02/03/2026
کیا خلیجی ممالک جنگ میں شامل ہوں گے؟
ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے بعد خلیجی ممالک ایک مشکل صورتِ حال میں پھنس گئے ہیں۔ اگر وہ جواب دیتے ہیں تو انہیں اسرائیل کے ساتھ کھڑا سمجھا جائے گا، اور اگر خاموش رہتے ہیں تو ایسا لگے گا کہ وہ اپنی سرزمین پر حملہ برداشت کر رہے ہیں۔
حملوں کے بعد کیا بدلا؟
جب ایرانی میزائل خلیجی دارالحکومتوں اور شہروں میں گرے تو صرف عمارتوں کو نقصان نہیں پہنچا، بلکہ اس خطے کی وہ ساکھ بھی متاثر ہوئی جسے یہ ممالک برسوں سے قائم کر رہے تھے — یعنی امن، ترقی اور استحکام کا مرکز ہونا۔
خلیجی ممالک ہمیشہ یہ تاثر دیتے آئے ہیں کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے تنازعات سے الگ اور محفوظ ہیں۔ لیکن ان حملوں نے یہ دکھا دیا کہ وہ بھی اس کشیدگی سے محفوظ نہیں رہے۔
:خلیجی ممالک کے سامنے مشکل فیصلہ
اب ان ممالک کے پاس دو ہی راستے دکھائی دیتے ہیں
ایران کو جواب دیں — جس سے وہ اسرائیل کے ساتھ ایک ہی صف میں نظر آ سکتے ہیں۔
خاموش رہیں — جس سے کمزوری کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے اور ان کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
بہت سے علاقائی رہنما اور تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ خلیجی ممالک کو ایسی جنگ میں نہیں گھسیٹا جانا چاہیے جو ان کی اپنی نہیں ہے۔
قطر کے سابق وزیراعظم کا مؤقف
قطر کے سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ حمد بن جاسم نے کہا کہ خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک کو ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ میں نہیں جانا چاہیے، حالانکہ ایران نے ان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ قوتیں چاہتی ہیں کہ خلیجی ممالک ایران کے ساتھ براہِ راست ٹکراؤ میں آ جائیں۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو دونوں طرف کے وسائل ضائع ہوں گے اور بیرونی طاقتوں کو مداخلت کا موقع مل جائے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ خلیجی ممالک کو ایک متحد طاقت کے طور پر رہنا چاہیے تاکہ کوئی انہیں الگ الگ نشانہ نہ بنا سکے۔
کیا یہ واقعی ان کی جنگ ہے؟
خطے میں ایک عام رائے یہ بھی ہے کہ یہ اصل میں اسرائیل اور امریکہ کی جنگ ہے، اور خلیجی ممالک اس میں براہِ راست فریق نہیں ہیں۔
دوحہ کے ایک سینیئر صحافی نے واضح الفاظ میں کہا کہ خلیجی ممالک ترقی، خوشحالی، سیکیورٹی اور مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی کسی نظریاتی لڑائی کا حصہ بننا چاہتے ہیں — نہ اسرائیل کی طرف سے اور نہ ایران کی طرف سے۔
خلاصہ
مختصر یہ کہ خلیجی ممالک اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ وہ اپنی خودمختاری کا دفاع بھی کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایسی جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے جو ان کے مفاد میں نہیں۔
ان کی کوشش یہی ہے کہ وہ متحد رہیں، جذبات میں آ کر فیصلہ نہ کریں، اور خطے کو مزید بڑی تباہی سے بچائیں