Novels Collection

Novels Collection Read Best and full urdu novels

09/05/2026

شطرنج زندگی
Sneak peek
#سٹوڈنٹ،ٹیچر بیسڈ
#ریوینج بیسڈ۔

گلاسز میں سے بار بار پلکیں جھپکتا ہوا بک ریڈنگ میں محو تھا۔۔۔۔
میرے چہرے پر سوالوں کے جواب نہیں لکھے برائے مہربانی اپنے کام پر توجہ دیں۔۔۔۔

وہ جو سمجھی تھی کہ وہ اس کی طرف متوجہ نہیں ۔۔۔
اس کی بات سن کر ہڑبڑائی۔۔۔

اور فوراً نظریں جھکا کر کام مکمل کرنے لگی۔۔۔

کچھ ہی دیر میں اس نے سارا کام مکمل کرنے کے بعد اسے چیک کروایا۔۔۔
Hummm.Impressive.

وہ اس کا کام چیک کرتے ہوئے بولا

کام ختم ہونے کے بعد وہ جانے کے لیے اٹھا ۔۔۔

قلب پلیز رکیں !!!

پریا نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے جانے سے روکا۔۔۔۔

قلب تو اس کی دیدہ دلیری پر دنگ رہ گیا۔۔۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے؟

وہ اس کے ہاتھ کی طرف دیکھتے ہوئےتلخ لہجے میں بولا۔۔۔۔
اور جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالا۔۔۔۔

ٹیچر ہوں تمہارا ۔۔۔زرا تمیز سے۔۔۔۔۔

پڑھائی کے ساتھ ساتھ تمہیں مینرز کی کلاسز بھی لینے کی ضرورت ہے۔۔۔

پڑھائی ختم سٹوڈنٹ ٹیچر کا رشتہ ختم ۔

اب بات ہو گی پریا اور قلب کے بیچ کی۔۔۔
وہ پہلے اپنے اوپر اور پھر قلب کے سینے پر انگلی رکھ کر بولی۔۔۔۔

مجھے کسی سے کوئی بات نہیں کرنی وہ اسے شانے سے پیچھے ہٹا کر باہر نکلنے لگا کہ ۔۔۔

پریا راستے کے بیچ آئی۔۔۔

اور دروازے کے آگے کھڑی ہوئی ۔۔۔

میری بات سنے بغیر میں آپ کو یہاں سے کہیں جانے نہیں دوں گی۔۔۔۔

فضول بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔
ہٹو راستے سے ورنہ ۔۔۔۔۔

وہ اسے انگلی سے وارن کرتا ہوا تیز آواز میں بولا۔۔۔۔

ورنہ کیا ؟؟؟؟

وہ بھی اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسے چیلنج کرنے کے انداز میں غرائی۔۔۔۔۔

دیکھیں قلب کل سے ہم شاید ہوں کبھی اکیلے مل نا پائیں ۔۔۔۔مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔۔
وہ ساتھ ہی انداز بدلتے ہوئے نرمی سے بولی۔۔۔۔

مجھے بھی تم سے دوبارہ ملنے کا کوئی شوق نہیں اور خاص کر اکیلے میں ۔۔۔
Mind it......

وہ ہاتھ میں موجود کتاب کو بیڈ پر پٹخ کر بولا۔۔۔۔

قلب جب سے میں نے آپ کو دیکھا ہے ،مجھے اور کچھ بھی اچھا نہیں لگتا،میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں ۔۔۔
قلب سچی !!!
پیار نہیں بلکہ مجھے آپ سے عشق ہو گیا ہے ۔۔۔عشق و محبت میں انا نہیں ہوتی ۔۔۔

دیکھیں اسی لیے میں اپنی انا کو روند کر آپ سے ایک صنف مخالف ہونے کے باوجود بھی اظہار محبت کر رہی ہوں ۔۔۔
قلب پلیز میرے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔

وہ چلتے ہوئے اس کے قریب آئی اور اس کی شرٹ کے کالر کو مٹھیوں میں جکڑتے ہوئے نم آنکھوں سے دیکھ کر بولی۔۔۔۔

تم ایک خود غرض لڑکی ہو جسے اپنے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔۔۔۔یہ کہہ کر اس نے غصے سے منہ پھیرا۔۔۔۔۔

توں ہنس کہ ویکھ تے سہی
میں خود نوں وہ بدل داں گی۔
میں چھڈ کہ بنگلے تے گڈیاں۔
تیرے نال ہی چلداں گی۔
اس نے گانا گنگنایا۔۔۔

اس نے پریا کے دونوں ہاتھوں سے اپنا کالر چھڑوایا۔۔۔۔

اور تیز قدموں سے دروازے کی طرف بڑھا۔۔۔۔

ٹھیک ہے تمہیں پیار کی کوئی قدر نہیں نا ؟؟؟

ایسے تو پھر ایسے ہی صحیح۔۔۔۔۔۔

اگر تم میرے نا ہوئے تو میں تمہیں کسی اور کا بھی ہونے نہیں دوں گی ۔۔۔۔

بچاؤ !!!!!
بچاؤ !!!!!
وہ بلند آواز میں زور سے چلائی۔۔۔۔

پہلے اپنی ایک آستین پھاڑی پھر دوسری ۔۔۔۔

دوپٹہ زمین پر پھینکا۔۔۔۔۔
بچاؤ !!!!!
💕💕💕💕💕💕💕

نائٹ بلب کی مدھم سی روشنی میں بدن پر کمفرٹر اوڑھے دنیا و مافیہا سے لاپرواہ نیند کی وادیوں میں پوری طرح گم تھی۔۔۔۔

صرف چہرہ ہی کمفرٹر سے باہر تھا وہ ترچھی ہو کر ایسے لیٹی ہوئی تھی کہ اس کا سر بیڈ سے نیچے ڈھلک رہا تھا کھلے ہیزل بال بھی فرش کو سلامی پیش کر رہے تھے،
ایک ہاتھ میں موبائل کو پکڑے ہوئے پوری طرح بے سدھ تھی۔۔۔۔۔

اس نے ہولے سے اس کے ہاتھ سے موبائل پکڑ کر ایک طرف رکھا۔۔۔۔۔اور اس کے سر کہ نیچے ہاتھ ڈال کر اسے تکیے پر رکھا۔۔۔پھروہیں اس کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔

ایسا کرنے سے وہ ہلکا سا کسمسائی اور سیدھی ہوئی ۔۔۔۔مگر پھر سے گہری نیند میں لوٹ گئی۔۔۔۔

بیضوی سفید رنگت کا چہرہ،ستواں ناک،باریک گلابی پنکھڑیوں سےلب۔مڑی ہوئی مژگان،صراحی دار گردن پر بالکل عین شہ رگ پر بھورا سا تل ،
اس نے اپنی نظروں کا رخ تبدیل کیا۔۔۔۔

مگر من بار بار بہک رہا تھا،اتنے سال باہر گزارے مگر کبھی ان لڑکیوں پر توجہ نہ دی جو اس کی جھلک پانے کو ترستی تھیں اور پکے ہوئے آم کی طرح ہمہ وقت اس کی جھولی میں گرنے کو تیار رہتی تھیں۔۔۔۔

مگر اس میں جانے کیا کشش تھی کہ وہ جتنا اپنے آپ کو روک رہا تھا۔۔۔۔دل اتنا ہی سرکش ہوئے اس کی اوڑھ کھنچا چلا جا رہا تھا۔۔۔۔۔

اس کے چہرے پر آئی ہیزل بالوں کی لٹ کو انگلی پر گھما کر چھوڑا۔۔۔۔۔
جو اپنی مالکن کی طرح مدھوشی میں لڑھک کر تکیے پر گری۔۔۔۔
You are the light,your are the night.
You are the colour of my blood.
You are the cure,you are the pain.
You are the only thing ,I wanna touch.
Never knew that ,it could mean so much.so much.
So love me like you do.
So love you like you do....
Touch me like you do....
Touch me like you do....
Only you can set my heart on fire 🔥

وہ سرگوشی نما آواز میں بولا۔۔۔۔

دارم نے اس کی شہ رگ پر موجود تل پر اپنے لب رکھے ۔

اس کے قرب سے اٹھتی ہوئی دلفریب مہک اسے جیسےآکٹوپس میں جکڑے ہوئے تھی۔۔۔۔

دل اور بھی پانے کو مچلا ۔۔۔۔

مگر اس نے فی الحال اپنے اندر سلگتے ہوئے جذبات کو تھپک کر سلانے میں ہی بہتری جانی۔۔۔۔اور وہاں سے جانے کے لیے اٹھا۔۔۔

باہر نکلنے سے پہلے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔اور کہا

U are mine .........
My doll........
جلد ہی تم میری پناہوں میں ہو گی۔۔۔۔
یہ میرا وعدہ ہے خود سے۔۔۔۔۔۔
وہ ایک آخری نرم سی نظر اس سوئے ہوئے وجود پر ڈال کر باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔
Episode 1
شہرِ خموشاں میں رات کے آخری پہر گھپ اندھیرا اور دل چیر دینے والا گھبیر سناٹا چھایا ہوا تھا ۔ماحول میں پھیلے سکوت میں دور سے آتی ہوئی کتوں کے بھونکنے کی آواز ارتعاش پیدا کررہی تھی ،وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ہوئی دروازہ عبور کیے اندر آئی جہاں عورتوں کا آنا ممنوع قرار دیا گیا ہے،

مگر وہ سب بھلائے مخصوص راستہ عبور کرتی ہوئی اک کتبہ لگی ہوئی کچی قبر کے پاس آرکی۔۔۔۔

