ رہا تھا۔
نمل یار مت کرو ایسے کیوں اپنے خان کی جان لے رہی ہو۔
قیس ٹرانس کی کیفیت میں بولا
لیکن نمل کے پلے ایک بات نہیں پڑی ۔
قیس جیسے ہی نمل کے چہرے کی طرف جھکا نمل نے قیس کو کندھوں سے پکڑ کو ہلایا ۔خان ن ن ن ن جی یییییییی کیا ہوا۔۔
ہاں ہاں کیا ہوا۔ کچھ بھی تو نہیں
قیس نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ادھر اُدھر نظر دوڑائ ۔
خان جی کیا ہو گیا آپ کو ابھی کیا بول رہے تھے آپ۔
ہم کہہ رہے ہم ناراض ہیں نمل نے برا سا منہ بنایا۔
او اچھا اور گڑیا کیوں ناراض ہے؟
خان کافی حد تک خود کو نارمل کر چکا تھا
ارے آپ اتنے لیٹ آۓ او ہاں سچ خان جی
بیو آئ تھی وہ مجھے یہ ڈریس پہنا کے تیار کر گئ اور انہوں نے کہا کہ آپ یہ ڈریس پہن لیں انہوں نے آج ہمیں باہر کھانا کھلانا ہے
او..... اچھاااا
تو اس لیے گڑیا نے آج یہ میک اپ کیا
ہاں جی
دیکھیں اچھی لگ رہی ہوں نا۔
خان کی گڑیا ہمیشہ اچھی لگتی ہے اور اب اتنا اچھا لگنے پر انعام تو بنتا ہے نا یہ سن کر نمل بہت خوش ہوئی اور کہا جلدی سے دیں انعام۔
قیس آگے بڑھا اور نمل کے ماتھے پر اپنے لب رکھے۔قیس کی اس حرکت سے نمل کے چہرے کا رنگ بدلہ ۔
نمل نے جلدی سے بات بدلتے کہا
ارے خان جی آپ کو تو تعریف بھی نہیں کرنی آتی
اچھا کیسے کرتے ہیں تعریف قیس نے دلچسپی سے نمل کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھتے پوچھا۔
ارے آپ نہ بدھو رہنا خان جی. پرسوں نہ رمل آپو نہ موبائل پر نہ وہ دیکھ رہی تھی ارے وہ کیا ہوتا جس میں ہیرو ڈیشوں ڈیشوں کرتا
مووی قیس نے بتایا۔
ہاں ہاں خان جی مووی
تب مجھے آپو نے بتایا کہ وہ ہیرو اپنی گڑیا کی تعریف کر رہا تھا
اچھا وہ کیسے؟
ارے خان جی ہم کیسے بتائیں ہمیں شرم آتی ہے نا۔
شرم کا نام سنتے ہی خان سمجھ چکا تھا کہ رمل نے نمل کو کیا دیکھا
رمل کی تو خیر نہیں اب خان نے دل میں سوچا تھا
گڑیا ہم تیار ہو جائیں پھر ہم نے بیو کے ساتھ بھی جانا ہے
جی خان جلدی سے تیار ہو جائیں
یہ لیں اپنا ڈریس
نمل نے بلیک کلر کا کرتا شلوار خان کی طرف بڑھایا تھا
10 منٹ میں خان شاور لے کر تیار ہو چکا تھا
چلیں نمل
ارے رکیں رکیں خان جی
کیا ہوا
خان جی آنکھیں بند کریں
کیوں کیا ہوا
خان جی کریں نہ
اوکے یہ لو
خان کے آنکھیں بند کرتے ہی نمل نےباری باری اپنے ہونٹ زور سے خان کے رخساروں پر رکھے تھے
اور پھر پیچھے ہوتے قہقہہ لگاتے ہنسی
نمل روک خان شوکڈ۔
خان تو بچارہ نمل کی حرکت پر کوما میں جا چکا تھا اسے کہاں امید تھی نمل سے ایسی حرکت کی
ہاہاہا خان جی
کل آپ نے ہمارے لپ سٹک لگائ تھی
آج ہم لگا چکے ہاہاہا
روکو خان کہ بچی
آج تمہاری خیر نہیں
میری ساری تیاری خراب کر دی
ارے ارے خان جی نہیں نہیں ہمارا فیس گندہ مت کرنا
ہم اتنے پیارے لگ رہے ہیں
ہاں جی سارہ پیارا آپ نے ہی لگنا ہے نا۔
خان کو ساتھ گندہ لے کر جانا
خان نمل کے پیچھے بھاگتے ہوئے بولا تھا
ارے نہیں خان جی ادھر آئیں ہم صاف کر دیتے ہیں۔
اوکے جلدی کریں
خان نمل کے ہاتھ میں ٹشو پکڑاتے ہوئے بولا۔
یہ لیں ہو گئ صاف...
