Darul Abdaal

Darul Abdaal علمائے اہل سنت کی کتب شائع کرنے والا باعتماد ادارہ
[email protected]

نام : مبادیات تصنیفمصنف: ابوالابدال محمد رضوان طاہر فریدیپیپر: 70گرام بیروتی سائز: 8/11ہدیہ: 750ہوم ڈلیوری فریکتاب کے بع...
25/05/2026

نام : مبادیات تصنیف
مصنف: ابوالابدال محمد رضوان طاہر فریدی
پیپر: 70گرام
بیروتی سائز: 8/11
ہدیہ: 750
ہوم ڈلیوری فری

کتاب کے بعض مندرجات
اس کتاب میں آپ پڑھ سکیں گے۔
👈مصنفین کےطبقات کتنے اور کون کون سے ہیں۔
👈تحریری کام میں اہلسنت کی مجموعی حالت کیا ہے ؟
👈قلمی کام کے سلسلہ میں اکابرین اہلسنت کے فرمودات اور دعوت فکر
👈علما پر تصنیفی کام کا حکم کیا ہے ؟
👈تصنیف و تالیف میں کب مشغول ہوا جاے ؟
👈عصر حاضر میں کن عنوانات پر لکھنا چاہیے ؟
👈اصناف کتب کا تعارف جن سے علما کو عام واسطہ پڑتا ہے۔
👈مقاصد تصنیف کا تفصیلی بیان۔
👈تصنیف و تالیف سے متعلق اہم اور متفرق قواعد۔
👈کثرت تصنیف کرنے والے بعض علما کا مختصر تذکرہ۔
👈مخطوطات اور قلمی کتب کی اہمیت اور ان کو زندہ کرنے کے لیے تجاویزات۔
👈مدارس میں طلبا کی تحریری تربیت کے سلسلہ میں تجاویزات اور مختصر جدول۔
👈اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ جو صرف کتاب کے مطالعہ سے ہی حاصل ہوگا۔

کتاب کے بعض مندرجات کا تعلق صاحبان فکر اور بانیان مدارس و ذمہ داران اہلسنت سے ہےاور بعض کا تعلق نٸے لکھاریوں سے ہے۔
یہ کتاب ایک طرف نٸے قلم کاروں کی تربیت کا سامان فراہم کرتی ہے تو دوسری طرف ذمہ داران اہلسنت کو دعوت عمل دیتی ہے۔

پورے پاکستان میں ہوم ڈلیوری حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں۔ 👇
https://wa.me/923177101307
نیز دارالابدال کی مطبوعات کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے درج ذیل گروپ جواٸن کر لیجیے۔
https://chat.whatsapp.com/JiWfrbCZGtk5vIbS4uHtLy
#مبادیات

نیز دارالابدال کی مطبوعات کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے درج ذیل گروپ جواٸن کر لیجیے۔
https://chat.whatsapp.com/JiWfrbCZGtk5vIbS4uHtLy

گزشتہ دنوں "مذہبی اسٹیبلشمنٹ" کے عنوان سے لگائی گئی پوسٹ کے حوالے سے ان تمام احباب کی خدمت میں گزارش ہے جنہوں نے اس پوسٹ...
21/05/2026