بیٹھ کر مٹی ہاتھ میں لیے اس پر لب رکھے،چند لمحوں میں ہی وہ مٹی اس کے برستے ہوئے آنسوؤں سے نم ہوئی۔۔۔۔۔
تم کیوں آئی ہو ؟؟؟؟

اس کے پاس موجود سفید پوش نے اس سے سوال کیا۔۔۔
آپ سے ملنے۔۔۔۔۔"آپ کی یاد آرہی تھی" ،اب کی بار رونے ۔میں مزید شدت آئی۔۔۔۔۔

وہاں سے بھی تو دیکھا جا سکتا تھا۔اس نے سامنے گھر کی چھت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جس گھر کی بیک سائیڈ قبرستان کو لگتی تھی۔

"وہاں سے تو دیکھا جا سکتا تھا ،مگر یہاں تو محسوس کیا جا سکتا ہے"اس نے اپنی ہاتھ میں موجود نم مٹی کو اپنی آنکھوں سے لگایا۔

تمہیں ڈر نہیں لگتا یہاں آتے ہوئے؟؟؟؟

"نہیں"اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔"آپ کو پتہ ہے وہ ہمیشہ میرے ساتھ ہوتا ہے"

آپ سنیں گی اس کے بارے میں ؟

"پھر کبھی۔۔۔۔ ابھی تم واپس جاؤ "

وہ مٹی کو بوسہ دے کر واپس رکھے جس راستے سے آئی تھی وہیں سے واپس پلٹ گئی۔۔۔۔۔۔

🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲

رئیسانی مینشن میں آج ہر طرف گہما گہمی اور روشنیوں کی چکا چوند تھی۔

شہر کی بڑی بڑی ہستیاں اس انگیجمینٹ کی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچ چکیں تھیں۔

چار سو گز پر محیط یہ مینشن اپنی خوبصورتی اور دلکشی کی عمدہ مثال آپ تھا۔سنگ مر مر سے بنا چمکتا ہوا فرش ،بیرون ممالک سے لائے ہوئے ڈیکوریشنز،شو پیسز،اینٹیک طرز کے ہتھیار ،دیواروں پر چسپاں فیملی کی تصاویر،شکاری آلات،غرض
اس عمارت کی ایک ایک چیز اپنی عمارت کا منہ بولتا ثبوت تھی۔
مگر تقریب کا انعقاد باہر لان میں کیا گیا تھا۔۔۔۔

باہر جدید طرز کے برقی قمقموں سے سجاوٹ کی گئی تھی۔
ایک طرف بڑے بڑے گول میز لگا کر ساتھ چئیر رکھ کر کھانا کھانے کے لیے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا۔اور ایک طرف شیف انواع و اقسام کے ان گنت کھانے بڑے بڑے میزوں پر سجائے ہوئے تھے۔۔۔۔

یہ ہائی کلاس لوگوں کی تقریب تھی ،جہاں پینا پلانا عام سی بات تھی۔

ایک طرف چھوٹی سی بار بنائی گئی تھی۔

مہمان تو سب پہنچ چکے تھے مگر میزبان ابھی تک ندارد!!!!
میڈیا کے کیمروں کا رخ اندر سے آنے والے کپل پر ہوا تو سب نے لائٹس کی تقلید میں ادھر ہی اپنی نظریں جمائیں۔۔۔۔
جہاں سے سلیمان رئیسانی بلیک کلر کا برینڈڈ سوٹ پہنے۔وائٹ شرٹ،بلیک ٹائی اور قیمتی رسٹ واچ کلائی میں ڈالے ۔چمکتے ہوئے جوتے پہنے۔اپنے سیاہ بال جن میں اب کہیں کہیں سفید بال بھی جھلک رہے تھے ۔اپنے ازلی مغرور انداز سے اپنی شریک حیات نیلم رئیسانی کے بازو میں بازو ڈالے آرہے تھے۔

نیلم رئیسانی سرخ و سفید رنگت پر بلیک کلر کی ساڑھی اپنے ہم نفس سے میچنگ کیے پہنے ہوئے تھیں۔اس عمر میں بھی اپنے آپ کو اس قدر فٹ رکھے ہوئے تھیں کہ لگتا ہی نہیں تھا کہ ان کی بیٹی کی انگیجمینٹ ہے۔

ڈیپ ریڈ میک اپ میں سجی ،بیک لیس بلاؤز میں بالوں کا ہائی بن بنائے،ہائی ہیلز میں اپنی سوسائٹی کا ہی حصہ لگ رہی تھیں۔

🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲

دروازے پر مسلسل دستک ہو رہی تھی۔مگر وہ ان سنی کیے اپنے کام میں مگن رہی۔

باہر موجود شخصیت نے غصے میں دروازہ دھاڑ سے کھولا ۔۔۔۔
اور پیر پٹختی ہوئی اندر آئی۔۔۔۔
"کب سے ناک کر رہی ہوں سنائی نہیں دیتا دماغ کے ساتھ کان بھی ادھار دے آئی ہو کسی کو "؟

مگر وہ یونہی یونہی لیٹی رہی اپنے موبائل کی سکرین پر نظریں مرکوز کیے ہوئے۔۔۔۔۔

"شرم تو نہیں آتی اپنی بڑی بہن سے بدتمیزی کرتے ہوئے وفا"؟؟؟؟
میں نے کیا بدتمیزی کی ہے؟وہ معصومیت سے آنکھیں جھپکائے بالآخر بول ہی پڑی۔

میرا ہی دماغ خراب تھا جو تمہاری تنہائی کے خیال سے یہ موبائل لے کر دیا ،تم تو چوبیس گھنٹے اسی میں ڈوبی رہتی ہو آس پاس کیا ہو رہا ہے کسی بھی چیز کی ہوش نہیں تمہیں""""وہ اسے ڈپٹنے کے انداز میں بولی۔
اب میں نے کیا کیا ہے ؟

باہر فنکشن چل رہا ہے اور تم ابھی تک تیار ہی نہیں ہوئی۔۔۔۔
"مجھے کسی فنکشن میں نہیں جانا آپ کو جانا ہے تو چلی جائیں۔۔۔" پریا آپا"،میرے جانے یا نا جانے سے وہاں کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔۔۔۔۔

"حد ہے ویسے "وہ تاسف سے سر نفی میں ہلاتے اسے اسی حال میں چھوڑتی ہوئی باہر نکل گئی۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد سجی سنوری شہرناز اپنی دوستوں کی ہمراہی میں باہر آئی جس نے وائٹ کلر کی ڈیزائنر میکسی زیب تن کی ہوئی تھی۔جس کے گلے اور بیک پر پرلز لگے ہوئے تھے ڈائمنڈ جیولری پہنے ہوئی لائٹ پنک کلر کے میک اپ کیے دلکش دکھائی دے رہی تھی۔

عالیان بھی چلتا ہوا اپنے بابا شاہان ملک کے ساتھ شہر ناز کے پاس آیا۔۔۔۔۔

تالیوں کی بھرپور گونج میں عالیان نے شہر ناز کو انگوٹھی پہنائی۔۔۔۔۔
پھر ویسے ہی شہرناز نے عالیان کو۔

مشہور سیاستدان بھی یہاں موجود تھے ان میں سے ایک ان دونوں کے پاس آیا اور بولا۔۔۔

شاہان ملک جی آج سلیمان رئیسانی کی بیٹی کو اپنی بہو بنانے سے آپ کا درجہ اور بھی اونچا ہو گیا ہے۔

"اس خوبصورت موقع پر آپ دونوں کو بہت بہت مبارک"۔۔۔۔

اس نے پھولوں سے آراستہ خوبصورت بوکے ان کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔

جسے سلیمان رئیسانی نے تھام کر اپنے سرونٹ کو پکڑا دیا۔۔۔۔۔۔

کچھ لوگ بار کی طرف پینے کے لیے بڑھ گئے جب کہ کچھ لوگ کھانے کے لیے ۔۔۔۔۔دوسری طرف۔۔۔۔۔

"ایکسکیوز می سر"!عالیان ملک کے باڈی گارڈ نے اس کی طرف موبائل بڑھایا۔۔۔۔۔۔جسے دیکھ کر یک لخت عالیان ملک کے حواس گم ہوئے۔۔۔

عالیان ملک نے سلیمان رئیسانی کے پاس آکر کہا۔۔۔۔
مجھے آپ کو کچھ دکھانا ہے۔

وہ اس کے ساتھ خالی جگہ کی طرف گئے تاکہ اس کی بات سن سکیں۔۔۔
۔
(معذرت خواہ ہوں انکل مجھے یہ ابھی ملا۔۔)

عالیان ملک نے ان کی طرف موبائل بڑھایا۔۔۔۔

"اسے اور کسی نے دیکھا"؟
سلیمان رئیسانی نے سپاٹ اور سرد لہجے میں پوچھا۔۔۔۔۔۔
"نہیں انکل"۔۔۔عالیان ملک نے بتایا۔۔۔۔۔
ہہہمممم۔۔۔۔
وہ سوچنے کے انداز میں بولے۔

🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲

ڈیڈ آپ یہاں ؟؟؟
وہ انہیں فنکشن کے بعد یوں اتنی رات گئے اپنے روم میں دیکھ کر حیران رہ گئی
شہر ناز نے پوچھا۔۔۔۔
وہ نائٹ ڈریس ٹراؤزر اور شرٹ میں ہی موجود تھی۔۔۔۔۔واشں روم سےنکل کر باہر آئی جہاں سلیمان رئیسانی کھڑے ہوئے تھے۔۔

انہوں نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا ۔۔۔۔۔
بیٹھ جاؤ۔۔۔۔۔
۔۔۔
ان کی سرد سی آواز اس نے بخوبی محسوس کی۔۔۔۔۔

جی ڈیڈ۔۔۔
وہ دھیمے سے بولی۔۔۔۔۔۔اور ٹیبل سے پڑا پانی کا گلاس اٹھا کر اپنے لبوں سے لگایا۔۔۔۔۔
۔
نیلم رئیسانی جنہوں نے سلیمان کی تقلید میں ابھی ابھی وہاں قدم رکھا تھا ۔۔۔۔

وفا اور پریا دونوں سلیمان رئیسانی کے بلانے پر اپنے اپنے کمروں سے باہر آئیں تھیں۔۔۔۔

وہ بھی باہر دروازے پرکھڑی اسی شش و پنج میں مبتلا تھیں کہ انہیں کیوں بلایا گیا ہے؟؟

عالیان نے مجھے آج ایک کلپ دکھایا تھاجس میں تم ایک غیر لڑکے کہ ساتھ دکھائی دے رہی تھی۔

اور جو تم شرمناک حرکت کر رہی تھی اس کے ساتھ دل تو کیا تھا کہ وہیں کھڑے کھڑے تمہیں!!!!!!!!

