PIR ABAD

PIR ABAD social problems and business

06/10/2022
23/08/2022

حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے پہلی دفعہ حضور نبی کریم ؐصل اللہُ علیہ وآلہ وسلم
کو کیسے دیکھا ؟
حضرت بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مکے کے لوگوں کو بہت ہی کم جانتا تھا کیونکہ غلام تھا اور عرب میں غلاموں سے انسانیت سوز سلوک عام تھا انکی استطاعت سے بڑھ کے ان سے کام لیا جاتا تھا تو مجھے کبھی اتنا وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ باہر نکل کے لوگوں سے ملوں لہذا مجھے حضور پاک یا اسلام یا اس طرح کی کسی چیز کا قطعی علم نہ تھا۔ایک دفعہ کیا ہوا کہ مجھے سخت بخار نے آلیا سخت جاڑے کا موسم تھا اور انتہائی ٹھنڈ اور بخار نے مجھے کمزور کر کے رکھ دیا لہذا میں نے لحاف اوڑھا اور لیٹ گیا ادھر میرا مالک جو یہ دیکھنے آیا کہ میں جَو پیس رہا ہوں یا نہیں وہ مجھے لحاف اوڑھ کے لیٹا دیکھ کے آگ بگولا ہو گیا اس نے لحاف اتارا اور سزا کے طور پہ میری ‏قمیض بھی اتروا دی اور مجھے کھلے صحن میں دروازے کے پاس بٹھا دیا کہ یہاں بیٹھ کے جَو پیس۔
اب سخت سردی اوپر سے بخار اور اتنی مشقت والا کام میں روتا جاتا تھا اور جَو پیستا جاتا تھا کچھ ہی دیر میں دروازے پہ دستک ہوئی میں نے اندر آنے کی اجازت دی.
‏تو ایک نہایت متین اور پر نور چہرے والا شخص اندر داخل ہوا اور پوچھا کہ جوان کیوں روتے ہو؟
جواب میں میں نے کہا کہ جاؤ اپنا کام کرو تمہیں اس سے کیا میں جس وجہ سے بھی روؤں یہاں پوچھنے والے بہت ہیں لیکن مداوا کوئی نہیں کرتا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ جملے سن کے چل پڑے، جب ‏چل پڑے تو بلالؓ نے کہا کہ بس؟
میں نہ کہتا تھا کہ پوچھتے سب ہیں مداوا کوئی نہیں کرتا
حضور ﷺ یہ سن کر بھی چلتے رہے بلالؓ کہتے ہیں کہ دل میں جو ہلکی سی امید جاگی تھی کہ یہ شخص کوئی مدد کرے گا وہ بھی گئی
لیکن بلالؓ کو کیا معلوم کہ جس شخص سے اب اسکا واسطہ پڑا ہےوہ رحمت اللعالمین ہیں..❤
حضرت ‏بلالؓ کہتے ہیں کہ کچھ ہی دیر میں وہ شخص واپس آ گیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا پیالہ اور دوسرے میں کھجوریں تھیں اس نے وہ کھجوریں اور دودھ مجھے دیا اور کہا کھاؤ پیو اور جا کے سو جاؤ۔
میں نے کہا تو یہ جَو کون پیسے گا؟
نہ پِیسے تو مالک صبح بہت مارے گا.اس نے کہا تم سو جاؤ یہ پسے ہوئے مجھ سے لے لینا
بلالؓ سو گئے اور حضور ﷺ نے ساری رات ایک اجنبی حبشی غلام کے لئے چکی پیسی..❤
صبح بلالؓ کو پسے ہوئے جو دیے اور چلے گئے دوسری رات پھر ایسا ہی ہوا، دودھ اور دوا بلالؓ کو دی اور ساری رات چکی پیسی ایسا تین دن مسلسل کرتے رہے جب تک کہ بلالؓ ٹھیک نہ ہو گئے۔۔
یہ تھا وہ تعارف جس کے بطن سے اس لافانی عشق نے جنم لیا کہ آج بھی بلالؓ کو صحابی ءِ رسول بعد میں، عاشقِ رسول پہلے کہا جاتا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے پھرتے کہ لوگو تم نے کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو، پھر کہنے لگے کہ اب مدینے میں میرا رہنا دشوار ہے، اور شام کے شہر حلب میں چلے گئے۔
تقریباً چھ ماہ بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے.
‏ما هذه الجفوة، يا بلال! ما آن لک أن تزورنا؟
حلبي، السيرة الحلبيه، 2 : 308
اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ (تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟‘‘
خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر
لبیک! یا سیدی یا رسول ﷲ! کہتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے جب ‏مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے مسجدِ نبوی پہنچ کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نگاہوں نے عالمِ وارفتگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ کبھی مسجد میں تلاش کرتے اور کبھی حجروں میں، جب کہیں نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک ‏انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کیا :
یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا کہ آکر مل جاؤ، غلام حلب سے بہرِ ملاقات حاضر ہوا ہے..❤ یہ کہا اور بے ہوش ہو کر مزارِ پُر انوار کے پاس گر پڑے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ اتنے میں سارے مدینے میں یہ خبر پھیل ‏گئی کہ مؤذنِ رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے ہیں۔
مدینہ طیبہ کے بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے ہو کر عرض کرنے لگے کہ بلال! ایک دفعہ وہ اذان سنا دو جو محبوبِ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سناتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا. ‏میں معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں جب اذان پڑھتا تھا تو اشہد ان محمداً رسول ﷲ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا تھا۔ اب یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کسے دیکھوں گا؟❤
‏بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ حسنین کریمین رضی ﷲ عنہما سے سفارش کروائی جائے، جب وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہ کر سکیں گے۔ چنانچہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا.
‏يا بلال! نشتهی نسمع أذانک الذی کنت تؤذن لرسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فی المسجد.
سبکی، شفاء السقام : 239
هيتمی، الجوهر المنظم : 27
’’اے بلال! ہم آج آپ سے وہی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ (ہمارے ناناجان) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مسجد میں سناتے تھے۔‘‘ ‏اب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو انکار کا یارا نہ تھا، لہٰذا اسی مقام پر کھڑے ہوکر اذان دی جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات میں دیا کرتے تھے۔ بعد کی کیفیات کا حال کتبِ سیر میں یوں بیان ہوا ہے :
ذهبي، سير أعلام النبلاء، 1 : 2358
‏سبکي، شفاء السقام : 340
حلبي، السيرة الحلبيه، 3 : 308
’’جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بآوازِ بلند) ﷲ اکبر ﷲ اکبر کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا (آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے جذبات میں اضافہ ہوتا چلا گیا)، جب اشھد ان لا الہ الا اﷲ کے کلمات ادا کئے گونج میں ‏مزید اضافہ ہو گیا، جب اشھد ان محمداً رسول اﷲ کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں رقت آمیز مناظر و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا لوگوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ‏ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔

