Book Vision

Book Vision We Provide the Service for Political and Islamic History . . . . . Behalf of Truth

کتاب: مصر کا خاندانِ غلاماںممالیک مصر کے 267 سالہ دور کا معروضی جائزہزاہد چودھریتکمیل و ترتیب: حسن جعفر زیدیکتاب منگوانے...
30/03/2026

کتاب: مصر کا خاندانِ غلاماں
ممالیک مصر کے 267 سالہ دور کا معروضی جائزہ
زاہد چودھری
تکمیل و ترتیب: حسن جعفر زیدی

کتاب منگوانے کیلئے رابطہ کریں
شاہد خان
0325 0256288

23/03/2026

Pakistani Intellectual's predictions on March 23... What are the real facts?









#
ameengandapur
imranriazkhan siddiquejan arshadsharif nawazsharif shehbazsharif asadtoor hamid mir
imran riaz khan
imran khan
geoi tv
ary
bol
sammaa
shehbaz sharif
nawaz sharif ishaq dar
maryam nawaz
bajwa
pakistran poltical history
lahore history
imran khan news
imran khan speech
imran khan jail
prime minister imran khan speech
imran khan arrested
imran khan shot
imran khan vlog
imran khan case
imran khan court
imran khan arrest
imran khan latest
imran khan release
ashraf sharif case hearing
arshad sharif

فہرست کتاب کا نام : مصر کا خاندانِ غلاماںکتاب کے حصول کیلئے رابطہ کریں۔محمد شاہد0325 0256288
16/03/2026

فہرست
کتاب کا نام : مصر کا خاندانِ غلاماں

کتاب کے حصول کیلئے رابطہ کریں۔
محمد شاہد
0325 0256288

مسلمانوں کی سیاسی تاریخ میں دو سلطنتیں ایسی گزری ہیںجن کے حکمرانوں کوخاندان غلاماں کہا جاتا ہے۔ دونوں ہی تیرھویں صدی عیس...
16/03/2026

مسلمانوں کی سیاسی تاریخ میں دو سلطنتیں ایسی گزری ہیںجن کے حکمرانوں کوخاندان غلاماں کہا جاتا ہے۔ دونوں ہی تیرھویں صدی عیسوی میں قائم ہوئیں، ایک نے سلطنت دہلی کی بنیاد ڈالی جس کا بانی سلطان قطب الدین ایبک تھا۔ اور دوسری مصرو شام پر جسے ممالیک کی سلطنت کہا جاتا ہے، (عربی میں ممالیک ،غلاموں کو کہا جاتا تھا)۔ نسلی اعتبار سے یہ دونوں ہی ترک تھے۔

یہ ممالیک ترک غلام ان معنوں میں غلام نہیں تھے جیسے آجکل کے نوکر چاکر ہوتے ہیں۔ یہ قرون وسطیٰ میں حکمرانی کے نظام کاایک اہم ستون ہوتے تھےاور حکمران اپنے اقتدار کیلئے ان پر بہت زیادہ انحصار کرتا تھا۔ ابن خلدون کے مطابق ’’اس قسم کے غلاموں کی پرورش اور ترقی کا آغاز سلطان صلاح الدین یوسف (ایوبی) سلطان مصرو شام اور اس کے بھائی ملک عادل ابوبکر کے دور میں ہوا۔ پھر ان کی اولاد کے زمانے میں اس سلسلہ میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ ان کے آخری بادشاہ ملک صالح نجم الدین ایوب کے عہد میں یہ سلسلہ اپنے انتہائی درجے تک پہنچ گیا تھا۔ چنانچہ اس کی اکثر فوج انہی غلاموں پر مشتمل تھی … جب صالح ایوب کا خاندان منتشر ہو گیا اور اس کے مددگاروں نے اس کے ساتھ غداری کی اور اس کے ساتھیوں اور فوج نے اس کا ساتھ نہیں دیا تو اس نے انہی غلاموں کو حاصل کرنے کی کوشش کی اور اس نے (بردہ فروش) تاجروں سے دوگنی قیمت پر انہیں خریدا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں ترکی غلاموں کی کثرت ہو گئی تھی، کیونکہ تاتاریوں نے شمالی حصے کے مغربی علاقوں کو (جو ترکوں کا وطن تھا) روند ڈالا تھا اور یہاں کے ترک قبائل یعنی قپچاق، روس، علان، مولات اور چرکسی قبائل کو تباہ کر رکھا تھا، اس زمانے میں شمال میں تاتاریوں کابادشاہ دوشی خان بن چنگیز خان تھا۔ اس نے ان ترک قبائل کو یا تو قتل کر دیا تھا یا جنگی اسیر بنا لیا تھا۔ اس لئے مصر کے علاقے میںبہت سے غلام پہنچ گئے تھے اور غلام سوداگروں کے لئے سب سے زیادہ نفیس اور قیمتی سامان بن گئے تھے۔…ایک بہت بڑی تعدادد جنگی قیدی بنا لی گئی، جو مختلف ممالک میں فروخت ہونے لگے۔ (ان کی خرید و فروخت سے) بردہ فروش مالا مال ہو گئے اور وہ ان (ترک غلاموں) کو مصر لے گئے۔‘‘ اس پس منظر میں مصرو شام میں ایوبی خاندان کےزوال کے دور میں یہ ترک غلام(ممالیک) سیاسی ڈھانچہ میں بڑی اہمیت کے حامل بن چکے تھے۔