دیکھیں ڈن 😁
تبھی انابیہ فلیٹ میں داخل ہوئ ۔
ماشاءاللہ
اللہ پاک جوڑی سلامت رکھے
بہت پیارے لگ رہے ہیں آپ دونوں ساتھ میں
دیکھا نہ بیو ہم ہیں ہی اتنے سونے اور خان جی ہمارے ساتھ کھڑے اور بھی اچھے لگتے ہیں۔
نمل آپ آجکل کچھ زیادہ تیز نہیں ہو گئیں۔
ہاہاہاہا ہی ہی ہی وہ تو ہم ہیں
اوکے چلو دیر ہو رہی ہے
اوکے انابیہ لیکن جانا کہاں ہے؟
قیس نے انابیہ سے پوچھا
ارے لالہ لگ جائے گا پتا چلیں اوکے چلو...... ❣️❣️❣️....
بیہ حویلی کیوں لے کر آئ ہو؟
جیسے ہی وہ لوگ حویلی پہنچے قیس نے انابیہ سے پوچھا۔
ارے لالہ اندر تو چلیں
قیس اور نمل جب اندر داخل ہوۓ چاروں طرف اندھیرا تھا
اور بیہ بھی غائب تھی
قیس سمجھ چکا تھا ضرور یہ رمل کی کوئی شیطانی تھی
خان جی اندھیرا ہمیں ڈر لگ رہا ہے
اس سے پہلے کہ خان کوئی جواب دیتا
حویلی کی لائٹس روشن ہوئ
اور ساتھ میں سب کی آوازیں
Happy birthday qais
Happy birthday dear Qais
نمل تو خوشی سے پاگل ہونے کو تھی
اور قیس نے غصہ سے رمل کو گھورا تھا
قیس بیٹا رمل کو کچھ مت کہنا یہ سب ہمارا پلین تھا
ہمیں پتا ہے آپ birthday نہیں مناتے لیکن بیٹا اپنی مورے کی خوشی کے لیے
مورے کی بات سن کر قیس نے ان کے ہاتھ پکڑ کر چومے ۔
آپ کے لیے تو جان بھی حاضر ہے مورے
میرا لال چلو کیک کاٹتے ہیں۔
تبھی خولہ بیگم جلدی سے نمل کی جانب بڑھیں۔
ماں صدقے جائے میری بچی کیسی ہو
خولہ بیگم کے اچانک نمل کو گلے لگانے سے نمل گھبرا گئی اور فوراً بولی۔
خان جی
ارے میں تمھاری ماں ہوں نمل بیٹا
اپنی ماں سے نہیں ملو گی خولہ بیگم نے نمل کا رخ اپنی طرف کرتے کہا
لیکن نمل جلدی سے خولہ بیگم کو دھکا دے کر قیس کے سینے سے جا لگی۔
خان جی ہمیں نہیں جانا ان کے ساتھ
اوکے اوکے آپ کہیں نہیں جا رہی قیس نے نمل کو نارمل کرتے کہا۔
آئیں ہم کیک کاٹتے ہیں
قیس نمل کو لیۓ آگے بڑھ چکا تھا
پیچھے خولہ بیگم غصے سے کھول کر رہ گئیں۔
وہ کیک کاٹے بغیر واپس جا چکی تھیں
مجھ سے میری بچیاں چھین لی ہیں اس ونی نے اسے تو میں چھوڑوں گی نہیں خولہ بیگم نے غصے میں کھولتے سوچا ۔
خوشگوار ماحول میں سب نے ہنسی خوشی کیک کاٹا
قیس بیٹا ہمیں گاؤں واپس جانا ہے
مورے کچھ دیر تو اور رکیں...