گزشتہ دنوں "مذہبی اسٹیبلشمنٹ" کے عنوان سے لگائی گئی پوسٹ کے حوالے سے ان تمام احباب کی خدمت میں گزارش ہے جنہوں نے اس پوسٹ کو بغور نہیں پڑھا۔
وہ تحریر مفتیِ اعظم پاکستان، حضرت مفتی منیب الرحمٰن صاحب (دامت برکاتہم العالیہ) کے خلاف ہرگز نہیں تھی۔ اس میں جس "تحقیق کے استاد" کا ذکر تھا، وہ کوئی اور شخص ہے جس نے اسٹیبلشمنٹ والا کردار ادا کیا تھا۔
مفتی صاحب کی تصویر کے ساتھ وہ پوسٹ اس حاسد شخص کو یہ پیغام دینے کے لیے لگائی گئی تھی کہ: تم نے جس کتاب کو مارکیٹ میں آنے سے روکنے کے لیے سازشیں کیں اور اپنا گھناؤنا کردار ادا کیا، وہ نہ صرف طبع ہو چکی ہے بلکہ مفتیِ اعظم پاکستان جیسی عظیم شخصیت کے مطالعے میں بھی آ گئی ہے۔
اس تمام عمل کے نتیجے میں تمہارے ہاتھ صرف ذلت، رسوائی اور جلن کے سوا کچھ نہیں آیا۔
ایک اہم وضاحت:
جن احباب نے اس شخص کا نام ظاہر نہ کرنے پر شکوہ کیا، انہیں بتاتا چلوں کہ نام کا ذکر محض ایک انتہائی محترم شخصیت کے مشورے اور حکم کی پاسداری میں وقتی طور پر روکا گیا ہے۔ یقین رکھیں، جب وقت اور ضرورت کا تقاضا ہوا تو آپ اس گھناؤنا کردار ادا کرنے والے شخص کے نام اور حقیقت سے بھی بخوبی واقف ہو جائیں گے۔

مذہبی اسٹیبلشمنٹ!جی ہاں، آپ نے بالکل درست پڑھا ہے۔ جس طرح ملکی سیاست میں ایک اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے، بالکل اسی طرح ایک "مذہب...
18/05/2026