ساتویں صدی ہجری کے وسط میں جب ہلاکو خان کی قیادت میں تاتاری بغداد فتح کرنے کی جانب بڑھ رہے تھے۔ مصر و شام میں ایوبی خاندان کے آخری فرمانروا موسیٰ اشرف اور اسکے ترک غلام ،جو اُمرا کے درجہ پر فائز تھے، کےمابین اقتدار کی کشمکش شروع ہو گئی۔ آخری عباسی خلیفہ بغداد مستعصم نے 648ہجری میں ترک امیر ایبک کے ساتھ اسکی صلح کروا دی اس شرط پر کہ عملاً اقتدار ایبک کے پاس رہے گا، گویا عملاً وہ خودمختار بادشاہ بن گیا۔مگرچار سال تک موسیٰ اشرف کا خطبہ جاری رہا، اور 652 ہجری میںایبک نے اُسےمعزول کر کے اسکےنام کا خطبہ بھی موقوف کرا دیا اور اس طرح مصر میں ایوبی خاندان کا آخری بادشاہ ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گیا۔ ایبک نےمعزالدین کا لقب اختیار کیا۔ یہ پہلا مملوک سلطان قرارپایا۔

اُسوقت عالم اسلام کو دو جانب سے شدید چیلنجوں کا سامنا تھا، ایک تاتاری تھے جو وسط ایشیا سے لے کر عراق تک تمام علاقے تاخت و تاراج کر کے قبضہ حاصل کر چکے تھے، تو دوسری طرف صلیبیوں کی مہمات بھی جاری تھیں اور شام، لبنان اور فلسطین کے کئی شہر بدستور ان کے قبضہ میں تھے۔عالم اسلام میں اتحاد و اتفاق تو دور کی بات تھی، خود ایوبی خاندان میں صلاح الدین ایوبی کے بعد اسکے جانشینوں میں اقتدار کی لڑائیوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا تھا، اور ترک اُمرا بادشاہ گر بن گئے تھے۔ اسی طرح عالم عیسائیت میں بھی مذہب کی بنیاد پر کوئی اتحاد کی صورت موجود نہیں تھی۔ ٹمپلر اور ہاسپٹلر دو واضح گروپ تھے جبکہ ان کے اپنے اندر بھی اختلافات ہو جایا کرتے تھے۔ تاریخی مادیت کی سائنس یہ بتاتی ہے کہ سیاسی تاریخ میں ، خواہ وہ کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کی تاریخ ہو، بنیادی حیثیت اقتدار کو حاصل رہی ہے۔ کسی مخصوص محدود مقصد یا نصب العین کیلئے اگر کبھی مذہبی اتحاد ہوتا بھی تھا تو وہ عارضی ہوتا تھا۔

