Novels Collection

Novels Collection Read Best and full urdu novels

11/06/2026

Fitoor
‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍



انابیہ کی ایک جھلک دیکھنے کے بعد
عارب پاگل ہوا پھر رہا تھا۔
شکورے پتا کراؤ کون لڑکی ہے وہ
مجھے ہر حال میں وہ لڑکی چاہیے
کیا یار اتنی لڑکیاں ہیں اللہ جانے کون تھی
شکورے اگر صبح تک اس لڑکی کا پتا نہیں کیا تو تیری خیر نہیں۔
اچھا یار کچھ کرتا ہوں شکورے نے جھنجھلا کر کہا۔
ایک تو اس سالے کو سہی لڑکیوں کا چسکا لگوایا ہے
اب سالہ لڑکی دیکھتے ہی رال ٹپکانے لگ جاتا ہے
چل شکورے چھوڑ جاسوسی پر بندے صبح تک کہی دانا پانی نہ بند ہو جائے .........
‍رمل آپو کہاں ہیں آپ...
کیوں کیا ہوا؟
آپو آپ کو پتا نہ آج قیس لالہ کا birth day ہے۔ انابیہ نے رازداری سے کہا۔
ہاں میں جانتی ہوں اور سب تیاری بھی کر چکی ہوں...
تیاری لیکن کہاں۔انابیہ حیران رہ گئی۔
شہر والی حویلی میں یار اور کہاں
تم کسی طرح لالہ کو اور نمل جانو کو ادھر لے آؤ۔ میں مورے کو کال چکی ہوں وہ لوگ بھی پہنچنے والے ہوں گے
اور ہاں میری الماری میں نمل اور قیس کے ڈریسز پڑے ہیں.
جی جی آپو میں سمجھ گئ
میں نمل اور لالہ کو انہی ڈریس میں لے کر آؤں گی۔انابیہ نے بات سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
تمھارے پاس 1 گھنٹہ ہے
اوکے آپو...
..... ❣️❣️......
نمل آپو.... کدھر ہیں آپ. انابیہ نے پوچھا۔
کیا ہوا بیو میں ادھر ہوں کچن میں
او آپو آپ کیا کر رہی کچن میں پوچھتے ہوئے انابیہ کچن میں داخل ہوئی اور
کچن میں داخل ہوتے ہی اس کی ہنسی چھوٹ گئی
ہاہاہاہا نمل آپو اپ کو کس نے کہا کچن میں آنے کا...
نمل شاید آٹا گوندھنے کی کوشش کر رہی تھی
اور یوں لگ رہا تھا اس نے خود آٹے والی ڈرمی میں چھلانگ لگا دی ہو
بیو تم ہنس رہی ہو
پہلے وہ تمھارے گندے لالہ مجھے آدھے گھنٹے کا کہہ کر ابھی تک نہیں آۓ اور ہمیں اتنی بھوک لگ رہی ہے نمل نے رونی شکل بناتے ہوئے کہا۔
ارے ارے بجو آپ کو بھوک لگ رہی ہے
چلیں آج آپ کو اچھی سی جگہ سے ٹریٹ دیتی ہوں
واؤ ٹریٹ۔ نمل خوشی سے چلائی۔
لیکن وہ تمھارے گندے لالہ جانے نہیں دیں گے نہ۔ساتھ ہی منہ بناتے نمل نے کہا۔
ارے لالہ سے میں پوچھ چکی ہوں
آپ یہ ڈریس لیں اور پیارا سا تیار ہو جائیں ۔انابیہ نے ڈریس نمل کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا۔
واؤ میرا ڈریس تم لے کر آئ ہو ۔نمل کی آنکھوں میں ڈریس کو دیکھتے ایک الگ چمک آئی۔
ہاں نہ آپو تیار ہو جائیں۔
اوکے کہتے نمل تیار ہونے کمرے کی طرف چلی گئی ۔
اور ہاں بیو آپ نےںمیرا میک اپ کرنا ہے۔
میک کا کہتے نمل کے چہرے پر خوبصورت مسکان آئی جسے انابیہ نے بڑے غور سے دیکھا اور پھر پوچھا۔
ارے کیا ہوا
کچھ نہیں چلو۔نمل نے شرماتے ہوئے کہا
مجھے تیار ہونے میں مدد دو۔
آدھے گھنٹے میں بیہ.. نمل کو تیار کر چکی تھی
واؤ آپو
ماشاءاللہ ❤️ بلیک کلر تو بنا ہی آپ کے لیے ہے
بلیک کلر کی پاؤں تک آتی میکسی پہنے، بالوں کا جوڑا بناۓ کچھ بالوں کی لٹییں فرنٹ پر چھوڑے ہونٹوں پر ریڈ لپ سٹک لگاۓ بلیک ہی ہیل پہنے وہ کسی پری کی طرح لگ رہی تھی
اوکے آپو
لالہ بس پہنچ ہی رہے ہیں
آپ ان کا انتظار کریں میں بھی چینج کر لوں ۔
اوکے بیو....
انابیہ کو گۓ دس منٹ ہو چکے تھے لیکن قیس ابھی تک نہیں آیا تھا
ہم بھی بات نہیں کریں گے ۔نمل نے تصور میں قیس سے کہا۔
کہہ کر گۓ تھے گڑیا.. پکا پرومس آدھے گھنٹے میں آ جاؤں گا لیکن دیکھو شام ہو گئ اب تو ہمیں بھوک بھی اتنی لگی ہےبہم بلکل بات نہیں کریں گے
روم میں داخل ہوتے قیس نے نمل کے فقرے با خوبی سنے تھے
ارے میری چندہ ناراض ہو گئ
ہم ابھی اپنی چندہ کا منا....
نمل جو دوسری طرف چہرہ کیۓ بیٹھی ہوئ تھی قیس کی آواز پر پلٹی اور قیس کے منہ سے الفاظ چھن چکے تھے
نمل تو سادگی میں اس کے دل پر قیامت ڈھاتی تھی آج تو وہ ہتھیاروں سے لیس ہو کر اس کے سامنے کھڑی تھی۔
خان جی ہم بلکل بات نہیں کریں گے
ہم بتا رہے ہیں..آج ہم سخت ناراض ہیں
لیکن قیس کچھ سنتا تو جواب دیتا
وہ ٹرانس کی کیفیت میں نمل کی جانب بڑھا تھا
کیا ہوآ خان جی آپ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں کیا ہم اچھے نہیں لگ رہے؟
بیہ آپی نے کیا یہ سب...
خان چلتے ہوۓ بلکل اس کے سامنے رک گیا وہ بنا پلک جھپکے نمل کو دیکھ رہا تھا۔
نمل یار مت کرو ایسے کیوں اپنے خان کی جان لے رہی ہو۔
قیس ٹرانس کی کیفیت میں بولا
لیکن نمل کے پلے ایک بات نہیں پڑی ۔
قیس جیسے ہی نمل کے چہرے کی طرف جھکا نمل نے قیس کو کندھوں سے پکڑ کو ہلایا ۔خان ن ن ن ن جی یییییییی کیا ہوا۔۔
ہاں ہاں کیا ہوا۔ کچھ بھی تو نہیں
قیس نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ادھر اُدھر نظر دوڑائ ۔
خان جی کیا ہو گیا آپ کو ابھی کیا بول رہے تھے آپ۔
ہم کہہ رہے ہم ناراض ہیں نمل نے برا سا منہ بنایا۔
او اچھا اور گڑیا کیوں ناراض ہے؟
خان کافی حد تک خود کو نارمل کر چکا تھا
ارے آپ اتنے لیٹ آۓ او ہاں سچ خان جی
بیو آئ تھی وہ مجھے یہ ڈریس پہنا کے تیار کر گئ اور انہوں نے کہا کہ آپ یہ ڈریس پہن لیں انہوں نے آج ہمیں باہر کھانا کھلانا ہے
او..... اچھاااا
تو اس لیے گڑیا نے آج یہ میک اپ کیا
ہاں جی
دیکھیں اچھی لگ رہی ہوں نا۔
خان کی گڑیا ہمیشہ اچھی لگتی ہے اور اب اتنا اچھا لگنے پر انعام تو بنتا ہے نا یہ سن کر نمل بہت خوش ہوئی اور کہا جلدی سے دیں انعام۔
قیس آگے بڑھا اور نمل کے ماتھے پر اپنے لب رکھے۔قیس کی اس حرکت سے نمل کے چہرے کا رنگ بدلہ ۔
نمل نے جلدی سے بات بدلتے کہا
ارے خان جی آپ کو تو تعریف بھی نہیں کرنی آتی
اچھا کیسے کرتے ہیں تعریف قیس نے دلچسپی سے نمل کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھتے پوچھا۔
ارے آپ نہ بدھو رہنا خان جی. پرسوں نہ رمل آپو نہ موبائل پر نہ وہ دیکھ رہی تھی ارے وہ کیا ہوتا جس میں ہیرو ڈیشوں ڈیشوں کرتا
مووی قیس نے بتایا۔
ہاں ہاں خان جی مووی
تب مجھے آپو نے بتایا کہ وہ ہیرو اپنی گڑیا کی تعریف کر رہا تھا
اچھا وہ کیسے؟
ارے خان جی ہم کیسے بتائیں ہمیں شرم آتی ہے نا۔
شرم کا نام سنتے ہی خان سمجھ چکا تھا کہ رمل نے نمل کو کیا دیکھا
رمل کی تو خیر نہیں اب خان نے دل میں سوچا تھا
گڑیا ہم تیار ہو جائیں پھر ہم نے بیو کے ساتھ بھی جانا ہے
جی خان جلدی سے تیار ہو جائیں
یہ لیں اپنا ڈریس
نمل نے بلیک کلر کا کرتا شلوار خان کی طرف بڑھایا تھا
10 منٹ میں خان شاور لے کر تیار ہو چکا تھا
چلیں نمل
ارے رکیں رکیں خان جی
کیا ہوا
خان جی آنکھیں بند کریں
کیوں کیا ہوا
خان جی کریں نہ
اوکے یہ لو
خان کے آنکھیں بند کرتے ہی نمل نےباری باری اپنے ہونٹ زور سے خان کے رخساروں پر رکھے تھے
اور پھر پیچھے ہوتے قہقہہ لگاتے ہنسی
نمل روک خان شوکڈ۔
خان تو بچارہ نمل کی حرکت پر کوما میں جا چکا تھا اسے کہاں امید تھی نمل سے ایسی حرکت کی
ہاہاہا خان جی
کل آپ نے ہمارے لپ سٹک لگائ تھی
آج ہم لگا چکے ہاہاہا
روکو خان کہ بچی
آج تمہاری خیر نہیں
میری ساری تیاری خراب کر دی
ارے ارے خان جی نہیں نہیں ہمارا فیس گندہ مت کرنا
ہم اتنے پیارے لگ رہے ہیں
ہاں جی سارہ پیارا آپ نے ہی لگنا ہے نا۔
خان کو ساتھ گندہ لے کر جانا
خان نمل کے پیچھے بھاگتے ہوئے بولا تھا
ارے نہیں خان جی ادھر آئیں ہم صاف کر دیتے ہیں۔
اوکے جلدی کریں
خان نمل کے ہاتھ میں ٹشو پکڑاتے ہوئے بولا۔
یہ لیں ہو گئ صاف...
دیکھیں ڈن 😁
تبھی انابیہ فلیٹ میں داخل ہوئ ۔
ماشاءاللہ
اللہ پاک جوڑی سلامت رکھے
بہت پیارے لگ رہے ہیں آپ دونوں ساتھ میں
دیکھا نہ بیو ہم ہیں ہی اتنے سونے اور خان جی ہمارے ساتھ کھڑے اور بھی اچھے لگتے ہیں۔

