09/03/2026
😂 بلوچ اور سرائیکی دوست کی کہانی
ایک بلوچ اور ایک سرائیکی کی بڑی گہری دوستی تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے بے حد محبت اور خلوص سے پیش آتے تھے۔ ❤️
ہر مشکل اور خوشی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے تھے۔
ایک دن بلوچ کا والد اپنے بیٹے سے ملنے آیا۔ رات ہو چکی تھی، اس لیے سرائیکی دوست نے بڑی محبت سے ان کی خاطر تواضع کی، کھانا پیش کیا اور مہمان نوازی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ 🍽️
کھانے کے بعد سب لوگ آرام کرنے لگے۔
رات کے کسی پہر اچانک بلوچ کے والد کی طبیعت خراب ہو گئی۔ وہ بے چین ہو کر بار بار بلوچ زبان میں کہنے لگے:
“آفے دائے… آفے دائے…!” 😥
سرائیکی دوست نے یہ الفاظ سنے تو وہ سمجھا کہ شاید وہ کوئی دعا یا کلمہ پڑھ رہے ہیں۔ اس نے دل میں سوچا:
“واہ! کیا مضبوط ایمان ہے… آخری وقت میں بھی اللہ کو یاد کر رہے ہیں۔”
ادھر وہ بیچارے بار بار یہی الفاظ دہراتے رہے… مگر سرائیکی دوست معنی نہ سمجھ سکا۔
اسی حالت میں رات گزر گئی… اور وہ بزرگ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ 😔
صبح سرائیکی دوست نے بلوچ کے بیٹے کو خبر دی۔ وہ فوراً آیا اور اپنے والد کے پاس بیٹھ کر رونے لگا۔
سرائیکی دوست نے تسلی دیتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بھائی صبر کرو… یہ سب اللہ کی مرضی ہے۔ ویسے ایک بات بتاؤں؟ آپ کے ابو کا ایمان بڑا مضبوط تھا۔ آخری وقت میں بار بار کچھ پڑھ رہے تھے… کہتے تھے:
‘آفے دائے… آفے دائے…’ ”
یہ سنتے ہی بلوچ نے غصے میں آ کر فوراً اس کی گریبان پکڑ لی اور بولا: 😡
“ارے پاگل! تم نے میرے ابو کو پیاسا مار دیا! وہ دعا نہیں پڑھ رہے تھے… وہ تو پانی مانگ رہے تھے!”
یہ سن کر سرائیکی کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں… اور وہ بے اختیار سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ 😳
سبق
کبھی کبھی زبان نہ سمجھنے کی غلطی بہت بڑا نقصان کر دیتی ہے…
اس لیے کسی کی بات سمجھے بغیر نتیجہ نکالنا ٹھیک نہیں۔
#منقول
___________________________________________
ایسی ہی مزاحیہ/طنزیہ/اصلاحی کہانیاں پڑھنے کے لیے میری پروفائل فالو کر لیں۔
میرے قسط وار ناول پڑھنے کے لیے پروفائل وِزٹ کریں۔