ممالیک مصر کا قاہرہ میں اقتدار قائم ہونے کے تھوڑی دیر بعد 656 ہجری (1258ء) میں ہلاکو کے ہاتھوںسقوط بغداد ہوا اور عباسی خلافت بغداد کا تقریباً پانچ سو سالہ دوراختتام پذیر ہوا۔ہلاکو کی فوج میں اکثریت مسلمانو ں کی تھی جو اسکے مفتوحہ علاقوں سے اسکے ساتھ شامل ہوتے گئے تھے۔ 658 ہجری تک بلاد روم (ایشیائے کوچک) ، موصل اور دمشق کے سلاطین ہلاکو کی اطاعت قبول کر چکے تھے۔ہلاکو کی طرف سے شام کے مفتوح علاقوں میں مسلمان حکام اور قاضیوں کا تقرر کیا گیا۔ اس سے یہ واضح تھا کہ اسے بغداد کی تباہی کے بعد شام کی مہم میں مسلمانوں کے ایک خاصے طبقے کا تعاون حاصل تھا۔ بظاہر ان مسلمان مفاد پرستوں کو سقوط بغداد پر کوئی ملال نہیں تھا اور نہ ہی انہیں دشمن اسلام ہلاکو خاں کی اطاعت گزاری میں کوئی عار محسوس ہوتی تھی۔ ان کے نزدیک چونکہ ہلاکو عراق و شام کی جنگ اقتدار میں کامیاب ہو گیا تھا اس لئے ان پر اس کی اطاعت واجب تھی۔ یہ کہ ہلاکو خاں دشمن اسلام تھا اور اس نے صرف بغداد میں 16لاکھ مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا، اس سے ان کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

ممالیک مصر نے تاتاری یلغار کے سامنے بند باندھا۔ فریقین کا مقابلہ658ہجری میں فلسطین کے علاقے میں عین جالوت کے مقام پر ہوا جس میں تاتاریوں کو شکست ہوئی اور ان کا حاکم کتبغا مارا گیا ۔ مصریوں کا سپہ سالار رکن الدین بیبرس بند قداری تھا۔بیبرس نے حلب تک پیش قدمی کی اور پورے شام سے تاتاریوں کو نکال باہر کیا۔پہلی مرتبہ تاتاریوں کو اتنی بڑی شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ اس سے بیبرس کا دبدبہ نہ صرف تاتاریوں پر طاری ہوا بلکہ مملوک فرمانروا سلطان قطز نے بھی اس سےخطرہ محسوس کرنا شروع کر دیااور اسکے قتل کا فیصلہ کر لیا۔ بیبرس کو بھی اس کا علم ہوگیا۔ چنانچہ اس سے پہلے کے قطز کی طرف سے وار ہوتا، بیبرس نے قطز کو شام سے مصر کے راستے میںقتل کروا دیا۔ یہ استبدادی سیاسی دستورمیںعام بات تھی، چنانچہ بیبرس نےبادشاہ بن کر الملک القاہر اپنا لقب مقرر کیا۔ممالیک میں دو گروہ تھے، ایک بحری اور دوسرا بُر جی۔ بحری قپچاق ترک تھے اور بُرجی چرکسی ترک تھے۔ قطز بُرجی تھا جبکہ بیبرس بحری۔اس طرح بحری مملوکوں کی جماعت بیبرس کی زیر قیادت مصر میں برسر اقتدار آگئی۔ گویا تاتاریوں کے خلاف بحریہ مملوکوں اور بُرجی مملوکوں کا اتحاد عارضی تھا۔ یہ محض ایک سیاسی اتحاد تھا اس کا اسلامی جذبہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ چنانچہ جب شام میں انہیں تاتاریوں پر فتح حاصل ہوگئی تو یہ اتحاد ٹوٹ گیا۔