وہ حد درجہ تنفر سے دھاڑے ۔۔۔۔۔۔۔

زرا سوچو اگر یہ انفارمیشن میڈیا میں لیک ہو جاتی تو میری عزت کی دھجیاں اڑ جاتیں۔

تمہیں ایسی حرکت کرتے ہوئے زرا شرم نہیں آئی؟؟؟؟؟
تم نے میری اتنے سالوں سے بنائی گئی ساکھ اور عزت کی دھجیاں بکھیر دیں۔۔۔۔
وہ بے چینی سے پیشانی مسل کر تلخ لہجے سے بولے۔۔۔۔۔

ڈیڈ مجھے معاف کردیں۔۔۔پلیز مجھ سے غلطی ہو گئی۔۔۔

اس نے اپنے باپ کا یہ سخت روپ پہلی بار دیکھا تھا ۔۔۔۔

اپنے آپ ہی اس کی آنکھوں میں نمی گھلنے لگی اور اس نے رندھی ہوئی آواز میں صفائی پیش کرنی چاہی۔۔۔۔۔
اتنے میں نیلم کے موبائل پر میسج نوٹیفکیشن آئی ۔۔۔جو بریکنگ نیوز پر آتی تھی۔
انہوں نے فوراً اپنا فون آن کر کہ دیکھا جہاں نیوز چل رہی تھی۔

بریکنگ نیوز۔۔۔۔"""کل رات شاہان ملک کے بیٹے عالیان ملک کی ایک ایکسڈنٹ میں اچانک موت ہو گئی"""""۔۔۔

جب وہ اپنی انگیجمینٹ سے واپس لوٹ رہے تھے۔ان کی انگیجمینٹ کل سلیمان رئیسانی کی بیٹی شہر ناز سے ہوئی تھی۔جائے حادثہ پر موجود لوگوں نے بتایا ہے کہ ائیر پورٹ جاتے وقت کسی گاڑی کے ٹکرانے سے ان کی موت ہو گئی۔۔۔۔۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔وہ یہ خبر سن کر شاک رہ گئیں۔۔۔۔

کیا تمہیں اس لیے پیدا کیا تھا کہ تم میری بنی بنائی عزت کو خاک میں ملا دو؟؟؟؟؟
وہ پھنکارے۔۔۔
میرے اتنے سالوں سے بنائی گئی ساکھ کو تو نے ۔۔۔۔۔۔۔
تو نے اسے ایک ہی جھٹکے میں سرے عام نیلام کر دیا۔۔۔
ان کی آنکھوں میں خون اترتا ہوا دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔

سلیمان۔۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔

نیلم رئیسانی نے آگے بڑھ کر انہیں ان کے اگلے قدم سے روکنا چاہا۔۔۔۔۔۔

نیلم۔۔۔۔انہوں نے اسے گھورتے ہوئےخود سے پرے دھکیلا۔۔۔۔۔

Shut up........Just shut up now

ایک فائر کی آواز رئیسانی مینشن میں گونجی۔۔۔۔۔۔۔

لان میں موجود درختوں پر بیٹھے ہوئے پنچھی ڈر کہ مارے اڑے۔۔۔۔

وقت جیسے تھم سا گیا۔۔۔۔

ہر ذی روح اپنی جگہ جامد رہ گیا۔۔۔۔

بہا تو صرف خون !!!!

وہ بھی شہر ناز کی کنپٹی سے۔۔۔۔

وہ لمحوں میں صوفے سے لڑھک کر زمین پر گری۔۔۔۔۔۔

جیتا جاگتا ہوا وجود پل بھر میں بے جان لاش میں بدل گیا۔۔۔۔۔

پریا ،وفا دونوں کے سانس حلق میں اٹکے۔۔۔۔

نیلم تو اس واقع کی تاب نا لاتے ہوئے چکرا کر زمیں بوس ہوئی۔۔۔

سلمان رئیسانی چلتے ہوئے وہاں سے نکل کرگھر سے باہر نکلے ۔۔۔۔۔

سامنے سے ہی ان کے خاص آدمیوں کی گاڑی آتی ہوئی دکھائی دی۔۔۔۔۔

چند لمحوں میں ہی وہ اب اس لڑکے سمیت ان کے سامنے تھے جس کے ساتھ شہر ناز کی ویڈیو تھی۔۔۔۔۔

ایک گارڈ نے اسے دھکا دے کر سلیمان رئیسانی کے سامنے ان کے پیروں میں پھینکا۔۔۔۔

اس بیچارے پر شاید پہلے سے تشدد کر کہ یہاں لایا گیا تھا جو لہو لہان تھا اور ٹھیک سے اپنے پیروں پر کھڑا بھی نہیں ہو پا رہا تھا۔۔۔۔۔ایک گارڈ نے اس کی جیکٹ کے کالر سے کھینچ کر اسے سیدھا کیا۔۔۔

کسی نے بھی میری عزت سے کھیلنے کی کوشش کی تو میں اس کی جان !!!!!!لے لوں گا"۔۔۔۔۔میرے گھر کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والے کی آنکھ نوچ کر کتوں کے آگے ڈال دوں گا۔۔۔۔۔

اندر موجود پریا اور وفا دونوں کے کانوں میں اس کے باپ کے الفاظ گونج رہے تھے۔
وہ گن اپنے سینے سے لگا کر کروفر زدہ لہجے میں بولے۔
سلیمان رئیسانی کی آواز پر اس لڑکے نے ان کی طرف پہلی بار نظر اٹھا کر دیکھا جو اس کی آخری نظر ثابت ہوئی۔۔۔۔۔
اسی ہاتھ میں موجود گن سے سلیمان رئیسانی نے اس پر فائر کیا اور وہ بنا سانس لیے موقع پر دم توڑ گیا۔۔۔۔۔۔

🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲
بتائیے کیسا لگا سٹارٹ؟

18/04/2026

Teri khatir
Season 2
Last Episode part 2
ہاں عاص شادی شدہ نہیں ہے اور نہ ہی اذان اس کا سگا بیٹا ہے۔ عینی نے اس کی آنکھوں میں ابھرتے ہوئے سوال کا جواب دیا
مگر وہ بچہ۔۔۔
وہ اسے اپنے بیٹے سے بڑھ کر چاہتا ہے۔ ایک رات ہمیں ایک لڑکی ملی تھی؛ زخمی حالت میں۔۔۔ ملی کیا تھی؟ کسی نے چلتی گاڑی سے اُسے پھینک دیا تھا۔ ہمیں تو پہلے سمجھ نہیں آئی تھی کہ کسی نے گاڑی سے دیا پھینک دیا ہے مگر پھر۔۔۔۔۔
چار سال پہلے؛
بھائی۔۔۔۔آپ۔۔۔۔آپ مجھے سے۔۔۔۔ ایک۔۔۔ایک۔۔۔ وعدہ کریں پلی۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔ لبنٰی نے اپنی اکھڑتی ہوئی سانسوں سے اوحاذ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
میرے بچے۔۔۔۔۔کی پر۔۔۔۔پرورش آپ کریں۔۔۔۔گے۔۔۔وع۔۔۔وعدہ کریں۔۔۔ اسے۔۔۔۔اسے۔۔۔آپ۔۔۔آپ اس کے داد۔۔۔۔ دادا کے حح۔۔۔حوالے نہیں کریں۔۔۔۔گے۔۔۔۔وعدہ کریں۔۔۔۔۔ بھائی۔ وہ جیسے بضد تھی اور پھر اس نے اپنا ہاتھ اصحاذ کی جانب اٹھایا
وووع۔۔۔۔وعدہ۔۔۔۔۔کریں۔۔۔ بھائی ۔۔۔۔ وہ اب کی بار گہرے سانس بھرنے لگی تھی اور ساتھ ہی مانیٹر پر آواز بھی تیز ہوگئی تھی
وعدہ رہا۔ جیسے ہی اصحاذ نے اس کے ہاتھ کو تھاما اور وعدہ کیا، اسی پل اس کے چہرے کو ہلکی مسکان نے چھوا اور وہ اس جہاں سے ہمیشہ کے لیئے بہت دور چلی گئی۔
حال؛
اور تم جانتی ہو لبنٰی کس کی بہن ہے؟! عینی نے حال میں لوٹتے ہوئے افرہ سے کہا جو منہ پر ہاتھ رکھے رو رہی تھی
لیلیٰ کی بڑی بہن تھی لبنٰی اور لیلیٰ وہی سارہ ہے جس سے سمیر نے دوسری شادی کی تھی۔ دِلرُبا۔۔۔ عینی نے ایک کے بعد دوسرا راز افشاں کیا تو وہ صدمے سے کنگ اس کے چہرے کی طرف دیکھے گئی
مگر وہ تو طوائف تھی۔ افرہ کے ہونٹوں سے سرگوشی نما نکلا
نہیں وہ طوائف کا روپ دھار چکی تھی۔ مجھے تو تم پر حیرت ہورہی ہے کہ تم اپنے ہی گھر میں رہتے ہوئے اپنی نظروں کے سامنے موجود لڑکی کو پہچان نہیں پائی تھی؟ عینی نے اب کی بار اس کے چہرے کے فق ہوتے رنگوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا
چلو چھوڑو یہ سب۔ اب جب کہ تمھیں حقیقت کا پتہ چل چکا ہے تو کیا تم اب راضی ہو عاص سے شادی کرنے کے لیئے ؟! عینی نے اس کی خاموشی کو توڑتے ہوئے پوچھا جس پر وہ اس کی جانب دیکھنے لگی
ہاں بھئی بتاؤ۔ تمھیں اب کوئی اعتراض تو نہیں ہے؟ عینی نے اب کی بار اٹھتے ہوئے پوچھا
میں کیا کہوں آپی؟ افرہ اب کی بار منمنائی
ٹھیک ہے پھر جو فیصلہ لیا جائے گا وہ تمھیں قبول کرنا ہوگا۔ عینی نے دو ٹوک کہا تو وہ پھر سے سر جھکا گئی تھی
ویسے مجھے افسوس ہے کہ تم نے اپنے عاص پر بھروسہ نہیں کیا۔ رشتے چاہے جیسے بھی ہوں، اپنوں کو ہر حال میں اپنا کر رکھنا پڑتا ہے۔ ان پر سے یقین نہیں ڈگمگاتے اور اگر کوئی بات سمجھ نہیں آرہی یا پھر کوئی غلط فہمی ہو تو اسے مل بیٹھ کر حل کرتے ہیں ناکہ اپنی طرف سے کچھ بھی سوچ کر اور پھر اسی سے نتیجہ اخذ کرنے خودساختہ فیصلہ لیا جاتا ہے۔ مجھے امید ہے تمھیں میری بات سمجھ آرہی ہوگی۔ عینی نے اب کی نرم لیجے میں کہا اور پھر اس کا جواب سنے بغیر کی باہر کی جانب بڑھ گئی تو وہ بھی عینی کی چھوڑی ہوئی جگہ کر دیکھنے لگی
************************
ابھی عینی لاؤنج میں واپس آئی تھی کہ سب کو کھڑا ہوتے دیکھ کر جلدی سے ان کی طرف آئی
کیا ہوا ؟! آپ سب ایسے کھڑے کیوں ہیں؟ عینی نے ان کی طرف آکر پوچھا
عاص کی کال آئی تھی۔ کہہ رہا تھا کہ آغا جانی نے ہم سب کو وہاں بلایا ہے۔ آنٹی، انکل اور افرہ کو بھی۔ شہیر نے عینی کو دیکھتے ہوئے جواب دیا
اچھا لیکن سب خیر تو ہے؟! عینی نے اس کے قریب آتے ہوئے پوچھا
ہاں خیریت ہے بس بلا رہے ہیں سب کو۔ آنٹی آپ لوگ بھی ریڈی ہوجائیں تو مل کر نکلتے ہیں اور انکل کو بھی کال کرکے وہی بلا لیجیئے بلکہ میں ہی بلاتا ہوں۔ وہ انھیں کہتے ساتھ ہی حامد کو بھی کال کرنے لگا اور پھر ان سے بات کرکے دوبارہ سے ان کی طرف متوجہ ہوگیا تو صلہ بھی افرہ کو تیار ہونے کا کہہ کر اپنے رولم کی جانب بڑھ گئی جبکہ وہ تینوں وہی لاؤنج میں ان کا انتظار کرنے لگے۔
*******************
بابا میں کچھ تک جوائن کرتا ہوں سب کو۔ ایک بہت ضروری کام ہے وہ کرنا ہے ابھی۔ میں شام تک آجاؤں گا۔ اصحاذ نے سکندر شاہ کو دیکھتے ہوئے کہا
کیا ہوا؟! سکندر شاہ نے بھنویں سکیڑ کر پوچھا
بس بابا جانی ضروری ہے۔ میں آتا ہوں۔ اللہ حافظ۔ یہ کہہ کر وہ لمبے لمبے ڈاگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا
ابھی وہ باہر گیٹ سے نکل ہی رہا تھا کہ اسے عینی لوگ بھی واپس آتے دیکھائی دیئے تو وہ وہی کھڑا ہوا اور پھر سب سے مل کر وہاں سے جانے لگا
کہا جارہا ہے تُو؟ شہیر نے اسے آواز دے کر روکا اور پھر پوچھا
آتا ہوں کچھ دیر تک۔ بِنا رُکے جواب دیا اور پھر وہ وہاں نکلتا چلا گیا
عجیب۔ شہیر منہ کے زاویے بگاڑتا سب کو لیئے اندر کی جانب بڑھ گیا
جیسے ہی وہ لوگ اندر آئے تو افرہ اور صلہ بیگم کے علاوہ عینی اور شہیر تعجب سے اندر آتی آوازوں کو سن کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
یہ کس کی آواز ہے بڑے بابا کے ساتھ؟ عینی نے کہتے ساتھ ہی تیز قدموں سے لاؤنج کا سفر طے کیا
اسلام وعلیکم بڑے بابا۔۔۔ کوئی مہمان آئے ہیں کیا؟ عینی نے جھٹ سے سلام کرتے ہوئے یکدم پوچھا
زرلش بیٹا۔ یہ آپ کے چاچو کی اکلوتی بیٹی ہے اور ہم سب کی "عین"۔ سکندر شاہ نے اس کے پیچھے بیٹھی زرلش کو کہا چونکہ اندر آتے عینی کی طجانب زرلش کی پیٹھ تھی اس جانب تو اس لیئے عینی نے آتے ہوئے نہیں دیکھا تھا
+
زرلش۔۔۔۔ عینی آپی۔۔۔۔ دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہا اور پھر وہ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگیں
اوہ میرے اللہ۔۔۔۔تم ٹھیک ہو میری جان؟! عینی نے بڑی بہنوں کی طرح اس کا سر، ماتھا اور پھر گال چوم کر پوچھا
ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔۔ اس نے تھوڑا جھجھکتے ہوئے کہا
تم مجھے عینی کہہ سکتی ہو باقی سب کی طرح۔ عینی نے اسے دوبارہ سے خود کے قریب کرتے ہوئے کہا
اوکے۔ وہ جوابًا سر ہلاتی اسے کہہ کر اب شہیر اور فائزہ بیگم کو اجنبی نظروں سے دیکھ رہی تھی
یہ شہیر عالم خان ہیں اور تمھارے جیجو اور یہ تمھاری اکلوتی فائزہ خالہ ہیں۔ عینی نے اس کی آنکھوں میں ابھرتے سوال کو سمجھتے ہوئے جواب دیا تو وہ دونوں بھی اس گلے لگانے کے لیئے آگے بڑھے
ماشاءاللہ بلکل باجی پر گئی ہے میری جان۔ بلکل ان کے جیسی ہو بہ ہو۔ فائزہ بیگم نے اپنی آنکھیں پونچھ کر کہا تو وہ سر جھکاتی آنسو پینے لگی
+
ارے آج ہی تو میری گڑیا گھر آئی ہے اور آج ہی آپ لوگوں سے اسے رلا دیا؟! آجاؤ گڑیا تمھیں میں پورا گھر دیکھاتا ہوں۔ شہیر نے کہتے ساتھ ہی اسے ہاتھ سے پکڑا اور لاؤنج سے باہر لے جانے لگا
ہم سے نہیں ملواؤگے ہماری بیٹی کو؟ ابھی صلہ بیگم کچھ کہنے لگی تھیں کہ سامنے سے آتے حامد صاحب نے انھیں روک کر پوچھا
کیوں نہیں انکل! آخر آپ کی امانت ہیں۔ شہیر نے ذومعنی انداز میں کہتے ہوئے ایک آنکھ ماری اور پھر ان دونوں کی طرف متوجہ ہوگیا
