07/10/2025
یہ درد بھرا منظر دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے — افغان مہاجرین حقاً دنیا کے سب سے زیادہ مظلوم لوگوں میں سے ہیں۔ کبھی انہیں "مجاہدین بھائی" کہہ کر عزت دی جاتی ہے، کبھی "نمک حرام" کہہ کر حقیر سمجھا جاتا ہے؛ کہیں ان کے جذبوں کو سہارا بنا کر فائدہ حاصل کیا جاتا ہے اور کہیں دھکے دے کر بے دردی سے باہر کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ان کے خلاف تعصب، نفرت اور جھوٹے پروپیگنڈے کی مہمات کوئی نئی شے نہیں — یہ ایک المیہ ہے جسے ہمیں نہ صرف دیکھنا بلکہ روکتا بھی ہونا چاہیے۔
یہ بات توانی دکھ دیتی ہے کہ افغان مہاجرین کو اکثر محض "سونے کے انڈے دینے والی مرغی" کی طرح استعمال کیا جاتا ہے — ان کی انسانی قدر نظر انداز کر کے مفاد پرستی کو فوقیت دی جاتی ہے۔ مگر سب سے بڑا ظلم تو یہ ہے کہ پشتون بھائیوں کو بھی کبھی چین و سکون نصیب نہیں ہوتا، جب انہی فیصلوں میں ایمان، دین اور اللہ کا خوف نہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں امن اور انصاف کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔
اور سب سے زیادہ کرب اس وقت ہوتا ہے جب ہمارے اپنے پشتون بھائی بھی انہی منفی سوچوں میں مبتلا ہوں — جو دوسرے پنجاب یا ملک کے دیگر حصوں میں پائے جاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے ہی بھائیوں کے خلاف برداشت ختم کر دیں تو پھر ہم کس بنیاد پر انسانیت کا سہارا مانگ سکتے ہیں؟ اللہ ہمیں ایسی آفت سے بچائے — ہمیں اپنے جذبات، سوچ اور عمل پر غور کرنا ہوگا تاکہ ہم ظلم کی مخالفت کریں، مظلوم کا ساتھ دیں اور نفرت کے اندھیروں کو محبت اور انصاف کی روشنی سے بدلیں۔