نمل آپ آجکل کچھ زیادہ تیز نہیں ہو گئیں۔
ہاہاہاہا ہی ہی ہی وہ تو ہم ہیں
اوکے چلو دیر ہو رہی ہے
اوکے انابیہ لیکن جانا کہاں ہے؟
قیس نے انابیہ سے پوچھا
ارے لالہ لگ جائے گا پتا چلیں اوکے چلو...... ❣️❣️❣️....
بیہ حویلی کیوں لے کر آئ ہو؟
جیسے ہی وہ لوگ حویلی پہنچے قیس نے انابیہ سے پوچھا۔
ارے لالہ اندر تو چلیں
قیس اور نمل جب اندر داخل ہوۓ چاروں طرف اندھیرا تھا
اور بیہ بھی غائب تھی
قیس سمجھ چکا تھا ضرور یہ رمل کی کوئی شیطانی تھی
خان جی اندھیرا ہمیں ڈر لگ رہا ہے
اس سے پہلے کہ خان کوئی جواب دیتا
حویلی کی لائٹس روشن ہوئ
اور ساتھ میں سب کی آوازیں
Happy birthday qais
Happy birthday dear Qais
نمل تو خوشی سے پاگل ہونے کو تھی
اور قیس نے غصہ سے رمل کو گھورا تھا
قیس بیٹا رمل کو کچھ مت کہنا یہ سب ہمارا پلین تھا
ہمیں پتا ہے آپ birthday نہیں مناتے لیکن بیٹا اپنی مورے کی خوشی کے لیے
مورے کی بات سن کر قیس نے ان کے ہاتھ پکڑ کر چومے ۔
آپ کے لیے تو جان بھی حاضر ہے مورے
میرا لال چلو کیک کاٹتے ہیں۔
تبھی خولہ بیگم جلدی سے نمل کی جانب بڑھیں۔
ماں صدقے جائے میری بچی کیسی ہو
خولہ بیگم کے اچانک نمل کو گلے لگانے سے نمل گھبرا گئی اور فوراً بولی۔
خان جی
ارے میں تمھاری ماں ہوں نمل بیٹا
اپنی ماں سے نہیں ملو گی خولہ بیگم نے نمل کا رخ اپنی طرف کرتے کہا
لیکن نمل جلدی سے خولہ بیگم کو دھکا دے کر قیس کے سینے سے جا لگی۔
خان جی ہمیں نہیں جانا ان کے ساتھ
اوکے اوکے آپ کہیں نہیں جا رہی قیس نے نمل کو نارمل کرتے کہا۔
آئیں ہم کیک کاٹتے ہیں
قیس نمل کو لیۓ آگے بڑھ چکا تھا
پیچھے خولہ بیگم غصے سے کھول کر رہ گئیں۔
وہ کیک کاٹے بغیر واپس جا چکی تھیں
مجھ سے میری بچیاں چھین لی ہیں اس ونی نے اسے تو میں چھوڑوں گی نہیں خولہ بیگم نے غصے میں کھولتے سوچا ۔
خوشگوار ماحول میں سب نے ہنسی خوشی کیک کاٹا
قیس بیٹا ہمیں گاؤں واپس جانا ہے
مورے کچھ دیر تو اور رکیں...
نہیں بیٹا کافی رات ہو گئ ہے
ٹھیک ہے مورے ہم آپ کو چھوڑ آتے ہیں. ارے نہیں بیٹا ہم ڈرائیور کے ساتھ ہی چلے جائیں گے
آپ نمل کا دھیان رکھیں۔
جی مورے
قیس مورے کو گیٹ تک چھوڑنے آیا تھا
جب مورے نے ان سے کہا تھا
قیس بیٹا ہمیں اک بات کرنی ہے جی مورے بولیں
بیٹا ہمیں بھابھی کے ارادے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے
آپ کو نمل کو اپنے رشتے کی سچائی بتا دینی چاہیے وہ بہت معصوم ہے اگر کوئی اور بتاۓ گا تو وہ بہت ہرٹ ہوں گی۔
جی مورے ہم بس سہی وقت کے انتظار میں ہیں
ٹھیک ہے بیٹا جیسا آپ کو بہتر لگے
جی مورے..... ❣️❣️......
آپو میں تھک گئی مجھے سونا ہے
او میری لاڈو چلو آپو آپ کو روم میں چھوڑ آۓ
روکو رمل میں خود ہی لے جاؤں گا
اور تم 5 منٹ بعد باہر گاردڈن میں میری بات سننا
اللہ خیر
اب تو میں نے کوئی کانڈ بھی نہیں کیا
جی آ جاؤں گی