بیبرس کے17 سالہ دورمیں ممالیک کا اقتدار بہت مستحکم ہوا۔ اس دوران نہ صرف تاتاری شام اور مصر کی جانب نہ بڑھ پائے بلکہ بہت سے شہر صلیبیوں کے قبضہ سے آزاد کرائے گئے، ان میں طرابلس اور انطاکیہ قابل ذکر تھے جہاںصلیبی سو ڈیرھ سو سال سے قابض تھے۔ ممالیک کے خلاف تاتاریوں اور صلیبیوں کے مابین فوجی گٹھ جوڑ کی کوششیںبھی ہوئیں لیکن کوئی خاص کامیابی نہ ہو سکی۔ بیبرس کی وفات کے بعد 3سال تک ممالیک اُمرا کے مابین اقتدار کی لڑائیاں جاری رہیں، بعض اُمرا نے بغداد کے تاتاری حاکم ہلاکو کے بیٹے ابغاسے مدد مانگی اور اسے اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ شام کو فتح کر لے مگر اس نے انکار کر دیا۔ انہیں اُمید تھی کہ ابغا شام فتح کر کے انہیں وہاں کی حکمرانی سونپ دے گا۔یہ ابغا وہی تھا جس کے باپ ہلاکو خاں نے بیس تیس سال قبل نہ صرف بغداد کے دس لاکھ شہریوں کو تہ تیغ کر دیا تھا بلکہ اس نے وہاں عربوں اور ایرانیوں کی مخلوط تہذیب و ثقافت کے تمام آثار مٹا دئیے تھے۔ یہ ابغا وہی تھا جو گزشتہ کئی سال سے یہ منصوبہ بنا رہا تھا کہ فرنگیوں کے ساتھ فوجی گٹھ جوڑ کرکے شام اور مصر سے مسلمان مملوکوں کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا جائے۔ ابغاکے انکار کی بظاہر وجہ یہ تھی کہ قبل ازیں تاتاری فلسطین اور ایشیائے کوچک میں مملوکوں سے بری طرح ہزیمتیں اٹھا چکے تھے اور یہ سبق حاصل کرچکے تھے کہ زبردست تیاری کے بغیر مملوکوں کا مقابلہ ممکن نہیں اگرچہ ان دنوں مملوکوں میں خانہ جنگی جاری تھی لیکن 3سالہ خانہ جنگی کے خاتمہ کے بعد اقتدار حاصل کرنے والے سلطان قلاوون کا پلہ بہت بھاری ہو گیا تھا۔ اور وہ تنہا تاتاریوں کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں تھا بالخصوص ایسی صورت حال میں جبکہ طرابلس میں فرنگیوں کے مابین تخت نشینی کے سوال پر خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی۔اُدھر انگلستان کے شاہ ایڈورڈاوّل کے پاس نئی صلیبی جنگ کے لئے نہ وقت تھا اور نہ ہی سرمایہ تھا۔

آٹھویں صدی ہجری(چودھویں صدی عیسوی) کے اواخر تک بحری ممالیک کی حکمرانی رہی۔ اس دوران کبھی حکمران جلدی جلدی تبدیل ہوتے رہے اور کبھی دیر سے۔کم حکمران ایسے ہوئے جنہیں دس سال سے اوپر کی حکمرانی ملی۔ سلطانوں کی آئے دن کی تبدیلی کی وجہ یہ تھی کہ مملوکوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے خاندان کی سلطنت کے کھنڈرات پراپنی جس سلطنت کی تعمیر کی تھی وہ موروثی نوعیت کی نہیں تھی۔ امرا لشکری جس سلطان سے جتنی دیر خوش رہتے تھے اتنی دیر اسے قائم رکھتے تھے اور جس سلطان سے وہ خفا ہوتے تھے اسے معزول کر دیتے تھے یا قتل کر دیتے تھے۔ ان میں شاہی خاندان کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ان سب نے اپنی عملی زندگی کی ابتدا بطور زر خرید غلام کی ہوتی تھی اس لئے ان سب کا معاشرتی درجہ مساوی ہوتا تھا۔ ان کے ہاں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ فلاں اونچے خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور فلاں کا خاندان گھٹیا ہے۔ بحریمستحکم سلاطین میں سیف الدین قلاوون (1279ء تا 1290ء) ، ناصرالدین محمد (1299ء تا 1341ء) ،زین الدین شعبان (1363ء تا 1377ء) قابل ذکر ہیں۔ اس دوران بھی تاتاریوں اور فرنگیوں کے خلاف مزاحمت جاری رہی اور انکی شام اور مصر تک پیش قدمی کو روکا گیا۔ شکست خوردہ تاتاری بادشاہوں نے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔ تاتاریوں کے بادشاہوں کے مسلمان ہو جانے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ دین اسلام کی خوبیوں کے قائل ہو گئے تھے بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ انہوںنے عراق و شام اور بلاد روم میں مملوکوں کی بالادستی قبول کرلی تھی۔ عین جالوت، دمشق اور حمص میں مملوکوں سے ہزیمت اٹھانے کے بعد اب ان میں مملوکوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رہی تھی۔ جب یہ مسلمان ہوئے تھے تو ان کے ساتھ تاتاری یا منگول قبیلوں کے بیشتر لشکری بھی اسلام لے آئے تھے۔ اس زمانے میں قبائلی روایت یہی تھی۔ قبائلی بادشاہ یا سردار کا جو مذہب ہوتا تھا وہی مذہب اس کی رعایا یا پیروئوں کا ہوتا تھا۔پھر انہی تاتاری / منگول مسلمانوں میں امیر تیموروسط ایشیا سے اُبھرا اور دہلی سے لے کر خراسان، فارس، ایران، عراق، شام، بلاد روم تک تاخت و تاراج کیا اور اپنا غلبہ قائم کیا۔

