22/04/2025
"وہ بلی اور وہ بچہ" — ایک لمحہ جو انسانیت کا امتحان بن گیا
کل گلی سے گزرتے ہوئے میں نے ایک منظر دیکھا جس نے دل ہلا کر رکھ دیا۔
میرے آگے ایک فیملی اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ چل رہی تھی۔ قریب ہی ایک بلی اپنے ننھے بچوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اچانک وہ بچہ بھاگ کر بلی کے پاس گیا اور ایک بڑا پتھر اس پر دے مارا، جو بلی کی آنکھ کے قریب لگا۔ بلی کی تکلیف بھری چیخیں نکلتیں، مگر بچے کے ماں باپ نہ صرف خاموش رہے بلکہ ہنسنے لگے۔
بلی، جو اپنے بچوں کی خاطر ہلی بھی نہیں، وہیں بیٹھی رہی۔ بچہ ایک اور بڑا پتھر اٹھا چکا تھا۔ میں نے بائیک روکی، قریب جا کر اس کا ہاتھ روکا۔ اتنے میں اس کا والد آیا اور مجھ پر چڑھ دوڑا کہ "میرے بچے کو کیوں روکا؟"
میں نے کہا، "یہ بچہ ایک ماں پر پتھر برسا رہا ہے، اور آپ ہنس رہے ہیں؟" کہنے لگا "یہ تو جانور ہے!"
میں نے جواب دیا: "آپ بھی بایولوجی کے لحاظ سے جانور ہی ہیں، فرق صرف عقل کا ہے۔ مگر آپ نے اس عقل کا استعمال نہیں سیکھا۔"
اگر آپ بلی کو دودھ نہیں دے سکتے تو کم از کم اُس پر ظلم نہ کریں۔
ہم نے بچوں کو سکھایا ہی نہیں کہ جانور بھی جاندار ہوتے ہیں، اُنہیں بھی درد ہوتا ہے، ان کے بھی بچے ہوتے ہیں، خواب، تکلیفیں اور ضرورتیں ہوتی ہیں۔
کئی بار دیکھا ہے، بچے جانور دیکھ کر فوراً پتھر یا ڈنڈا اٹھا لیتے ہیں — اور افسوس! بعض والدین خود بچوں کو ہاتھ میں پتھر پکڑا کر کہتے ہیں "مارو!" اور جب بچہ صحیح نشانہ لگائے، تو اُسے شاباش ملتی ہے۔ یہ انسانیت ہے؟
اگر آپ کے بچے کو کوئی اسی طرح تکلیف دے، تو کیا آپ برداشت کریں گے؟ تو پھر کسی بے زبان جانور پر ظلم کر کے خوشی کیسے محسوس ہوتی ہے؟
یہ رویے بچپن میں سکھائے جاتے ہیں، اور بڑے ہو کر یہی بچے ظالم بن جاتے ہیں۔
بچوں کو پہلے اچھا انسان بنائیں، پھر ڈاکٹر، انجینئر یا وکیل۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو…" (ابو داؤد)
اور فرمایا:
"زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔"
جانور اگر نقصان دے، تو بچاؤ کریں — مگر جو بے ضرر ہو، اسے مارنا ظلم ہے۔
اگر مدد نہیں کر سکتے، تو کم از کم تکلیف نہ دیں۔ اگر بلی یا کتیا کے ساتھ چھوٹے بچے ہوں، تو اسے چند دن دودھ یا روٹی دے دیں۔ پرندے اگر بار بار کھانے کی تلاش میں آئیں، تو تھوڑا سا دانہ رکھ دیں۔
اللہ فرماتا ہے:
"ھل جزا الاحسان الا الاحسان"
یعنی "نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کیا ہے؟"
آئیے وعدہ کریں:
ہم اپنے بچوں کو سکھائیں گے کہ جانور بھی جاندار ہوتے ہیں۔ نہ خود کسی جانور کو تکلیف دیں گے، نہ کسی اور کو ایسا کرنے دیں گے۔
انسانیت کا مطلب صرف انسانوں سے محبت نہیں — بلکہ ہر جاندار سے رحمت کا سلوک ہے۔