نہیں بیٹا کافی رات ہو گئ ہے
ٹھیک ہے مورے ہم آپ کو چھوڑ آتے ہیں. ارے نہیں بیٹا ہم ڈرائیور کے ساتھ ہی چلے جائیں گے
آپ نمل کا دھیان رکھیں۔
جی مورے
قیس مورے کو گیٹ تک چھوڑنے آیا تھا
جب مورے نے ان سے کہا تھا
قیس بیٹا ہمیں اک بات کرنی ہے جی مورے بولیں
بیٹا ہمیں بھابھی کے ارادے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے
آپ کو نمل کو اپنے رشتے کی سچائی بتا دینی چاہیے وہ بہت معصوم ہے اگر کوئی اور بتاۓ گا تو وہ بہت ہرٹ ہوں گی۔
جی مورے ہم بس سہی وقت کے انتظار میں ہیں
ٹھیک ہے بیٹا جیسا آپ کو بہتر لگے
جی مورے..... ❣️❣️......
آپو میں تھک گئی مجھے سونا ہے
او میری لاڈو چلو آپو آپ کو روم میں چھوڑ آۓ
روکو رمل میں خود ہی لے جاؤں گا
اور تم 5 منٹ بعد باہر گاردڈن میں میری بات سننا
اللہ خیر
اب تو میں نے کوئی کانڈ بھی نہیں کیا
جی آ جاؤں گی
جتنا نمل تھکی ہوئ تھی وہ 5 منٹ میں ہی سو چکی تھی
قیس نمل پر کمبل سہی کرتے. خود گارڈن کی جانب بڑھا تھا
تبھی رمل بھی وہاں آئ تھی
لالہ قسم سے ہمیں مورے نے کہا تھا
رمل ہم آپ سے کچھ نہیں کہہ رہے
ہمیں پتا ہے آپ نے ہماری خوشی کے لیے سب کیا لیکن رمل ہمیں خوشیاں ادھوری پسند نہیں اور اس کے بغیر تو بلکل بھی نہیں
ارے لالہ
اپ ابھی رمل دی گریٹ کو جانتے نہیں
آپ کی خوشیاں ادھوری نہیں رہی
ہم نے انہیں بھی آج بہت خوش رکھا
رمل اسے دکھ مت دینا کبھی
پارٹنر آپ ٹنشن مت لیں
ہم سنبھال لیں گے
ہممممم
اور رمل کل تم سکوٹی (بائیک ) کے بغیر جاؤ گی
لیکن لالہ
لالہ یہ تو بتا دیں کس بات کی سزا ہے
نمل سے اپنا موبائل دور رکھو
ہاہاہاہا
اوکے پارٹنر
..... ❣️❣️❣️.......
کل 10 بجے
ہاں شکورے بول
یار زیادہ تو نہیں بس اتنا پتا چلا ہے کہ وہ اسی یونی میں پڑھتی ہے جس میں تم نے ایڈمیشن لے کر چھوڑ دیا تھا
مطلب بھائی والی یونی میں
ہاں اسی میں
اور بتا نام کا پتا چلا
ہاں انابیہ نام ہے اس لڑکی کا
اوکے چل پھر آج تیرا یار یونی جا رہا
او عارب یار چھوڑ اس لڑکی کو
اوۓ نہیں شکورے وہ سیدھا دل پر لگی ہے
اب تو اس کا نقاب تیرا یار اپنے ہاتھوں سے اتارے گا
چل جو دل کرتا ہے وہ کر
اوکے کہتے اس نے فون رکھ دیا۔
بلیک شرٹ اور بلیک پینٹ پہنے وہ اپنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیۓ یونی میں داخل ہوا۔
ارے یار اس لڑکی کا ڈیپارٹمنٹ تو پتا نہیں کہاں ڈھونڈوں اب۔
چل یار ہو جا شروع کہیں تو ہو گی
1 گھنٹہ لگاتار گھوم گھوم کر وہ تھک چکا تھا۔ لیکن اسے کہیں بھی انابیہ نظر نہیں آئی۔
تھک ہار کر وہ ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔
چل یار میں اگر آج یونی آ ہی گیا ہوں تو اپنی کلاس ہی لے لیتا ہوں یہ سوچتے
ہوئے وہ میتھس ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھا۔
کلاس روم میں داخل ہوتے ہی اس کی آنکھیں چمکیں۔