16/08/2022
ہم  جناب محمد عاطف خان فوڈ منسٹر اور جناب  MPA افتخار علی مشوانی اور امتیاز ایڈوکیٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جنہوں نے اج و...
16/08/2022

ہم جناب محمد عاطف خان فوڈ منسٹر اور جناب MPA افتخار علی مشوانی اور امتیاز ایڈوکیٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جنہوں نے اج ویلج کونسل پیراباد کو سرکاری آٹےکا ٹرک مہیا کیا۔

20/07/2022
16/07/2022

عجيب و غريب ۔
*آج ہر شخص کی عمر 2022 ہے*

کیا آپ جانتے ہیں کہ آج پوری دنیا ایک ہی عمر کی ہے! آج ایک بہت ہی خاص دن ہے اور ہر ہزار سال (1,000) سال بعد صرف ایک موقع ہے۔

آپ کی عمر + آپ کا سال پیدائش، ہر شخص = 2022 ہے۔

یہ اتنا عجیب ہے کہ ماہرین بھی اس کی وضاحت نہیں کر سکتے! آپ اسے معلوم کریں اور دیکھیں کہ آیا یہ 2022 ہے۔ اس کا ایک ہزار سالہ انتظار ہے!

مثال:
میری عمر 68 سال ہے۔
میں 1954 میں پیدا ہوا۔
تو 68+1954= 2022

اس سال کے دوران آپ کی عمر کا استعمال کریں۔
مثال:
میں 1949 میں پیدا ہوا اور میری عمر 73 سال ہے۔
1949 +73=2022