مذہبی اسٹیبلشمنٹ!
جی ہاں، آپ نے بالکل درست پڑھا ہے۔ جس طرح ملکی سیاست میں ایک اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے، بالکل اسی طرح ایک "مذہبی اسٹیبلشمنٹ" بھی وجود رکھتی ہے، جو ملکی اسٹیبلشمنٹ ہی کی طرح یہ چاہتی ہے کہ تمام تر مذہبی و علمی معاملات صرف اور صرف اس کی مرضی اور اشاروں پر چلیں۔ یہ مذہبی اسٹیبلشمنٹ پسِ پردہ کس طرح اپنے مکروہ ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے؟ آئیے، آپ کو ایک حالیہ واقعے سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔
مفتیِ اعظم پاکستان، مفتی منیب الرحمن ہزاروی صاحب کے دستِ مبارک میں آپ جو کتاب دیکھ رہے ہیں، یہ دراصل میری نئی تالیف ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ اپنی دیگر تصنیفی مصروفیات کے باعث، میں نے چند ماہ قبل اشاعتی امور سے کچھ عرصے کے لیے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہی (اور جو لوگ پبلشنگ کے معاملات سے وابستہ ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اشاعتی سرگرمیاں کتنا وقت لے جاتی ہیں)۔ اسی لیے میں نے اس کتاب کی طباعت و اشاعت کے لیے کراچی کے ایک معروف ناشر سے رابطہ کیا۔ موصوف ناشر نے کتاب کا مسودہ بغور ملاحظہ کرنے کے بعد اسے اپنے ادارے سے شائع کرنے کی ہامی بھر لی اور دو ماہ کا وقت مانگا۔ دو ماہ گزرے تو مزید دو ماہ کی مہلت طلب کی گئی۔ بالآخر، چار ماہ کے طویل انتظار کے بعد کتاب کی اشاعت کا حتمی فیصلہ ہوا، کیونکہ پسِ پردہ میری کچھ دیگر کتب کی تیاری بھی آخری مراحل میں تھی۔ کتاب کی فارمیٹنگ اور کمپوزنگ وغیرہ کا کام مکمل ہوا اور جیسے ہی کتاب کا دیدہ زیب ٹائٹل تیار ہو کر سامنے آیا، تو ہمارے ایک نام نہاد "متمحقق" کی چھٹی حس اچانک پھڑک اٹھی۔
ان صاحب نے ناشر سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور ان سے کتاب کا مسودہ اس بہانے اڑا لیا کہ "میں اس پر نظرِ ثانی کروں گا، کیونکہ میں اس دور کا سب سے بڑا محقق ہوں اور میری اجازت اور رائے کے بغیر یہ علمی مواد مارکیٹ میں نہیں چھپنا چاہیے"۔ ناشر صاحب ایک شریف انسان تھے، جو پہلے ہی اس متمحقق کے سحرِ بد میں گرفتار تھے، انہیں لگا کہ شاید یہ صاحب ان کے ادارے کی بہتری کے لیے کہہ رہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے کتاب کا مسودہ ان کے حوالے کر دیا۔
اب ہمارے ان ہر دلعزیز متمحقق نے کتاب کے مباحث پر اپنے مزعومہ تحفظات کا اظہار کر کے ناشر کو شیشے میں اتار لیا کہ "پہلے مؤلف سے یہ تحفظات دور کروائیں، پھر کتاب شائع کیجیے گا"۔ لیکن داد دیجیے موصوف کی بزدلی کو کہ وہ خود پردے کے پیچھے چھپ کر وار کر رہے تھے۔ انہوں نے ناشر کو سخت تاکید کی کہ "کچھ بھی ہو جائے، میرا نام سامنے نہیں آنا چاہیے، بس آپ اپنے طور پر انہیں مسودے میں تبدیلی کا کہیے"۔
چنانچہ ناشر نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہنے لگے کہ "کتاب کے مباحث پر ہماری پینل ٹیم کے ایک ممبر کو کچھ تحفظات ہیں"۔ میں نے دل میں سوچا کہ بھائی! اس سے پہلے آپ نے میری دو کتابیں شائع کیں، تب تو اس پینل ٹیم کا کہیں نام و نشان تک نہ تھا۔اس کتاب کا مسودہ لیتے وقت اور اشاعت کی حامی بھرتے وقت بھی یہ ٹیم غائب تھی۔کتاب کی فارمیٹنگ اور ٹائٹل بننے تک بھی کسی ممبر کا پتا نہ تھا۔ لیکن جیسے ہی ٹائٹل پبلک ہوا، یہ مبینہ "ٹیم ممبر" اچانک آسمان سے آ ٹپکا۔
خیر، میں نے کہا: "اچھا، چلیں ٹھیک ہے، میں آپ کے تحفظات دور کیے دیتا ہوں، لیکن معترض صاحب سے کہیے کہ وہ اپنے نام کے ساتھ اپنے اعتراضات لکھ کر بھیجیں۔ اگر اعتراضات واقعی علمی نوعیت کے ہوئے تو میں انہیں خوش دلی سے قبول کروں گا اور مسودے میں جہاں تبدیلی کی ضرورت ہوئی، وہ بھی کر دی جائے گی، مگر شرط یہ ہے کہ معترض کا نام سامنے آنا ضروری ہے"۔