آٹھویں صدی ہجری (چودھویں صدی عیسوی )کے اواخر میں مصر میں بُرجی یا چرکسی مملوکوں کی سلطنت کا قیام عمل میں آ گیا۔ چونکہ دماغی اور جسمانی دونوں لحاظ سے یہ لوگ بہ نسبت بحری ممالیک سے تیز تھے، اس لیے قلعوں کی حفاظت اور فوجی امارت وغیرہ ان کے سپرد ہوئی اور محل سلطانی کے امور بھی ان کے ہاتھ میں آگئے۔ جب ان کی قوت و تعداد بڑھ گئی اور ملک کی سیاست میں ان کا عنصر غالب ہو گیا اور ممالیک بحریہ کی قوت میں ضعف آگیا تو اس وقت ان کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ عنان اقتدار سنبھالی جائے۔ چنانچہ امراء قاضیوں اور اہل شوریٰ کی تائید و حمایت سے فوج کے سربراہ برقوق نے ممالیک بحریہ کے نوعمر سلطان صالح صلاح الدین کو اتار کر خود تخت پر قبضہ کر لیا اور امیر الظاہر سیف الدین کا لقب اختیار کیا۔ چرکسی یا بُرجی ممالیک کا دور بھی بحری ممالیک کی طرح موروثی نہیں تھا بلکہ جو سردار اپنے گرد زیادہ حامی جمع کر لیتا، وہ اقتدار پر قبضہ کر لیتا اور مخالفوں کوشکست دے کر یا تو فوراً یاکچھ عرصہ قید میں رکھ کر مروادیتا تھا۔ اس خاص مقصد کیلئے بحری ممالیک کے زمانے سے ہی اسکندریہ کی جیل استعمال کی جاتی تھی۔ بُرجی ممالیک میں بھی صرف چندسلاطین کو نسبتاً زیادہ عرصہ کی حکمرانی نصیب ہوئی۔ ان میں سیف الدین برقوق (1382ء تا 1399 ء)، ناصر الدین ف*ج (1399ء تا 1412 ء)، سیف الدین برس بے (1422ء تا 1438 ء)، سیف الدین جقمق (1438ء تا 1453 ء)، سیف الدین قائت بے (1468ء تا 1496 ء) اور آخری قانصوہ الغوری (1501ء تا 1516 ء)۔

برقوق کے جانشین ناصر الدین ف*ج کے دور میں تیمور نے1401 ء میں شام پر حملہ کر دیا۔ حلب اور دمشق میں کئیکئی ہفتے تک لوٹ مار، قتل و غارت اور زنا کاری کا سلسلہ جاری رہا۔ 1402ء کے اواخر میں تیمور نے انقرہ میں ترکوں کے سلطان بایزید کو شکست دینے کے بعد قاہرہ میں سلطان ف*ج کے پاس اپنا ایلچی بھیج کر اطاعت کا مطالبہ کیا۔سلطان نے فوراً تیمور کی سیادت و بالادستی قبول کرلی اور اسے قیمتی تحفے بھیجے۔ تیمور نے اس کے عوض خلعت، جواہرات اور ایک ہندوستانی ہاتھی بھیجا۔ ملک گیری کا یہی اصول رہاہے کہ طاقت کے زور پرسیادت و بالادستی قبول کروائی جاتی ہے۔ ہم عقیدہ یا ہم مذہب ہونے کا اس میں دخل نہیں ہوتا۔

