09/05/2026
شطرنج زندگی
Sneak peek
#سٹوڈنٹ،ٹیچر بیسڈ
#ریوینج بیسڈ۔
گلاسز میں سے بار بار پلکیں جھپکتا ہوا بک ریڈنگ میں محو تھا۔۔۔۔
میرے چہرے پر سوالوں کے جواب نہیں لکھے برائے مہربانی اپنے کام پر توجہ دیں۔۔۔۔
وہ جو سمجھی تھی کہ وہ اس کی طرف متوجہ نہیں ۔۔۔
اس کی بات سن کر ہڑبڑائی۔۔۔
اور فوراً نظریں جھکا کر کام مکمل کرنے لگی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں اس نے سارا کام مکمل کرنے کے بعد اسے چیک کروایا۔۔۔
Hummm.Impressive.
وہ اس کا کام چیک کرتے ہوئے بولا
کام ختم ہونے کے بعد وہ جانے کے لیے اٹھا ۔۔۔
قلب پلیز رکیں !!!
پریا نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے جانے سے روکا۔۔۔۔
قلب تو اس کی دیدہ دلیری پر دنگ رہ گیا۔۔۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے؟
وہ اس کے ہاتھ کی طرف دیکھتے ہوئےتلخ لہجے میں بولا۔۔۔۔
اور جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالا۔۔۔۔
ٹیچر ہوں تمہارا ۔۔۔زرا تمیز سے۔۔۔۔۔
پڑھائی کے ساتھ ساتھ تمہیں مینرز کی کلاسز بھی لینے کی ضرورت ہے۔۔۔
پڑھائی ختم سٹوڈنٹ ٹیچر کا رشتہ ختم ۔
اب بات ہو گی پریا اور قلب کے بیچ کی۔۔۔
وہ پہلے اپنے اوپر اور پھر قلب کے سینے پر انگلی رکھ کر بولی۔۔۔۔
مجھے کسی سے کوئی بات نہیں کرنی وہ اسے شانے سے پیچھے ہٹا کر باہر نکلنے لگا کہ ۔۔۔
پریا راستے کے بیچ آئی۔۔۔
اور دروازے کے آگے کھڑی ہوئی ۔۔۔
میری بات سنے بغیر میں آپ کو یہاں سے کہیں جانے نہیں دوں گی۔۔۔۔
فضول بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔
ہٹو راستے سے ورنہ ۔۔۔۔۔
وہ اسے انگلی سے وارن کرتا ہوا تیز آواز میں بولا۔۔۔۔
ورنہ کیا ؟؟؟؟
وہ بھی اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسے چیلنج کرنے کے انداز میں غرائی۔۔۔۔۔
دیکھیں قلب کل سے ہم شاید ہوں کبھی اکیلے مل نا پائیں ۔۔۔۔مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔۔
وہ ساتھ ہی انداز بدلتے ہوئے نرمی سے بولی۔۔۔۔
مجھے بھی تم سے دوبارہ ملنے کا کوئی شوق نہیں اور خاص کر اکیلے میں ۔۔۔
Mind it......
وہ ہاتھ میں موجود کتاب کو بیڈ پر پٹخ کر بولا۔۔۔۔
قلب جب سے میں نے آپ کو دیکھا ہے ،مجھے اور کچھ بھی اچھا نہیں لگتا،میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں ۔۔۔
قلب سچی !!!
پیار نہیں بلکہ مجھے آپ سے عشق ہو گیا ہے ۔۔۔عشق و محبت میں انا نہیں ہوتی ۔۔۔
دیکھیں اسی لیے میں اپنی انا کو روند کر آپ سے ایک صنف مخالف ہونے کے باوجود بھی اظہار محبت کر رہی ہوں ۔۔۔
قلب پلیز میرے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔
وہ چلتے ہوئے اس کے قریب آئی اور اس کی شرٹ کے کالر کو مٹھیوں میں جکڑتے ہوئے نم آنکھوں سے دیکھ کر بولی۔۔۔۔
تم ایک خود غرض لڑکی ہو جسے اپنے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔۔۔۔یہ کہہ کر اس نے غصے سے منہ پھیرا۔۔۔۔۔
توں ہنس کہ ویکھ تے سہی
میں خود نوں وہ بدل داں گی۔
میں چھڈ کہ بنگلے تے گڈیاں۔
تیرے نال ہی چلداں گی۔
اس نے گانا گنگنایا۔۔۔
اس نے پریا کے دونوں ہاتھوں سے اپنا کالر چھڑوایا۔۔۔۔
اور تیز قدموں سے دروازے کی طرف بڑھا۔۔۔۔
ٹھیک ہے تمہیں پیار کی کوئی قدر نہیں نا ؟؟؟
ایسے تو پھر ایسے ہی صحیح۔۔۔۔۔۔
اگر تم میرے نا ہوئے تو میں تمہیں کسی اور کا بھی ہونے نہیں دوں گی ۔۔۔۔
بچاؤ !!!!!