جیسے ہی ہمارے پیارے متمحقق نے "نام سامنے آنے" کی شرط سنی، ان کے تو پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور وہ سرپٹ بھاگ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے فوراً ناشر کی ذہن سازی شروع کر دی کہ "آپ اس کتاب کو سرے سے شائع ہی نہ کریں اور مؤلف کو صاف منع کر دیں، کیونکہ میں ان کے سامنے آنے کی ہمت نہیں رکھتا"۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کم و بیش ۷ ماہ تک انتظار کروانے کے بعد ناشر نے اپنے قریبی تعلقات کو ترجیح دی اور ہمیں اس کتاب کی اشاعت سے معذرت کر لی۔
حضرات! اب آپ نے دیکھ لیا کہ یہ مذہبی اسٹیبلشمنٹ اپنی علمی دکانیں چمکائے رکھنے کے لیے کس طرح اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے؟ یہ کتاب خالص علمی نوعیت کی ہے جو فن سکھاتی ہے، اس کے تمام مباحث علمی انداز میں اپنے موضوع کے گرد گھومتے ہیں اور اس میں کسی بھی فردِ واحد کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ جس متمحقق کو ہم اپنی کتاب کی فہرست مضامین بھیجنا بھی گوارا نہ کریں، وہ چور دروازے سے ناشر کے پاس جا کر ہماری کتاب کا مسودہ نکلوا لیں۔ کیا اسے دین داری کہتے ہیں؟ یا یہ سراسر علمی خیانت اور چوری ہے؟ ان کی اس گھٹیا حرکت نے ہمارے دل میں ان کے لیے شدید کراہت اور نفرت پیدا کر دی ہے۔
آخر کتاب کی اشاعت رکوا کر انہوں نے کون سا دین کا کام کیا تھا؟ اس کتاب میں ایسا کیا تھا؟ معاذ اللہ، کیا اس سے اہل سنّت کے عقائد پر کوئی زد پڑ رہی تھی؟ یا اسلام کو کوئی نقصان پہنچ رہا تھا؟ یا ہم نے اس کتاب کے ذریعے کسی کی شخصیت کو مجروح کرنے کی کوشش کی تھی؟ ایسا کچھ بھی تو نہیں تھا۔ اصل بات یہ تھی کہ اس متمحقق کو اپنی چلتی ہوئی دکان بند ہونے کا خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پسِ پردہ اپنے ہی سنی بھائیوں کی جڑیں کاٹتے ہیں اور جب ان کے اس نفاق کے خلاف لکھا جائے، تو فوراً "سنّیت کارڈ" کھیل کر مظلوم بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے خلاف جب ہم قلم اٹھاتے ہیں، تو مصلحت پسند بھائی لوگ لٹھ لے کر ہمارے پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ ہم شاید حسد یا معاصرانہ چپقلش کی بنا پر لکھ رہے ہیں۔
اس بندے کی اسی طرح کی غلیظ اور منافقانہ حرکتوں کی وجہ سے ہم نے پہلے بھی اسے آئینہ دکھایا تھا، تو "انڈر ورلڈ کے یہ ڈان" برا مان گئے تھے۔ یاد رکھیے! اگر انہوں نے پسِ پردہ ایسی ہی "ڈیڑھ ہوشیاریاں" جاری رکھیں، تو اس بار ایسا علمی وار ہوگا کہ جس منصب کا یہ ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں، اس پر بیٹھنے کے لائق بھی نہیں بچیں گے۔
کتاب کی اشاعت رکوا کر انہوں نے اپنی طرف سے بڑا تیر مارا تھا، لیکن الحمدللہ صرف پندرہ دن کے اندر اندر کتاب شائع ہو کر مارکیٹ میں آ گئی اور اہل علم کے ہاتھوں میں پہنچ بھی رہی ہے۔ راقم الحروف نے دارالابدال کی طرف سے اب تک جتنی بھی کتب شائع کی ہیں، یہ پہلی کتاب ہے جس کی ایڈوانس بکنگ سب سے زیادہ ہوئی ہے۔
متمحقق کو مشورہ ہے کہ جن لوگوں نے کتاب حاصل کی ہے۔ اب ان سے بھی جا کر کہیں کہ کتاب کا مطالعہ نہیں کرنا۔ کم ظرف لوگ.
بہرحال کتاب طبع ہو چکی ہے اور مفتی اعظم پاکستان جیسی عظیم شخصیت کے مطالعہ میں بھی آچکی ہے۔
آپ بھی اپنی کاپی حاصل کرنے کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
https://wa.me/923177101307




امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مخالفین ہر دور میں رہے ہیں۔ جو آپ کے خلاف مختلف طرح کے الزامات لگاتے رہے۔ عصر حاضر میں م...
09/05/2026

امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مخالفین ہر دور میں رہے ہیں۔ جو آپ کے خلاف مختلف طرح کے الزامات لگاتے رہے۔ عصر حاضر میں مخالفت کا یہ محاذ غیر مقلدین اور سلفیوں نے سنبھالا ہوا ہے۔ آپ کی شخصیت پر ایک الزام عربیت کی کم علمی کا لگایا جاتا ہے۔ اس الزام کی حقیقت کی حیثیت پر مدلل و محققانہ انداز میں جائزہ لے کر اسے زیر نظر کتاب میں رد کیا گیا ہے۔ مسلک احناف کے علما کے لیے یہ کتاب بیش بہا علمی تحفہ ہے۔
یہ کتاب بڑے سائز میں ڈیجیٹل پرنٹگ کے لیے تیار ہونے جا رہی ہے۔ کسی اور ساتھی کو اگر اس کا نسخہ ذاتی مطالعہ یا لائبریری کے لیے چاہیے تو وہ درج ذیل نمبر پر اپنا نسخہ بک کروا سکتا ہے۔

اپنی کاپی بک کروانے کے لیے اس لنک پر رابطہ کریں۔
وٹس اپ:
https://wa.me/923177101307

اپنی کتابوں کی کسی بھی طرح کی معیاری اشاعت کے لیے دارالابدال سے رابط فرمائیں۔0092 03177101307
01/05/2026

اپنی کتابوں کی کسی بھی طرح کی معیاری اشاعت کے لیے دارالابدال سے رابط فرمائیں۔
0092 03177101307

نام: احادیث میں تعارض کیسے دور کریں ؟الاصول المتعارفہ لرفع التعارض بین الاحادیث المتعارضہمصنف: ابوالابدال محمد رضوان طاہ...
30/04/2026

نام: احادیث میں تعارض کیسے دور کریں ؟
الاصول المتعارفہ لرفع التعارض بین الاحادیث المتعارضہ
مصنف: ابوالابدال محمد رضوان طاہر طاہرفریدی
پیپر: 70 گرام امپورٹڈ
ساٸز 7/9
باٸیڈنگ: مجلد
منکرین حدیث اور مستشرقین کے پاس احادیث نبویہ کو ہدف تنقید بنانے کی ایک بڑی وجہ احادیث نبویہ میں موجود ظاہری تعارض ہے۔ یہ لوگ خود علم مختلف الحدیث اور مشکل الحدیث سے جاہل ہوتے ہیں، عام مسلمان بھی ان علوم سے واقف نہیں ہوتے۔ صرف علما ہی ان میں کلام کرنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا فائدہ اٹھا کر مستشرقین اور منکرین حدیث شریعت مطہرہ کے دوسرے بڑے مآخذ یعنی احادیث رسول ﷺ کو ہدف تنقید بنا کر مسلمانوں کے ذہنوں میں ان کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر جب احادیث میں موجود ظاہری تعارض کو رفع کرنے کے اصول و ضوابط ذہن نشین کر لیے جائیں تو پھر ناقدین کے تنقید کوئی نقصان نہیں پہنچاتی اور مسلمان حدیث رسول ﷺ سے متعلق کسی بھی طرح کے شکوک میں مبتلا نہیں ہوتا۔
اسی مقصد کے پیش نطر انتہائی آسان اسلوب میں زیر نظر کتاب تالیف کی گئی ہے۔
یہ کتاب بنیادی طور پر احادیث نبویہ میں موجود ظاہری تعارض کو رفع کرنے کے اصول و قواعد پر مشتمل ہے۔ مگر الحَمْدُ ِلله اس مشکل اور ادق موضوع کو انتہاٸی سہل اور دلچسپ اسلوب میں پیش کرنے کی کوشش کیا گیا ہے۔
کتاب میں موجود مباحث میں سے بعض درج ذیل ہیں
حدیث رسول ﷺ کی آٸینی و شرعی حیثیت، قرآن مجید، احادیث نبویہ اور اقوال اٸمہ کی روشنی میں۔ قرآن و حدیث میں حقیقی تعارض سرے سے موجود نہیں ہے۔ علم مختلف الحدیث پر کتب کا ذکر۔ تعارض کی لغوی و اصطلاحی تعریف و تحقیق۔
ایسے کٸی اسباب اور صورتوں کا ذکر جن سے آگاہی کے بعد پتا چلتا ہے کہ جن احادیث کو کوٸی فرد تعارض پر محمول کر رہا ہے ان میں سرے سے تعارض موجود ہی نہیں ہے۔
احادیث میں ظاہری تعارض پیدا ہونے کے اسباب کا تفصیلی ذکر، اسباب اور وجوہات و اقسام
اگر کسی مقام میں واقعی تعارض ہے تو ان کو رفع کرنے کے قواعد کا بیان۔ یعنی کس طرح کس مقام پر کون سا قاعدہ استعمال ہوگا اور کس طرح دو متعارض احادیث سے تعارض رفع کرکے انھیں قابل عمل بنایا جاتا ہے۔
ان قواعد کے استعمال میں ترتیب کیا ہوگی؟
پوری کتاب میں تمام مباحث کو مثالوں کے ذریعے سمجھایا ہے تاکہ کسی پر کوٸی بات مبہم نہ رہ جاے۔
آخر میں اردو زبان میں اس موضوع پر مزید کام کرنے کی بعض جہات پر تجاویزات و آرا بھی پیش کر دی ہیں۔
حدیث شریف پڑھنے والا مدرسے کا طالب علم ہے یا کالجز و یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے افراد ۔ انھیں احادیث متعارضہ سے متعلق تمام سوالوں کے جوابات اس کتاب میں مل جاٸیں گے۔
مستشرقین و منکرین حدیث جو احادیث متعارضہ کی آڑ میں مسلمانوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات ڈالتے ہیں ان سب کی کاٹ اس کتاب میں موجود ہے۔
پورے پاکستان میں کتاب ہوم ڈلیوری حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں۔
https://wa.me/923177101307