وہ لڑکی فرنٹ چئیر پر بیٹھی پوری توجہ کے ساتھ لیکچر لکھنے میں مگن تھی لیکن جلد ہی اس کے ماتھے پر بل پڑے جب ساتھ والے لڑکے کو انابیہ کے ہاتھوں پر نظریں جماۓ دیکھا۔
اسے پتا نہیں کیوں بہت برا لگا تھا
جی آپ کون تبھی سر کے بلانے پر اپنا نام بتایا۔
نام سنتے ہی قمر نے اسے سرد نظروں سے گھورا۔
اپ کو پتا ہے عارب بچے کلاسز سٹارٹ ہوۓ اک ماہ ہوگیا اور اپ اب آ رہے ہیں یونی
جی جی وہ سر جی بس کچھ گھریلو مسلہ تھا
اوکے نیکسٹ ٹائم ایسا نہیں ہونا چاہیئے
آپ بیٹھیں
کلاس میں سب چئرز فل تھیں
سر جی وہ ادھر سیٹ نہیں
اوکے سی آر اپ ان کے لیے فرنٹ پر چیر لگوا دیں
اوکے سر
اوکے کلاس کل ملتے ہیں اور آپ لوگ اسائنمنٹ کے لیے گروپ فائنل کر کے مجھے نیم بھیج دینا
اوکے سر جی
سر کے کلاس سے باہر جاتے ہی افراتفری مچ گئی۔
عارب بہت سکون سے سی آر کی چئر اٹھا کر انابیہ کے ساتھ رکھتے بیٹھ گیا ۔
سی آر کے دیکھنے پر کہنے لگا۔
چل تو اور لے آ
سر نے کہا تو سی آر بچارہ اس کا منہ تکتا رہ گیا
تبھی وہ انابیہ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا ۔
ہاۓ ایم عارب خان اینڈ یو
انابیہ اس پر اک سرد نگاہ ڈالے کلاس سے باہر کو چل دی ۔
پیچھے قمر، عارب کو تنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ دیکھتے ہوئے انابیہ کے پیچھے بڑھا ۔
انابیہ اور قمر کو ساتھ 1 ماہ ہو چکے تھے نہ کبھی انابیہ نے قمر کو بلایا تھا نہ ہی قمر نے انا بیہ کو لیکن قمر ہر اسی جگہ پایا جاتا تھا جدھر انابیہ ہو
پیچھے عارب کا غصے سے برا حال تھا
وہ غصہ ضبط کرتے انابیہ کے پیچھے گیا
انابیہ کنٹین سے چاۓ لیتی اپنی فیورٹ پلیس پر بیٹھ چکی تھی
لیکن اس سے پہلے کہ وہ بیٹھتی
عارب غصے میں اس کی جانب بڑھا
رمل کے ہاتھ سے کپ چھوٹ کر چائے اس کے پاؤں پر گری تھی
آہہہہہہہ
عارب کے کچھ بولنے سے پہلے ہی
مال والا لڑکا ادھر آ چکا تھا
ٹوپی والے لڑکے نے عارب کے منہ ہر ایک موکا مارا اور اس کے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی اس کی گردن کی مخصوص نس دبا دی ۔
عارب بے ہوش ہو کر ایک طرف گرا۔
ٹوپی والے لڑکے نے سکتے میں کھڑی انابیہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے یونی کی بیک سائڈ پر اک خالی روم میں لے گیا
انابیہ کو ادھر بیٹھا کر خود باہر کی طرف بھاگا۔
ٹھیک 2 منٹ بعد وہ ہاتھ میں ٹیوب پکڑے واپس آیاجب وہ انابیہ کے پاؤں کو ہاتھ لگانے لگا تب انابیہ کا سکتا ٹوٹا
نہیں نہیں میں خود کر لوں گی پلیز
لیکن اس نے کچھ بھی بولے بغیر
انابیہ کا گاؤن تھوڑا سا اوپر کئے اس کا پاؤں اپنے گٹھنے ہر رکھا اور بہت آرام سے اس کے پاؤں ہر مرہم لگایا ۔
دوسرے پاؤں پر مرہم لگاتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔
انابیہ نے اچانک اس کا ہاتھ پکڑا
لیکن جیسے ہی اس اجنبی نے انابیہ کی طرف دیکھا اس نے فورن ہاتھ چھوڑ دیا
وہ وہ مجھے اتنا تو پتا چل گیا کہ اپ مجھے نقصان نہیں پہنچائیں گے لیکن آپ کون ہیں اور بولتے کیوں نہیں اور یہ آپ نے چہرہ کیوں چھپایا ہوا ہے؟