بچاؤ !!!!!
وہ بلند آواز میں زور سے چلائی۔۔۔۔
پہلے اپنی ایک آستین پھاڑی پھر دوسری ۔۔۔۔
دوپٹہ زمین پر پھینکا۔۔۔۔۔
بچاؤ !!!!!
💕💕💕💕💕💕💕
نائٹ بلب کی مدھم سی روشنی میں بدن پر کمفرٹر اوڑھے دنیا و مافیہا سے لاپرواہ نیند کی وادیوں میں پوری طرح گم تھی۔۔۔۔
صرف چہرہ ہی کمفرٹر سے باہر تھا وہ ترچھی ہو کر ایسے لیٹی ہوئی تھی کہ اس کا سر بیڈ سے نیچے ڈھلک رہا تھا کھلے ہیزل بال بھی فرش کو سلامی پیش کر رہے تھے،
ایک ہاتھ میں موبائل کو پکڑے ہوئے پوری طرح بے سدھ تھی۔۔۔۔۔
اس نے ہولے سے اس کے ہاتھ سے موبائل پکڑ کر ایک طرف رکھا۔۔۔۔۔اور اس کے سر کہ نیچے ہاتھ ڈال کر اسے تکیے پر رکھا۔۔۔پھروہیں اس کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔
ایسا کرنے سے وہ ہلکا سا کسمسائی اور سیدھی ہوئی ۔۔۔۔مگر پھر سے گہری نیند میں لوٹ گئی۔۔۔۔
بیضوی سفید رنگت کا چہرہ،ستواں ناک،باریک گلابی پنکھڑیوں سےلب۔مڑی ہوئی مژگان،صراحی دار گردن پر بالکل عین شہ رگ پر بھورا سا تل ،
اس نے اپنی نظروں کا رخ تبدیل کیا۔۔۔۔
مگر من بار بار بہک رہا تھا،اتنے سال باہر گزارے مگر کبھی ان لڑکیوں پر توجہ نہ دی جو اس کی جھلک پانے کو ترستی تھیں اور پکے ہوئے آم کی طرح ہمہ وقت اس کی جھولی میں گرنے کو تیار رہتی تھیں۔۔۔۔
مگر اس میں جانے کیا کشش تھی کہ وہ جتنا اپنے آپ کو روک رہا تھا۔۔۔۔دل اتنا ہی سرکش ہوئے اس کی اوڑھ کھنچا چلا جا رہا تھا۔۔۔۔۔
اس کے چہرے پر آئی ہیزل بالوں کی لٹ کو انگلی پر گھما کر چھوڑا۔۔۔۔۔
جو اپنی مالکن کی طرح مدھوشی میں لڑھک کر تکیے پر گری۔۔۔۔
You are the light,your are the night.
You are the colour of my blood.
You are the cure,you are the pain.
You are the only thing ,I wanna touch.
Never knew that ,it could mean so much.so much.
So love me like you do.
So love you like you do....
Touch me like you do....
Touch me like you do....
Only you can set my heart on fire 🔥
وہ سرگوشی نما آواز میں بولا۔۔۔۔
دارم نے اس کی شہ رگ پر موجود تل پر اپنے لب رکھے ۔
اس کے قرب سے اٹھتی ہوئی دلفریب مہک اسے جیسےآکٹوپس میں جکڑے ہوئے تھی۔۔۔۔
دل اور بھی پانے کو مچلا ۔۔۔۔
مگر اس نے فی الحال اپنے اندر سلگتے ہوئے جذبات کو تھپک کر سلانے میں ہی بہتری جانی۔۔۔۔اور وہاں سے جانے کے لیے اٹھا۔۔۔
باہر نکلنے سے پہلے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔اور کہا
U are mine .........
My doll........