جتنا نمل تھکی ہوئ تھی وہ 5 منٹ میں ہی سو چکی تھی
قیس نمل پر کمبل سہی کرتے. خود گارڈن کی جانب بڑھا تھا
تبھی رمل بھی وہاں آئ تھی
لالہ قسم سے ہمیں مورے نے کہا تھا
رمل ہم آپ سے کچھ نہیں کہہ رہے
ہمیں پتا ہے آپ نے ہماری خوشی کے لیے سب کیا لیکن رمل ہمیں خوشیاں ادھوری پسند نہیں اور اس کے بغیر تو بلکل بھی نہیں
ارے لالہ
اپ ابھی رمل دی گریٹ کو جانتے نہیں
آپ کی خوشیاں ادھوری نہیں رہی
ہم نے انہیں بھی آج بہت خوش رکھا
رمل اسے دکھ مت دینا کبھی
پارٹنر آپ ٹنشن مت لیں
ہم سنبھال لیں گے
ہممممم
اور رمل کل تم سکوٹی (بائیک ) کے بغیر جاؤ گی
لیکن لالہ
لالہ یہ تو بتا دیں کس بات کی سزا ہے
نمل سے اپنا موبائل دور رکھو
ہاہاہاہا

اوکے پارٹنر
..... ❣️❣️❣️.......
کل 10 بجے
ہاں شکورے بول
یار زیادہ تو نہیں بس اتنا پتا چلا ہے کہ وہ اسی یونی میں پڑھتی ہے جس میں تم نے ایڈمیشن لے کر چھوڑ دیا تھا
مطلب بھائی والی یونی میں
ہاں اسی میں
اور بتا نام کا پتا چلا
ہاں انابیہ نام ہے اس لڑکی کا
اوکے چل پھر آج تیرا یار یونی جا رہا
او عارب یار چھوڑ اس لڑکی کو
اوۓ نہیں شکورے وہ سیدھا دل پر لگی ہے
اب تو اس کا نقاب تیرا یار اپنے ہاتھوں سے اتارے گا
چل جو دل کرتا ہے وہ کر
اوکے کہتے اس نے فون رکھ دیا۔
بلیک شرٹ اور بلیک پینٹ پہنے وہ اپنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیۓ یونی میں داخل ہوا۔
ارے یار اس لڑکی کا ڈیپارٹمنٹ تو پتا نہیں کہاں ڈھونڈوں اب۔
چل یار ہو جا شروع کہیں تو ہو گی
1 گھنٹہ لگاتار گھوم گھوم کر وہ تھک چکا تھا۔ لیکن اسے کہیں بھی انابیہ نظر نہیں آئی۔
تھک ہار کر وہ ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔
چل یار میں اگر آج یونی آ ہی گیا ہوں تو اپنی کلاس ہی لے لیتا ہوں یہ سوچتے
ہوئے وہ میتھس ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھا۔
کلاس روم میں داخل ہوتے ہی اس کی آنکھیں چمکیں۔
وہ لڑکی فرنٹ چئیر پر بیٹھی پوری توجہ کے ساتھ لیکچر لکھنے میں مگن تھی لیکن جلد ہی اس کے ماتھے پر بل پڑے جب ساتھ والے لڑکے کو انابیہ کے ہاتھوں پر نظریں جماۓ دیکھا۔
اسے پتا نہیں کیوں بہت برا لگا تھا
جی آپ کون تبھی سر کے بلانے پر اپنا نام بتایا۔
نام سنتے ہی قمر نے اسے سرد نظروں سے گھورا۔
اپ کو پتا ہے عارب بچے کلاسز سٹارٹ ہوۓ اک ماہ ہوگیا اور اپ اب آ رہے ہیں یونی
جی جی وہ سر جی بس کچھ گھریلو مسلہ تھا
اوکے نیکسٹ ٹائم ایسا نہیں ہونا چاہیئے
آپ بیٹھیں
کلاس میں سب چئرز فل تھیں
سر جی وہ ادھر سیٹ نہیں
اوکے سی آر اپ ان کے لیے فرنٹ پر چیر لگوا دیں
اوکے سر
اوکے کلاس کل ملتے ہیں اور آپ لوگ اسائنمنٹ کے لیے گروپ فائنل کر کے مجھے نیم بھیج دینا
اوکے سر جی
سر کے کلاس سے باہر جاتے ہی افراتفری مچ گئی۔
عارب بہت سکون سے سی آر کی چئر اٹھا کر انابیہ کے ساتھ رکھتے بیٹھ گیا ۔
سی آر کے دیکھنے پر کہنے لگا۔
چل تو اور لے آ
سر نے کہا تو سی آر بچارہ اس کا منہ تکتا رہ گیا
تبھی وہ انابیہ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا ۔
ہاۓ ایم عارب خان اینڈ یو
انابیہ اس پر اک سرد نگاہ ڈالے کلاس سے باہر کو چل دی ۔
پیچھے قمر، عارب کو تنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ دیکھتے ہوئے انابیہ کے پیچھے بڑھا ۔
انابیہ اور قمر کو ساتھ 1 ماہ ہو چکے تھے نہ کبھی انابیہ نے قمر کو بلایا تھا نہ ہی قمر نے انا بیہ کو لیکن قمر ہر اسی جگہ پایا جاتا تھا جدھر انابیہ ہو
پیچھے عارب کا غصے سے برا حال تھا
وہ غصہ ضبط کرتے انابیہ کے پیچھے گیا
انابیہ کنٹین سے چاۓ لیتی اپنی فیورٹ پلیس پر بیٹھ چکی تھی
لیکن اس سے پہلے کہ وہ بیٹھتی
عارب غصے میں اس کی جانب بڑھا
رمل کے ہاتھ سے کپ چھوٹ کر چائے اس کے پاؤں پر گری تھی
آہہہہہہہ
عارب کے کچھ بولنے سے پہلے ہی
مال والا لڑکا ادھر آ چکا تھا
ٹوپی والے لڑکے نے عارب کے منہ ہر ایک موکا مارا اور اس کے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی اس کی گردن کی مخصوص نس دبا دی ۔
عارب بے ہوش ہو کر ایک طرف گرا۔
ٹوپی والے لڑکے نے سکتے میں کھڑی انابیہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے یونی کی بیک سائڈ پر اک خالی روم میں لے گیا
انابیہ کو ادھر بیٹھا کر خود باہر کی طرف بھاگا۔
ٹھیک 2 منٹ بعد وہ ہاتھ میں ٹیوب پکڑے واپس آیاجب وہ انابیہ کے پاؤں کو ہاتھ لگانے لگا تب انابیہ کا سکتا ٹوٹا
نہیں نہیں میں خود کر لوں گی پلیز
لیکن اس نے کچھ بھی بولے بغیر
انابیہ کا گاؤن تھوڑا سا اوپر کئے اس کا پاؤں اپنے گٹھنے ہر رکھا اور بہت آرام سے اس کے پاؤں ہر مرہم لگایا ۔
دوسرے پاؤں پر مرہم لگاتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔
انابیہ نے اچانک اس کا ہاتھ پکڑا
لیکن جیسے ہی اس اجنبی نے انابیہ کی طرف دیکھا اس نے فورن ہاتھ چھوڑ دیا
وہ وہ مجھے اتنا تو پتا چل گیا کہ اپ مجھے نقصان نہیں پہنچائیں گے لیکن آپ کون ہیں اور بولتے کیوں نہیں اور یہ آپ نے چہرہ کیوں چھپایا ہوا ہے؟
اجنبی کچھ بھی بولے بغیر انابیہ کا ہاتھ پکڑے اسے یونی سے باہر لے گیا اور
اسے گاڑی میں بٹھا کر خود وہ انا کا بیگ اس کا موبائل اور فائل اٹھا لایا ۔
انابیہ اس کے ہاتھ میں اپنی چیزیں دیکھتی مسکرا دی۔
انابیہ کو اس کے فلیٹ کے سامنے ڈارپ کر کے جانے لگا ۔ انابیہ ایک دم بولی
کچھ نہیں بتانا چلو اپنا نام بتا دو میں کیسے بلاؤں گی آپ کو
لیکن پھر بھی کچھ بولے بغیر
گاڑی کا گیٹ کھول کر اس اجنبی نے اسے اندر کی جانب بڑھنے کا اشارہ کیا
تبھی انابیہ غصے سے بڑبڑائی۔ لگتا ہے َگونگا بولا ہے
میری کوئی سنتا ہی نہیں
انابیہ کی بڑبڑاہٹ اس اجنبی نے غور سے سنی تھی
اور بہت مشکل سے اپنا قہقہہ کنڑول کیا ۔
جب تک انابیہ نے لیفٹ کے زریعے اوپر جا کر اپنی کھڑکی سے کرٹن نہیں ہٹا دیے تب تک وہ اجنبی ادھر ہی کھڑا رہا
انابیہ کو کھڑکی سے دیکھتے ہی اس نے گاڑی میں بیٹھںکر گاڑی آگے بڑھا دی تھی
ہیلو ہاں احمد
عارب کو ہوش آ گیا
اوکے اسے کچھ کہنا مت چھوڑ دو
ہممم میں خود دیکھ لوں گا
اوکے....
اپنے ہاتھوں پر. انابیہ کا ہاتھ کا لمس یاد کرتے وہ مسکران دیا تھا