اجنبی کچھ بھی بولے بغیر انابیہ کا ہاتھ پکڑے اسے یونی سے باہر لے گیا اور
اسے گاڑی میں بٹھا کر خود وہ انا کا بیگ اس کا موبائل اور فائل اٹھا لایا ۔
انابیہ اس کے ہاتھ میں اپنی چیزیں دیکھتی مسکرا دی۔
انابیہ کو اس کے فلیٹ کے سامنے ڈارپ کر کے جانے لگا ۔ انابیہ ایک دم بولی
کچھ نہیں بتانا چلو اپنا نام بتا دو میں کیسے بلاؤں گی آپ کو
لیکن پھر بھی کچھ بولے بغیر
گاڑی کا گیٹ کھول کر اس اجنبی نے اسے اندر کی جانب بڑھنے کا اشارہ کیا
تبھی انابیہ غصے سے بڑبڑائی۔ لگتا ہے َگونگا بولا ہے
میری کوئی سنتا ہی نہیں
انابیہ کی بڑبڑاہٹ اس اجنبی نے غور سے سنی تھی
اور بہت مشکل سے اپنا قہقہہ کنڑول کیا ۔
جب تک انابیہ نے لیفٹ کے زریعے اوپر جا کر اپنی کھڑکی سے کرٹن نہیں ہٹا دیے تب تک وہ اجنبی ادھر ہی کھڑا رہا
انابیہ کو کھڑکی سے دیکھتے ہی اس نے گاڑی میں بیٹھںکر گاڑی آگے بڑھا دی تھی
ہیلو ہاں احمد
عارب کو ہوش آ گیا
اوکے اسے کچھ کہنا مت چھوڑ دو
ہممم میں خود دیکھ لوں گا
اوکے....
اپنے ہاتھوں پر. انابیہ کا ہاتھ کا لمس یاد کرتے وہ مسکران دیا تھا
ہمارا شمار ہوتا ھے ان نایاب لوگوں میں🥀
جن کے ہونے سے جہاں اور بھی حسیں لگتاہے🥀
...... ❣️❣️❣️.....
ادھر انابیہ بیڈ پر لیٹی اس اجنبی کے بارے میں سوچ رہی تھی آخر کون تھا وہ جو اسے ہر جگہ پروٹیکٹ کرتا تھا
انابیہ کو غصہ بھی بہت آیا تھا کہ اس نے کیوں اس اجنبی کا ہاتھ پکڑا... پھر سر جھٹک کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئی۔
اے اللہ مجھے بھٹکنے سے بچا لیں۔
یا اللہ مجھے سیدھی راہ دیکھا دیں۔
اپنے رب سے ڈھیروں باتیں کر کے وہ نیند کی آغوش میں جا چکی تھی
"ایک رب ہی ہے جو بغیر کسی مطلب کے سنتا ہے 😊"
اس کی رسی ضرور پکڑا کریں😇😇
............. ❣️...........
پچھلے دو دن سے ملحان چھٹی پر تھا...
اور رمل کا ٹینشن کے مارے برا حال تھا.. تبھی رمل نے تنگ آ کر... م ملحان کا نمبر ڈائل کرنے لگی. لگاتار 3 بیلز کے بعد کال اٹھا لی گئی۔
رمل کے سلام کے جواب پر آگے سے کسی عورت کی آواز آئی ہ۔ کیا یہ حان او میرا مطلب ملحان کا نمبر ہے
جی کیا آپ رمل بیٹی بول رہی ہو
جی جی میں رمل ہی بات کر رہی ہوں آپ کون
کیسی ہو بیٹا میں ملحان کی مورے بات کر رہی ہوں
الحمدللہ میں ٹھیک آپ کیسی ہیں مورے اور حان کیسے ہیں وہ دو دن سے یونی نہیں آرہے پلیز مورے ہمیں بتائیں...
ارے بیٹا سانس تو لو حان کو کل سے بخار ہے تو اس لیے. اس........ مومنہ بیگم کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی... رمل بولی کیا حان کو بخار ہے اسی لیے میرا دل اتنا پریشان ہے
پلیز مورے آپ مجھے اپنے گھر کا ایڈریس بتائیں ہمیں حان کو دیکھنا ہے
اوکے بیٹا لکھو
مومنہ بیگم کے ایڈریس لکھوانے پر رمل گاڑی کی چابی اٹھاۓ باہر کی طرف بھاگتی ہے
ملحان کا گھر آدھے گھنٹے کی مسافت پر ہوتا ہے..