خلافت کا ادارہ 1258 ء میں ہلاکو کے ہاتھوں بغدادمیں آخری عباسی خلیفہ مستعصم کے قتل کے بعد اپنے انجام کو پہنچ گیا تھا۔ مملوکسلطان بیبرس نے قاہرہ میں عنان حکومت سنبھالی تو بنو عباس کا ایک شخص احمد ابوالقاسم اپنے ساتھ دس بنی عباس کو لے کر سلطان کے پاس آیا۔ یہ شخص بغداد میں قید تھا۔ جب تاتاریوں نے بغداد کو فتح کیا تو اسے رہا کر دیا گیا۔ یہ بھاگ کر عراق جا پہنچا۔ اور تقریباً ساڑھے تین سال تک وہیں رہا۔ 659ہجری میں یہ قاہرہ پہنچا تو سلطان بیبرس نے اس کا شاندار استقبال کیا۔ جب قاضی القضاۃ تاج الدین نے اس کا نسب ثابت کر دیا تو سلطان نے سب سے پہلے اس کی بیعت کی اور اس کا نام سکوں پر بھی مسکوک کر دیا گیا، اس کے نام کا خطبہ بھی پڑھا گیا اور المستنصر باللہ کا لقب دیا گیا۔ اس طرح قاہرہ میںعباسی خلافت کا تسلسل قائم کیا گیا مگر اسکی حیثیت صرف علامتی تھی۔ اس دوران بہت سے مملوک سلاطین کاعروج وزوال ہوا مگرخلیفہ نے کبھی امور سلطنت میں دخل نہیں دیا تھا۔ وہ مملوکوں کا وظیفہ خوارتھا اور اسی پر مطمئن تھا۔ وہ یہ دعویٰ نہیں کرتا تھا کہ خلافت کو سیاست سے الگ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کبھی اس نے مذہب کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کی تھی۔ ممالیک یہ نہیں سمجھتے تھے کہ ’’جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘ بلکہ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اپنے دارالحکومت میں ایک برائے نام خلیفہ کا وجود ضروری سمجھتے تھے کہ مسلمانوں میں ایک روایت پسند عنصر ایسا بھی تھا جو اسلامی سلطنت کے لئے خلیفہ کے وجود کو ضروری سمجھتا تھا۔تاہم مملوک سلطانوں نے خلیفہ المستنصر باللہ اور اس کے جا نشینوں کو کبھی سیاست میں دخل دینے کی اجازت نہیں دی تھی۔ مملوکوں کی سیاست مذہب سے بے تعلق تھی اور عباسی خلیفہ کو اس پر کبھی کوئی اعتراض نہیں ہوا تھا۔ ممالیک کے 267سالہ دور(1250ء تا 1517 ء) میں کل 17عباسی خلیفے ہوئے۔ ان کا تقرر یا تنزل سلطان کیا کرتا تھا۔