ہمارا شمار ہوتا ھے ان نایاب لوگوں میں🥀
جن کے ہونے سے جہاں اور بھی حسیں لگتاہے🥀
...... ❣️❣️❣️.....
ادھر انابیہ بیڈ پر لیٹی اس اجنبی کے بارے میں سوچ رہی تھی آخر کون تھا وہ جو اسے ہر جگہ پروٹیکٹ کرتا تھا
انابیہ کو غصہ بھی بہت آیا تھا کہ اس نے کیوں اس اجنبی کا ہاتھ پکڑا... پھر سر جھٹک کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئی۔
اے اللہ مجھے بھٹکنے سے بچا لیں۔
یا اللہ مجھے سیدھی راہ دیکھا دیں۔
اپنے رب سے ڈھیروں باتیں کر کے وہ نیند کی آغوش میں جا چکی تھی
"ایک رب ہی ہے جو بغیر کسی مطلب کے سنتا ہے 😊"
اس کی رسی ضرور پکڑا کریں😇😇
............. ❣️...........

پچھلے دو دن سے ملحان چھٹی پر تھا...
اور رمل کا ٹینشن کے مارے برا حال تھا.. تبھی رمل نے تنگ آ کر... م ملحان کا نمبر ڈائل کرنے لگی. لگاتار 3 بیلز کے بعد کال اٹھا لی گئی۔
رمل کے سلام کے جواب پر آگے سے کسی عورت کی آواز آئی ہ۔ کیا یہ حان او میرا مطلب ملحان کا نمبر ہے
جی کیا آپ رمل بیٹی بول رہی ہو
جی جی میں رمل ہی بات کر رہی ہوں آپ کون
کیسی ہو بیٹا میں ملحان کی مورے بات کر رہی ہوں
الحمدللہ میں ٹھیک آپ کیسی ہیں مورے اور حان کیسے ہیں وہ دو دن سے یونی نہیں آرہے پلیز مورے ہمیں بتائیں...
ارے بیٹا سانس تو لو حان کو کل سے بخار ہے تو اس لیے. اس........ مومنہ بیگم کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی... رمل بولی کیا حان کو بخار ہے اسی لیے میرا دل اتنا پریشان ہے
پلیز مورے آپ مجھے اپنے گھر کا ایڈریس بتائیں ہمیں حان کو دیکھنا ہے
اوکے بیٹا لکھو
مومنہ بیگم کے ایڈریس لکھوانے پر رمل گاڑی کی چابی اٹھاۓ باہر کی طرف بھاگتی ہے
ملحان کا گھر آدھے گھنٹے کی مسافت پر ہوتا ہے..
جسے رمل نے 20 منٹ میں طے کیا۔
باہر گارڈ کو ملحان کی دوست ہونے کا بتاتے اندر کی جانب برھی .. تبھی اندر سے آتے عارب سے ٹکرا گئی..
او شٹ دیکھ کر نہیں چل سکتے
مجھے جلدی بتاؤ ملحان کا روم کونسا ہے
عارب نے نا سمجھی کے عالم میں اس ٹوم بواۓ کو دیکھتے ملحان کے روم کی جانب اشارہ کیا...
تبھی رمل کچن سے نکلتے مومنہ بیگم کو دیکھے بغیر اوپر کی جانب بڑھی اور ٹھک کر کے ملحان کے روم کا دروازہ کھولا... بیڈ پر لیٹے حان کی طرف بڑھتے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتی بخار چیک کرنے لگی۔
او مائ گاڈ
اتنا تیز بخار..... سائڈ ٹیبل پر پڑے برف والے باؤل سے اس کے ماتھے پر پٹیاں رکھنا شروع کر دیں۔
حد ہے لا پرواہی کی... لڑکیوں سے زیادہ نازک مزاج ہے یہ لڑکا.. زرہ سا ڈانٹ کیا دیا بخار چڑھا کے بیٹھ گیا. ساتھ ساتھ وہ مسلسل بول بھی رہی تھی
مومنہ بیگم پیچھے کھڑے رمل کی باتیں سن کر مسکرا رہی تھی
رمل بیٹا...
تبھی رمل... مومنہ بیگم کے بلانے پر بے ساختہ کھڑی ہوئی... ارے بیٹا بیٹھی رہو بہت اچھی لگ رہی ہو میرے نالائق بیٹے کی فکر کرتے ہوئے۔
O Anti Thank God
* آپ ظالم سماج والی ساس نہیں بنے گیں بولتے ہی دوبارہ وہ حان کے پاس بیٹھ گئی
ویسے مورے آپ کا بیٹا بہت لاڈلہ ہے میرا زرہ سا غصہ بھی نہیں برداشت کر پایا..
تو بیٹا آپ نے غصہ کیا ہی کیوں.... حرکتیں ہی ایسی ہیں حان کی جو مجھے غصہ آ جاتا ہے
پھر بھی بیٹا ہوا کیا...
ہونا کیا تھا آنٹی میرے پرپوز کرنے پر ہی ہوش کھو بیٹھا ہے آپ کا بیٹا
رمل کی بات پر مومنہ بیگم بے ساختہ قہقہہ لگا اٹھی۔
رمل بلکل ویسی ہی تھی جیسا ان کے بیٹے نے بتایا تھا
اک دم بنداس...
ارے مورے آپ بھی ہنس رہی ہیں
اس سے پہلے کہ مومنہ بیگم کوئ جواب دیتی حان ہوش میں آیا اور بولا
رمل جی آپ....
جی میں....
آپ یہاں کیا کر رہی ہیں جائیں مورے دیکھ لیں گی تو کیا سمجھیں گی
چپ کرو حان کچھ نہیں سمجھیں گی
اور وہ بیٹھی ہیں ہماری مورے....
رمل بیٹا آپ ملحان سے باتیں کرو آپ کے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں....
مومنہ بیگم کہتے ہو ۓ روم سے باہر نکل گئیں...
کیا ہوا ہے آپ کو حان کیوں بیمار ہو گۓ ہیں آپ ایسا کیا کہہ دیا ہے میں نے. پلیز رمل جی غصہ نہ کریں اور آپ پلیز ادھر صوفے پر بیٹھ جائیں۔
حان کیا مسلہ ہے آپ کے ساتھ رمل نے چڑھ کر کہا
رمل پلیز آپ جائیں ہم کل پکا آئیں گے یونی پلیز ابھی آپ جائیں
آغا جان کے گھر آنے کا ٹائم ہے پلیز آپ جائیں۔
اوکے میں جا رہی ہو حان اور کل آپ لازمی یونی موجود ہوں رمل نے وارننگ دینے والے انداز میں کہا۔
اور کل پیپر بھی ہے جس میں آپ کا ہونا لازمی ہے
اوکے میں ضرور آؤں گا ان شاءاللہ