یہ حامد انکل ہیں۔ صلہ آنٹی کے شوہر نامدار اور افرہ، حماد اور حبیبہ کے والد محترم۔ شہیر نے مزے سے ان کا تعارف کروایا تو حامد صاحب کے سامنے سر جھا گئی تو وہ بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کئی نوٹ اس کے سر سے وار کر شہیر کو دینے لگے
جاؤ بھئی یہ باہر کسی کو دے کر آؤ۔ آج ہماری آنکھوں کا نور واپس آگیا ہے۔ حامد صاحب نے کہتے ساتھ ہی زرلش کے سر پر بوسہ دیا بلکل ویسے ہی جیسے وہ افرہ کو دیا کرتے تھے
تھینکیو انکل۔ زرلش نے نم آنکھوں سمیت کہا
چھوٹے پاپا ہی کہہ دیا کرو بلکل اپنے بھائی کی طرح۔ حامد صاحب نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا
اوکے چھوٹے پاپا۔ وہ جوابا مسکرائی
میرا بچہ۔ حامد صاحب نے اس کا سر آہستہ سے تھپتھپایا اور پھر وہ بھی اندر کی جانب بڑھ گئے جبکہ وہ دونوں باہر لاؤنج سے نکل گئے۔
************************
شام میں پارٹی اپنے عروج پر تھی۔ ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے دنیا جہان کی ہر چیز وہاں موجود ہو۔ ہر چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔
اس موقع پر افرہ نے عینی کی پرزور فرمائش پر وائٹ گھیر دار فراک پہنا جبکہ زرلش کو سرخ رنگ کا فراک پہننے کو کہا گیا تھا۔ وہ دونوں ہی عینی کی مسکراہٹ سے الجھتی ہوئی وہی ڈریس پہننے لگیں اور پھر ہلکا پھلکا میک اپ دونوں کا کیا گیا تھا۔
آپی میری شادی ہورہی ہے کیا؟! جو آپ نے اتنا ڈراک کلر مجھے کہا پہننے کو؟ اور تو اور یہ میک اپ؟ زرلش روہانسی ہوکر عینی سے کہنے لگی جو اس وقت بیوٹیشن کے ساتھ کھڑی اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ خود عینی نے بلیک کلر کہ ساڑھی پہنی تھی ظاہر ہے شہیر کے کہنے پر اور پھر اپنے بالوں کا میسی سا جوڑا بنا کر انھیں بند کیا تھا۔ ساڑھی کی مناسبت سے اس کا میک اپ ذرا سا گہرا تھا اور اب وہ تیار ہوئی ان دونوں کے پاس موجود تھی
میری جان، عرصے بعد تمھارا آنا ہوا ہے۔ایسے میں یہ موقع کیسے ہاتھ سے جانے دیں؟ عینی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور پھر بات کے آخر میں ونک کیا
کیا مطلب؟! اب کی بار افرہ نے بیچ میں مداخلت کی
پتہ چل جائے گا میری جان۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے؟ عینی نے افرہ کو بھی گول مول سا جواب دیا تو وہ منہ بنا کر اسے دیکھنے لگی
آپ کو پتہ ہے آپ بھی عاص کی طرح ہر بات گھما دیتی ہیں؟ افرہ نے منہ بنا کر کہا
ہاہاہاہا۔ اوہ مطلب اتنا غور کیا ہے۔ سہی سہی۔ عینی نے معنی خیزی سے ہنس کر کہا تو جواباً افرہ حجل ہوتی ادھر ادھر دیکھنے لگی
کیا ہوا میری جان؟! ابھی تو وہ سیاں بنے ہی نہیں اور آپ شرمانے لگیں؟! میری جان عاص تو گیا کام سے۔ عینی نے اس کی جانب جھک کر دھیمے سے کہا اور پھر سامنے آئینے میں نظر آتے اس کے عکس کو دیکھا جو اب سر جھکائے اپنے ہاتھوں سے کھیل رہی تھی
کیا ہوا میری دونوں آپیوں کو؟! زرلش نے دونوں کو ایک دوسرے سے راز و نیاز کرتے ہوئے دیکھا تو پوچھا
سجنا ہے مجھے سجنا کے لیئے
عینی بنا اس کی بات کا جواب دیئے باری باری دونوں کے گال پر بوسہ دیتی وہاں سے جانے لگی مگر ساتھ ساتھ اب گا رہی تھی اور پھر ایک آخری نظر دونوں پر ڈال کر کمرے سے نکل گئی۔
***********************
کیسی ہیں وہ؟ سامنے سے آتے شانزل نے کسی کا پوچھا
زندہ ہیں ابھی۔ اتنے ہی بے زاری سے جواب دیا گیا
+
ہممم۔۔ چلیں میرے ساتھ۔ شانزل نے کہہ کر آگے کی جانب قدم بڑھائے تو وہ بھی اس کے پیچھے چلنے لگی
ہوش میں لے کر آئیں انھیں۔ شانزل نے ساتھ کھڑی لڑکی سے کہا جو سامنے کرسی پر بندھی عورت کو دیکھ رہا تھا جس کا سر نیچے کی جانب ڈھلک رہا تھا
کون ۔۔۔ کون ہے؟! جیسے ہی اس کے چہرے پر پانی پڑا؛ وہ عوت ہڑبڑا کر سیدھی ہوتی خوف کے مارے پوچھنے لگی
میں ہوں ڈئیر آنٹی۔ دانت پیستے سامنے والے نے جواب دیا جو اب ٹانگ پر ٹانگ جمائے اسے دیکھ رہا تھا
اوہ۔۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔ سید اصحاذ شاہ ۔۔۔۔ علیش کا اکلوتا بیٹا۔ سہی۔۔۔۔ وہ عورت اصحاذ کو دیکھتے ہوئے ہنس کر کہنے لگی؛ مجال ہے جو اسے کوئی حیرت ہوئی ہو
ہاں میں "سید اصحاذ شانزل شاہ" ؛ علیش کا اکلوتا بیٹا۔ ڈئیر تمنا آنٹی۔ وہ اب اس کی جانب ذرا سا آگے بڑھ کر جواب دیتا انھیں دیکھنے لگا
ہاہاہاہاہاہاہا۔ مجھے پتہ تھا "دا گریٹ مافیا ڈان" تم ہی ہو۔۔۔۔۔ ہوہوہو۔۔۔ تمنا بیگم نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
کیوں مارا میری مما کو؟ اصحاذ اس کی بات کو نظرانداز کرتا اس سے پوچھنے لگا
تمھاری ماں اسی قابل تھی۔ تمنا بیگم نے دانت پیس کر نہایت غصے سے کہا
تم ہوتی کون ہو میری مما کے بارے میں ایسا بولنے والی؟! وہ اچانک سے اپنا آپا کھوتا اس کی جانب لپکا تو لیلی نے فوراً سے اسے بازو سے پکڑ کر روکا
نہیں بھائی نہیں۔ آپ اِن پر ہاتھ نہیں اٹھائیں گے۔ یہ میری بھائی پر زیب نہیں دیتا۔ لیلی نے فوراً سے کہا تو اصحاذ گہرے سانس بھرتا اپنا تنفس کنٹرول کرنے لگا
آپ کو شرم نہیں آتی یہ کہتے ہوئے؟ ذرا دل نہیں کانپا آپ کا؟ ایک بچے سے اس کی ماں کو چھینتے ہوئے؟! لیلی نے اس کی جانب گھوم کر پوچھا
برا لگا تھا۔۔۔۔۔ مگر تب جب میں نے پہلی بار ساحل آفندی کی آنکھوں میں علینہ کے لیئے محبت دیکھی تھی ۔ میں سمجھتی تھی کہ وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھول جائے گا مگر ہر گزرتے لمحے سمیت وہ اس کی محبت میں مزید دیوانہ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ محبت جس پر میرا حق تھا؛ ساحل آفندی نے اس پر تمام کردی تھی۔۔۔۔ وہ دل جو نیرا ہونا چاہیئے تھا۔۔۔وہ۔۔۔۔وہ علینہ کے نام کردیا تھا۔۔۔۔ میری محبت تھا وہ۔ میرا عشق تھا ساحل آفندی ۔۔۔۔ جنون تھا وہ شخص میرا۔۔۔۔ مگر مجھے تب برا لگا تھا جب وہ ہر وقت علینہ کی یاد میں شراب نوشی کرتا تھا۔۔۔۔۔ مجھے تب سے ہی نفرت ہوگئی تھی علینہ سے۔۔۔۔۔ وہ ماضی کی یادوں میں گم ہوکر بتانے لگیں اور پھر حال میں لوٹتیں اطمینان سے کہنے لگی
پھر۔۔۔۔۔ تم نے انھیں مار دیا؟ اصحاذ نے بہت کرب اور تکلیف سے پوچھا۔ وہ "آپ" سے "تم" تک آچکا تھا
ہاں مار دیا۔ میں تو اس کے بچے کو بھی مارنا چاہتی تھی مگر کسی اور نے وہ بچہ کہیں چھپا دیا تھا۔۔۔۔۔۔ لیکن وہ بھی مجھے معلوم ہے جہاں ہے۔ زرلش شاہ۔۔۔۔۔۔ یہی نام ہے نہ تمھاری بہن کا؟ تمنا بیگم بات ایسے کر رہی تھی جیسے وہ کوئی کہانی سنا رہی تھیں اور پھر بات کے آخر میں چمکتی آنکھوں سے زرلش کا بتانے لگی
سمیر کو کیوں مارا؟ لیلی نے اس کی بات کے بدلے سوال کیا
تم سے شادی کرکے اس نے خسارہ ہی مول لے لیا تھا مگر اپنی سوتیلی بہن کے ساتھ منہ کالا کرکے ۔۔۔۔۔تھھھوووووو۔۔۔۔ اسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ "آفندیز" کے نام پر دھبہ تھا وہ۔ میرا بڑا بیٹا ساحر آفندی تمھاری بہن کے ساتھ تو دوسرا بیٹا تمھارے ساتھ۔ اس لیئے سمیر کو بھی ختم کردیا۔ تمنا بیگم کی بات سن کر لیلی کو لگا جیسے چھت اس پر آگری ہو؛ اسے شک تھا کہ کہیں نہ کہیں تمنا بیگم سمیر کی موت میں ملوث ہے مگر آج ان کے منہ سے اقرار سن کر اسے اپنے پیروں پر کھڑا رہنا مشکل ہوگیا تھا اور وہ سہارے کے لیئے اصحاذ کے بازو کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگی مگر پھر اس کا ہاتھ پھسلا اور وہ وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئی
کیوں مارا سمیر کو؟ اس کے ہونٹوں سے سرگوشی نما نکلا
کہا نہ دھبہ تھا وہ ہمارے نام پر۔ اس لیئے اسے ختم کرنا پڑا۔ تمنا بیگم نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے تیز لہجے اور اونچی آواز میں کہا
یہ بھی سن لو کہ علینہ کو مارنے والا تمھارا ہی باپ تھا۔ "غلام بخش" ۔ وہی میرا خاص ملازم تھا۔ جس نے ہر جگہ میرا ساتھ دیا۔ علینہ کو مارنے سے لے کر زرلش کو اٹھوانے اور پھر اسے لُبابہ کے گھر پہنچانے تک سب میں اس نے میرا ساتھ دیا۔۔۔ مگر۔۔مگر افرہ کی باری تم بیچ میں آئے اور پھر دوبارہ۔۔۔۔۔۔ جب وہ ماں بننے والی تھی تو تب ہی اس کے جوس میں پہلے سے ہی میں نے ذہر ملا دیا تھا۔۔۔۔ مجھے لگا تھا وہ اور اس کا بچہ مر جا۔۔۔۔۔
+
چٹاخخخخخ
ابھی تمنا بیگم کا جملہ مکمل ہوتا کہ اچانک سے اس کے گال پر کسی نے بہت زور سے تھپڑ مارا جس نے اس کے رہی سہی کسر پوری کردی تھی
تمھاری جیسی عورتیں ہی ہوتی ہیں جو عورت کے نام پر دھبہ ہوتی ہیں۔ ارے لعنت ہو تم پر ۔ تھوووو۔ لیلی نے اٹھ کر تیش کے عالم میں ایک زوردار طمانچہ ان کے منہ پر مارا اور پھر ان کے سامنے زمین پر تھوکتے ہوئے اس کے بھسم کردینے والے نگاہوں سے دیکھنے لگی البتہ لہجہ بھی شرارے ٹپکا رہا تھا
تیری اتنی جرات کہ تو مجھ پر ہاتھ اٹھائے؟! (گالی) ۔۔۔۔ تمنا بیگم نے غصے سے بھڑکتے ہوئے کہا اور پھر اسے گالی دی
چٹاخخخخخ
لیلی نے اب کی بار دوبارہ سے ان کے دوسرے گال کو بھی نشانہ بنایا اور پھر سینے پر بازو باندھتی ان کی طرف دیکھنے لگی جبکہ اصحاذ وہی کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظریں ان پر کم جبکہ کُرسی کے پیچھے بنے ہوئے سٹیل کے تیز دار راڈ پر زیادہ ہی جمی ہوئی تھیں
لو دوسرا بھی مار دیا۔ اب کیا کروگی؟ یہ دونوں افرہ بجو پر گزرنے والی ہر تکلیف کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں مگر یہ میری طرف سے شاہ بھیا کی محبت کو نقصان پہنچانے کا بھی ایک چھوٹا سا تحفہ تھا۔ وہ ان کی جانب جھک کر کہتی؛ دونوں بازوں کرسی کے دائیں بائیں رکھتی ان کی آنکھوں میں دیکھ کر کہنے لگی، انداذ گویا چیلنج کرنے والا تھا
میں تمھیں جان سے مار ڈالوں گی (گالی)... کہتے ساتھ ہی تمنا بیگم کے منہ سے تھوک نکلنے لگی تھی
چلو مارو۔ تمھارے سامنے ہی ہوں۔ لیلی نے اس کے سامنے کھڑے ہوکر چیلنج کیا اور پھر اپنا سرکتا ہوا چادر درست کرنے لگی
ک۔۔کیا تم ماں بننے والی ہو؟ تمنا بیگم نے اس کے جسم کے تبدیل ہوتے ساخت کو دیکھ کر پوچھا
ہاں۔۔۔ میں سمیر کے بچے کو لیئے اب تک زندہ ہوں۔ لیلی نے چادر خود پر درست کرتے ہوئے کہا
کب سے؟ تمنا بیگم نے اچانک ہی اس سے نرم لہجے میں پوچھا تو وہ حیرانگی سے اس کی جانب دیکھنے لگی
بتاؤ کب سے؟! تمنا بیگم نے دوبارہ سے اپنا سوال دہرایا
سمیر کے جانے کے ٹھیک ایک مہینے بعد ۔۔۔۔ ابھی وہ بات مکمل کرتی کہ تمنا بیگم نے پیر اوپر اٹھایا اور پھر اسے لات مارنے لگی مگر اصحاذ نے اسے بروقت اپنی طرف کھینچا اور پھر تمنا بیگم اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور کرسی پیچھے کی جانب چلی گئی
بچے آپ ٹھیک ہو؟! اصحاذ نے خود سے لگی لیلی کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا جو تھر تھر کانپتی اس سے لگ کے کھڑی تھی
جج۔۔۔۔ جی میں ٹھیک ہوں۔ لیلی نے اس سے الگ ہوتے ہوئے کہا
آہہہہہہہہ۔ اچانک ہی تمنا بیگم کی چیخ سنائی دی انھیں اور وہ دونوں تمنا بیگم کی جانب بڑھ گئے۔ تمنا بیگم کا سر پیچھے سٹیل کے بنے ہوئے تیز دار راڈ سے زور سے ٹکرایا تھا جس کی وجہ سے ان کے سر کا پچھلا حصہ پھٹ گیا تھا اور خون اب ان کے چہرے پر بھی آرہا تھا۔
اصحاذ نے جلدی سے ایمبولینس کو کال کی اور پھر یاسر حمدانی کو ساتھ لیئے اسے ہاسپٹل روانہ کردیا۔ لیلی بھی ان کے ہمراہ تھی اور وہ تینوں نفوس تمنا بیگم کے ساتھ ہی وہاں سے چلے گئے۔
تمنا بیگم خود محبت کا راگ الاپتے ہوئے ایک قاتلہ بن گئیں۔ اس نے نہ صرف علینہ کو مارا بلکہ اس کی بچ جانے والی اولاد کو بھی اس کے باپ کی شفقت سے محروم کردیا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ اپنے ہاتھوں سے سمیر کے آکسیجن پائپ کو ماسک سے نکال دیا تھا اور پھر وہ بھی اس دنیا سے چلا گیا تھا۔ اس نے افرہ کے ہونے والے بچے کو بھی نہیں بخشا تھا۔ سمیر کو مارنے کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ اس نے تمنا بیگم کو جوس میں زہر ملاتے ہوئے دیکھ لیا تھا مگر اپنی ماں کے ممتا کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ خاموش رہا مگر پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمیر ڈھکے چھپے الفاظ میں ماں پر طنز کرتا رہتا تھا جس کا نتیجہ سمیر کی موت نکلا۔
اس نے اپنے خاص ملازم "غلام بخش" کو بھی بیلٹ سے مارتے ہوئے کسی دوسرے کے حوالے کرکے مار دیا تھا۔ ایک کے بعد دوسرا قتل اور وہ بھی اتنی صفائی سے؛ مگر اس سب کیا فائدہ حاصل ہوا اسے؟؟ جس کے لیئے وہ سب کچھ کیا وہ بندہ پھر بھی اسے حاصل نہ ہوا. افرہ سے نفرت کی وجہ اس کا شاہ فیملی سے تعلق ہونا تھا اور تمنا بیگم ہر وہ بندہ ختم کرنے پر آچکی تھیں جس کا تعلق علینہ سے جڑتا تھا۔
وہ خود غرض بن گئی تھیں اور پھر اپنی محبت کو پانے کا غرض لیئے ایک قاتلہ بھی۔ مگر کیا نتیجہ نکلا؟ بیوی ہوکر تو محبت کے حوالے سے تہی دامن تھی؛ ماں بن کر اولاد سے بھی خود کو محروم کردیا تھا۔ اگرچہ ساحر آفندی کو اس کے کیئے کی سزا ملی تھی تو سمیر آفندی کو تمنا بیگم نے ختم کردیا تھا۔
+
اب شاید وہ بچ جاتیں یا پھر اس حادثے کے بعد مر جاتیں۔ ان کی حالت پر آنسو بہانے والا کوئی بھی نہیں تھا۔
یہ لو یو-ایس۔بی۔ اس میں ساری ریکارڈنگ محفوظ ہے۔ اصاحذ نے ایک یو-ایس-بی یاسر کو تھامتے ہوئے کہا
اوکے ٹھیک ہے۔ یاسر نے سر ہلا کر کہا البتہ اس کی نظریں لیلی کو دیکھ رہی تھیں
چل اب اجازت دے۔ گھر میں پارٹی رکھی گئی ہے؛ وہاں لیٹ ہورہا ہوں۔ اصحاذ نے جانے اس کی نظروں کو دیکھتے ہوئے اس سے اجازت طلب کی اور دانت پیس کر کہا
ہا۔۔۔ہاں ہاں ٹھیک ہے۔ یاسر نے گڑبڑا کر نظروں کا زاویہ بدلا اور پھر اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
کوئی بھی پروگریس ہو تو بتانا۔ کہتے ہوئے اصحاذ نے اس کا شانہ تھپکا اور پھر وہاں سے لیلی کو لیئے نکلتا چلا گیا جبکہ یاسر حمدانی کی نظروں نے دور تک اُن کا پیچھا کیا۔
********************
دعوت تھی یا پارٹی؛ کوئی سمجھ نہیں پارہا تھا ہاں مگر سب کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔ ایسے میں اصحاذ لیلی کو لیئے گھر میں داخل ہوا تو لیلی پیچھے ہی رک گئی۔
کیا ہوا میرے بچے۔ آؤ اندر آؤ شاباش۔ وہ لیلی کے رک جانے پر اس کی جانب مڑتا کہنے لگا