جلد ہی تم میری پناہوں میں ہو گی۔۔۔۔
یہ میرا وعدہ ہے خود سے۔۔۔۔۔۔
وہ ایک آخری نرم سی نظر اس سوئے ہوئے وجود پر ڈال کر باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔
Episode 1
شہرِ خموشاں میں رات کے آخری پہر گھپ اندھیرا اور دل چیر دینے والا گھبیر سناٹا چھایا ہوا تھا ۔ماحول میں پھیلے سکوت میں دور سے آتی ہوئی کتوں کے بھونکنے کی آواز ارتعاش پیدا کررہی تھی ،وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ہوئی دروازہ عبور کیے اندر آئی جہاں عورتوں کا آنا ممنوع قرار دیا گیا ہے،
مگر وہ سب بھلائے مخصوص راستہ عبور کرتی ہوئی اک کتبہ لگی ہوئی کچی قبر کے پاس آرکی۔۔۔۔
بیٹھ کر مٹی ہاتھ میں لیے اس پر لب رکھے،چند لمحوں میں ہی وہ مٹی اس کے برستے ہوئے آنسوؤں سے نم ہوئی۔۔۔۔۔
تم کیوں آئی ہو ؟؟؟؟
اس کے پاس موجود سفید پوش نے اس سے سوال کیا۔۔۔
آپ سے ملنے۔۔۔۔۔"آپ کی یاد آرہی تھی" ،اب کی بار رونے ۔میں مزید شدت آئی۔۔۔۔۔
وہاں سے بھی تو دیکھا جا سکتا تھا۔اس نے سامنے گھر کی چھت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جس گھر کی بیک سائیڈ قبرستان کو لگتی تھی۔
"وہاں سے تو دیکھا جا سکتا تھا ،مگر یہاں تو محسوس کیا جا سکتا ہے"اس نے اپنی ہاتھ میں موجود نم مٹی کو اپنی آنکھوں سے لگایا۔
تمہیں ڈر نہیں لگتا یہاں آتے ہوئے؟؟؟؟
"نہیں"اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔"آپ کو پتہ ہے وہ ہمیشہ میرے ساتھ ہوتا ہے"
آپ سنیں گی اس کے بارے میں ؟
"پھر کبھی۔۔۔۔ ابھی تم واپس جاؤ "
وہ مٹی کو بوسہ دے کر واپس رکھے جس راستے سے آئی تھی وہیں سے واپس پلٹ گئی۔۔۔۔۔۔
🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲
رئیسانی مینشن میں آج ہر طرف گہما گہمی اور روشنیوں کی چکا چوند تھی۔
شہر کی بڑی بڑی ہستیاں اس انگیجمینٹ کی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچ چکیں تھیں۔
چار سو گز پر محیط یہ مینشن اپنی خوبصورتی اور دلکشی کی عمدہ مثال آپ تھا۔سنگ مر مر سے بنا چمکتا ہوا فرش ،بیرون ممالک سے لائے ہوئے ڈیکوریشنز،شو پیسز،اینٹیک طرز کے ہتھیار ،دیواروں پر چسپاں فیملی کی تصاویر،شکاری آلات،غرض
اس عمارت کی ایک ایک چیز اپنی عمارت کا منہ بولتا ثبوت تھی۔
مگر تقریب کا انعقاد باہر لان میں کیا گیا تھا۔۔۔۔
باہر جدید طرز کے برقی قمقموں سے سجاوٹ کی گئی تھی۔
ایک طرف بڑے بڑے گول میز لگا کر ساتھ چئیر رکھ کر کھانا کھانے کے لیے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا۔اور ایک طرف شیف انواع و اقسام کے ان گنت کھانے بڑے بڑے میزوں پر سجائے ہوئے تھے۔۔۔۔
یہ ہائی کلاس لوگوں کی تقریب تھی ،جہاں پینا پلانا عام سی بات تھی۔
ایک طرف چھوٹی سی بار بنائی گئی تھی۔
مہمان تو سب پہنچ چکے تھے مگر میزبان ابھی تک ندارد!!!!