❣️❣️❣️❣️❣️

11/06/2026

Fitoor


رمل آپو
انا ابھی میں بزی ہوں پھر آنا
آ پو آپ ہمیشہ ایسا کرتی ہیں آپ کے پاس میرے لیے ٹائم ہی نہیں ہوتا
آ میلا بچہ
بولو بولو۔۔ رمل نے اسے پچکارتے ہوئے کہا۔
آپو مجھے شاپنگ پر جانا ہے
ہاں تو جاؤ اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے رمل نے آرام سے کہا۔
آپو میں اکیلی۔ انبیہ نے منہ بناتے ہوئے کہا
ہاں جی اکیلی میں نہیں جارہی آپ کے ساتھ۔
لیکن آپو۔۔۔۔
رمل نے انابیہ کی بات درمیان میں ہی کاٹ کر کہا۔ ارے آپو کی جانو مانو
توسی کلے جاؤ گے آپو نے کہہ دیا
اب جاؤ میرا گارڈ تمھارا خیال رکھے گا
اوکے آپو ہم ناراض ہیں ۔انابیہ نے برا سا منہ بنایا۔
رمل مسکراتے ہوۓ بے بی کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔
ہممم جہاں بھی ہو فورن شاپنگ مال پہنچو
تمھاری جانی ادھر ہے
آپو.........
میرا کام انفارم کرنا تھا۔آگے تم جانو تمھارا کام...
ہممم اوکے
ابھی انا شاپنگ مال میں انٹر ہی ہوئ تھی کہ سامنے سے آتے عارب خان سے ٹکرا گئی۔ٹکرانے کی وجہ سے انا کا نقاب اتر چکا تھا۔تبھی کوئی ایک سیکنڈ سے بھی پہلے انا کے اگے کھڑا ہوا۔
لیکن ایک سیکنڈ میں ہی عارب کی نظر انابیہ کے ناک پر چمکتی لونگ پر پڑ چکی تھی
لیکن کسی کے سامنے آ جانے پر وہ مٹھیاں بھنچ کر رہ گیا ۔وہ جو کوئ بھی تھا اپنے ہاتھوں سے انابیہ کا نقاب سہی کرتے اس کا ہاتھ پکڑتے سائیڈ پر لے کر آیا۔
انابیہ نے حیرت سےاس انجان شخص کو دیکھا جس نے فرشتہ بن کر پہلے اسے بے پردہ ہونے سے بچایا اور اب اس کا ہاتھ پکڑ کر خا لی جگہ پر لے آیا۔
کون ہو تم چھوڑو میرا ہاتھ... انابیہ نے غصے سے کہا ۔
وہ جو کوئی بھی تھا اس نے کچھ بولے بغیر ہاتھ چھوڑ دیا۔
انابیہ نے بے ساختہ اس انجان شخص کی جانب دیکھا ۔
سر پر ٹوپی پہنے منہ پر رومال باندھے، بال ماتھے پر بکھیرے وہ کچھ عجیب الگ رہا تھا۔
کون ہو تم اور...... ابھی انابیہ کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ شخص انابیہ کو وہی چھوڑتا خود دوسری جانب بڑھ گیا۔
ہیے کون ہو تم......
انابیہ اسے پکارتی رہی لیکن وہ ان سنی کرتا آگے بڑھ گیا۔
جب تک انابیہ نے شاپنگ نہیں کر لی اس نے محسوس کیا وہ رومال والا لڑکا اس کے پیچھے ہی رہا تھا گھر آتے تک وہ انابیہ کے پیچھے ہی تھا
انابیہ غائب دماغی کے ساتھ گھر میں داخل ہوئ ۔
کیسی رہی شاپنگ رمل نے پوچھا۔ انابیہ غائب دماغی سے بولی اچھی اور یہ کہتے روم کی طرف بڑھ گئی۔
اوۓ دیکھا تو سہی کیا لائ ہو رمل نے حیرت سے پوچھا۔
لیکن انا کچھ ڈھنگ کا لائ ہوتی تو ہی دکھاتی نہ. وہ تو شاپنگ کے دوران اس ٹوپی والے لڑکے کو خود کا پیچھا کرتے دیکھ کر پریشان تھی
وہ کچھ کہے بغیر روم میں بند ہو گئی۔

انابیہ نے شاور لے کر نماز ادا کی اس کے بعد سورہ ملک کی تلاوت کی ۔اس لڑکے کا خیال زہن سے جھٹکتے وہ سونے کے لیے لیٹ گئ تھی
❣️❣️❣️

کیاااا میری شادی.... میرا میک اپ قیس بچارا تو صدمے میں ہی چلا گیا اور تھوڑی اونچی آواز میں چلایا۔
گڑیا لڑکے میک اپ نہیں کرتے
ہاں تو لڑکے نہ کریں میں لڑکوں کا کرنا بھی نہیں
میں تو خان جی آپ کی بات کر رہی ہوں نمل نے معصومیت چہرے پر سجا کر کہا
رمل میں بھی تو لڑکا ہوں قیس نے خود کو بہت بے بس محسوس کیا۔
خان جی مجھے میک اپ کرنا ہے کرنا ہے تو بس کرنا ہے مجھے نہیں پتا۔ نمل نے ضدی بچے کی طرح کہا
اوکے میں انابیہ کو بلاتا ہوں آپ اس کا میک اپ کر لینا۔
خان جی
رمل نے آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لاۓ قیس کو دیکھا۔
رمل میری گڈو میری شہزادی میرا بچہ
آپ روؤ نہیں میں کرواتا ہوں میک اپ
ہرےےےےےےے نمل نے خوشی سے نعرہ لگایا اور کہا چلیں آپ میرے ساتھ اور یہاں بیٹھیں۔
وہ قیس کو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے سٹول پر بٹھاتے جوش میں بولی۔
آپ کو پتا کل ہم نے رمل دی سے میک اپ منگوایا تھا اور مجھے انہوں نے کہا تھا کہ تم اپنے خان جی کا میک اپ کر نا

آپو گندی انہوں نے مجھ سے میک اپ نہیں کروایا۔ نمل معصومیت کے ساتھ قیس کو بتا رہی تھی اور قیس کا غصے سے برا حال تھا
اس رمل کو تو میں چھوڑوں گا نہیں
چڑیل بھوتنی کہیں کی۔قیس نے غصے سے دانت کچکچاتے سوچا۔
نمل مجھے ننید آ رہی ہے ہم کل کریں گے میک اپ۔ قیس نے جان چھڑانے کی ناکام کوشش کی۔اور کہا۔
شاباش چلو آؤ ہم سوتے ہیں
نہیں... مجھے ابھی کرنا ہے
قیس بچارہ کڑوا گھونٹ بھر کر رہ گیا۔
اوکے اب آپ نے بولنا نہیں آپ آئیز بند کریں
مسلسل آدھے گھنٹے سے نمل قیس کے منہ پر پینٹ کر ہی تھی
گڑیا بس کرو نہ باقی پھر
اوکے بس 2 منٹ یہ بس لاسٹ سٹیپ
نمل ریڈ لپ سٹک اٹھاتے بولی اور اسے
قیس کے ہونٹوں پر چلایا😂
ہممم ہو گیا اب آپ دیکھ سکتے ہیں۔
قیس نے جیسے ہی شیشے میں خود کو دیکھا زور سے چلا اٹھا