علم السرقہ "مفہوم، اقسام اور سزائیں"تحقیق و تصنیف کی دنیا میں جہاں نت نئے علوم پر کام ہو رہا ہے، وہیں "علم السرقہ" (Plag...
22/04/2026

علم السرقہ "مفہوم، اقسام اور سزائیں"
تحقیق و تصنیف کی دنیا میں جہاں نت نئے علوم پر کام ہو رہا ہے، وہیں "علم السرقہ" (Plagiarism) ایک ایسا اہم ترین موضوع ہے جس سے ہمارے دور کے بہت سے محققین کماحقہ واقف نہیں ہیں۔ حالانکہ ایک سچے محقق اور مؤلف کے لیے اس علم کی باریکیوں کو سمجھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ خود تحقیق کرنا۔
زیرِ نظر کتاب اسی اہم ضرورت کو پورا کرنے کے لیے لکھی گئی ہے، جو علمی چوری اور تحریف کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔
کتاب کے بنیادی مباحث
اس کتاب میں آپ نہایت تفصیل کے ساتھ درج ذیل عنوانات کا مطالعہ کر سکیں گے:
تحقیق کی بنیاد: اسلام میں تحقیق کی اہمیت، ضرورت اور اسلاف کے نزدیک تصنیفِ کتب کے حقیقی مقاصد۔
علمی سرقہ کا مفہوم: علمی سرقہ کی جامع تعریف، اقسام اور اس کے پسِ پردہ محرکات و اسباب۔
سارقین کا محاسبہ: علمی چوری کا سہارا لینے والوں کے خود ساختہ دلائل کا علمی و تنقیدی جائزہ۔
قانونی و شرعی حیثیت: سارقینِ علم کی دینی پوزیشن اور آئینِ پاکستان کے تحت کاپی رائٹ قوانین اور سزاؤں کی تفصیل۔
علمی باریکیاں: "توارد" (Coincidence) اور "سرقہ" کے درمیان فرق، نیز "تحریف" کے لغوی و اصطلاحی مفہوم پر سیر حاصل بحث۔
تقابلی جائزہ: علمی سرقہ اور تحریف کے درمیان فرق اور ان کے معاشرتی و شخصی نقصانات۔
راہِ نجات: محققین کے لیے وہ عملی تدابیر جن کے ذریعے وہ انجانے میں ہونے والے علمی سرقہ سے بچ سکتے ہیں۔
یہ کتاب کن کے لیے ہے؟
اگر آپ جامعہ کے استاد ہیں، مدارس میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، یا ایک محقق اور نئے لکھاری کی حیثیت سے علمی میدان میں قدم رکھ رہے ہیں، تو یہ کتاب آپ کی ناگزیر ضرورت ہے۔
خاص طور پر یونیورسٹیز میں ایم فل (M.Phil) اور پی ایچ ڈی (Ph.D) کے طلبہ اور مدارسِ دینیہ میں تخصیص و تحقیقی مقالات لکھنے والے محققین کے لیے اس کتاب کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے، تاکہ ان کا تحقیقی کام سرقہ سے پاک، مستند اور عالمی معیار کے مطابق ہو۔
اس کتاب کی اشاعت علمی دنیا میں ایک نمایاں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ اس کے مطالعہ کے بعد معاشرے میں سارقین کی گرفت ایک معمول بن جائے گی اور وہ عناصر جو محض چند روپوں کی خاطر طلبہ کو تحقیق کے نام پر "سرقہ" کی تعلیم دے رہے ہیں، مکمل طور پر بے نقاب ہوں گے۔