1501ء میں ممالیک کے ہمسایہ میں ایران میںشاہ اسماعیل نے آل تیمور کی سلطنت کے کھنڈرات پر صفوی سلطنت کھڑی کر دی جو شیعہ عقائد کی علمبردار تھی۔ دوسری جانب عثمانی سلطنت 1453ءمیں قسطنطنیہ پر قبضہ کے بعد ایک بہت طاقتور سلطنت بن چکی تھی جوسُنی عقائد کی علمبردار تھی۔ دونوں سلطنتوں کے مابین شدید کشیدگی میں عقائد بھی داخل ہو گئے تھے۔ ممالیک کو زیادہ خطرہ عثمانیوں سے محسوس ہوتا تھا اور جن کے ساتھ سرحدی علاقوں میں جھڑپیں بھی ہوتی رہتی تھیں۔ چنانچہ صفوی، عثمانی کشیدگی میں ممالیک سُنی العقیدہ ہونے کے باوجودصفویوں کے اتحادی بن گئے۔ مگر عثمانی سلطان سلیم اوّل نے صفویوں کو چالدرن میںشکست (1514ء ) دینے کے بعد ممالیک کی مصر، شام اور حجاز میںپھیلی ہوئی سلطنت کو فتح کرنے کا فیصلہ کیا، اور صرف 3سال بعد1517ء میں ایک ہی حملے میں اپنا مقصد حاصل کر لیا۔عثمانیوں کے پاس توپ خانہ تھا جبکہ ممالیک توپ کے استعمال کو غیر شرعی اور بُزدلانہ سمجھتے تھے، وہ تلوار کے ساتھ آمنے سامنے لڑنے کو بہادری گردانتے تھے۔ سلیم اوّل نے جب قاہرہ پر قبضہ کیا تو یہاں موجود نمائشی عباسی خلیفہ متوکل نے جامع مسجد میں ترکوں کے عظیم سلطان کے حق میں دعا کی۔ سلیم متوکل کو اپنے ہمراہ لے گیا، اور اسے قسطنطنیہ میں رکھا۔ سلیم کی موت کے بعد جب سلیمان (اوّل) تخت نشین ہوا تو متوکل نے رسمی طور پر جبہ خلافت سلطان سلیمان (اوّل) کے حوالے کردیا۔ اس طرح عثمانی سلاطین کو خلافت منتقل ہو گئی، لیکن وہ خلیفہ کا خطاب اپنے لئے صرف خاص ضرورت کے لئے استعمال کرتے تھے۔

مملوک سلاطین کا دور مسلمانوں کی سیاسی تاریخ میںدو لحاظ سے اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، ایک یہ کہ اُنہوں نے تاتاریوں کی یلغار کو شام، مصر اور حجاز کے مقامات مقدسہ تک بڑھنے سے روک دیا، دوسرے اُنہوں نے فرنگی صلیبیوںسے حتمی طور پر فلسطین اور دوسرے مقبوضات کو بازیاب کروا لیا۔ان کے دور کا مطالعہ مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کے طالب علموں کیلئے ایک دلچسپ مطالعہ ہے۔

حسن جعفر زیدی
فروری 2026ء

کتاب منگوانے کیلئے رابطہ کریں۔
محمد شاہد
00325 0256288

06/03/2026

"افغانستان کا تاریخی پس منظر اور پختون مسئلہ خود مختاری کا آغاز" اس کتاب کو انتہائی مناست قیمیت میں حاصل کرنے کے لیے 03407981749 وٹس اپ پر رابطہ کریں۔

28/02/2026

"اسلامی بلاک کے نام پر پاکستان امریکہ کا غلام کیسے بنا؟" اس کتاب کو انتہائی مناست قیمیت میں حاصل کرنے کے لیے 03407981749 وٹس اپ پر رابطہ کریں۔

24/02/2026

Did Jinnah put Pakistan in the lap of America?






partition

20/02/2026
19/02/2026

Hassan Jafar Zaidi's detailed response to Dr. Ishtiaq's objections on Pakistan Kaisy Bana?








partition


Join us to be aware about history, politics, current affairs, sports, showbiz and social issues

l Check Out Our Other Videos:

1: • https://youtu.be/QiPrG-X5ef8?si=mY76YW04Ngb9F3vS

2: • https://youtu.be/UecckRs1vzE?si=RgrQCW6gsXmApI-5

3: • https://youtu.be/bMvdggWrfZA?si=5f0nc1VLj0yz3r8G

[email protected]

Check out our channel here: https://www.youtube.com/
Don't forget to subscribe!

15/02/2026

Hassan Jafar Zaidi's detailed response to Dr. Ishtiaq's objections on Pakistan Kaisy Bana? Part

13/02/2026

Hassan Jafar Zaidi's detailed response to Dr. Ishtiaq's objections on Pakistan Kaisy Bana? Part 8|

Address

66/H/2 Wapda Town
Lahore
54770

Telephone

+923250256288

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Book Vision posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Book Vision:

Share

Category