یہ تم نے مجھے کیا بھوت بنا دیا ہے
نمل قیس کو دیکھتے بے ساختہ قہقہے لگانے لگی۔
خان جی.. ہاہاہاہا آپ کتنے فنی لگ رہے
ہاہاہا وہ پیٹ پر ہاتھ رکھے دہری ہوئ جا رہی تھی۔
ادھر آؤ خان جی کی بچی میں بتاتا ہوں تمھیں قیس نے مصنوعی غصے سے کہا۔
ارے نہیں خان جی نہیں کہتے وہ کمرے میں بھاگی۔ قیس بھی اس کے پیچھے کمرے کی طرف بڑھا۔ نمل کبھی بیڈ پر تو کبھی صوفے پر کود رہی تھی اور قیس سے کہ رہی تھی۔آپ ہمیں نہیں پکڑ پائیں گے خان جی
اچھا تو ایسا ہے قیس نے ایک ہی جھٹکے میں نمل کو پشت سے پکڑے اپنے سینے سے لگایا۔اپنی ٹھوڑی اس کے کندھے پر رکھتے ہلکے سے اس کے کان کی لو کو چھوا۔نمل کی سانسیں اتھل پتھل ہونے لگیں۔ اور وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی۔ اس کا چہرہ گلاب جیسا سرخ ہونے لگا ۔قیس نے نمل کا رخ اپنی طرف کیا اور زندگی سے بھرپور اس خوش کن نظارے کو آنکھوں میں بسایا ۔
قیس نے خود کو سنبھالتے ہوئے نمل کو نارمل کرنے کے لیے اس کی ناک کھینچی اور کہا ۔ اب بتاؤ کہاں بھاگو گی اب یہ سارا میک اپ میں نمل کے منہ پر لگاؤں گا۔
ہاہاہا نہیں خان جی پھر میں بھی بھوتنی بن جاؤ گی اور آپ مجھ سے ڈر جائیں گے نمل نے بیچارہ سا منہ بناتے کہا۔
نہیں آج میں یہ میک اپ آپ کے فیس پر ضرور لگاؤں گا
قیس نے بولتے ہوۓ اپنے گال نمل کے گال سے مس کیے۔
پلیز خان جی نہیں کرے نہ
گدی گدی ہوتی ہے
ہاہاہا
گدی گدی کی بچی اب بتاتا ہوں
اس سے پہلے کہ قیس پھر سے نمل کے چہرے سے اپنے گال مس کرتا
نمل نے قیس کو دھکا دے کر بھاگنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں وہ دونوں الجھ کر بیڈ پر ایک دوسرے کے اوپر گرے۔
قیس کے ہونٹ بے ساختہ نمل کے ہونٹوں سے تکرائے ۔
نمل نے سختی سے آنکھیں بند کیں۔
جب کے قیس کے دل کی دھڑکنیں بے ساختہ بڑھی ۔
قیس جلدی سے پیچھے ہٹنے کی کوشش میں اک بار پھر نمل کے ڈوپٹے سے الجھتے نمل کے اوپر گرا اور اب اس کے ہونٹ نمل کے رخسار سے ٹکرائے ۔
نمل جو قیس کو اٹھتا دیکھ کر آنکھیں کھول چکی تھی
اب پھر آنکھیں زور سے میچ گئی۔
اور قیس تو اس اچانک افتاد پر بوکھلا کر رہ گیا اور دونوں کی دھڑکنیں طوفان برپا کرنے لگیں۔
سونے پر سھاگہ قیس کے پوکٹ میں رکھے فون کی ایمرجنسی بیل بجی
قیس جو پہلے ہی گھبرایا ہوا تھا
ایمرجنسی بیل سن کر اور گھبرا گیا۔
یہ بیل صرف تب ہی ہوتی تھی
جب اس کا رائٹ ہینڈ مشکل میں ہوتا تھا
او گاڈ کہا پھنس گیا میں قیس نےویسے ہی لیٹے تھوڑا اوپر ہوتے پوکٹ سے سیل نکالا اور کان سے لگایا۔
ہاں خیریت
ارے ہاں میں نے ویسے ہی کال کی
دفعہ ہوجاؤ ویسے کال کرنی تھی تو ایمرجنسی والے نمبر سے کیوں کی قیس ہلکی آواز میں غرایا۔
او ہو سر جی غلطی ہوگی
قیس کال کاٹتا موبائل بیڈ کے اک طرف پھنکتا نمل کو دیکھنے لگا جو آنکھیں بند کیے ایک سائیڈ سے تھوڑی سی آنکھ کھولے چوری چوری قیس کو دیکھ رہی تھی
خان جی پلیز اٹھ جائیں ہمارے دل کو کچھ ہو رہا ہے نمل کی بات سن کر قیس دھیما سا مسکرایا ۔
لیکن نمل کے ہونٹوں اور گالوں پر لگی لپ سٹک دیکھ کر اس کا قہقہہ بے ساختہ نکلا تھا۔
خان جی کیا ہوا نمل نے حیرت سے پوچھا
اوکے اوکے میں اٹھتا ہوں
قیس اٹھنے کی کوشش کرتا ایک بار پھر دھڑم سے نمل کے اوپر گرا ۔
اب کی بار نمل کا قہقہہ بھی قیس کے قہقہے میں شامل تھا۔
خان جی وہ ہمارے ڈوپٹے کی وجہ سے ہو رہا ہے وہ ہمارے نیچے ہے
آپ ہمیں اوپر گھمائیں
نمل کی بات سنتے قیس کا قہقہہ رکا
نمل کی اس قدر قربت پر قیس کی دھڑکنیں رک رک کر چل 🤫 رہی تھیں
جب کہ نمل کو تو اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا کہ قیس پر کیا بیت رہی ہے خان جی کہاں کھو گۓ

گھمائیں مجھے
اچھا کہتے قیس نے نمل کی کمر میں ہاتھ ڈال کر تھوڑا اوپر اٹھاتے اسے گھمایا
اب سیچویشن کچھ ایسی تھی کہ قیس کے اوپر لیٹی نمل کے کھولے بال قیس کے منہ پر آ رہے تھے
خان جی آپ بال سنبھالیے (وہ کمرشل سنی ہو گی آپ نے
زویا جی آپ اپنے بال سنبھالیے گرمی پسینہ کہیں ان کی شان و شوکت نہ بگاڑ دے🤣🤣🤣🤣
ادھر وہ حال تھا خان جی بال سنبھالیے کہیں ان کی خوشبو آپ کی ہوش و حواس نہ بگاڑ دے😂😂😂😂😁😁😁😁
یہ جسٹ فن کے لیے ایڈ کیا😉😉😄😜)
ہم ڈوپٹہ نکالتے ہیں
خان نےنمل کے بالوں کو ایک سائیڈ سے پکڑا
اور نمل اپنے ہاتھ سے ڈوپٹہ نکالنے کی کوشش کرنے لگی بل آخر 5 منٹ کے بعد نمل ڈوپٹہ نکالنے میں کامیاب ہو گئ ۔
او شکر خان جی ہو گیا
تبھی قیس نے مسکراہٹ چھپائے نمل کا ہاتھ پکڑتا اسے شیشے کے سامنے کیا
ہاۓ خان جی یہ کیا کیا آپ نے
جب کہ خان کے قہقہے دیکھنے لائک تھے
نمل نے خان کو پہلی دفعہ اتنا ہنستے دیکھا تھا
وہ بے ساختہ دل میں ماشاءاللہ کہ اٹھی
خان جی چلیں میرا منہ دھو کر لائیں اب
جیسے آپ نے گندہ کیا ہے اور جو میرا سارا چہرہ اپ نے خراب کیا وہ
اوہ تو آئیں نہ ہم اپ کا چہرہ صاف کر دیتے ہیں
اوکے
قیس نے بہت شرافت کے ساتھ نمل کا چہرہ صاف کیا۔
لیکن نمل کو مستی چڑھی ہوی تھی تبھی قیس کا چہرہ صاف کرواتے
اس کے منہ پر پانی پھینکا۔
گڑیا بعض آ جاؤ ورنہ پھر ۔۔۔۔۔۔۔
نہیں نہیں خان جی
ہم جا رہے ہیں کہتے اس نے باہر کو دوڑ لگا دی۔
بلا شبہ نمل قیس کی زندگی کی وہ بہار تھی جس نے قیس کو جینا سیکھایا تھا
پیچھے قیس شیشے میں اپنے چہرے سے بہتا میک اپ دیکھ کر خود ہی ڈر گیا تھا
ہاہاہا
....... ❣️❣️❣️.......
Next day
رمل کہاں ہوں تم
ہاں پارٹنر میں بس تھوڑی دیر میں فلیٹ پر پہنچ جاؤں گی
نہیں فلیٹ میں نہیں رنگ میں آؤ
لیکن پارٹنر
رمل جلدی
اوکے
رمل جیسے ہی فائٹنگ ایریا میں داخل ہوئی قیس اک سانڈ کے ساتھ مقابلہ کر رہا تھا
او..... آج اگر فائیٹ تھی تو پہلے بتاتے نہ
آدھی گزر گئ
قیس نے رمل کو دیکھتے اپنے ساتھی سے رکنے کا بولا۔
آؤ رمل رنگ میں آ جاؤ
ابھی آئ بوس
ہممم جاو احمد لیزا کو بلا لاؤ
اوکے
2 منٹ بعد لیزا رنگ میں داخل ہوئی
کالے رنگ کی موٹے سانڈ جیسی لڑکی وہ شکل سے ویسٹ انڈیز کی پیداوار لگ رہی تھی
اوکے تو فائٹ سٹارٹ کرو
اور احمد تم رمل کو گھر ڈراپ کر دینا
اوکے سر
لالہ لیکن میں کیا
کیا غلطی ہوئ مجھ سے
گڑیا کو میک اپ سکھانے کا آئیڈیا اچھا تھا۔قیس نے دانت کچکچاتے کہا
لالہ کچھ رحم کریں اس کا سائز دیکھیں یہ مجھے کچل دے گی
رمل یو کین ڈو....
قیس کہتے ہوئے باہر کو بڑھ گیا
لیزا نے رمل کو پکڑنے کی کوشش کی
لیکن رمل کبھی ادھر بھاگ کبھی ادھر اس کے ہاتھ کے نیچے سے نکل جاتی تقریباً 5 منٹ یہی سب چلتا رہا لیکن جب کوئی اور راستہ نہ نظر آیا تو رمل نے لڑائی کا فیصلہ کرتے اس موٹی کالی لیزا کو للکارا۔
ادھر آ موٹی تینوں میں دسا
تو نے مجھے ہلکے میں لے لیا
رمل اس کے گھٹنے پر پاؤں رکھ کر
اس کے سر پر سوار ہو گئی اور اسے سر سے پکڑ کر اتنے زور کا جھٹکا دیا کہ وہ بچاری منہ کے بل نیچے گری تھی
گرتے ہی اس کے دانت منہ سے باہر تھے
ہائے نی میری مو ٹو
دانت تڑوا لیے نہ
اوۓ احمد اٹھا یہ کچرا
اس سے پہلے کے رمل رنگ سے باہر نکلتی لیزا نے نمل کا پاؤں کھنچا اور یہ رمل خود بھی نیچے
اوۓ سانڈ مار دیا
رمل کی کمر پر زور سے لگی تھی
میں نے سوچا تھا موٹی تجھے اتنے میں چھوڑ دوں گی لیکن تو اب بھگت
رمل نے اس کے اپر بیٹھ کر 4، 5 گھوسے اس کے منہ پر مارے جب اچانک پیچھے سے کسی نے آ کر کہا۔
ارے بس کرو باجو کیوں موٹو کی جان لینی ہے
بے بی چھوڑ دو مجھے اس کی وجہ سے میری کمر میں اتنا درد ہو رہا ہے
ارے باجو چلیں چلیں۔ آپ کو اپنے حان کے پاس بھی جانا ہے نا ۔
او ہو میں تو بھول گئ۔ یہ کہتے ہوئے رمل اس انجان شخص کے ساتھ چلی گئی۔
....... ❣️❣️❣️......
آج ملحان کو یونی پڑھاتے اک ماہ ہو چکا تھا
جہاں ملحان کو کسی پرابلم کا سامنہ ہوتا وہی رمل ڈٹ کر مقابلہ کرتی...
لیکن پچھلے اک ہفتے سے رمل نے ملحان کو تنگ کر رکھا تھا...
رمل اک لیکچر لینے کے بعد جس کلاس میں ملحان کی کلاس ہوتی اسی کلاس میں جا کر بیٹھ جاتی
آخر یونی جو اس کے باپ کی تھی .اتنی اکڑ تو بنتی تھی....
پورے لیکچر کے دوران وہ ملحان کو گھورتی رہتی.... جیسے ملحان نے ر مل کا کچھ چرا لیا ہو...
چرا تو واقعی ہی لیا تھا😉😉😉