تحقیق و تصنیف سے وابستہ افراد کے لیے یہ کتاب ایک بہترین علمی تحفہ ہے۔ اپنے دوستوں، شاگردوں اور ساتھی محققین کو یہ کتاب نہ صرف خود پڑھنے کی ترغیب دیں بلکہ انہیں بطور ہدیہ پیش کریں، تاکہ علمی دیانت داری کا شعور عام ہو سکے۔ یہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک علمی صدقہ ہے جو لکھنے والوں کے کام کو بے داغ بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔
علمی دیانت داری کے اس دور میں اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نام سارقین کی فہرست میں شامل نہ ہو اور آپ کا تحقیقی کام انگشت نمائی سے محفوظ رہے، تو اس کتاب کا مطالعہ خود پر لازم کر لیجیے، کیونکہ علم سے لاعلمی اب کوئی عذر نہیں رہے گی۔
دارالابدال، اوکاڑہ (پاکستان) کے زیرِ اہتمام یہ کتاب نہایت اعلیٰ معیار کے ساتھ شائع کی جا رہی ہے:
70 گرام امپورٹڈ پیپر
معیاری اور خوبصورت طباعت و جلد بندی
عام ہدیہ: 1200 روپے
رعایتی ہدیہ: محض 600 روپے (محدود مدت کے لیے)
ابھی اپنی کاپی بک کروائیں اور اپنے علمی و تحقیقی سفر کو دیانت داری اور مہارت کے ساتھ آگے بڑھائیں۔
اپنی کاپی بک کروانے کے لیے اس لنک پر رابطہ کریں۔
وٹس اپ:
https://wa.me/923177101307

"وفیات المشاہیر"جیسا کہ نام سے عیاں ہے، یہ تالیف "مشاہیرِ اہل سنت" کے احوالِ وفات اور ان کے علمی و روحانی سفر کے تذکرے پ...
18/04/2026

"وفیات المشاہیر"
جیسا کہ نام سے عیاں ہے، یہ تالیف "مشاہیرِ اہل سنت" کے احوالِ وفات اور ان کے علمی و روحانی سفر کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ عموماً "وفیات" کا لفظ ذہن میں ایک خشک اور روایتی موضوع کا تصور ابھارتا ہے، لیکن اہل ذوق کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ ہم نے اس کتاب کو محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رکھا۔
بلکہ اس کتاب میں ہر شخصیت کے سوانحی خاکے پر جامع نوٹ شامل کیے گئے ہیں، جن میں ان کی علمی و روحانی خدمات کا بھرپور اعتراف موجود ہے۔ اساتذہ، مشائخ، تلامذہ اور تصانیف کے ذکر کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی کے اہم واقعات، حکمت آمیز اقوال اور ملفوظات کو بھی زینتِ قرطاس بنایا گیا ہے۔ یوں یہ کتاب صرف وفیات کا مجموعہ ہی نہیں، بلکہ اکابرین کی حیات و خدمات کا ایک روشن آئینہ بھی ہے جو بیک وقت وفات کی تاریخوں کے ساتھ ساتھ مختصر مگر جامع سوانحی کوائف بھی فراہم کرتی ہے۔
ضخامت: 458 صفحات (بڑے سائز پر)
کاغذ: 70 گرام امپورٹڈ (اعلیٰ کوالٹی)
عام ہدیہ: 4000 روپے
رعایتی ہدیہ (بشمول ہوم ڈلیوری): صرف 2000 روپے