میڈیا کے کیمروں کا رخ اندر سے آنے والے کپل پر ہوا تو سب نے لائٹس کی تقلید میں ادھر ہی اپنی نظریں جمائیں۔۔۔۔
جہاں سے سلیمان رئیسانی بلیک کلر کا برینڈڈ سوٹ پہنے۔وائٹ شرٹ،بلیک ٹائی اور قیمتی رسٹ واچ کلائی میں ڈالے ۔چمکتے ہوئے جوتے پہنے۔اپنے سیاہ بال جن میں اب کہیں کہیں سفید بال بھی جھلک رہے تھے ۔اپنے ازلی مغرور انداز سے اپنی شریک حیات نیلم رئیسانی کے بازو میں بازو ڈالے آرہے تھے۔
نیلم رئیسانی سرخ و سفید رنگت پر بلیک کلر کی ساڑھی اپنے ہم نفس سے میچنگ کیے پہنے ہوئے تھیں۔اس عمر میں بھی اپنے آپ کو اس قدر فٹ رکھے ہوئے تھیں کہ لگتا ہی نہیں تھا کہ ان کی بیٹی کی انگیجمینٹ ہے۔
ڈیپ ریڈ میک اپ میں سجی ،بیک لیس بلاؤز میں بالوں کا ہائی بن بنائے،ہائی ہیلز میں اپنی سوسائٹی کا ہی حصہ لگ رہی تھیں۔
🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲
دروازے پر مسلسل دستک ہو رہی تھی۔مگر وہ ان سنی کیے اپنے کام میں مگن رہی۔
باہر موجود شخصیت نے غصے میں دروازہ دھاڑ سے کھولا ۔۔۔۔
اور پیر پٹختی ہوئی اندر آئی۔۔۔۔
"کب سے ناک کر رہی ہوں سنائی نہیں دیتا دماغ کے ساتھ کان بھی ادھار دے آئی ہو کسی کو "؟
مگر وہ یونہی یونہی لیٹی رہی اپنے موبائل کی سکرین پر نظریں مرکوز کیے ہوئے۔۔۔۔۔
"شرم تو نہیں آتی اپنی بڑی بہن سے بدتمیزی کرتے ہوئے وفا"؟؟؟؟
میں نے کیا بدتمیزی کی ہے؟وہ معصومیت سے آنکھیں جھپکائے بالآخر بول ہی پڑی۔
میرا ہی دماغ خراب تھا جو تمہاری تنہائی کے خیال سے یہ موبائل لے کر دیا ،تم تو چوبیس گھنٹے اسی میں ڈوبی رہتی ہو آس پاس کیا ہو رہا ہے کسی بھی چیز کی ہوش نہیں تمہیں""""وہ اسے ڈپٹنے کے انداز میں بولی۔
اب میں نے کیا کیا ہے ؟
باہر فنکشن چل رہا ہے اور تم ابھی تک تیار ہی نہیں ہوئی۔۔۔۔
"مجھے کسی فنکشن میں نہیں جانا آپ کو جانا ہے تو چلی جائیں۔۔۔" پریا آپا"،میرے جانے یا نا جانے سے وہاں کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔۔۔۔۔
"حد ہے ویسے "وہ تاسف سے سر نفی میں ہلاتے اسے اسی حال میں چھوڑتی ہوئی باہر نکل گئی۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد سجی سنوری شہرناز اپنی دوستوں کی ہمراہی میں باہر آئی جس نے وائٹ کلر کی ڈیزائنر میکسی زیب تن کی ہوئی تھی۔جس کے گلے اور بیک پر پرلز لگے ہوئے تھے ڈائمنڈ جیولری پہنے ہوئی لائٹ پنک کلر کے میک اپ کیے دلکش دکھائی دے رہی تھی۔
عالیان بھی چلتا ہوا اپنے بابا شاہان ملک کے ساتھ شہر ناز کے پاس آیا۔۔۔۔۔
تالیوں کی بھرپور گونج میں عالیان نے شہر ناز کو انگوٹھی پہنائی۔۔۔۔۔
پھر ویسے ہی شہرناز نے عالیان کو۔
مشہور سیاستدان بھی یہاں موجود تھے ان میں سے ایک ان دونوں کے پاس آیا اور بولا۔۔۔
شاہان ملک جی آج سلیمان رئیسانی کی بیٹی کو اپنی بہو بنانے سے آپ کا درجہ اور بھی اونچا ہو گیا ہے۔