ہو.... آج ملنا ضروری ہے
ہوووو
آج ملنا ضروری ہے
آج کہنا ضروری ہے
کہ رمل کو پیار ہوا ہے
یونی سے واپسی کے وقت رمل مزے سے ملحان کے کیبن کی طرف بڑھی اور وہاں بیٹھے پروفیسر صاحب کو اگنور کرتی بڑے پیار سے ملحان سے بولی...
چلیں استاجی آج آپ کے ساتھ چاۓ پینی ہے ہمیں..
ملحان بیچارہ تو پروفیسر صاحب کا منہ ہی دیکھتا رہ گیا.
ارے استاجی ان کی طرف مت دیکھیں ان کے پیغام میڈم شبانہ تک میں ہی پہنچاتی ہوں کیون پروفیسر جی
جی جی پروفیسر بھی بولتا ہوا کیبن سے نکل گئے..
تبھی ملحان نے دل میں سوچا اللہ یہ رمل تو بہت خطرناک ہے...
جی استاجی آپ سہی سوچ رہے ہیں اپن بہت خطرناک ہے
چلیں اب...
رمل ملحان کا ہاتھ پکڑے باہر کی طرف بڑھی تبھی ملحان کی گھبرائ ہوئ آواز سن کر رکی۔
پلیز رمل جی ہاتھ چھوڑ دیں سب کیا کہیں گے...
کیا کہا آپ نے دوبارہ بولیں زرا۔۔۔
سوری وہ پلیز ہاتھ چھوڑ دیں.
ارے نہیں میرا نام کیا لیا
ررمل ج جی.... ملحان کے رک رک کر بولنے پر رمل نے زور دار قہقہہ لگایا۔
ہاۓ رمل صدقے جاۓ آپ کے جی پر
اپنی جند جان ہی وار دے...
باقی ر ہی ہاتھ چھوڑنے کی بات چلیں یہ وقتی طور پر چھوڑ دیتے ہیں.....
معانی خیز انداز میں بولتے باہر کی طرف بڑھی...
ملحان بھی رمل کے پیچھے پیچھے ہی چل پڑا جب رمل کے بے ساختہ بریک لگانے پر اس سے ٹکرا گیا..
او سوری سوری... وہ
ارے کوئ بات نہیں سر جی
اپنی گاڑی کی چابی دیں
لیکن وہ مجھے تو ڈرائیور چھوڑنے آتا ہے
واٹ ڈرائیور
جی
پر وجہ
وہ وہ مجھے ڈرائیونگ نہیں آتی
رمل پر سوچ انداز میں سر کی طرف دیکھتے ہوۓ اپنی گاڑی کی طرف بڑھی
چلے پھر آ جائیں۔میری بائیک پر چلتے ہیں...
ارے نہیں نہیں ہمیں بائیک پر نہیں بیٹھنا ۔اماں گھر میں ہمارا انتظار کر رہی ہوں گی وہ پریشان ہو جائیں گی پلیز رمل جی
رمل تو ملحان کے رمل جی کہنے پر ہی فدا ہوئے جا رہی تھی۔
ہاۓ آپ کا اتنے پیار سے ہمارا نام لینا......
ہاں ننھے کاکے ہو نہ آپ جو اماں پریشان ہوں گی.... ویسے کاکے ہی لگتے ہو حرکتوں سے...
دل میں سوچ کر مسکراہٹ چھپائی...
چلیں کل آپ نے اپنی اماں سے اجازت لے کر آنی ہے پھر ہم چلیں گے چاۓ پینے....
لیکن رمل جی میں چاۓ نہیں پیتا
واٹ
بلکل ایلین جیسے لگتے ہو....
یہ بھی دل میں سوچا ۔
ٹھیک ہے ہم کچھ اور پی لیں گے آپ نے پوچھ کر آنا ہے.
تبھی ملحان کا ڈرائیور ملحان کو بلانے آیا چلیں صاحب جی گاڑی آ گی ہے
ملحان کے رمل کی طرف دیکھنے پر رمل نے ہاں میں سر ہلایا
جیسے رمل کی اجازت ملحان کے لیے بہت ضروری تھی.
💖💖
ملحان کے گاڑی میں بیٹھنے پر رمل کھل کر مسکرائی...
میرا بدھو دلدار
واہ رمل دل بھی ہارا تو کہاں....
........ ❣️❣️❣️.....

