16/01/2026
ایک بھائی نے رابطہ کرکے اپنی دردناک داستان سنائی۔۔!
انکی باتیں سن کر میں ضبط پر قابو نا پاسکا۔
انکا کہنا ہے کہ میں چار یا پانچ سال کا تھا افغانستان کے کسی شہر کا رہائشی تھا۔ میں اپنی تمام بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ سب مجھے بہت پیار کرتے تھے۔
میں اسکول پڑھنے جاتا تھا۔ بہنیں مجھے تیار کرکے پیار کرکے اسکول بھیجتی تھیں۔
میں غریب گھرانے میں شاہانہ زندگی بسر کررہا تھا۔
ایک دن ہم اسکول پڑھنے گئے،جاتے ہوئے یا آتے ہوئے مجھ سمیت میرے ہم عمر بہت سارے بچوں کو راستے میں ایک شخص نے بلایا اور سب میں ٹافیاں تقسیم کیں۔کافی بچوں نے ان سے ٹافی لیکر کھائی ۔ اسکے بعد مجھے ہوش نہیں رہا کہ دنیا میں کیا ہوا، کیسے ہوا۔
پھر ایک وقت آیا کہ ہم سب بچے ٹرین میں پڑے تھے۔شاید ہمیں ایران لایا جارہا تھا۔کسی اسٹیشن پر موقع پاکر میں ٹرین سے کودا،سامنے دوڑ کر ایک دیوار کے پیچھے چھپ گیا۔
ٹرین جب چل پڑی تو میں قریب میں واقع ایک مسجد میں داخل ہوا۔
مسجد میں ایک صاحب تلاوت کررہے تھے ان کے پاس گیا تو اتفاقا وہ شخص فارسی زبان جانتا تھا،میں جہاں اترا تھا وہ بلوچ آبادی تھی۔
اس وقت لوگ جمع ہوئے شور مچا تھا۔
مجھے قریبی تھانے کےجایا گیا وہاں رپورٹ لکھی گئی،اور مجھے پولیس نے اس مسجد میں تلاوت کرنے والے صاحب کے حوالے اس لئے کیا کہ وہ میری زبان جانتے تھے تاکہ میں ان سے بات کروں اور زیادہ نا روؤں۔
اس پولیس اسٹیشن میں آج بھی میری گمشدگی کی رپورٹ موجود ہے۔
مجھے جس کے حوالے کیا گیا انہوں نے بہت کوشش کی میرے والدین کو ڈھونڈیں لیکن وہ کامیاب نا ہوئے۔
میں انکے گھر میں بڑا ہوا۔ انہوں نے مجھے اپنا بیٹا بناکر رکھا۔
جنہوں نے مجھے پالا میں انکا احسان کبھی بھول سکتا انہوں نے مجھے ہر چیز دی کسی چیز کی کمی رہنے نہیں دی۔
جب میری شادی ہوئی بچے ہوئے تو مجھے اولاد کی محبت اور اسکی تکلیف کا احساس ہونا شروع ہوا۔
مجھے اپنےوالدین کی فکر اندر اندر سے کھانے لگی تھی کہ میرے بعد ان پر کیا گزری ہوگی؟ میں اکلوتا بیٹا تھا انکو سہارے کی ضرورت ہوگی۔بہنوں کو بھائی کی اشد ضرورت ہوگی۔
ولی اللہ بھائی آپ میرے گھر والے ڈھونڈنے میں مدد کرو میں بہت پریشان ہوں۔ میں کئی مرتبہ کابل بھی گیا لیکن مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔
میں اپنے والدین کے لئے خود کو قربان کرنا چاہتا ہوں۔انکی ہر طرح سے خدمت کرنا چاہتا ہوں۔
میرا نام والدین نے غلام فاروق رکھا تھا۔
والد کا نام ہمایون تھا،والدہ کا نام جمیلہ بی بی تھا۔
ہمارے والد تاجک تھے اور والدہ پشتون تھی،۔
بڑی بہن کا نام پشتنہ تھا۔ایک بہن کا نام زرمینہ یاد ہے۔
ہمارے گھر کے قریب ایک پہاڑی تھی جسمیں چھوٹے پتھر ہوتے تھے،اور ایک سرکاری قسم کا اسکول تھا جو بلڈنگز پر مشتمل تھا،اور کچھ فاصلے پر آٹے اور گھی کی گودام/فیکٹری تھی۔دوسری طرف کچھ فاصلے پر معذوروں کا ایک بڑا اسپتال تھا۔
جب میں گم ہوا تھا اس وقت میں سنتا تھا کہ احمد شاہ مسعود اور موجودہ افغان حکومت والوں کی جنگ ہورہی تھی۔
برائے مہربانی میں مرنے سے پہلے ضرور اپنوں کو دیکھنا چاہتا ہوں۔
تمام دوست اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ ہمارے پیج پر افغانستان سے موجود دوست اپنی اپنی زبانوں میں ترجمہ کرکے وہاں خوب عام کریں،وہاں کے ٹی وی چینلز تک پہنچائیں۔
آپکی معمولی حرکت کسی بچھڑے پیارے کو دہائیوں بعد اپنوں سے ملا سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
16 Jan 2026