جسے رمل نے 20 منٹ میں طے کیا۔
باہر گارڈ کو ملحان کی دوست ہونے کا بتاتے اندر کی جانب برھی .. تبھی اندر سے آتے عارب سے ٹکرا گئی..
او شٹ دیکھ کر نہیں چل سکتے
مجھے جلدی بتاؤ ملحان کا روم کونسا ہے
عارب نے نا سمجھی کے عالم میں اس ٹوم بواۓ کو دیکھتے ملحان کے روم کی جانب اشارہ کیا...
تبھی رمل کچن سے نکلتے مومنہ بیگم کو دیکھے بغیر اوپر کی جانب بڑھی اور ٹھک کر کے ملحان کے روم کا دروازہ کھولا... بیڈ پر لیٹے حان کی طرف بڑھتے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتی بخار چیک کرنے لگی۔
او مائ گاڈ
اتنا تیز بخار..... سائڈ ٹیبل پر پڑے برف والے باؤل سے اس کے ماتھے پر پٹیاں رکھنا شروع کر دیں۔
حد ہے لا پرواہی کی... لڑکیوں سے زیادہ نازک مزاج ہے یہ لڑکا.. زرہ سا ڈانٹ کیا دیا بخار چڑھا کے بیٹھ گیا. ساتھ ساتھ وہ مسلسل بول بھی رہی تھی
مومنہ بیگم پیچھے کھڑے رمل کی باتیں سن کر مسکرا رہی تھی
رمل بیٹا...
تبھی رمل... مومنہ بیگم کے بلانے پر بے ساختہ کھڑی ہوئی... ارے بیٹا بیٹھی رہو بہت اچھی لگ رہی ہو میرے نالائق بیٹے کی فکر کرتے ہوئے۔
O Anti Thank God
* آپ ظالم سماج والی ساس نہیں بنے گیں بولتے ہی دوبارہ وہ حان کے پاس بیٹھ گئی
ویسے مورے آپ کا بیٹا بہت لاڈلہ ہے میرا زرہ سا غصہ بھی نہیں برداشت کر پایا..
تو بیٹا آپ نے غصہ کیا ہی کیوں.... حرکتیں ہی ایسی ہیں حان کی جو مجھے غصہ آ جاتا ہے
پھر بھی بیٹا ہوا کیا...
ہونا کیا تھا آنٹی میرے پرپوز کرنے پر ہی ہوش کھو بیٹھا ہے آپ کا بیٹا
رمل کی بات پر مومنہ بیگم بے ساختہ قہقہہ لگا اٹھی۔
رمل بلکل ویسی ہی تھی جیسا ان کے بیٹے نے بتایا تھا
اک دم بنداس...
ارے مورے آپ بھی ہنس رہی ہیں
اس سے پہلے کہ مومنہ بیگم کوئ جواب دیتی حان ہوش میں آیا اور بولا
رمل جی آپ....
جی میں....
آپ یہاں کیا کر رہی ہیں جائیں مورے دیکھ لیں گی تو کیا سمجھیں گی
چپ کرو حان کچھ نہیں سمجھیں گی
اور وہ بیٹھی ہیں ہماری مورے....
رمل بیٹا آپ ملحان سے باتیں کرو آپ کے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں....
مومنہ بیگم کہتے ہو ۓ روم سے باہر نکل گئیں...
کیا ہوا ہے آپ کو حان کیوں بیمار ہو گۓ ہیں آپ ایسا کیا کہہ دیا ہے میں نے. پلیز رمل جی غصہ نہ کریں اور آپ پلیز ادھر صوفے پر بیٹھ جائیں۔
حان کیا مسلہ ہے آپ کے ساتھ رمل نے چڑھ کر کہا
رمل پلیز آپ جائیں ہم کل پکا آئیں گے یونی پلیز ابھی آپ جائیں
آغا جان کے گھر آنے کا ٹائم ہے پلیز آپ جائیں۔
اوکے میں جا رہی ہو حان اور کل آپ لازمی یونی موجود ہوں رمل نے وارننگ دینے والے انداز میں کہا۔
اور کل پیپر بھی ہے جس میں آپ کا ہونا لازمی ہے
اوکے میں ضرور آؤں گا ان شاءاللہ
❣️❣️❣️❣️❣️