نہیں بھیا۔ میں یہاں نہیں آسکتی۔ میں افرہ بجو کا سامنا نہیں کرسکتی۔ مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے۔ وہ سر جھاکر کہنے لگی البتہ لہجہ اور آنکھیں نم ہوئیں تھیں
یہ تمھارے بھائی کا گھر ہے اور یہ جتنا ہمارا ہے اتنا ہی تمھارا بھی ہے۔ سمجھ آرہی ہے؟ اور جہاں تک افرہ کی بات ہے تو اس سے معافی مانگ لینا۔ ویسے بھی قصوروار تم نہیں تھی بلکہ سمیر تھا جو اپنی ہی بیوی کا وفادار نہیں تھا۔ اصحاذ نے اس کے گرد بازو کا حلقہ بنایا اور پھر اسے ساتھ لیئے ساتھ ساتھ سمجھانے لگا
آگئے تم!؟ کہاں رہ گئے تھے؟؟ جیسے وہ دونوں لاؤنج میں داخل ہوئے؛ ان کا پہلا سامنا عینی سے ہوا جس نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے سوال کیا
آگیا ہوں نہ اب۔ اصحاذ نے قدرے جھنجھلاہٹ سے کہا
کیا سارہ ہے یہ؟ عینی نے اس کے ساتھ کھڑی لڑکی کو دیکھ کر اصحاذ سے پوچھا جو بڑی سی چادر لیئے خود کو چھپا رہی تھی
ہاں؛ اس کو بھی ساتھ لے کر آیا ہوں۔ اصحاذ نے دو ٹوک کہا
اور افرہ؟ عینی نے اس کی آنکھوں میں براہِ راست دیکھتے ہوئے پوچھا
کہاں ہیں وہ؟ لہجہ خود بہ خود نرم ہوگیا تھا
سامنے کمرے میں۔ عینی نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا
چلو میرے ساتھ اور آپ بھی چلیں۔ وہ پہلے عینی اور پھر لیلی کو بولتا ہوا آگے کمرے کی جانب بڑھ گیا تو وہ دونوں بھی اس کے پیچھے چلنے لگیں
ارے بھیاااااا۔۔۔۔ زرلش بھاگ کر اس کے سینے لگی اور پھر اس کے پیچھے کھڑے وجود کو ناسمجھی سے دیکھنے لگی
بھیا یہ کون ہیں؟! زرلش نے اس کے ساتھ کھڑی لیلی کو دیکھ کر پوچھا
یہ سارہ ہے۔ جس کا دوسرا نام لیلی ہے۔ جواب اصحاذ کی بجائے افرہ نے دیا تھا
آپ جانتی ہیں انھیں؟ زرلش نے اس کی جانب گھوم کر پوچھا
ہاں۔ جانتی ہوں۔ افرہ نے قدم اس کی جانب بڑھاتے گہرا سانس بھرتے ہوئے کہا
بجو۔ ممم۔۔مجھے معاف کردیں۔ سارہ نے اپنے دونوں ساتھ اس کے سامنے جوڑتے ہوئے کہا اور پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئی اس کے قدموں میں بیٹھ گئی
یہ کیا کر رہی ہو؟! اٹھو۔ افرہ بوکھلاکر اسے نیچے سے اٹھانے لگی مگر وہ پھر بھی بضد رہی
جب تک آپ معاف نہیں کرتیں تب تک میں۔۔۔۔ میں نہیں اٹھوں گی بجو۔ وہ تکلیف سے آنکھیں میچے کہہ رہی تھی ایسے جیسے درد کو برداشت کر رہی تھی
میں نے معاف کیا تمھیں۔ جو ہو چکا اسے بھول جاؤ اور اب اٹھو اوپر بیٹھو۔ افرہ نے اس کے ساتھ ہی نیچے بیٹھتے ہوئے کہا اور پھر اسے بازو سے پکڑ کا اٹھایا
+
آپ۔۔۔آپ سچ کہہ رہی ہیں بجو؟ وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھ رہی تھی جسیے یقین کرنا چاہ رہی ہو کہ جو اس نے سنا وہ سب سچ ہے
ہاں بلکل۔ جو ہوچکا ہم اسے بدل تو نہیں سکتے مگر اسے پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ تو سکتے ہیں نہ..ہممم؟! تو بس تم بھی جاؤ اور زندگی میں آگے بڑھو۔ افرہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے نرم لہجے میں کہا
شکریہ بجو۔ وہ فرطِ جذبات سے افرہ کے گلے لگ کر کہنے لگی تو افرہ نے بھی اسے خود میں بھینچا
ارے لیڈیز آپ لوگ یہاں ہیں اور ہم سب کب سے آپ سب کا ویٹ کر رہے ہیں۔ چلیئے باہر سب اپ کو بلا رہے ہیں اور تم پکڑ لو اپنے لاڈلے کو۔ کب سے تنگ کر رہا ہے یہ نمونہ۔ شہیر نے اندر آتے ساتھ ہی سب کو کہا اور پھر اذان کو اصحاذ کے حوالے کرتا ہوا لیلی کی جانب دیکھنے لگا
عینی ہماری بہن کے لیئے کوئی اچھا سا ڈریس نکال کر اسے بھی فٹافٹ تیار کردو۔ یہ بھی اب سے ہماری فیملی ہیں۔ شہیر نے آگے بڑھ کر سارہ کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا اور بھائیوں والے مان اور رعب سے کہا تو وہ بھی اپنی آنکھیں صاف کرتی سر ہلا کر اس کے لیئے ڈریس نکالنے لگیں۔
اور پھر کچھ وقت بعد سب کے ہی باہر لاؤنج میں قہقہے گونج رہے تھے۔ بڑوں کے فیصلے کے مطابق حماد اور زرلش کا نکاح اگلے جمعے کو طے پایا تھا جبکہ اصحاذ اور افرہ بھی اسی دن نکاح کے بندھن میں بندھنے والے تھے۔ ہنسی خوشی سب کچھ ہورہا تھا۔ لُبابہ بیگم کو بھی گھر بلایا گیا تھا جس پر انھوں نے صرف زرلش کے نکاح تک رک جانے پر ہی اکتفا کیا تھا۔ سب خوش تھے۔ سب کی زندگیوں میں بہت سی مشکلات کے بعد اب آسانیاں آگئی تھیں۔
**********************
دیکھتے ہی دیکھتے وہ دن بھی آگیا تھا جس کا سب کو انتظار تھا۔ یعنی نکاح کے دن کا۔ اگر سب سے زیادہ کسی کو انتظار تھا تو وہ حماد اور اصحاذ ہی تھے۔ دونوں کا فنکشن اکھٹے ہی رکھا گیا تھا۔ پہلے حماد کا نکاح ہونا تھا اور پھر اصحاذ کا۔
دونوں نے موقع کے مناسبت سے کاٹن کے سفید شلوار قمیض کے ساتھ لائٹ گولڈن رنگ کے واسکٹ پہن رکھے تھے جبکہ شہیر بھی ان کی طرح سفید شلوار قمیض کے ساتھ نیوی بلیو رنگ کا واسکٹ زیب تن کیا تھا۔ وہ تینوں محفل پر چھائے ہوئے لگ رہے تھے۔
اور کتنی دیر ہے؟! حماد نے انتظار سے تنگ آتے ہوئے پوچھا
ارے دُلہے راجہ صبر۔ شہیر نے دانت نکالتے ہوئے کہا
اور کتنا صبر کروں؟! مزید نہیں ہورہا۔ حماد نے پہلے سے سیٹ شدہ بالوں کو ہلکا سا ٹھیک کرتے ہوئے کہا البتہ لہجہ اب کی بار بےتاب ہوا تھا
شرم کرلیں۔ ساتھ ہی آپ کا سالا + بہنوئی موجود ہے۔ شہیر نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے اس کی توجہ اصحاذ کی جانب مبذول کروائی اور اسے شرم دلانی چاہی
میرا بھی اس کے ساتھ یہی رشتہ ہے۔ حماد نے گردن اکڑا کر کہا
تو لہٰذا شرم کرلیں آپ محترم۔ حماد کی جانب دیکھتے ہوئے اس بار اصحاذ نے کہا تو وہ شرم سے کان کی لو مسلنے لگا البتہ شہیر کی بتیسی باہر آگئی تھی
اسی طرح باتیں کرتے ہوئے نکاح کا پیغام آگیا تو پہلے حماد سے پوچھا گیا تو اس نے ایجاب و قبول کیا اور پھر اس کے بعد اصحاذ سے پوچھا گیا تو وہ ایجاب وقبول کا مرحل طے کرتا اب نکاح نامے پر سائن کر رہا تھا اور پھر وہ سب ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔
+
دوسری جانب اسی طرح زرلش اور افرہ سے پوچھا گیا تو وہ دونوں بھی اپنی رضامندی دیتی نکاح کے پاکیزہ بندھن میں بندھ گئیں اور یوں وہ چاروں اپنی ایک دوسرے کو مل گئے۔ زرلش حماد کا بھیجا گیا ڈریس پہنا تھا جبکہ افرہ کی لائٹ گولڈن رنگ کے کام سے مزین سفید رنگ کا غرارہ سوٹ تھا۔
کیا آپ خوش ہیں؟ سٹیج پر افرہ اور زرلش کو لاکر اس کے شوہروں کے ساتھ بٹھایا گیا تو حماد نے آگے کی جانب دیکھتے ہوئے زرلش سے پوچھا
آپ کو کیا لگتا ہے؟! زرلش نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے الٹا سوال کیا
مجھے لگتا ہے کہ میں آپ کے دل میں بسنے لگا ہوں۔ حماد نے پورے وثوق سے اس کی جانب دیکھ کر کہا تو وہ یک ٹک ہی اس کے جواب کو سنتی اس کے چہرے کو دیکھنے لگی
کیوں؟! سہی کہہ رہا ہوں نہ؟! حماد نے اس کی حیرانگی پر اس کی جانب چہرہ جھکا کر پوچھا
ہاں۔۔۔ نہیں ۔۔ پتہ نہیں۔۔ اس کے منہ سے بےربط ہی الفاظ نکلنے لگے اور پھر وہ سرخ ہوتے چہرے سمیت سر جھکا گئی
چلیں۔ مجھے تو پتہ ہے بس آپ کو بھی جلد پتہ چل جائے گا۔ حماد نے اس کے جھکے سر کو دیکھتے ہوئے کہا اور پھر اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر ہلکا سا اس کی پشت پر بوسہ دیا تو زرلش کی ہتھیلی اس کے ہاتھ میں ہی بھیگ گئی تھی جس پر وہ سرشار ہوتا مسکرانے لگا