ضروری اطلاع: جن احباب نے ایڈوانس بکنگ کروائی تھی، ان کی کتب ارسال کی جا چکی ہیں۔ باقی شائقینِ علم اپنا آرڈر کنفرم کرنے کے لیے جلد رابطہ فرمائیں۔
روبطہ نمبر، وٹس اپ:
https://wa.me/923177101307

نام: وفیات المشاہیرمولف: ابوالابدال محمد رضوان طاہر فریدی پیپر: 70 گرام امپورٹڈپورے پاکستان میں کتاب ہوم ڈلیوری حاصل کرن...
24/02/2026

نام: وفیات المشاہیر
مولف: ابوالابدال محمد رضوان طاہر فریدی
پیپر: 70 گرام امپورٹڈ

پورے پاکستان میں کتاب ہوم ڈلیوری حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں۔
اپنا آرڈر ابھی بک کروائیں ۔

https://wa.me/923177101307





نیز دارالابدال کی مطبوعات کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے درج ذیل گروپ جواٸن کر لیجیے۔
https://chat.whatsapp.com/JiWfrbCZGtk5vIbS4uHtLy
۔۔

نام: شب برا ٕت کے فضاٸل و معمولاتمصنف: مولانا حافظ و قاری سہیل احمد نعیمی رضویمحقق: مولانا محمد طفیل احمد مصباحیپیپر: 70...
24/01/2026

نام: شب برا ٕت کے فضاٸل و معمولات
مصنف: مولانا حافظ و قاری سہیل احمد نعیمی رضوی
محقق: مولانا محمد طفیل احمد مصباحی
پیپر: 70گرام امپورٹڈ
یہ کتاب صرف 1100 روپے میں ہوم ڈلیوری حاصل کریں۔

اس کتاب میں مصنف نے شعبان المعظم اور شب برا ٕت کی فضیلت و معمولات پر انتہائی جامع اور مستند دلائل سے گفتگو کی ہے۔ اس عمل پر امت کے معمولات کو واضح کیا ہے۔ یہ کتاب ہر گھر کی ضرورت ہے۔ لازمی حاصل کریں۔

کتاب حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں۔
https://wa.me/923177101307

نیز دارالابدال کی مطبوعات کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے درج ذیل گروپ جواٸن کر لیجیے۔
https://chat.whatsapp.com/JiWfrbCZGtk5vIbS4uHtLy


نام: مناقب الساداتمصنف: خلیفہ مخدوم اشرف سمنانی قاضی شہاب الدین دولت آبادی علیہ الرحمہمترجم: شہزادہ حضور رٸیس ملت سید نظ...
06/01/2026

نام: مناقب السادات
مصنف: خلیفہ مخدوم اشرف سمنانی قاضی شہاب الدین دولت آبادی علیہ الرحمہ
مترجم: شہزادہ حضور رٸیس ملت سید نظامی اشرف اشرفی جیلانی میرانی
پیپر: 70 گرام امپورٹڈ
ساٸز: 6/9

پورے پاکستان میں کتاب ہوم ڈلیوری حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں۔

https://wa.me/923177101307





نیز دارالابدال کی مطبوعات کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے درج ذیل گروپ جواٸن کر لیجیے۔
https://chat.whatsapp.com/JiWfrbCZGtk5vIbS4uHtLy
۔۔

Address

Okara
56300

Telephone

+923177101307

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Darul Abdaal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Darul Abdaal:

Share

Category