ماں کی گود میں سر رکھ کر اپنے پورے دن کی روداد ماں کو سنانے والی ملحان کی عادت بلکل نہیں بدلی تھی...
گھر داخل ہوتے ہی ملحان اپنی ماں کی طرف بڑھا ... ان کے دونوں ہاتھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگایا۔
جی ماں جی...
کھانا لگاؤں اپنے بیٹے کے لیے...
بھوک لگی ہو گی
جی مورے لگا دیں ہم آپ کے ہاتھ سے ہی کھائیں گے...
او میرا بیٹا کب تک مورے کے ہاتھ سے ہی کھاۓ گا..
مورے جب تک بھابھی نہیں آجاتی
پیچھے سے آتے عارب نے تنزیہ یہ لائن بولی تو مومنہ بیگم کے منہ پر مسکراہٹ آ گئی بنا عارب کا تنز سمجھے ....
میرا بدھو بیٹا شادی کرے تو نہ۔
شادی کے نام پر ملحان کی آنکھوں میں رمل کا سراپہ لہرا گیا...
لیکن اس کے حلیے کا سوچ کر ہی بے ساختہ جھر جھری لی...
کیا سوچ رہا ہے میرا لال
کچھ نہیں مورے چلیں کھانا کھلائیں آپ کو کچھ بتانا بھی ہے اوکے تم روم میں جاؤ میں وہی آتی ہوں کھانا لے کر...
جب تک ملحان فریش ہو کر آیا ہے مومنہ بیگم کھانا لے آئیں
ہاں جی بتاۓ آج کیا خا ص کیا آپ کی رمل جی نے...
وہ مما آپ کو پتا آج رمل جی نے مجھے چاۓ پر لے جانے کا بولا
پوری دنیا کے سامنے اڑ ڑ کر بولنے والا ملحان ماں کے سامنے بن بریک بولتا تھا...
اچھا جی پھر
مورے آپ مسکرائیں تو نہ
ارے نہیں نہیں میں کہاں مسکرا رہی ہوں آپ بتائیں
آپ گۓ کیوں نہیں پھر
مورے ایک تو ہم نے آپ سے اجازت نہیں لی تھی اور پھر ہمارے پاس گاڑی بھی نہیں تھی.... رمل جی تو بائیک پر چلنے کا بول رہی تھی لیکن آپ کو پتا ہمیں بائیک دیکھ کر ہی ڈر لگتا ہے بیٹھنا تو دور کی بات
ملحان کی بات سن کر مومنہ بیگم کو اپنے سیدھے سادھے بیٹے پر بے ساختہ پیار آیا۔
ماں کا چاند اب کیا کہوں میں آپ سے...
ارے مورے سنیں نہ
پھر رمل جی نے ہمیں کہا کہ ہم اپنی مورے سے اجازت لے کر آئیں...
لیکن مورے ہم نہیں جائیں گے وہ تو بائیک بھی بھت تیز چلاتی ہیں
ملحان آپ جاؤ گے مومنہ بیگم نے فوراً کہا۔
لیکن مورے۔۔۔
ملحان صبح جب ڈرائیور آپ کو یونی چھوڑنے جائے گا
آپ ان سے گاڑی کی چابی لے کر اپنے پاس رکھ لینا
ہمیں پورا یقین ہے آپ کی رمل جی کو گاڑی چلانی آتی ہو گی
ہاں نہ ماں رمل جی کو سب کام آتے ہیں
بس بس میرا بیٹا اب آپ تھوڑی دیر ریسٹ کر لو مورے کیچن میں کام دیکھ لے...
ٹھیک ہے مورے....
❣️❣️❣️
اگلے دن لیکچر کے بعد رمل ملحان کے پاس گئی چلیں حان
جی ہا مورے کہتی تھی آپ چلے جاؤ
ہم اپ کے ساتھ جائیں گے
لیکن رمل جی یہ لیں گاڑی کی چابی ہم گاڑی پر جائیں گے
رمل کو اندازہ تھا کہ کچھ ایسا ہی ہونے والا ہے 😁
اوکے اوکے ہم گاڑی پر ہی جائیں گے
رمل ملحان کو کیفے لے جانے کی بجاۓ اپنے فلیٹ پر لے آئ تھی
یہ ہم کہاں آ گۓ رمل جی
رمل نے جیسے ہی فلیٹ کی لائٹس اون کی پورا فلیٹ غباروں، پھولوں سے سجایا گیا تھا
Happay birthday 🎂 han G
Many many happy return of the day

حان کو آج تک کسی نے ایسے birthday وش نہیں کی تھی اس کا تو خوشی سے برا حال تھا
واؤ رمل جی ہماری birthday واؤ آپ کو کیسے پتا
وہ بلکل ایک بچے کی طرح کر رہا تھا
رمل کو سب پتا ہوتا ہے رمل نے فخر سےکالر اٹھا کر کہا ۔ چلیں حان جی کیک کاٹتے ہیں۔
کیک کاٹتے رمل نے حان کو کیک 🍰 کھلایا۔
اب مجھے بھی کھلائیں رمل نے منہ بنا کر کہا۔
آپ خود کھا لیں نہ رمل جی مجھے شرم آتی ہے۔
حان جی آپ اپنی birthday کے دن مجھے ناراض کریں گے؟
نہیں نہیں میں کھلا رہا ہوں
اس نے چھوٹا سا پیس رمل کی جانب بڑھایا جو رمل نے جلدی سے کھا لیا اور ملحان کی انگلی آہستگی سے دانتوں میں لی ۔ملحان کی بے ساختہ چیخ نکلی جس پر رمل کا قہقہ گونجا۔
یہ لیں حان یہ آپ کا گفٹ
رمل نے اک پیک شدہ گفٹ حان کی جانب بڑھایا۔
کیا ہے اس میں؟ ملحان نے تجسّس سے پوچھا۔ آپ خود دیکھو رمل نے عام سے انداز میں جواب دیا۔
اس گفٹ میں اک بہت خوبصورت رسٹ واچ تھی
جو رمل حان کی کلائ پر باندھ چکی تھی
دیکھو کتنی پیاری لگ رہی ہے رمل نے خوشی سے کہا
لیکن رمل جی ہم یہ کیسے لے سکتے ہیں؟
کیوں نہیں لے سکتے رمل نے ملحان کو گھورتے ہوئے کہا۔
جی جی لے لیتے ہیں
رمل کے غصہ سے بولنے پر وہ جلدی سے بولا تھا
اور یہ کارڈ بھی تمھارے لیے حان
اس میں کیا ہے
دیکھو
کارڈ کھولتے ہی حان کے ہاتھوں سے چھوٹ کر گرا تھا
کارڈ پر
Ramal 💘 loves han g
لکھا ہوا تھا
رمل جی آپ مزاق کر رہی ہیں نہ

ہے
کیا ہوا
رمل جی یہ
اچھا آپ مزاج کر رہی ہیں
سچ میں آپ بہت فنی ہیں
ہم اینویں ڈر گئے تھے
تبھی رمل نے آنکھوں میں جنون لیے ملحان کا کالر پکڑا تھا
آپ کو ہماری محبت مذاق لگ رہی ہے... دیکھیں ان آنکھوں میں اور بتائیں کیا نظر آ رہا ہو آپ کو؟
ارے محبت کرنے لگی ہوں آپ سے میں بہت محبت رمل کے چلانے پر ملحان کی طبعیت بگڑنے لگی...
ملحان کی سانسس رک چکی تھی
O My God Han... where is your inhelor ?
Han plz tell me
وہ گاڑی میں.....
گاڑی کا نام سن کر رمل کی آنکھیں باہر کو آگئیں کیوں کہ وہ لوگ اس وقت عمارت کی آخری منزل پر تھے
اور لفٹ کے ذریعے بھی رمل کو 5 منٹ سے زیادہ ٹائم لگ جانا تھا
تبھی رمل اک سکینڈ میں فیصلہ کرتے ہوۓ ملحان کو مصنوعی سانس انہیل کرنے لگی.... کچھ دیر بعد ملحان کی طبیعت سنبھلی تو رمل اپنا سر پکڑے بیٹھ چکی تھی...
بیشک رمل کافی بولڈ تھی لیکن آج تک اس نے کبھی کسی لڑکے کو اپنا ہاتھ پکڑنے کی بھی اجازت نہیں دی تھی...
اور اب اچانک سے یہ سب...
ملحان نے رمل کو سر پکڑے دیکھا تو بولا
Am sorry Ramal G
پتا نہیں ہم کیسے انھیلر رکھنا بول گۓ
اٹھو حان اور چلو میرے ساتھ...
رمل کسی فیصلے پر پہنچتے حان کو یونی چھوڑ واپس چلے گئی.............. ❣️❣️❣️.....

Address

Dubai

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Novels Collection posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category