اور پھر سب کی موجودگی میں؛ کسی کی بھی پرواہ کیئے بغیر حماد شیخ نے زرلش شاہ کے قدموں میں بیٹھ کر اسے پائل پہنائی جس پر وہاں موجود سب نے ہونٹگ کی اور پھر وہ لوگ فوٹو سیشن کروانے لگے؛ حماد شیخ نے اس کے پیروں میں صرف پائل نہیں باندھا تھا بلکہ اس نے اپنی محبت کی زنجیر اس کے پیروں میں ڈال دی تھی جو اب ہر وقت اس کے پیروں میں چھن چھن کرتی اسے اپنے ہونے کا احساس دلانے والی تھی۔
***********************
یہاں آئیں آپ۔ کہاں جا رہی ہیں؟! افرہ جو ابھی فوٹو سیشن سے فارغ ہو کر اندر کی جانب بڑھ رہی تھی۔ اچانک سے اصحاذ نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا اور پھر اس کی کمر پر دونوں بازو باندھ کر پوچھا
میں روم میں جارہی تھی۔ افرہ نے دھیمی آواز میں کہا
کیوں؟! اصحاذ نے اس کے چہرے پر آئے رنگوں کو دلچسپی سے دیکھتے ہوئے پوچھا
مجھے چینج کرنا تھا۔ افرہ نے سابقہ انداز میں ہی کہا
مگر میں نے تو آپ کو جی بھر کر بھی نہیں دیکھا افرہ۔ اصحاذ نے اسے مزید قریب کرتے ہوئے کہا
تو دیکھ میں کس نے منع کیا ہے آپ کو؟! افرہ نے جواب دیتے ساتھ ہی اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھے اور پھر ایڑھیوں کے بل ذرا سی اونچی ہوتی اس کے ماتھے پو ہونٹ رکھے اور پھر پیچھے ہوئی
افرہ نے اپنے فوٹو سیشن کے دوران زیادہ تر اذان کو گود میں ہی پکڑ کر تصویریں بنوائیں تھیں جبکہ اصحاذ اس کی اس ادا پر سرشار سا اس کے ساتھ فیملی فوٹوز بنوا رہا تھا۔
تو آپ خوش ہیں اس نکاح سے! اصحاذ نے خوشی اور مسرت سے اس کے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا جو اب اس کی انکھوں میں دیکھ رہی تھی
میں مطمئن ہوں کہ جس شخص کے ساتھ میرا نکاح ہوا ہے اور صرف میرا ہے۔ نہ صرف وہ شخص بلکہ اس کا دل بھی۔ جذب کے عالم میں کہتے ہوئے افرہ نے پہلے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر اس نے اپنے ہونٹ اصحاذ کے سینے پر دل کے مقام پر رکھ دیئے اور پھر اپنا سر بھی وہی رکھ دیا
+
شکریہ میری زندگی میں آنے کے لیئے۔ افرہ نے اسی طرح اس انداز میں کہا تو جواباً اس کی کمر کو ہلکا سا رب کر رہا تھا
شکریہ مجھے اس قابل سمجھنے کے لیئے۔ اصحاذ نے بھی اس کے سر پر ہونٹ رکھے اور آنکھیں بند کرکے ان لمحوں کو محسوس کرنے لگا۔ (اسے اپنے قریب دیکھ کر اصحاذ کو ہر گزرتا لمحہ یاد آیا مگر اس کے ذہن میں اپنے آپ کو اس کے ٹیچر کے روپ میں دیکھ کر عجیب سا احساس ہوا اور پھر بارش میں اس کے ہونٹوں پر زبردستی اپنا مہر ثبت کرنا تو اس نے اوپر آسمان کی طرف نگاہیں مرکوز کیں اور پھر ایک گہری سانس لے کر اپنے ذہن کو ان خیالات سے جھٹکا۔ وہ ہر روپ میں اس کے ساتھ تھا، چاہے وہ عاص بن کر تھا یا پھر شانزل اور یا پھر اس کے پروفیسر کے روپ میں۔۔۔ وہ اِس بات کو راز ہی رکھنے والا تھا اور ویسے بھی کچھ باتیں راز ہی رہیں تو بہتر ہے!)
آپ نے سارہ کا کیا سوچا ہے؟! تھوڑی دیر بعد افرہ کی آواز نے ان کے بیچ خاموشی کو توڑا
اس کے بے بی کے ہو جانے کے بعد اس کا نکاح ہونا ہے۔ اصحاذ نے اسے اپنے سامنے کرتے ہوئے کہا
کس سے؟! افرہ نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھ کر پوچھا
یاسر عالم حمدانی سے۔ وہ ایک اس کے گرد جبکہ دوسرے سے اس کی بندیا ٹھیک کرتے ہوئے بتا رہا تھا
مجھے یقین ہے کہ آپ کا گیا فیصلہ اس کے حق میں بہترین ثابت ہوگا۔ انشاء اللہ ۔ وہ اس کے کالر کو ٹھیک کرتے ہوئے کہہ رہی تھی
ہاں انشاء اللہ۔ جواباً وہ دونوں ہاتھ اس کے بازوؤں پر رکھتا کہنے لگا اور پھر وہ اس کا ہاتھ تھامتا روم کی جانب بڑھ گیا اور روم سے باہر ہی اس کا ہاتھ چھوڑا اور وہاں سے چلا گیا جبکہ افرہ نے ایک گہری سانس بھری اور پھر مطمئن سی روم کے اندر چلی گئی۔
افرہ کو ایک محبت کرنے والا شوہر اور ایک بیٹا مل گئے تھے۔ وہ خوش تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بہترین سے نوازا تھا۔
************************
اگلے دن نیوز میں آگیا تھا کہ تمنا بیگم واش روم میں گرنے کی وجہ سے سر میں لگنے والی شدید چوٹ کے سبب جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی لیکن ان کے جانے سے پہلے ان کے کیئے انکشافات نے شاہ فیملی کو صدمے، غم اور افسوس کی کیفیت سے دوچار کردیا تھا مگر اب کیا ہوسکتا تھا؟! جس نے کیا تھا وہ تو اب اس دنیا میں رہی ہی نہیں اور ساحل آفندی کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔
دونوں نے محبت کی تھی۔ تمنا بیگم نے ساحل آفندی سے اور ساحل آفندی نے علینہ سے۔ دونوں ہی خالی ہاتھ تھے مگر ساحل آفندی نے علینہ کو نہ پاکر اسے اٹھوایا ضرور تھا مگر اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا پایا جبکہ تمنا بیگم تو خود ہی اپنے ہاتھوں سے اپنے گھر کو آگ چکا چکیں تھیں جس میں اب میں خود بھی جل کر راکھ ہوگئیں تھیں۔
لُبابہ بیگم اُس وقت لاؤنج میں موجود شاہ فیملی کی بڑی سی تصویر کو دیکھ رہی تھی۔ جس میں علینہ، سکندر، اصحاذ موجود تھے۔ جبکہ دوسری تصویر میں ان کے ساتھ صلہ، حامد، حماد اور افرہ بھی تھے جبکہ صلہ کی گود میں حبیبہ بھی موجود تھی۔ (افرہ اور حماد کے نکاح میں وہ بھی آئی تھی اور پھر وہ فنکشن کے بعد اپنے سسرال والوں کے ساتھ ہی چلی گئی تھی) وہ جارہی تھی کہ اس نے رک کر ان تصویروں کو دیکھنا شروع کر دیا اور پھر علینہ کی تصویر کے سامنے رُک کر کہنے لگی
محبت صبر سکھا دیتی ہے علینہ۔ ہم میں سے کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی سے محبت ضرور کرتا ہے مگر ضروری تو نہیں ہے کہ وہی محبت ہمیں مل بھی جائے۔ کچھ محبتوں پر صبر کرنا لازمی ہوجاتا ہے اور کچھ کو حاصل کیا جاتا ہے۔ تمھیں محبت ملی اور مجھے صبر۔ دیکھو آج تمھارے بچے اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں۔۔۔کاش تم بھی یہاں ہوتی تو سب اپنی آنکھوں سے دیکھتی ۔۔۔ مگر کوئی نہیں۔۔۔ سکندر شاہ تمھارے تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔ میں صرف اِتنا کہوں گی کہ "واقعی مُحَبّت شَرط ہے اِیثّار کا."
یہ کہتے ہوئے اس نے ایک نظر وہاں لاؤنج پر ڈالی؛ جہاں شہیر نیچے قالین ہر بیٹھا تھا جبکہ ساتھ ہی اوپر صوفے پر اس کی "زندگی" عینی موجود تھی۔ ساتھ ہی سفرہ اور زرلش بیٹھے تھے۔ وہ لوگ آپس میں کوئی بات کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ ہنس بھی رہے تھے۔ جبکہ اصحاذ اور حماد دوسرے صوفوں پر براجمان تھے۔ گھر کے سبھی بڑے گیسٹ روم میں جمع تھے؛ جہاں ان سب بچوں کی باقاعدہ شادی کی تاریخیں طے کی جانی تھیں۔
+
اور پھر لُبابہ بیگم باہر کی جانب بڑھ گئیں۔ واقعی کُچھ محبتوں پر صبر کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکتا اور لُبابہ بیگم اس کی اعلیٰ مثال تھیں۔
ختم شُد!
*****************************

Address

Dubai

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Novels Collection posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category