11/03/2026
https://youtu.be/CWdqwsW0_6E
عنوان: پارہ 22: وَمَنْ يَقْنُتْ | بیان القرآن | ڈاکٹر اسرار احمدؒ | العلم ایجوکیشن سسٹم
تفصیل: اس ویڈیو میں ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے علمی شاہکار 'بیان القرآن' کے تناظر میں بائیسویں پارے (وَمَنْ يَقْنُتْ) کا فکری خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ اس پارے میں اسلامی معاشرت کے پاکیزہ اصول، شکر اور ناشکری کے نتائج اور دعوتِ حق کے انقلابی پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے۔
پارے کے مرکزی مضامین اور سورتوں کا خلاصہ:
ازواجِ مطہرات اور مثالی معاشرت (سورۃ الاحزاب): پارے کا آغاز امہات المؤمنین کے بلند مقام اور ان کے لیے مخصوص قرآنی ہدایات سے ہوتا ہے۔ اس میں حجاب کے تفصیلی احکامات (جلباب کا لٹکانا) بیان کیے گئے ہیں تاکہ اسلامی معاشرے میں حیا اور پاکیزگی کا نظام قائم ہو۔ اسی حصے میں نبی کریم ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کی فضیلت اور اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے
۔
داستانِ شکر و ناشکری (سورۃ سبا): اس سورت میں حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کی حکمرانی کا ذکر ہے، جنہوں نے مادی طاقت اور اقتدار ملنے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس کے برعکس 'قومِ سبا' کا تذکرہ ہے جنہیں اللہ نے نعمتوں سے نوازا، مگر ان کی ناشکری کے نتیجے میں انہیں 'سیلابِ عرم' کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک یہ واقعہ مادہ پرستی کے انجام کی ایک بڑی عبرت ہے۔
اللہ کی خالقیت اور حاکمیت (سورۃ فاطر): یہ سورت اللہ تعالیٰ کی صفتِ فاطر (عدم سے وجود میں لانے والا) پر روشنی ڈالتی ہے
۔ اس میں فرشتوں کی تخلیق، اللہ کی رحمت کے خزانوں اور کائنات پر اس کی مکمل گرفت کا تذکرہ ہے۔ یہ واضح کیا گیا ہے کہ حقیقی عزت اور قوت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
رسالت کی حقانیت اور دعوت (سورۃ یٰسین): پارے کے آخری حصے میں سورۃ یٰسین کا ابتدائی حصہ شامل ہے، جسے قرآن کا دل کہا جاتا ہے
۔ اس میں نبی کریم ﷺ کی رسالت کی گواہی اور 'اصحاب القریہ' (بستی والوں) کا قصہ بیان ہوا ہے، جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ دعوتِ حق کو جھٹلانے والی قوموں کا انجام کیا ہوتا ہے۔
حاصلِ مطالعہ: بائیسواں پارہ ہمیں فرد کی اخلاقی پاکیزگی، اجتماعی شکر گزاری اور وحیِ الٰہی کی بالادستی کا درس دیتا ہے تاکہ ایک حقیقی انقلابی معاشرہ تشکیل پا سکے۔