"اس خوبصورت موقع پر آپ دونوں کو بہت بہت مبارک"۔۔۔۔
اس نے پھولوں سے آراستہ خوبصورت بوکے ان کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔
جسے سلیمان رئیسانی نے تھام کر اپنے سرونٹ کو پکڑا دیا۔۔۔۔۔۔
کچھ لوگ بار کی طرف پینے کے لیے بڑھ گئے جب کہ کچھ لوگ کھانے کے لیے ۔۔۔۔۔دوسری طرف۔۔۔۔۔
"ایکسکیوز می سر"!عالیان ملک کے باڈی گارڈ نے اس کی طرف موبائل بڑھایا۔۔۔۔۔۔جسے دیکھ کر یک لخت عالیان ملک کے حواس گم ہوئے۔۔۔
عالیان ملک نے سلیمان رئیسانی کے پاس آکر کہا۔۔۔۔
مجھے آپ کو کچھ دکھانا ہے۔
وہ اس کے ساتھ خالی جگہ کی طرف گئے تاکہ اس کی بات سن سکیں۔۔۔
۔
(معذرت خواہ ہوں انکل مجھے یہ ابھی ملا۔۔)
عالیان ملک نے ان کی طرف موبائل بڑھایا۔۔۔۔
"اسے اور کسی نے دیکھا"؟
سلیمان رئیسانی نے سپاٹ اور سرد لہجے میں پوچھا۔۔۔۔۔۔
"نہیں انکل"۔۔۔عالیان ملک نے بتایا۔۔۔۔۔
ہہہمممم۔۔۔۔
وہ سوچنے کے انداز میں بولے۔
🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲
ڈیڈ آپ یہاں ؟؟؟
وہ انہیں فنکشن کے بعد یوں اتنی رات گئے اپنے روم میں دیکھ کر حیران رہ گئی
شہر ناز نے پوچھا۔۔۔۔
وہ نائٹ ڈریس ٹراؤزر اور شرٹ میں ہی موجود تھی۔۔۔۔۔واشں روم سےنکل کر باہر آئی جہاں سلیمان رئیسانی کھڑے ہوئے تھے۔۔
انہوں نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا ۔۔۔۔۔
بیٹھ جاؤ۔۔۔۔۔
۔۔۔
ان کی سرد سی آواز اس نے بخوبی محسوس کی۔۔۔۔۔
جی ڈیڈ۔۔۔
وہ دھیمے سے بولی۔۔۔۔۔۔اور ٹیبل سے پڑا پانی کا گلاس اٹھا کر اپنے لبوں سے لگایا۔۔۔۔۔
۔
نیلم رئیسانی جنہوں نے سلیمان کی تقلید میں ابھی ابھی وہاں قدم رکھا تھا ۔۔۔۔
وفا اور پریا دونوں سلیمان رئیسانی کے بلانے پر اپنے اپنے کمروں سے باہر آئیں تھیں۔۔۔۔
وہ بھی باہر دروازے پرکھڑی اسی شش و پنج میں مبتلا تھیں کہ انہیں کیوں بلایا گیا ہے؟؟
عالیان نے مجھے آج ایک کلپ دکھایا تھاجس میں تم ایک غیر لڑکے کہ ساتھ دکھائی دے رہی تھی۔
اور جو تم شرمناک حرکت کر رہی تھی اس کے ساتھ دل تو کیا تھا کہ وہیں کھڑے کھڑے تمہیں!!!!!!!!
وہ حد درجہ تنفر سے دھاڑے ۔۔۔۔۔۔۔
زرا سوچو اگر یہ انفارمیشن میڈیا میں لیک ہو جاتی تو میری عزت کی دھجیاں اڑ جاتیں۔
تمہیں ایسی حرکت کرتے ہوئے زرا شرم نہیں آئی؟؟؟؟؟
تم نے میری اتنے سالوں سے بنائی گئی ساکھ اور عزت کی دھجیاں بکھیر دیں۔۔۔۔
وہ بے چینی سے پیشانی مسل کر تلخ لہجے سے بولے۔۔۔۔۔
ڈیڈ مجھے معاف کردیں۔۔۔پلیز مجھ سے غلطی ہو گئی۔۔۔
اس نے اپنے باپ کا یہ سخت روپ پہلی بار دیکھا تھا ۔۔۔۔
اپنے آپ ہی اس کی آنکھوں میں نمی گھلنے لگی اور اس نے رندھی ہوئی آواز میں صفائی پیش کرنی چاہی۔۔۔۔۔
اتنے میں نیلم کے موبائل پر میسج نوٹیفکیشن آئی ۔۔۔جو بریکنگ نیوز پر آتی تھی۔
انہوں نے فوراً اپنا فون آن کر کہ دیکھا جہاں نیوز چل رہی تھی۔