بہت دلچسپ. براہ کرم اسے آزمائیں۔

❄️❄️❄️❄️❄️❄️❄️❄

04/07/2022

ایک عابد نے خدا کی زیارت (دیدار و ملاقات) کے لیے 40 دن کا چلہ کیا ۔ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا۔ اعتکاف کی وجہ سے خدا کی مخلوق سے یکسر کٹا ہوا تھا اور اسکا سارا وقت آہ و زاری اور راز و نیاز میں گذرتا تھا
36 ویں رات اس عابد نے ایک آواز سنی : شام کو
‏تانبے کے بازار میں فلاں تانبہ ساز کی دکان پر جاؤ اوراپنی مراد پا لو-
عابد وقت مقررہ سے پہلے پہنچ گیا اور مارکیٹ کی گلیوں میں تانبہ ساز کی اس دوکان کو ڈھونڈنے لگا وہ کہتا ہے ۔ "میں نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو تانبے کی دیگچی پکڑے ہوئے تھی اور اسے ہر تانبہ ساز کو دکھارہی تھی"-
‏اسے وہ بیچنا چاہتی تھی, وہ جس تانبہ ساز کو دیگچی دکھاتی وہ اسے تول کر کہتا 4 ریال ملیں گے- بڑھیا کہتی 6 ریال میں بیچوں گی- کوئی تانبہ ساز اسے 4 ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہ تھا-
آخر کار وہ بڑھیا ایک تانبہ ساز کے پاس پہنچی تانبہ ساز اپنے کام میں مصروف تھا-
‏بڑھیا نے کہا: میں یہ برتن بیچنے کے لیے لائی ہوں اور اسے 6 دینار میں بیچوں گی, کیا آپ 6 دینار دیں گے؟
تانبہ ساز نے پوچھا صرف 6 دینار میں کیوں؟ بڑھیا نے دل کی بات بتاتے ہوئے کہا: میرا بیٹا بیمار ہے، حکیم نے اسکے لیے نسخہ لکھا ہے جس کی قیمت 6 دینار ہے۔
‏تانبہ ساز نے دیگچی لے کر کہا: ماں یہ دیگچی بہت عمدہ اور قیمتی ہے۔ اگر آپ بیچنا ہی چاہتی ہیں تو میں اسے 25 دینار میں خریدوں گا!!
بوڑھی عورت نے کہا: کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟!!! "کہا ہرگز نہیں،"میں واقعی 25 دینار دوں گا- یہ کہہ کر اس نے برتن لیا اور
‏بوڑھی عورت کے ہاتھ میں 25 دینار رکھ دیئے !!! بوڑھی عورت بہت حیران ہوئی اور دعا دیتی جلدی سے اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
عابد کہتا ہے میں یہ سارا ماجرہ دیکھ رہا تھا جب وہ بڑھیا چلی گئی تو میں نے تانبےدوکان والے سے کہا:
چچا، لگتا ہے آپکو کاروبار نہیں آتا؟!! بازار میں کم و بیش سبھی تانبے والے اس دیگچی کو تولتے تھے اور 4 دینار سے زیادہ کسی نے اسکی قیمت نہیں لگائی۔ اور آپ نے 25 دینار میں اسے خریدا ھے...
بوڑھے تانبہ ساز نے کہا:
میں نے برتن نہیں خریدا, میں نے اسکے بچے کا نسخہ خریدنے کے لیے اسے پیسے دئیے ہیں, میں نے ایک ہفتے تک اسکےبیمار بچے کی دیکھ بھال کے لئے پیسے دئیے ہیں, میں نے اسے اس لئے یہ قیمت دی کہ گھر کا باقی سامان بیچنے کی نوبت نہ آئے -
عابد کہتا ہے میں سوچتا اور اسکو دیکھتا رہ گیا... اتنے میں غیبی آواز آئی
‏"چلہ کشی سے کوئی میری زیارت کا شرف حاصل نہیں کرسکتا, گرتوں کو تھامو اور غریب کا ہاتھ پکڑو ہم خود تمہارپے پاس چل کر آئیں گے"۔ اللہ کریم ھمیں سمجھ اور خلوص نیتی کیساتھ عمل کی توفیق عطا فرماۓ... اور بھلائی کا عمل اپنے ارد گرد سے کرنا چاھیے...
حکایت ۔بزم کن فیکون۔
حکایت رومی

03/07/2022

خوبصورت اور قیمت بھی مناسب،قربانی کے لئے دستیاب ہے۔
110٫000

اگر استطاعت ہو تو اکیلے بھی کافی ھے، لیکن چار پانچ حصوں کیلئے موضوع ہے۔ قیمت بھی مناسب ھے۔ -/130000
30/06/2022

اگر استطاعت ہو تو اکیلے بھی کافی ھے، لیکن چار پانچ حصوں کیلئے موضوع ہے۔ قیمت بھی مناسب ھے۔ -/130000

Address

Mardan
23200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PIR ABAD posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to PIR ABAD:

Share