بریکنگ نیوز۔۔۔۔"""کل رات شاہان ملک کے بیٹے عالیان ملک کی ایک ایکسڈنٹ میں اچانک موت ہو گئی"""""۔۔۔
جب وہ اپنی انگیجمینٹ سے واپس لوٹ رہے تھے۔ان کی انگیجمینٹ کل سلیمان رئیسانی کی بیٹی شہر ناز سے ہوئی تھی۔جائے حادثہ پر موجود لوگوں نے بتایا ہے کہ ائیر پورٹ جاتے وقت کسی گاڑی کے ٹکرانے سے ان کی موت ہو گئی۔۔۔۔۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔وہ یہ خبر سن کر شاک رہ گئیں۔۔۔۔
کیا تمہیں اس لیے پیدا کیا تھا کہ تم میری بنی بنائی عزت کو خاک میں ملا دو؟؟؟؟؟
وہ پھنکارے۔۔۔
میرے اتنے سالوں سے بنائی گئی ساکھ کو تو نے ۔۔۔۔۔۔۔
تو نے اسے ایک ہی جھٹکے میں سرے عام نیلام کر دیا۔۔۔
ان کی آنکھوں میں خون اترتا ہوا دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔
سلیمان۔۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔
نیلم رئیسانی نے آگے بڑھ کر انہیں ان کے اگلے قدم سے روکنا چاہا۔۔۔۔۔۔
نیلم۔۔۔۔انہوں نے اسے گھورتے ہوئےخود سے پرے دھکیلا۔۔۔۔۔
Shut up........Just shut up now
ایک فائر کی آواز رئیسانی مینشن میں گونجی۔۔۔۔۔۔۔
لان میں موجود درختوں پر بیٹھے ہوئے پنچھی ڈر کہ مارے اڑے۔۔۔۔
وقت جیسے تھم سا گیا۔۔۔۔
ہر ذی روح اپنی جگہ جامد رہ گیا۔۔۔۔
بہا تو صرف خون !!!!
وہ بھی شہر ناز کی کنپٹی سے۔۔۔۔
وہ لمحوں میں صوفے سے لڑھک کر زمین پر گری۔۔۔۔۔۔
جیتا جاگتا ہوا وجود پل بھر میں بے جان لاش میں بدل گیا۔۔۔۔۔
پریا ،وفا دونوں کے سانس حلق میں اٹکے۔۔۔۔
نیلم تو اس واقع کی تاب نا لاتے ہوئے چکرا کر زمیں بوس ہوئی۔۔۔
سلمان رئیسانی چلتے ہوئے وہاں سے نکل کرگھر سے باہر نکلے ۔۔۔۔۔
سامنے سے ہی ان کے خاص آدمیوں کی گاڑی آتی ہوئی دکھائی دی۔۔۔۔۔
چند لمحوں میں ہی وہ اب اس لڑکے سمیت ان کے سامنے تھے جس کے ساتھ شہر ناز کی ویڈیو تھی۔۔۔۔۔
ایک گارڈ نے اسے دھکا دے کر سلیمان رئیسانی کے سامنے ان کے پیروں میں پھینکا۔۔۔۔
اس بیچارے پر شاید پہلے سے تشدد کر کہ یہاں لایا گیا تھا جو لہو لہان تھا اور ٹھیک سے اپنے پیروں پر کھڑا بھی نہیں ہو پا رہا تھا۔۔۔۔۔ایک گارڈ نے اس کی جیکٹ کے کالر سے کھینچ کر اسے سیدھا کیا۔۔۔
کسی نے بھی میری عزت سے کھیلنے کی کوشش کی تو میں اس کی جان !!!!!!لے لوں گا"۔۔۔۔۔میرے گھر کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والے کی آنکھ نوچ کر کتوں کے آگے ڈال دوں گا۔۔۔۔۔
اندر موجود پریا اور وفا دونوں کے کانوں میں اس کے باپ کے الفاظ گونج رہے تھے۔
وہ گن اپنے سینے سے لگا کر کروفر زدہ لہجے میں بولے۔
سلیمان رئیسانی کی آواز پر اس لڑکے نے ان کی طرف پہلی بار نظر اٹھا کر دیکھا جو اس کی آخری نظر ثابت ہوئی۔۔۔۔۔
اسی ہاتھ میں موجود گن سے سلیمان رئیسانی نے اس پر فائر کیا اور وہ بنا سانس لیے موقع پر دم توڑ گیا۔۔۔۔۔۔
🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲🎲
بتائیے کیسا لگا سٹارٹ؟